215

یہ کس کی بیٹی ہے!!!- حامد کمال الدین

تصویر سے بھی محسوس ہوتا ہے یہ کوئی پشاور ٹائپ علاقہ ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہوئی اس تصویر کی جو ڈسکرپشن لکھی ہے، اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ غیور پٹھانوں کے علاقے میں اِس بڑے پیمانے پر یہ ایک نئی ’تہذیب‘ کی شروعات ہیں۔ بہت بڑا ایک ہال ہے، کئی منزلہ۔ لوگ کھچاکھچ بھرے ہیں۔ تل دھرنے کی جگہ نہیں۔ دُوردُور سے آئے لگتے ہیں۔ سب مل کر نہایت انہماک سے ایک جوان لڑکی کو ’کیٹ واک‘ کرتے ہوئے دیدے پھاڑ پھاڑ دیکھ رہے ہیں۔ اس پر ہماری جانب سے سوشل میڈیا پر یہ تحریر دی گئی تھی۔ ا س کا لنک یہاں بھی تحریر کے آخر میں دیا گیا ہے۔
اتنے ’معززین‘ اکٹھے ہو کر اس لڑکی میں ’کیا‘ دیکھ رہے ہیں؟ ہمارے ملک میں تو ایسی گہماگہمی صرف مویشیوں کی منڈی میں دیکھی گئی ہے۔ کسی کی بیٹی کو اتنے لوگ اکٹھے ہو کر دیکھنے لگیں؛ یار اپنے یہاں؟!
یہاں تو خدا بخشے، بیس آدمی آپ کو راہ چلتے ٹوکنے کو موجود ہوتے تھے، وہ سب کہاں چلے گئے؟
کیا یہ زمانۂ جاہلیت پر فلمائی گئی کوئی مووی ہے یا اِس دورِ ’اینلائٹنمنٹ‘ کا کوئی واقعہ؟
کہتے ہیں اپنے پشاور کا واقعہ ہے؛ اور ابھی حال ہی کا!
سبحان اللہ اوپر سے اوپر کی گیلری تک سے لوگ تاکنے کی کوشش میں ہیں۔ غالباً نیچے بیٹھنے والوں نے زیادہ پیسے دیے ہوں گے… یا پھر اوپر والے لیٹ آئے ہوں گے!
یہ لڑکی بھی مفت یہ ’سروس‘ نہیں دے رہی ہوگی۔ لیکن تصور کریں سارے پیسے اسی بیچاری کو مل جاتے! لیکن کہاں! اغلباً اس کے پاس بہت کم پیسے آئے ہوں گے۔ بھلا زیادہ کہاں گئے ہوں گے؟ ’منتظمین‘کے پاس! زمانۂ جاہلیت میں ان منتظمین کو: نخّاسین کہا جاتا تھا۔ یعنی انسان فروشی کا دھندہ کرنے والے۔ واقعی وہ زمانۂ جاہلیت تھا؛ کیسے سیدھے لفظ بول دیا کرتے تھے! تبھی لوگ کہتے ہیں کم از کم اُن کی فطرت سلامت تھی!
اس تصویر کو دیکھنا فی نفسہٖ معیوب نہ ہوتا تو میں تجویز دیتا کہ… اسے ’عورت کی آزادی‘ کے پورٹریٹ کے طور پر رکھا جائے، اور ’عورت کی آزادی‘ کا مضمون کبھی اس تصویر کے بغیر بیان نہ کیا جائے۔
(ایک تصویر کسی وقت سو کلمات سے بڑھ کر ہوتی ہے)
آپ کو معلوم ہے آپ کی شریف زادیاں یہاں کیسی ’قید‘ کی زندگی گزار رہی ہیں! انہیں ان کے شوہر، باپ، بھائی اور بیٹے کھِلا رہے ہیں۔ کیسی محتاجی کی زندگی ہے! ان سب کو ’نخاسین‘ کے ہاتھ میں دو! ایسی ہی کمال کی کر دیں گے! یہ بھی تو ہمارے ہی کسی بھائی کی بیٹی ہے؛ اِس کے کان میں بھی اغلباً کسی نے پیدائش کے وقت اذان دی ہو گی!
*****
کسی کی غیرت جھنجھوڑی گئی ہے تو مجھے خوشی ہو گی، میں اس پر معذرت نہیں کروں گا۔

حامدکمال الدین

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں