104

کیا خدا موجود ہے؟ – خرم علی راؤ

عدم کا ایک عدیم النظیر شعر ہے

آگہی میں اک خلا موجود ہے

اس کے معنی کہ خدا موجود ہے

ملحد، ایتھیسٹ، دہریے، مادہ پرست، کم و بیش معنی میں اک طرزِ فکر، ایک مائنڈ سیٹ کا نام ہے جن کے نزدیک یہ سارا نظامِ عالمین بغیر کسی خالق کے وجود میں آگیا ہے اور مذہبی تعلیمات، نعوذ باللہ، صرف قصے اور کہانیاں ہیں۔ اس طبقے کے مطابق یہ سارا نظام کچھ ایسے اصولوں پر چل رہا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ کھلتے جائیں گے اور جیسے جیسے فہم و عقل انسانی مزید ارتقاء پذیر پاتی جائے گی، ہم ان مذہبی تصورات و اوہام سے باہر نکلتے جائیں گے ۔ ان مذہبی تصوارت کی بنیاد اور اساس ایک ایسی زبردست اورلامحدود طاقت رکھنےوالی ذات ہے جسے مذہبی طبقہ خدا یا ‘گاڈ’ کہتا ہے۔

یہ خلاصہ ہے اس ملحدانہ طرز فکر کا جو فی زمانہ انٹر نیٹ کی بے پناہ رسائی کے سبب کچے ذہنوں کو مسموم کر رہی ہے۔ ان ملحدین کا طریقۂ واردات اسی منطق پر استوار ہے جو زمانۂ قدیم سے مذہبی طبقات کے مقابل آتی رہی ہے۔ بس اب جدیدیت کی آمیزش سے اس پرانی شراب کو نئی بوتل میں پیش کیا جارہاہے۔

کیا خدا ہے؟

تاریخ انسانی میں اِس سے اہم قدر و منزلت والا سوال کوئی اَور نہیں۔ یہ وہ سوال ہے جو انسانی وجود کے آغاز سے اَب تک ہر زمانے کے لوگوں نے پوچھا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ وہ سوال ہے جو علم کی جستجو میں انسانی ذہن اِس اُمید کے ساتھ پوچھتا رہے گا کہ اِس کے جواب میں رنج و الم سے بھری دُنیا میں روشنی، تابندگی، خوشی اور شادمانی ملے گی۔ ایمان پر بحث کرنے سے پہلے غالباً یہ سب کیے جانے والے سوالات میں سے اہم ترین ہے جس کا جواب دینا ازحد ضروری ہے۔

مختلف آراء اور عقائد رکھنے والے لوگوں کے جوابات کو تین لحاظ سے بیان کیا جا سکتا ہے:

الف – مُلحدوں کا جواب

ایسے لوگ کہتے ہیں خدا کا کوئی وجود نہیں، اِنہیں احمق کہا گیا ہے کیونکہ یہ کوئی منطقی ثبوت سامنے لائے بغیر اپنے انکار اور بےاعتقادی کو منفی رویّے سے سہارا دیتے ہیں۔ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ کوئی ایسا ملحد نظر آئے جو خدا تعالیٰ پر اپنے عدم ایمان کو مثبت یا منطقی طور پر ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہو۔

ب- لا ادریوں کا جواب

یہ افراد الحاد اور ایمان کے درمیان آتے ہیں، اور اِن میں کسی بھی طرف قائلیت نہیں ہوتی۔ اِن لوگوں کا المیہ یہ ہے کہ اِن کے دِلوں پر شک کے بادل چھائے رہتے ہیں۔ اِن کے جذبات خوف و اِضطراب سے مغلوب ہوتے ہیں۔ اِن میں ایمانی تحریک کی کمی اِنہیں ایمان کی حالت کی نسبت الحاد کے قریب لے آتی ہے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مذہب اپنے تمام پہلوؤں میں ایک لا ینحل معمہ اور ناقابل دریافت بھید ہے اور دین کے بارے میں بحث سے زیادہ سے زیادہ جو حاصل ہو سکتا ہے وہ شک اور غیر یقینی ہے۔ بلا شک و شبہ لا ادریت اپنی فکر کے اعتبار سے ذہنی بنجر پن ہے اور انسان کی جہالت کی قابل افسوس حالت میں تنزلی کا باعث بنتی ہے۔ یہ انسان میں اُس کی غیر یقینی اور شک و شبہ کے باعث کئی مثبت اوصاف اور خصوصیات کو ختم کر دیتی ہے، اور ایسے معاملات میں جہاں وہ خدا پر توکّل اور ایمان کے سوا کچھ نہیں کر سکتا اُسے اُس ایمان سے پسپائی پر مجبور کر دیتی ہے۔

ج- ایمانداروں کا جواب

یہ خدا تعالیٰ کے وجود پر اپنے ایمان کا اقرار کرتے ہیں اور اپنے ایمان کو مادّی، عقلی اور حسی تجزیے کے تابع نہیں کرتے کیونکہ خدا جس پر وہ ایمان رکھتے ہیں وراءالوراء ہے، اور اُسے عقل یا حِس کے ذریعے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگر اُسے پانچ حِسّوں کے ذریعے سمجھا جا سکتا تو انسان اپنے خدا سے بڑا بن گیا ہوتا اور پھر اگر حواس سے اُس کا ادراک کیا جا سکتا تو لفظ “ایمان با الغیب ” دینی لغت میں شامل نہ ہوتا۔

خداوند تعالی کے وجودِمسعود پر لا تعداد ثبوت و دلائل ہیں،یہ لاتعداد میں نے صرف زورِ تحریر میں نہیں لکھا بلکہ امر واقعہ ہے۔ ثبوت پیش کرنے سے قبل، پہلی سچائی جسے سمجھنے کی ضرورت ہے یہ ہے کہ ہمیں خدا کے وجود سے متعلقہ مادّی دلائل کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔ خدا ناقابلِ دید ہے اور تمام آسمانی ادیان یہی سکھاتے ہیں۔ ہمیں ایماندار کو یہ کہنے کا کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ ہمیں خدا کو دِکھائے تا کہ ہم اُس کے وجود پر ایمان لا سکیں، جو بات ہمیں جاننے سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ خدا پر ایمان اُس پر ایمان نہ لانے سے بہتر ہے۔

کچے ذہنوں کو پراگندہ اور منتشر کرنے کے لیے یہ طبقۂ ملحدین پہلا سوال یہ کرتا ہے کہ” اچھا چلو اگر ہر چیز خدا نے بنائی ہے تو خدا کو کس نے تخلیق کیا ہے؟” اس سوال کے یوں تو بے شمار جوابات ہیں مگر چند ایک ہی پیش کرتا ہوں جو مختلف علماء ربانی اور حکماء امت اپنی تحاریر و تقاریر میں دے چکے ہیں۔

اول- یہ سوال ہی بنیادی طور پر غلط ہے کیونکہ نظامِ تخلیق مخلوق کے لیے ہوتا ہے خالق اس نظام سے اوپر ہوتا ہے اور جو تخلیق ہو جائے وہ خالقِ مطلق نہیں ہو سکتا۔ مثلاً انسان نے کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کا فی زمانہ ایک نظام تخلیق کر دیا ہے مگر یہ نظام انسان کے ماتحت اور تابع ہے اور رہے گا اور انسان اس نظام کی حدود سے باہر اور اوپر ہے کیونکہ خالق، مخلوق میں موجود نظاموں سے بلند و برتر ہوتا ہے۔

کائنات کا وجود(قانونِ علت و معلول Cause & Effect)

پہلی بات کہ یہ کائنات کوئی حادثہ نہیں بلکہ تخلیق ہے۔ اگر یہ کوئی حادثہ ہوتا تو اس میں بے ترتیبی، عدم توازن اور اور بد نظمی ہوتی، مگر جاننے والے جانتے ہیں یعنی ریاضی دان، کوانٹم طبعیات کے ماہرین سے لے کر ماہرین فلکیات اور دیگر سائنسی علوم کے ماہرین کہ یہ کائنات با ترتیب، منظم اور ایسے زبردست توازن پر استوار ہے جو ذرّات کی اندرونی حیرت انگیز دنیا سے لے کر اس وسیع و عریض کائنات میں ہر جا نمایاں ہے۔ چنانچہ یہ امر ثابت شدہ ہے کہ یہ کائنات حادثہ نہیں بلکہ تخلیق ہے، تو اگر یہ تخلیق ہے تو کوئی تو خالق بھی ہوگا۔ یہ ایک مُسلّم حقیقت ہے کہ ہر معلول کی کوئی علّت ہوتی ہے جو اُس معلول کے ہونے پر قدرت رکھتی ہے۔ کائنات نہ تو ابدی ہے اور نہ اِس نے بذاتِ خود اپنے آپ کو تخلیق کیا۔ اِس لیے یہ ایک معلول یا ایک نتیجہ ہے، یعنی اِس کی اِس سے باہر ایک علت ہے جو اِس کے ہونے پر قادر تھی۔ اِس سے فطری طور پر حقیقی اور دائمی وجود رکھنے والی ایک علت کی پہچان لازمی ٹھہرتی ہے، کیونکہ لا شے کسی شے کو وجود نہیں دے سکتی۔

کائنات کی عارضی فطرت کے کئی دلائل ہیں، جن میں سے ہم دو کا ذِکر کر رہے ہیں:

(1) دُنیا اپنی موجودہ صورت میں مسلسل تغیر پذیر ہے اور ہر متغیر شے ایک آغاز رکھتی ہے۔

(2) مسلسل ارضیاتی انقلابات جو دُنیا میں کئی بڑی تبدیلیوں کا سبب بنے ہیں ظاہر کرتے ہیں کہ یہ دُنیا ازلی نہیں بلکہ عارضی ہے۔

یہ کہنا کہ دُنیا واجب الوجود ہے (یعنی خود سے موجود ہے) عقلِ سلیم کے برعکس ہے۔ دُنیا اَن گِنت عناصر سے مل کر بنی ہے اور ہر بنی ہوئی شے ایک معلول ہے یعنی اُس کا کوئی سبب ہے۔ جدید دریافتوں کی گواہی ظاہر کرتی ہے کہ دُنیا ایک ہاتھ کی کاریگری ہے۔ اِس میں پائی جانے والی تمام مخلوقات عقل واحد نے مرکب و منظم کی ہیں۔ یہ قطعی طور پر واضح ہے کہ ایک خالق عظیم وجود رکھتا ہے جو سب چیزوں کی عِلّت اصلی ہے۔

اللہ کی آخری کتاب قرآن پاک ہے جو ناقابلِ تحریف اور شک و شبہ سے پاک ہے۔ اس کتابِ مقدس میں ایسے سائنسی حقائق کا بیان اہلِ نظر سے پوشیدہ نہیں ہے جنہیں سائنس آج اپنی ترقی کے عروج پر بھی تسلیم کرنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتی اور آج سے تقریباً 1500 برس پہلے کوئی شاید ان کے بارے میں جاننا تو دور سوچ بھی نہیں سکتا تھا مثلاً،آیات برائے کائناتی پھیلاؤ اور مداروں کا ذکر، انسانی جنین اور دورانیۂ پیدائش کے تمام مرحلوں کی ایسی تصویر کشی کہ ہماری آج کی ماڈرن سائنس بھی اس سے بہتر نہیں بتا سکتی۔دھاتوں بالخصوص لوہے کے فوائد کے بارے میں اشارے، اعداد کی اہمیت اور ثنائی نظام (binary system) کی جھلکیاں اور بھی مزید بہت کچھ جو طوالت کے خوف سے بیان میں مانع ہے۔ اگر کوئی خدا نہیں تو ڈیڑھ ہزار برس پہلے عرب کے ایک جاہلانہ معاشرے میں ایسی کتاب کیسے وجود میں آگئی جوسربستہ بھی اور مسلّمہ تصدیق شدہ بھی اعلیٰ علمی، فلسفیانہ اورسائنسی حقائق کا خزانہ ہے۔

آپ سوچیں گے کہ کوئی سوال بنیادی طور پر ہی غلط کیسے ہو سکتا ہے؟ تو مثال حاضر ہے۔ اگر آپ کسی ڈاکٹر سے یہ کہیں کہ مسٹر جان اسپتال میں داخل ہو گئے ہیں آپ بتائیں کہ ان کے یہاں لڑکا ہوگا یا لڑکی؟ تو جواباً ڈاکٹر صاحب آپ کو جن نظروں سے گھوریں گے ان سے آپ کو بنیادی طور پر سوال کیسے غلط ہوتا ہے، سمجھ آجائے گا۔ منکرینِ خدا کی عقول شاید یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں حالانکہ وہ خود کو بہت ہی عقلمند سمجھتے اور ظاہر کر تے ہیں کہ کوئی شے ان کی عقول سے ماوراء بھی ہو سکتی ہے، عقل چراغ راہ ضرور ہے مگر منزل نہیں ہے۔

دوم، چلیں اگر بالفرض محال کوئی اس کا جواب دے کہ مثلاً خدا کو الف نے تخلیق کیا ہے تو پھر منطقی طور پر اگلا سوال یہی ہوگا کہ الف کو کس نے تخلیق کیا؟ جواب ملے کہ ب نے تو پھر اگلا سوال کہ ب کو؟ اور یہ تکراری سلسلہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا اس لیے اوپر دیے ہوئے عدم کے شعر کا مطلب اب سمجھ میں آجانا چاہیے کہ اس ناقابلِ اختتام تکراری سوال میں جہاں آپ تھک کر رُکیں گے اور اعلانِ اختتام کریں گے وہیں خدا ہوگا۔ “جہاں سارے عالم کی ساری مخلوقات کی عقول کی حدود کا اختتام ہوتا ہے، میرے اللہ کی بڑائی کا وہیں سے آغاز ہوتا ہے”۔

خالق کا تخلیق ہونے سے بالا تر ہونا ہی اس کے خالق ہونے کی دلیل محکم ہے۔ ہماری عقول کی وسعت چاہے کتنی بھی ہو آخر کار اس کی ایک حد ہے جبکہ جس خدا کو ہم مانتے ہیں وہ زمان و مکان سے بے نیاز و بالاتر اور خالق زمان و مکان ہے۔ لامحدود ہے، تو چھوٹے برتن میں بڑا برتن کیسے سما سکتا ہے؟ خدا ہماری عقول میں کیسے آسکتا ہے؟ ایک مؤحد فلسفی یعنی متکلم سے اس کے شاگرد نے کہا کہ استاد جی! یہ دعویٰ تو بظاہر محلِ نظر ہے ، عقل میں ہر چیز آ سکتی ہے تو خدا کیوں نہیں سما سکتا؟ شاگرد ہونہار تھا اس لیے استاد اسے ساحل سمندر پر لے گئے اور فرمایا کہ یہاں ریت ہٹا کر ایک گڑھا کھودو۔ شاگرد نے ایک بڑا سا گڑھا کھود دیا۔ تب استاد بولے،”اب سمندر کا سارا پانی اس گڑھے میں ڈال دو، بولا، یہ نہیں ہوسکتا سارا پانی اس گڑھے میں کیسے آ سکتا ہے؟ بولے تو اسی طرح محدود عقول میں لامحدود ذاتِ مطلق کیسے سما سکتی ہے؟ اور جناب امامِ اعظم امام ابو حنیفہ رح کا عباسی خلیفہ المنصور کے دربار میں ایک ملحد فلسفی عالم سے ہونے والا مناظرہ تو بہت مشہور و معروف ہے، جس میں آپ نے اس کے ان تین سوالوں کا عقلی جواب دیا تھا جن سوالوں سے وہ بہتوں کو ذات واجب الوجود کے بارے میں شک میں ڈال چکا تھا۔ 1) خدا سے پہلے کیا تھا؟2) اگر کوئی خدا موجود ہے اس کی جہت کیا ہے یعنی کہ اس کا رخ کس طرف ہے؟ اور 3) اگر کوئی خدا ہے تو وہ اس لمحے میں کیا کررہا ہے؟۔ آپ نے اس کی ایسی عقلی تسلی کی اور لاجواب مشاہداتی دلائل دیے کہ وہ خجل و خوار ہوکر بھاگ گیا۔جوابات نہیں بتاؤں گا وہ آپ خود تلاش کر کے ذرا علمی جستجو کی لذت سے آشنائی تو پیدا کریں۔

سوم، باب العلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے بھی ایک منکر و دہریے فلسفی نے اسی امکانِ وجود باری تعالی اور آخرت پر عقلی جواب مانگا تھا تو حضرت علی کرم اللہ وجہ نےجو فرمایا تھا اس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ” تیرے سوال کے دو عقلی جواب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ تو جویہ کہتا ہے کہ خدا، حشر، آخرت، جنت دوزخ سب کہانیاں ہیں وہ درست ہے اور دوسرا جو ہم کہتے ہیں کہ یہ سب اسی طرح سے موجود ہے جیسے الہامی تعلیمات میں بتایا گیا ہے وہ درست ہے، کیا کوئی تیسری صورت بھی تیری عقل میں آتی ہے؟،وہ بولا نہیں ! یہ دو ہی باتیں عقلی طور پر ہوسکتی ہیں یا سب نہیں ہے یا ہے۔ آپؓ نے فرمایا، تو سنو! اگر تم درست ہو تو مرنے کے بعد تم بھی ختم ہم بھی ختم، کسی کا کچھ نقصان نہ فائدہ۔ لیکن آدھا امکان تو تمہارے “ہی” مطابق بھی یہ ہے کہ ہم جو کہتے ہیں وہ درست ہے تو پھر اگر یہ سب ہوا تو ہم تو اس رب کریم کے فضل اور رحمت سے بچ جائیں گے اور تمہارے جیسے منکر دائمی سزاؤں میں پھنس جائیں گے۔ اتنا بڑا خطرہ مول لے سکتے ہو؟

وہ “ذہین” ملحد سوچتا رہا اور پھر بولا نہیں اتنا بڑا خطرہ مول نہیں لیا جاسکتا،واقعی اگر یہ سب ہوا تو میں تو مارا جاؤں گا اور مسلمان ہوگیا!

آخر میں ایک سوال برائے ملحدان” آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ خدا نہیں ہے؟”

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں