227

کیا مذاہب خطرے میں ہیں؟ حسیب احمد حسیب

قدیم یونان کے بعد اگر کسی دور اور کسی خطے میں الحاد اپنی پوری قوت کے ساتھ ظاہر ہوا تو وہ پاپائییت کے بوجھ تلے سسکتا ہوا یورپ اور بعد ازاں اسی کی اقتدا میں امریکہ و مشرق کے کچھ خطے تھے۔ اس دور میں ایک سوال یہ اٹھایا گیا کہ کیا مذہب اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے؟ اور کیا یہ دنیا مذہب کی طرف سے عطا کردہ روحانیت کے بغیر آگے بڑھ سکتی ہے؟

اب اگر بنظر غائر مشاہدہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ہزاروں سال سے موجود نسلی مذاہب یعنی یہودیت و زردشتیت اپنی مخصوص تعداد کے ساتھ موجود رہے، اور آگے بھی مستقبل قریب میں ان کے معدوم ہو جانے کا کوئی خدشہ موجود نہیں۔ دوسری جانب ہندو مت، سکھ مت یا ایسے ہی کچھ دوسرے مذاہب کہ جو عقلی دلائل کے اعتبار سے کمزور ترین جگہ پر کھڑے ہیں، انھوں نے بھی اپنا وجود برقرار رکھا ہوا ہے اور اگر ان مذہب سے افراد کا انخلا بھی ہے تو الحاد سے زیادہ دوسرے مذاہب کی طرف ہوا ہے۔

پھر انتہائی حیران کن طور پر مسیحیت سے متنفر الحاد کی طرف مائل مغرب ایک جانب تو اسلام سے متاثر ہوتا دکھائی دیتا ہے تو دوسری جانب بودھ مت اسے اپنے تاثر میں لیتی نظر آتی ہے۔ مغرب میں مذہب سے دوری کے بعد روحانیت کا جو خلا پیدا ہوا تھا، اس نے مغربی معاشروں کو شدید اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے اور اس اضطراب کو رفع کرنے کے لیے کبھی سوڈو صوفیت کا ڈھول بجایا جاتا ہے تو کبھی وحدت ادیان کا راگ الاپا جاتا ہے، اور اگر اس میں بھی پناہ نہ ملے تو سائیں تولوجی جیسے {Scientology} نئے مذاہب تخلیق کیے جاتے ہیں۔

یہاں اپنی ایک تحریر کا اقتباس پیش کرتا ہوں
” مذہب اور خالق کائنات سے متعلق وہ سب سے قدیم گتھی کہ جس کو مذہب بیزار طبقہ آج تک سلجھا نہ سکا اور وہ اسے مسلسل ذہنی خلش میں مبتلا کیے رکھتی ہے، وہ گتھی یہ ہے کہ آخر مذہب انسانی زندگیوں میں دخیل کیسے ہوا؟ آخر اس مذہب کی پیدائش ہوئی کیسے؟ آخر اس مذہب کا خالق ہے کون؟ پھر سب سے اہم سوال کہ کیا انسانی ذہن نے اپنی ضروریات کے مطابق کسی خدا کو تخلیق کیا یا پھر در حقیقت اس کائنات کا کوئی خدا ہے؟ گو کہ اس دنیا کی معلوم تاریخ ہمیں یہ بتلاتی ہے کہ اس دنیا کی سادہ اکثریت ہمیشہ مذہب کی زلف گرہ گیر کی اسیر رہی ہے۔ لوگ مذہبی تھے، لوگ مذہبی ہیں اور آثار و قرائن یہ بتلاتے ہیں کہ لوگ مذہبی رہیں گے۔

مذہب بے زاری بطور فکری تحریک کوئی بہت قدیم معاملہ نہیں ہے۔ چرچ کے سیاہ دور سے نکلنے والے ذہن نے اپنی بقا اسی میں تلاش کی کہ مذہب کو معاشرے سے الگ کر دیا جائے، مگر اپنی پوری کوشش کے باوجود وہ صرف اتنا کر سکا کہ مذہب کو ریاست سے الگ کر دیا۔

لیکن در حقیقت کیا ایسا بھی ممکن ہو سکا؟ کیا ہمیں مغرب میں مسیحیت کا احیا ہوتا دکھائی دے رہا ہے، گو کہ یہ امر بھی تحقیق طلب ہے۔
ڈیوڈ بارٹن امریکہ کا معروف {evangelical Christian political activist} ہے، اس کا نظریہ ہے کہ ریاست اور مسیحیت کا دوبارہ اشتراک ہونا چاہیے، وہ {National Council on Bible Curriculum in Public Schools} کے بورڈ آف اڈوائیزرز کا فعال رکن ہے۔ موجودہ بنیاد پرست مسیحی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے اس کا کیا کہنا ہے ملاحظہ کیجیے:

David Barton: Christians Who Vote For Donald Trump Bear No Responsibility For What He Does In Office Kyle MantylaBy Kyle Mantyla | October 18, 2016 1:32 pm When Green wondered if voting for Trump means “endorsing or supporting his horrible behavior” or being “responsible for what he does after,” Barton told him that he was looking at the issue in the wrong way.
Elections are too “personality driven” instead of “policy driven,” Barton said, arguing that in voting for Trump, Christians are not supporting the candidate at all but are simply supporting certain policies.
“I’m not endorsing Donald Trump,” Barton insisted, “I’m endorsing the pro-life judges he’s going to appoint. I’m endorsing the military he’s going to put out there that will destroy ISIS. I’m endorsing being a friend of Israel for the first time in eight years.”
“I’m not voting for a personality,” he continued. “I’m voting for policies.

معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے کہ جتنا سمجھا جا رہا ہے۔ دراصل مذہب ایک ایسا امر ہے کہ جس سے چھٹکارا حاصل کیا جانا ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ انسانی فطرت اور انسانی سرشت میں شامل ہے۔ آپ جتنی قوت سے مذہب کو دباتے ہیں وہ اتنی ہی طاقت کے ساتھ ابھر کر سامنے آ جاتا ہے۔ آپ جتنا دامن جھٹکتے ہیں وہ اتنا ہی دامن پکڑتا ہے۔ آپ جتنی دوری اختیار کرنے کے طالب ہوتے ہیں وہ اتنا ہی قریب آتا چلا جاتا ہے۔

حوالہ : معروف لوگ مذہب کی طرف کیوں آتے ہیں فکریات، روحانیات اور نفسیات کے تناظر میں
{https://www.facebook.com/Bhaihasib1/posts/1959928484242232}

نیویارک سے تعلق رکھنے والی سائنسی علوم کی ماہر صحافی ریچل نیور {Rachel Nuwer} 19دسمبر 2014ء کو اپنے پبلش ہونے والے مقالے میں سوال اٹھاتی ہیں 
Will religion ever disappear
کیا مذہب کبھی معدوم ہو سکتا ہے؟
http://www.bbc.com/future/story/20141219-will-religion-ever-disappear

اور اس کے بعد اس پر تجزیہ کرتے ہوئے ایک جگہ لکھتی ہیں

says Ara Norenzayan, a social psychologist at the University of British Columbia in Vancouver, Canada, and author of Big Gods. Existential security is more fallible than it seems. In a moment, everything can change: a drunk driver can kill a loved one; a tornado can destroy a town; a doctor can issue a terminal diagnosis. As climate change wreaks havoc on the world in coming years and natural resources potentially grow scarce, then suffering and hardship could fuel religiosity. “People want to escape suffering, but if they can’t get out of it, they want to find meaning,” Norenzayan says. “For some reason, religion seems to give meaning to suffering – much more so than any secular ideal or belief that we know of.”

ڈاکٹر ارا نورین زایان {Dr Ara Norenzayan} اپنے مقالے {Big Gods} میں ایک نظریہ پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جب بھی ہم یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ مذہب اپنی بنیادوں سے ختم ہو رہا ہے، کہیں پر ہونے والا کوئی حادثہ، کوئی سماوی آفت، کوئی تکلیف، کوئی مصیبت، کوئی پریشانی، کوئی بیماری ظاہر ہو کر انسانی رویے اور مزاج کو تبدیل کر دیتی ہے۔ یہ انتہائی عجیب بات ہے کہ کسی پوشیدہ وجہ کی بنا پر ایسی مشکلات میں کہ جن کا کوئی مادی حل انسانوں کے پاس موجود نہ ہو اور انہیں اس میں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ملتا ہو، وہ مذہب کی طرف راغب ہونا شروع کر دیتے ہیں نہ کہ وہ منطقیت اور مادیت کی جانب راغب ہوں۔ ان کی آخری پناہ روحانیت ہی ہوا کرتی ہے۔

پھر مزید تحقیق کیجیے تو مذہب صرف انتہائی پسماندہ معاشروں میں ہی موجود نہیں بلکہ انتہائی متمدن اور علمی معاشروں میں بھی اس نے اپنا وجود انتہائی کامیابی کے ساتھ برقرار ہوا ہے۔ ملاحظہ کیجیے کہ پروفیسر فلپ جینکنس کیا کہتا ہے:

As Penn State professor Philip Jenkins writes in The Next Christendom: The Coming of Global Christianity, predictions like Huntingtons betray an ignorance of the explosive growth of Christianity outside of the West.
For instance, in 1900, there were approximately 10 million Christians in Africa. By 2000, there were 360 million. By 2025, conservative estimates see that number rising to 633 million. Those same estimates put the number of Christians in Latin America in 2025 at 640 million and in Asia at 460 million.
According to Jenkins, the percentage of the worlds population that is, at least by name, Christian will be roughly the same in 2050 as it was in 1900. By the middle of this century, there will be three billion Christians in the world — one and a half times the number of Muslims. In fact, by 2050 there will be nearly as many Pentecostal Christians in the world as there are Muslims today.

گو کہ ہم ان اعداد و شمار سے اختلاف کر سکتے ہیں مگر ان کا کلی انکار ممکن نہیں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ الحاد کا سب سے بڑا شکار مسیحیت بھی الحادی زخموں سے صحت یاب ہو رہی ہے اور احیائے مسیحیت کا دور آیا ہی چاہتا ہے۔

دوسری جانب ” تہذیبوں کے تصادم ” کا مصنف سموئل ہنٹنگٹن ایک جگہ تحریر کرتا ہے:

In his book The Clash of Civilizations, Samuel Huntington predicts that demographics will decide the clash between Christianity and Islam. And, as he puts it, “in the long run, Muhammad wins out.”

معاشی اعتبار سے یہودیت اور عددی اعتبار سے اسلام اور مسیحیت ابھی اتنی کمزور جگہ پر نہیں ہیں کہ ان کے یکسر معدوم ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو جائے بلکہ آنے والا دور اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ آخری معرکہ شاید انھی کے مابین بپا ہو۔

دنیا میں ابھرتے ہوئے الحاد کی بس اتنی ہی حقیقت ہے کہ کسی آنے والے مسیحا کے لیے اسٹیج تیار کیا جا سکے، اسی لیے دنیا کی باطنیت پرست اقوام ہی بنیاد پرست مذہبی ہونے کے باوجود الحاد کے کھیل میں نمایاں شراکت رکھتی ہیں۔ جان لیجیے کہ جب دنیا مذہب بے زاری کے عروج پر ہوگی تو اسی وقت دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت کسی مذہب کی ہوگی۔ ایسے میں ایک مسیحا کا نمودار ہونا اور پوری دنیا کا اسکے سامنے سربسجود ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ اور یہ بھی جان لیجیے کہ ایسے وقت میں قدیم الہامی مذاہب کا پوری قوت کے ساتھ احیاء ہوگا اور آخری معرکے میں وہی پرانے کھلاڑی شامل ہوں گے یہاں تک کہ خالق کائنات ایک جھوٹے مسیحا کی سرکوبی کے لیے آسمان سے ایک سچا مسیحا اتار دے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں