174

معجزے اب کدھر گئے! ایک اعتراض کا جواب- فیصل ریاض شاہد

اعتراض:-

پیغمبر اسلام(ﷺ) نے اپنی حیات میں کفار کے مطالبے پر بطور حجت و بطورِ دلیلِ نبوت کئی معجزے ظاہر کئے مگر آج کے انسان کیلئے ایسا آپشن کیوں نہیں؟

(سادہ لفظوں میں اس اعتراض کو یوں بھی لکھا جا سکتا ہے)

دور حاضر کا انسان معجزوں سے محروم کیوں ہے؟

جواب:-

سب سے پہلے یہ طے کیا جائے کہ مذکورہ سوالات کسی ملحد کی طرف سے بطور اعتراض وارد کئے گئے ہیں

یا

 مذکورہ سوالات کی حیثیت کسی مسلمان یا جدید ذہن میں اٹھنے والے شبہات کی سی ہے؟

میں نے ان سوالات کو بطور شبہات لیا ہے۔ یعنی یہ فرض کر کے جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ سائل وجود باری تعالیٰ، سلسلہ نبوت، حقانیت و تعلیماتِ اسلام کا قائل ہے۔

سوال یہ ہے کہ آج کے انسان کو ایمان لانے یا ایمان میں مضبوطی کیلئے معجزوں سے محروم کیوں رکھا گیا ہے؟

سب سے پہلے کچھ بنیادی اصولی باتوں کو سمجھ لیجئے۔(یہ وہ مقدمات ہیں جنہیں سائل پہلے سے تسلیم کرتا ہے، یہاں صرف یاد دہانی مقصود ہے تاکہ جواب کو سمجھنے میں آسانی ہو)

۔ انسان کو مکلف مخلوق بنایا گیا ہے۔ یعنی جانوروں سے ممتاز کر کے انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ احکامات کی بجا آوری کا پابند کیا گیا ہے۔ اگر انسان ان احکامات کی بجاآوری کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو گا، بصورت دیگر انسان کو سزا دی جائے گی۔

۔ انسان کو مکلف بنانے کا مطلب یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل عطا فرمائی ہے تاکہ وہ حق و باطل میں فرق کر سکے۔ اسے ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ انسان کو عقل کی وجہ سے مکلف کیا گیا ہے یعنی انسان مکلف اس لئے ہے کیونکہ اس کے پاس عقل ہے۔

۔ حق و باطل میں تمیز کیلئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف عقل ہی نہیں عطا فرمائی بلکہ اضافی کرم یہ بھی فرمایا کہ سوا لاکھ انبیائے کرام علیھم السلام کا سلسلہ جاری فرمایا۔حق و باطل میں تمیزاور مکلف بنانے کیلئے عقل کافی تھی، سو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا فرما دی، اللہ تعالیٰ پر لازم نہیں تھا کہ وہ انسان کی رہنمائی کیلئے سلسلہ نبوت کو  بھی لازما قائم فرمائے بلکہ یہ سراسر اللہ تعالیٰ کا احسان و فضل و کرم ہے کہ اس نے انسان کی رہنمائی کیلئے انبیائے کرام بھی بھیج دئے۔اس بات کو توجہ سے سمجھئے۔علم الکلام کی زبان میں اسے ہم یوں کہتے ہیں کہ “ایمان واجب بالشرع ہے یا واجب بالعقل؟” اہل سنت و جماعت کے کلامی مکاتب فکر میں سے اشاعرہ کے مطابق ایمان واجب بالشرع ہے۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ اسے چھوڑ دیجئے۔ دوسرے مکتب فکر یعنی ماتریدیہ کے مطابق ایمان واجب بالعقل ہے اور اس کا مطلب یہی ہے جو میں نے اوپر بیان کیا ہے، یعنی یہ کہ انسان عاقل مخلوق ہونے کی وجہ سے مکلف ہے۔

۔۔۔۔۔

معجزے سے مراد ایسا واقعہ ہے جس کے اسباب کا فہم مافوق الفہم ہو، یعنی جو عقل کو عاجز کر دے۔ انبیائے کرام معجزات کو اپنی نبوت کی صداقت کی دلیل قرار دیا کرتے تھے اور ان کا بنیادی دعویٰ یہ ہوتا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے منتخب کئے گئے افراد ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے قوم کی طرف ہدایت کی غرض سے مبعوث فرمایا ہے۔ قومیں، اپنے اندر سے ہی ابھرنے والے ایک مدعی نبوت کی نبوت پر ایمان لانے کیلئے کسی معجزے کا مطالبہ کیا کرتی تھیں، تب انبیائے کرام اللہ رب العزت کی مدد و نصرت سے معجزات صادر فرما کر اپنی نبوت پر دلیل قائم کیا کرتے تھے ۔

یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ چونکہ ایمان واجب بالعقل ہے پس اولا تو کسی قوم میں ہدایت کیلئے کسی نبی کا بھیجا جانا ہی اس قوم پر اللہ تعالیٰ کا اضافی احسان ہے ، پھر نبی بھیج کر نبی سے معجزہ صادر کروانا تو مزید ایک احسان ہے۔

۔۔۔۔۔

اب آئیے اصل سوال یا شبہ کی طرف کہ آج کے انسان کیلئے اللہ تعالیٰ نے معجزات کا انتظام کیوں نہیں فرمایا؟ معجزات تو درکنار، جدید انسان کیلئے تو کسی نبی کو بھی مبعوث نہیں فرمایا گیا بلکہ انسان کو بالکل بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے!

اوپر کی تمام باتوں کو اچھی طرح زہن نشین کر لیجئے تو ان مغالطوں کا جواب آسانی سے سمجھ آ جائے گا۔

  1. سب سے پہلے تو یہ دیکھئے کہ جدید اور ماضی کے انسان کی

“معلومات “،

“ذرائع معلومات”

اور “کائنات پر دسترس”

میں زمین و آسمان کا فر ق ہے۔ یہ فرق زندگی کے کن کن شعبوں میں ہے اور کس حد تک ہے، یہ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہوں گے!یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ جسے بیان کرنے کی ضرورت ہو۔

  • دوسرے نمبر پر یہ دیکھئے کہ ایمان کیلئے  

انبیائے کرام  کی بعثت

یا

معجزات کا وقوع

انسان کا کوئی بنیادی حق نہیں تھا کہ جسے اللہ لازما پورا کرتا۔ ہدایت کیلئے انسان کی واحد ضرورت عقل تھی جو اللہ نے انسان کو پہلے ہی عطا کردی۔ انبیائے کرام اور معجزات تو ماضی کے انسان پر اللہ کے اضافی احسانات تھے جو اللہ تعالیٰ نے اس لئے فرمائے کیونکہ ماضی کا انسان ایک محدود نوعیت کا انسان تھا۔ اس کی محدودیت کے باوجود اگر اللہ تعالیٰ سلسلہ نبوت و معجزات کو جاری نہ فرماتا تب بھی ماضی کا انسان اللہ تعالیٰ کو جواب دہ نہیں ٹھہرا سکتا تھا۔ اللہ کا احسان تھا کہ اس نے انسان کی ضرورت سے بڑھ کر اسے عطا کر دیا۔

تیسرے نمبر پر یہ سمجھنے کی کوشش کیجئےجدید انسان کے پاس معلومات کا طوفان ہے، جدید انسان ستاروں پر کمندیں ڈال رہا ہے، آج کا انسان لامحدود سے لامحدود تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ماضی کے انسان کے سامنے بیٹھ کر اگر آپ امریکہ میں ویڈیو کال کرتے تو عین ممکن تھا وہ آپ پر ایمان لے آتا کیونکہ ماضی کے پیمانوں کے مطابق یہ ایک عدد معجزہ تھا!!! اور یہ معجزہ آج بچہ بچہ صادر کرتا پھرتا ہے۔۔۔!!! تو یہ ہے فرق ماضی اور جدید انسان کی دسترس میں!

جدید انسان پر اللہ تعالیٰ نے اپنے اضافی احسانات اس لئے نہیں فرمائے کیونکہ جدید انسان کو ایمان لانے کیلئے ان احسانات کی ضرورت نہیں تھی۔ جدید انسان اگر صرف سائنسی تحقیقات کو ہی غیر جانبدار ہو کر دیکھ لے تو وہ اللہ اکبر اور سبحان اللہ کہہ اٹھے! اللہ تعالیٰ نے زندگی کے ہر شعبے میں جدید انسان کو جتنا نواز رکھا ہے کیا اس کے بعد بھی کیا عقلی طور پر سلسلہ نبوت و معجزات کے جاری رکھنے کی کوئی منطقی وجہ ہو سکتی ہے؟؟!!!

الحاصل یہ کہ آپ ایک جدید انسان ہیں۔ ایمان کو تلاش کرنا چاہتے ہیں تو صرف گوگل کو ہی استعمال کر لیں! کائنات کے ایسے ایسے راز آپ پر فاش ہوں گے کہ ماضی کا انسان ان کا تصور تک نہیں کر سکتا۔ پھر آپ کے پاس  کونسا منطقی جواز باقی بچتا ہے کہ آپ ہدایت اور ایمان کیلئے نئے نبی یا معجزے کا مطالبہ کریں!

تو یہ تھی بنیادی وجہ انبیائے کرام اور معجزات کے سلسلے کو روک دینے کی، کہ زمانہ جدید میں “اضافی احسانات” کی ضرورت نہ تھی!

لیکن ٹھہرئے!

اگرچہ ضرورت نہیں تھی لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی صورت میں نبی آخر الزمانﷺ کا ایک زندہ معجزہ ہر صدی ہر زمانے ہر خطے کے انسانوں کیلئے محفوظ فرما دیا ہے۔ قرآن پاک تمام معجزات میں سب سے بڑا معجزہ ہے جو واقع ہونے  کے بعد ختم نہیں ہو گیا بلکہ تاقیامت باقی رہے گا۔ اب زرا سوچئے آپ تو ایک عدد مزید معجزے کا مطالبہ کر رہے تھے جبکہ اللہ تعالیٰ نے تو سب سے بڑا معجزہ آپ کے مطالبے سے پہلے ہی آپ کو عطا کر کے  احسان کر رکھا ہے!

تو تم اپنے پرور دگار کی کون کون سے نعمتوں کو جھٹلاو گے؟

فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں