119

کیا خیر و شر کے باب میں اشاعرہ کی پوزیشن انتہا پسندی پر مبنی ہے؟ -ڈاکٹر زاہد مغل

اشاعرہ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی چیز و عمل بالذات نہ تو اچھا ہے اور نہ برا، ان کا اچھا یا برا ہونا شرعی حکم پر موقوف ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حکم خداوندی آنے سے قبل نہ تو سچ اچھا تھا اور نہ ہی جھوٹ برا، سچ اچھا اور جھوٹ برا تب ہوا جب شارع کا حکم آگیا۔

یہ وہ بیان ہے جو بہت سوں کے لئے غلط فہمی و مشکل کا باعث بنا، نہ صرف آج بلکہ بہت پہلے بھی بنا کیونکہ بظاہر یہ ایک عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ سچ و جھوٹ کی اپنی کوئی اقداری حیثیت نہیں۔ بہت سے لوگوں کو اشاعرہ کا یہ بیان انتہا پسندانہ معلوم ہوتا ہے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اشاعرہ کی بات کی اصل قوت کو واضح کیا جائے۔

اشاعرہ جب یہ کہتے ہیں کہ خیر و شر ذاتی نہیں بلکہ شرعی امور ہیں تو وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر ایک لمحے کے لئے خدا کے حکم کو معدوم فرض کرلیا جائے، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا؟ اس کے جواب میں اشاعرہ کا کہنا ہے کہ اب نہ تو کچھ اچھا ہوگا اور نہ ہی برا۔ کیوں؟ اس لئے کہ بدون وحی اچھے اور برے کا “تعین” کرنے کا کوئی ایسا پیمانہ ممکن نہیں ہے جو خدا کے مطلوب کو واضح کردے۔ یعنی انسان کے پاس کسی شے کے بارے میں یہ جاننے کا کوئی پیمانہ موجود نہیں ہے کہ آیا وحی نازل ہونے سے قبل وہ اللہ کے نزدیک اچھا تھا یا برا۔ تو اس معنی کے اعتبار سے اچھا و برا نہ صرف حکمی چیز ہے بلکہ انسان کے لئے اس کا وجود اس ہی وقت ظہور پزیر ہوتا ہے جب شارع کا حکم واضح ہو۔ تو ایک عمل انسان کے لئے اچھا “تب” بنا جب اس کی بابت انسان کے لئے خدا کے ارادے کا ظہور ہوا۔ وحی کے پردے کے پیچھے (یعنی جب شارع کا حکم موجود نہ ہو) اشیاء و اعمال کی حقیقت و حکم کیا ہے؟ اسی کا جواب امام غزالی نے دیا تھا: “توقف”، یعنی اس پردے کے پیچھے وہ عمل اچھا ہے یا برا، یہ میں نہیں جان سکتا، میں اس معاملے میں بس وہ جان سکتا ہوں جو خدا نے نبی کے ذریعے بتایا۔

سچ یہ ہے کہ اشاعرہ کی یہ پوزیشن انتہا پسندانہ نہیں بلکہ عین مبنی بر حقیقت ہے، بس اس کی strength کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جن لوگوں نے اشاعرہ کی اس پوزیشن پر نقد ڈویلپ کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اعمال کا حسن و قبح ذاتی و عقلی بھی ہے وہ اس مقصد کے لئے قرانی آیات پیش کرتے رہے جس سے اشاعرہ کی دلیل رد نہیں بلکہ مضبوط ہوتی ہے کیونکہ مسئلہ وحی کے پردے کے سامنے کھڑے ہوکر حکم لگانے کا نہیں بلکہ اس پردے کو اٹھا کر حکم لگانے کا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں