172

یونانی خدا…؟؟؟

یونانی اساطیر یا یونانی علم الاساطیر، قدیم یونانی مذہب سے وابستہ دیگر افسانوں اور فنون پر مبنی اساطیر کا مجموعہ ہے۔ ان کا واسطہ اس قدیم تہذیب اور مذہب میں پوجے جانے والے دیوتاؤں اور ان سے وابستہ مسالک و رسومات کی اہمیت، دنیاوی قدرت و دستور اور علم الکائنات سے ہے۔ یونانی علم الاساطیر سے وابستہ تمام شہادتیں ہمیں واضح طور پر دیگر شاعروں اور افسانہ نگاروں کے مجموعی بیانات اورتحاریر سے ملتی ہیں۔ لیکن ان اساطیر میں ضمنا اضافہ دیگر فنون سے ہوا، جن میں گلدانوں پر تصاویر یا مقّدس کھنڈر سے دریافت ہونے والے نذرانے شامل ہیں۔ یہ اساطیر دراصل قدیم یونانی مصنفین کا قدرت اور دنیا کے ابتدا و ارتقا کو سمجھنے کی ایک خام کوشش تھی جس میں انہوں نے دیوتاؤں، سورماؤں اور نایکوں کو اپنی ان داستانوں میں جنم دیا۔ ان کرداروں کے ذریعہ یہ مصنفین قدرتی آفات اور دیگر دستوروں کو سمجھانے میں کُچھ حد تک کامیاب بھی رہے لیکن قارئین کی نظر میں ان کرداروں کی عظمت اتنی بلند ہوتی چلی گئی کہ انہوں نے ان کرداروں کو اپنے دھرم کا ہی حصّہ بنا لیا۔
یونانی اساطیر وقت کے ساتھ ساتھ بتدریج تبدیل ہوتی رہی ہیں۔ ان تبدیلیوں کا باعث یونان کی بدلتی علمی، سیاسی اور سماجی صورت حال ہے۔ چنانچہ، ان تبدیلیوں کی عکاسی ان اساطیر میں بھی نمایاں انداز میں ملتی ہے۔قدیم بلقان میں رہائش پزیر لوگ پیشے کے اعتبار سے زَرعی اور کاشتکار تھے۔ یہ عموماً قدرتی چیزوں میں سے ہی روحانیت اخذ کیا کرتے تھے۔ ان کے سامنے درخت اور پتھر بھی خدا ہی کے روپ تھے۔ ان کے مطابق یہ قدرتی اشیا انسانوں کا روپ بھی اختیار کر کے انسانوں کے درمیان چہل قدمی کر سکتی تھیں۔ اس نظریے کو جب تقویت ملی تو اس علاقے میں پہلی مرتبہ انسان نما دیوتاؤں کا تصّور سامنے آیا۔ جب بلقان کی سرزمین پر شمال سے جنگی قبیلوں نے چڑھائی کی تو مقامی مذہب کے غیر متشدد دیوتاؤں میں حملہ آوروں کے تشدد پسند دیوتاؤں کا بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اس طرح مقامی مذہب کے مقدس ریوڑ میں دیوتاؤں کی تعداد بڑھتی چلی گئی اور آرس، آخیل اور پطروقل کے افسانوں کو اساطیری رتبہ حاصل ہو گیا۔
اس خطے کے قدیم شاعروں اور مصنفین نے رزمی داستانوں اور نظموں کے ذریعے اپنے دیوتاؤں کے متعلق کُچھ اس طرح لکھا کہ انسانوں اور دیوتاؤں میں آپس داری کو سمجھایا جا سکے۔اساطیر کے مطابق، کائنات کی ابتدا میں صرف سنسان تاریکی تھی اور اس بے وقعتی خالی پن میں صرف کاوس تھا۔ اس تاریکی میں گایا کا جنم ہوا جو ارض کی علامتی دیوی ہے۔ گایا کے ہمراہ دیگر ابتدائی دیوتا اور سماوی مخلوقات وجود میں آئے جن میں ایروس (پیار کا علامتی دیوتا)، اربوس (اندھیرے کا علامتی دیوتا) اور طرطروس (اتھاہ خلیج یا گہری کھائی) شامل تھے۔ گایا نے اپنے تئیں ایروس اور اربوس کے سنگ ایک اور نر دیوتا کو تخلیق کیا؛ اس دیوتا کا نام یورینستھا اور یہ آسمانوں کا حاکم دیوتا ہوا۔ بعد ازاں، گایا نے یورینس سے ملاپ کے ذریعے دیگر
دیوتاؤں کو جنم دیا۔ دیوتاؤں کی اس اگلی پیڑھی کو تیتانی دیوتا(Titanes) کہا جاتا ہے۔) (
گایا اور یورینس کے ملاپ سے پیدا ہونے والے دیوتاؤں کو تیتانی دیوتا کہتے ہیں۔ ان میں چھہ نر دیوتا (کوئیوس، کریئس، کرونس، ہائپریون، یاپطوس،اوکیانس) اور چھہ مادہ دیویاں (نیموسینی، فیبی، ریہہ، تھیہ، تھیمس، تتیس) شامل ہیں۔ کرونس کی پیدائش کے بعد گایا اور یورینس نے یہ عہد کر لیا کہ ان کے بعد کوئی تیتان پیدا نہ ہوگا۔ گایا اور یورینس کے بعد، دیگر اور بچے بھی پیدا ہوئے لیکن یہ اتنے بدصورت تھے کہ یورینس نے انہیں واپس گایا کی کوکھ میں ٹھونسنا شروع کر دیا۔ گایا نے بیحد تکلیف میں انہیں جَن تو لیا لیکن یورینس نے انہیں طرطروس کی گہری کھائی میں دکھیل دیا جہاں یہ ابد کی قید میں زندگی بسر کرتے رہے۔ ان لعنتی سپُوتوں میں یکچشم سائکلاپس اور صدبازو ہکاتونکائر شامل ہیں۔ اپنی ماں پر اس قدر ظُلم ہوتا دیکھ کرونس طیش میں آ گیا اور اس نے گایا کے کہنے پر اپنے باپ کا لِنگم خط کر دیا اور یوں اپنے لیے آسمانی تخت بھی سَر کر لیا۔ درد کی کیفیت میں یورینس نے کرونس کو یہ لعنت دی کہ اس کی اپنی اولاد میں سے ایک اس کو بھسم کردیگا۔ کرونس نے اپنی بہن ریہہ سے شادی کر لی اور اپنے باپ کی اس پیشین گوئی پر عمل کرتے ہوئے اپنے ہر نومولود بچے کو کھاتا رہا۔ کرونس اور ریہہ کے ان بچوں کو اولمپوی دیوتا(Olympian gods) کہتے ہیں۔
باپ اور بیٹے میں یہ تکراریں یونانی اساطیر میں ایک اہم کردار نبھاتی ہیں۔جہاں کرونس اپنے باپ کو ہٹا کر آسمانی تخت پر قابض ہو گیا تھا، وہیں اس کا بیٹا زیوس بعد از کرونس کو ہٹا کر آسمانی ریاست پر تخت نشیں ہوا۔ کرونس کے ہاں جو بچا بھی پیدا ہوتا، وہ اسے کھا جاتا تھا۔ اس کے ریہہ کے ساتھ چھہ بچے تھے جن کو اولمپوی دیوتاکہتے ہیں؛ ان میں تین نر دیوتا (پوسائڈن، ہادس اور زیوس) اور تین مادہ دیویاں (ہیسٹیہ،ڈیمیٹر اور ہیرہ) شامل ہیں۔ زیوس کی پیدائش کے وقت ریہہ نے اپنے اس بیٹے کو ایک غار میں چھپا کر کرونس کو کپڑے میں لپٹا پتھر کھلا دیا۔ زیوس جب بڑا ہوا تو اس نے اپنے باپ کو ایک عقیق دوا پلا دی جس سے وہ الٹیاں کرنے لگا اور اس کی قے میں اس کے باقی بچے آ نکلے۔ ان پانچ بہن بھائیوں نے زیوس کے ساتھ مل کر اپنے باپ سے بدلہ لیا اور تیتانی دیوتاؤں پر دھاوابول دیا۔ تیتانی دیوتاؤں کے خلاف آئندہ جنگ میں لڑنے کے لیے زیوس طرطروس کی گہرایوں میں اُتر آیا اور یورینس کے بھولے سپوتوں، یعنی سائکلاپس اور ہکاتونکائر، کو آزاد کر کہ ان کے ہمراہ تھیسیلی کے میدان میں جنگی کارروائی پر نکل پڑا۔ اس جنگ میں، زیوس اور اس کے ساتھیوں نے اپنا ڈیرہ کوہ اولمپس پر ڈالا؛ یہ ہی وجہ ہے کہ انہیں اولمپوی دیوتا کہا جاتا ہے۔
جب کرونس نے تیتانوں کو جنگ میں ہارتے ہوئے پایا تو اس نے طرطروس سے طائفون نامی درندے کو طلب کیا۔ اولمپوی دیوتاؤں نے اس درندے کا قہر دیکھ کر واپس بھاگ جانا مناسب سمجھا لیکن زیوس نے میدان نہیں چوڑا۔ آخر کار اولمپوی دیوتا جنگ جیت گئے اور زیوس نے کرونس سمیت تیتانی دیوتاؤں کو طرطروس کی گہرایوں میں قید کر دیا۔ تیتانوں کی شکست کے بعد زیوس نے آسمانی تخت سمبھال لیا اور سب دیوتاؤں کا بادشاہ بن کر کوہِ اولمپس سے راج کیا۔
یونانی اساطیر کا علم رکھنے والا ہر فرد جانتا ہے کہ قدیم یونان میں تصوراتی، تاریخی مشاہیر ،مختلف اقسام اورمختلف انواع کے خداوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ جو کوئی بھی جس بھی خدا کی پرستش کرنا چاہتا، کر سکتا تھا، کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔ مذہب یا پوجا پرستش کا کوئی باقاعدہ نظام نہیں تھا۔ ہر کسی کو آزادی تھی کہ وہ درجنوں قسم کی خدائی کہانیوں میں سے کسی بھی کہانی کو درست مان لے اور کسی بھی خدا کی عبادت شروع کر دے۔ سچے یا جھوٹے مذہب کی کوئی تقسیم نہیں تھی، کوئی الہامی کتاب نہیں تھی، نہ کوئی مذہبی احکامات تھے اور نہ مذہب کی طرف سے عائد کردہ سزائیں تھیں۔
اس سب کے باوجود حکومت کی طرف سے تمام لوگوں پر ایک ذمہ داری ضرور عائد تھی، یہ کہ سرکاری مذہبی تقریبات کا احترام ہر کسی پر لازم تھا، لازم تھا کہ کوئی بھی سرعام کسی کے خدا کی بے حرمتی نہ کرے۔ یہ حکم اس لئے صادر کیا گیا تھا کہ معاشرے میں فساد نہ ہو اور سب مل جل کر رہ سکیں۔ کیونکہ یونانیوں کے نزدیک معاشرے سے بڑھ کر کوئی شے، کوئی مذہب، کچھ بھی عزیز نہیں تھا۔ اگر کوئی بھی اس قانون کی خلاف ورزی کرتا تو اس کے خلاف سرکاری طور پر کاروائی کی جاتی اور اسے “ملحد” قرار دے دیا جاتا۔ اور جس کسی پر بھی الحاد کا سرکاری فتویٰ لگ جاتا اسے سلاخوں کے پیچھے جانا پڑتا، یا شہر بدر کر دیا جاتا، حتیٰ کہ سزاے موت بھی دے دی جاتی، جیسا کہ سقراط کو اسی جرم میں زہر کا پیالہ پلایا گیا تھا۔ یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ یہ دور شدید سیاسی کشمکش کا دور تھا اور مخالفین کو ملحد و بدمذہب قرار دلوانے کی کوشش کرنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں تھی۔ مثلا سقراط ہی کا مقدمہ ہمارے سامنے ہے جسے 399ق م میں ملحد قرار دے کر سزاے موت دی گئی حالانکہ وہ ایک مذہبی انسان تھا۔
عام طور پر ان تمام اہل فکر کو یونانیوں نے “ملحد” قرار دیا جنہوں نے یونانی دیومالائی خداوں پر تنقید کی اور انہیں خدا ماننے سے انکار کیا۔ بیشتر فلاسفہ کو اسی وجہ سے ملحد کہا گیا البتہ عہد ماقبل مسیح میں چند ایک اہل فکرزیادہ بدنام ہوئےجن میں پروڈیکس، کرایٹئس، دیاغوراس اور سینیس کے نام سرفہرست ہیں۔ ان سب کا ذکر ہم حسب محل کریں گے۔
یونان میں المپیائی خداوں کی کوئی شرعی فہرست نہیں تھی۔ البتہ بیشتر اہل یونان کا مندرجہ ذیل اولمپیائی خداوں پراتفاق تھا۔
1۔ زیوس، Zeus، سب دیوی دیوتاوں کا سربراہ، خدائے اکبر، آسمانوں کا خدا
2۔ ہیرا، Hera، زیوس کی بہن اور بیوی، شادی کی دیوی
3۔ پاسیڈون، Poseidon، زیوس کا بھائی، زلزلوں، طوفانوں اور سمندروں کا دیوتا
4۔ ڈیمیٹر، Demeter، زراعت، زرخیزی اور موسموں کی دیوی
5۔ اتھینا، Athena، زیوس کی بیٹی، علم، عقل و منطق، ادب اور سائنس کی دیوی
6۔ اپلولو، Apolo، زیوس کا بیٹا، روشنی، فلسفے، شاعری، اور آرٹس کا دیوتا
7۔ آرٹیمس، Artemis، زیوس کی بیٹی، شکار، جنگلات اور پیدائش کی دیوی
8۔ ایریز، Ares، زیوس کا بیٹا، جنگ کا دیوتا
9۔ افروڈائٹ، Aphrodite، زیوس کی بیٹی، محبت، امن اور حسن کی دیوی
10۔ ہیفاسٹس، Hephaestus، ملکہ ہیرا کا بیٹا، آگ، بٹھیوں اور لوہے اور ایجاد کا دیوتا
11۔ ہرمس، Hermes، زیوس کا بیٹا، خداوں کا پیامبر
12۔ ہسیٹا، Hesita، صحت کی دیوی
13۔ ڈایونیسس، Dionysus، شراب کا دیوتا

تاریخ الحاد مغرب
فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں