119

کیا بائبل کے مطابق زمین چوکور تھی؟ فیصل ریاض شاہد

“وہ دو چارعلمائے کلیسا جو زمین کو چپٹی اور چوکور ماننے پر مصر رہے، انہوں نے عقلی دلائل کے ساتھ ساتھ اپنے موقف کے حق میں اپنی مقدس مذہبی کتاب بائبل سے بھی دلائل فراہم کئے اور بائبل سے ایک پورا علم الفلکیات و الارض تخلیق کر لیا۔ انہوں نے قدیم تہذیبی افکار کو بائبل سے جواز فراہم کیا اور بائبل سے نت نئے دلائل تراش لئے حالانکہ بائبل ایک مذہبی کتاب تھی اور مذہبی کتب سائنسی معلومات کیلئے نازل نہیں ہوا کرتیں بلکہ ان کا مقصد انسان کو خدا سے قریب اور اخلاقیات کی تکمیل کرنا ہوتا ہے۔ ان اکا دکا مسیحی علماء نے یہ بہت بڑی غلطی کی کہ بائبل کو فلکیات کی بحثوں میں گھسیڑ لائے۔ بظاہر اس رویے کا کوئی نقصان نہیں تھا لیکن تاریخ نے پندرہ سو سال بعد اس رویے کے نہایت مہلک اور مذہب شکن نتائج برآمد کئے، جن کا مطالعہ ہم اگلے صفحات میں کریں گے۔

And after these things I saw four angels standing on the four corners of the earth, holding the four winds of the earth, that the wind should not blow on the earth, nor on the sea, nor on any tree.(1)
اِس کے بعد مَیں نے زمِین کے چاروں کونوں پر چار فرِشتے کھڑے دیکھے۔ وہ زمِین کی چاروں ہواؤں کو تھامے ہُوئے تھے تاکہ زمِین یا سَمَندَر یا کِسی دَرخت پر ہوا نہ چلے۔
اس عبارت سے یہ استدلال کیا گیا کہ چونکہ اس میں “چاروں کونوں” کا لفظ آیا ہے لہذا خدا کے نزدیک زمین کے چار کونے ہیں، گویا یہ چوکور ہے۔ حالانکہ ایک سطحی عقل رکھنے والا فرد بھی بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ یہاں چار کونوں، چار فرشتوں اور چار ہواوں سے چار کا ریاضیاتی عدد مراد نہیں ہے۔

And shall go out to deceive the nations which are in the four quarters of the earth, Gog and Magog, to gather them together to battle: the number of whom is as the sand of the sea.(2)
اور اُن قَوموں کو جو زمِین کے چاروں طرف ہوں گی یعنی جُوج و ماجُوج کو گُمراہ کر کے لڑائی کے لِئے جمع کرنے کو نِکلے گا۔ اُن کا شُمار سَمَندَر کی ریت کے برابر ہوگا۔
اس عبارت میں “چار اطراف” کا لفظ آیا ہے لہذا اسے بھی زمین کے چوکور ہونے پر دلیل سمجھا گیا حالانکہ یہاں چاروں اطراف سے مراد “پوری زمین” ہے۔

And he shall set up an ensign for the nations, and shall assemble the outcasts of Israel, and gather together the dispersed of Judah from the four corners of the earth.(3)
اور وہ قوموں کے لیے ایک جھنڈا کھڑا کریگا اور ان اسرائیلیوں کو جو خارج کیے گئے ہوں جمع کریگا اور سب بنی اسرائیل کو جو پراگندہ ہو نگے زمین کی چاروں اطراف سے فراہم کریگا۔
یہاں بھی چاروں اطراف سے پوری دنیا مراد تھی لیکن ظاہر بینوں نے اس سے ریاضیاتی عدد “4” مراد لے کر بائبل کو اپنی من گھڑت تشریحات کی بھینٹ چڑھا دیا۔

Again, the devil taketh him up into an exceeding high mountain, and sheweth him all the kingdoms of the world, and the glory of them.(4)
پھِر اِبلیس اُسے ایک بہُت اُنچے پہاڑ پر لے گیا اور دُنیا کی سب سلطنتیں اور اُن کی شان و شوکت اُسے دِکھائی۔
And the devil, taking him up into an high mountain, shewed unto him all the kingdoms of the world in a moment of time.(5)
اور اِبلِیس نے اُسے اُونچے پر لے جا کر دُنیا کی سب سلطنتیں پل بھر میں دِکھائیں۔
ان عبارت سے استدلال کیا گیا کہ بائبل کے مطابق پہاڑ پر کھڑے ہو کر زمین کی “سب”سلطنتیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ “سب” سلطنتوں اور تمام ممالک کو دیکھنا تب ہی ممکن ہے جب زمین کو چپٹی مانا جائے، اب چونکہ خدا نے “سب” کا لفظ استعمال کیا اس لئے ظاہر پرستوں کے مطابق خدا کے نزدیک زمین چپٹی ہے کیونکہ اگر چپٹی نہ ہو تو کسی بلند پہاڑ پر کھڑے ہو کر پوری دنیا کو نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہاں لفظ “سب” کو ان ظاہر بینوں نے غلط معنوں میں سمجھ کر ایک غلط نظریہ اخذ کیا ہے۔ یہاں لفظ “سب” سے مراد پوری دنیا کی تمام سلطنتیں نہیں تھیں بلکہ مراد یہ تھی کہ ابلیس اسے بہت اونچے پہاڑ پر لے گیا اور اس مقام سے جتنی زمین نظر آ سکتی تھی، وہ دیکھائی۔
علمائے عیسائیت میں سے محض چند ایک علماء ہی نے ایسا غلط استدلال کیا تھا ( بعض اب بھی کرتے ہیں )اور بائبل سے قدیم فلسفیانہ و تہذیبی افکار کو جواز فراہم کر کے بائبل کو تختہ مشق بنایا تھا۔ جبکہ جمہور علمائے مذہب ایسے خیالات نہیں رکھتے تھے۔ بائبل اور مذہب کو جدید سائنس کے خلاف قرار دینے کیلئے جلتی پر تیل کا کام ملحدین، پروٹسٹنٹس اور ظاہر پرستوں نے کیا۔ پروٹسٹنٹ تو پہلے ہی اپنے روایتی کیتھولک علمائے مذہب سے بیزار تھے اور ملحدین و مذہب بیزار طبقے کُل مذہب ہی کے خلاف تھے اس لئے انہوں نے بائبل اور کیتھولک علماء پر خوب طعنے کسے اور انہیں ہر طرح سے مذہب دشمن اور سائنس دشمن قرار دیا۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Revelation 7: 1
Revelation 20: 8
Isaiah 11: 12
Matthew 4: 8
Luke 4: 5
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاریخ الحاد مغرب از فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں