68

کیا اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے؟ محمد دین جوہر

استعمار اپنے محکوم معاشروں کی نہ صرف نسل کُشی کی طاقت رکھتا ہے جو تاریخ سے ظاہر ہے، بلکہ اِن معاشروں کی ذہن کُشی کے بھی مکمل وسائل رکھتا ہے۔ نسل کشی کی طرح، ذہن کُشی بھی ایک سیاسی اور اجتماعی عمل ہے۔ جدید سیاسی طاقت اپنی ہیئت میں ایک بالکل نئی چیز ہے اور مادی (نسل کشی، تاراج وغیرہ) اور غیرمادی (ذہن کُشی، کلچر وغیرہ) چیزوں کے خاتمے اور پیداوار کے مکمل وسائل رکھتی ہے۔ افریقی مصنف تھیانگو نگوگی کے بقول استعماری غارت گری میں یکساں نتائج کے لیے ’کلاس روم‘ ’ٹینک‘ کی پیروی میں نمودار ہوتا ہے۔ شمالی اور لاطینی امریکہ کے ریڈ انڈین معاشرے، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے دیسی معاشرے اور کچھ افریقی معاشرے نسل کشی کی تاریخی مثالیں ہیں۔ کئی ایک مسلم معاشرے نسل کشی کی اور بالمعموم ذہن کُشی کی بھیانک مثالیں ہیں۔ ذہن قوموں کی بقا کا لازمہ ہے۔ یہ ذہن کُشی ہی کا نتیجہ ہے کہ ہمیں آج تک جدید سیاسی طاقت کی ہیئت اور اس کے پیچھے کارفرما علمی تصورات سے بالکل ابتدائی سطح پر بھی کوئی واقفیت حاصل نہیں ہو سکی۔ نسل کشی سیاسی، معاشی اور عسکری طاقت کا مظہر ہے، اور ذہن کُشی جدید علم کی غیرمعمولی کارگزاری ہے۔

’اسلام تلوار کے زور سے پھیلا‘ کا قضیہ بھی استعمار کے جدید علمی وسائلِ ذہن کشی کی ایک مثال ہے۔ ذہن کشتگی کی حالت محکوم کے ’جبری تعاون‘ (coercive co-operation) کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔ ذہن کشتگی کے لیے محکوم کو اس بنیادی مفروضے پر یقین دلانا ضروری ہے کہ اس کا معاشرہ تو محکومی سے دوچار ہوا، لیکن اس کی علمی اور تہذیبی روایت مغلوب ہوئی اور نہ اس پر کوئی اثر مرتب ہوا۔ اقبالؒ نے اسی طرف اشارہ فرمایا ہے:

مُلّا کو جو ہے ہِند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد!

یعنی ’سمجھنے‘ کی ذہنی کارگزاری مکمل طور پر تاریخ اور روایت سے منقطع ہو جاتی ہے۔ یہ جاننا کہ ’اسلام آزاد ہے‘ کہ نہیں، روایت اور تاریخ سے رجوع کیے بغیر ممکن نہیں۔ اقبالؒ نے اس شعر میں مذہبی عمل اور مذہبی فکر میں ایک ضروری امتیاز پیدا کیا ہے۔ ’سجدہ‘ ایک مذہبی عمل ہے، اور ’اسلام‘ سے مراد تعلیمات اسلامی اور افکار اسلامی ہیں۔ اقبالؒ کے بقول، ایک جزوی مذہبی عمل کی موجودگی سے یہ نتیجہ نکالنا کے اسلام کے تہذیبی افکار بھی آزاد ہیں نہایت نادانی کی بات ہے۔ استعماری غلبے نے جہاں بینی اور جہاں بانی کے ایسے تمام تہذیبی افکار کا خاتمہ کر دیا جو ہمیں دین سے حاصل ہوئے تھے یا اس سے براہ راست جڑے ہوئے تھے۔ ذہن کشتگی کی حالت سے نکلنے کی اولین شرط استعمار اور استشراق کی تاریخی حقیقت کا ادراک اور اس کی واقعیت کو تسلیم کر کے ذہن کو حالتِ انکار سے باہر لانا ہے تاکہ وہ کارِ علمی کا اپنا بنیادی وظیفہ سامنے لا سکے۔ ذہن کُشتہ انسان علم سے تمام انسانی نسبتوں سے محروم ہو کر طاقت کے کھیل کا حصہ بنتا ہے، اور اس کا محض آلہ کار بن جاتا ہے۔ مذہب کی اجتماعی اور معاشرتی اقدار اب صرف ہمارے حافظے میں باقی ہیں، اور ان کی علمی نسبتیں ہمارے ذہن سے مطلقاً ختم ہو چکی ہیں۔

یہ قضیہ کہ ’اسلام تلوار سے پھیلا ہے‘ استعماری دور سے چلا آنے والا ایک پرانا استشراقی موقف ہے۔ سنہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں شکست کے بعد برصغیر پاک و ہند میں جدید تعلیم کے پھیلاؤ کے ساتھ اس قضیے کی بھی اشاعتِ عام ہوئی اور یہ ایک ’ثقافتی سچ‘ کے طور پر ہمارے جدید ہوتے معاشرے میں عام ہو گیا۔ مسلمانوں کا اپنی تاریخ سے تعلق اور جدید ادراک بالعموم اسی قضیے کے تحت تبدیل ہوا ہے۔ ایسے قضایا سیاسی غلبے کے بعد، محکوم قوم کے شعور کی نئی تشکیل کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ ان کا ’ہاں‘ اور ’ناں‘ میں جواب دیتے دیتے محکوموں کی علمی روایت منقلب ہو جاتی ہے اور تاریخ کا کوئی تناظر بھی باقی نہیں رہتا۔

اسلام ایک بنیادی عقیدہ بھی ہے، اور عملاً ایک حکومت اور تہذیب بھی ہے۔ مذکورہ قضیے سے مراد یہ ہے کہ اسلام بطور عقیدہ ’تلوار‘ یعنی سیاسی طاقت سے پھیلا ہے اور غیرمسلم معاشروں کو بالجبر مسلمان بنایا گیا ہے۔ استعماری اور اسلامی تاریخ کا معمولی سا علمی موازنہ بھی اس قضیے کو رد کرنے کے لیے کافی ہے۔ صرف اسی امر کو دیکھ لینا کافی ہے کہ شمالی امریکہ میں استعماری یورپ کی دو صد سالہ موجودگی اور برصغیر میں مسلمانوں کی ہزار سالہ فرمانروائی کے کیا نتائج سامنے آئے؟ اسلامی طرز زندگی کے پھیلاؤ میں عقائد کی نوعیت، تہذیبی کردار، اسلوبِ فرمانروائی اور نظری علوم کی اہمیت تو ظاہر ہے، لیکن اس میں کچھ شک نہیں کہ اسلام کی اشاعت میں بنیادی اہمیت اس کے دینِ حق ہونے، اور انسان کی وجودی ضروریات کو بہ تمام و کمال پورا کرنے، اور کافۃٌ للناس کی ہے۔ مذکورہ قضیے کا اصل مطلب یہی ہے کہ اسلام دینِ حق نہیں ہے، طاقت کے جبر سے قائم ہونے والا عقیدہ ہے۔

اس میں کچھ شک نہیں کہ اسلامی حکومتوں کا قیام اشاعتِ اسلام کی پیروی میں ہوا، اور یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ اسلامی حکومت کا قیام اشاعتِ مذہب میں مددگار ہوا۔ لیکن یہ کہنا کہ اسلامی عقیدے کی اشاعت میں سیاسی طاقت کا جبر شامل رہا ہے، ایک بالکل لغو قضیہ ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے جدید سیاسی طاقت فکر کو شعور میں بالجبر ’نافذ‘ کرنے کے عملی ذرائع سے مکمل طور پر لیس ہے، جبکہ روایتی اور شخص مرکز سیاسی طاقت کو یہ کبھی سوجھا بھی نہیں تھا۔ اکبر الہ آبادیؒ نے جدید استعماری سیاسی طاقت کے اسی پہلو کی طرف اشارہ کیا ہے:

یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

تھیوڈور اڈورنو بھی عین یہی بات کہتا ہے کہ جدیدیت انسانی شعور کو colonize کر لیتی ہے، یعنی فکر اور کلچر کو بالجبر انسانی شعور میں داخل کرنے کی مکمل استعداد رکھتی ہے۔ یاد رہے کہ اپنی ہیئت میں سیاسی طاقت جدیدیت کی سب سے بڑی مظہر ہے، اور یہ کہ colonization کا کوئی عمل جبر سے خالی نہیں ہوتا۔

اس میں کوئی کلام نہیں کہ قرنِ اول سے آمدِ استعمار تک مسلم حکومتوں کے پھیلاؤ میں بنیادی اہمیت ’تلوار‘ کی رہی ہے۔ حکومت ایک سیاسی اور تاریخی حقیقت ہے اور یہ صرف قوت ہی سے قائم ہوتی ہے اور قائم رہ سکتی ہے۔ عقیدے کی اشاعت میں وعظ و نصیحت اور مسلم معاشرت بنیادی عوامل ہیں، لیکن حکومتیں وعظ و ارشاد سے قائم نہیں ہوتیں اور نہ ان سے باقی رہ سکتی ہیں۔ عقیدے کی اشاعت اور طاقت کی توسیع دو بالکل الگ چیزیں ہیں، اور ان کے پھیلاؤ کے تاریخی اور معاشرتی اصول بھی الگ ہیں۔ اسلامی حکومتوں کا پھیلاؤ تلوار کی قوت سے ہوا، کیونکہ جنت تلواروں کے سائے میں ہے۔ اسلامی حکومت و تہذیب جنت کا دنیاوی پرتو ہے، تو یہ بھی یقیناً تلواروں ہی کے سائے میں قائم ہوتی ہے۔ اسلامی تہذیب ہماری فردوسِ گم گشتہ ہے، اور تاریخ کا سرخ سمندر تلوار کی ضربِ کلیمی سے راستہ دیتا ہے، وعظ سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ حکومت اور تہذیب کے قیام میں تصور اور نظریے غیرمعمولی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، لیکن تلواروں کے بغیر نہ کوئی حکومت قائم ہو سکتی ہے اور نہ کوئی تہذیب معرضِ تاریخ میں ظاہر ہو سکتی ہے۔

اس تناظر میں اہم تر امر یہ ہے کہ ’عمل‘ کا نفاذ قوت سے ممکن ہے، لیکن فکر کا ’نفاذ‘ قوت سے ممکن نہیں۔ تاریخ کا مزاج یہی رہا ہے تا آنکہ جدید یورپی تہذیب کا ظہور ہوا جس کے دریافت کردہ جدید سیاسی وسائل سے ’فکر‘ کا نفاذ بھی ایک حکومتی پالیسی کے طور سامنے آیا۔ علم کا استناد طاقت کے تابع آنے سے تشکیل علم اور ترویج علم کے ذرائع مکمل طور پر تبدیل ہو جاتے ہیں، لیکن ہم اپنی ذہن کشتگی کی حالت میں اس سے آگاہ نہیں ہو سکے ہیں۔

استعماری اور مغربی سیاست صرف غلبہ نہیں ہے، صرف ترقی نہیں ہے، غیریورپی معاشروں کے لیے نسل کشی اور ذہن کشی کا ایک سیلِ ہلاکت بھی ہے۔ محکوم معاشروں کے لیے مغربی غلبے کا ایسا تجربہ جو صرف ترقی ہو، اور ہلاکت، استحصال، نسل کشی اور ذہن کشی نہ ہو، گزشتہ تین سو سالہ تاریخ میں معدوم ہے۔ کولمبیائی عہد کے آغاز سے اسفارِ دریافت اور استعماری مہم جوئی کا براہ ہدف مسلمان تھے، اور دیگر معاشرے ضرورتاً یا ضمناً اس کی لپیٹ میں آئے۔ تاریخ کا شعور رکھنے والے اہل علم سے یہ امر اوجھل نہیں ہو سکتا کہ جدید استعمار صلیبی جنگوں کی تبدیل شدہ اور سیکولر شکل ہے۔ دنیا میں مغربی تہذیب واحد تہذیب ہے جس نے اپنے ہر تصور اور ہر عمل کو انسانیت کے خون سے رقم کیا ہے۔ مغربی غلبہ اس قدر شدید رہا ہے اور ہے کہ اس نے انسان کو جسم اور روح میں بالجبر بدل دیا ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا قومی اور مذہبی شعور عین اسی طرح کے کثیر استعماری قضایا کی دروں کاری مکمل کر چکا ہے۔ مسلم معاشروں میں امکانِ علم کے وسائل کا جائزہ لیے بغیر اس طرح کے قضایا سے نبردآزما ہونا ممکن نہیں۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں