301

کیا اسلامی علمی روایت مربوط و محفوظ نہیں؟ ڈاکٹر زاہد مغل

برادر عمار خان ناصر کی ایک پوسٹ پڑھی جس میں انہوں نے فلسفہ تاریخ کی ایک مخصوص تشریح کے تناظر میں کسی ایسی “اسلامی روایت” کے وجود کے امکان کا ردّ کیا ہے جو حاضر و موجود سے ماوراء طور پر متعین اور علمی حوالے کے طور پر پیش کی جاسکتی ہو۔ ان کی یہ پوسٹ اہم ہے اور اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ان کی اس پوسٹ کا ایک مخصوص علمیاتی پس منظر و مقصد ہے جس کا جائزہ لینے سے قبل ان کی دلیل اور اس کا مقصد سمجھنا ضروری ہے۔

ان کی دلیل درج ذیل مقدمات پر مبنی ہے:

1) تاریخ محض تعبیر و تشریح کا نام ہے، یعنی “تاریخ سے ہر نقطہ خیال کے حق میں یا اس کے خلاف یکساں طور پر استدلال کشید کیا جا سکتا ہے۔”

2) یہ جسے اسلامی روایت کہا جاتا ہے، یہ بھی صرف تاریخی تعبیرات سے متعلق ایک چیز ہے، یعنی اسلامی روایت کسی متعین شدہ چیز کا نام نہیں بلکہ تاریخی تعبیرات کی طرح اس کی بھی متعدد تعبیرات کرنا ممکن ہیں۔

3) یہ جسے “روایت” کہا جاتا ہے تو اس کا ماخذ دراصل حال میں اختیار شدہ استدلال و پوزیشنز ہی ہوتی ہیں۔

4) ان مختلف تعبیرات کا مقصد محض ماضی سے اپنے استدلال (حال) کو سند جواز دینا ہوتا ہے اور تاریخی روایت کا حوالہ چونکہ عام طور پر اہل مدرسہ و روایت دیتے ہیں لہٰذا ان کی اس پوزیشن پر نقد کرنے کے لیے وہ لکھتے ہیں کہ “آپ دیکھیں گے کہ تاریخی تعبیرات پر بہت زیادہ انحصار کرنے والے مواقف وہ ہوں گے جو وضع موجود سے اپنے حق میں زیادہ convincing دلائل پیش نہیں کر سکتے۔ چونکہ کسی بھی موقف کو ایک واقعاتی وعملی تناظر درکار ہوتا ہے، اس لیے اس نقصان کی تلافی کی غرض سے تاریخ کی طرف رجوع کیا جاتا اور ایک pseudo تناظر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔”

5) لہٰذا حال میں موجود دو موقف کی صحت کا فیصلہ کرنے کے لیے ان کے انہی استدلال کو مدار بحث بنایا جانا چاہیے جو وہ “آج” اپنے لیے رکھتے ہیں، نہ کہ کسی تاریخی فہم اسلام کے حوالے کو، کیونکہ وہ تو حال سے علی الرغم کوئی ایسی شے ہے ہی نہیں کہ جس پر حال کو پیش کرکے اس کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاسکے۔

یہ ہے ان کی مکمل پوزیشن، اگر اس کے بیان میں کوئی کمی بیشی رہ گئی ہو تو وہ ہماری اصلاح کرسکتے ہیں۔

ہمارے خیال میں اس پوزیشن کو اختیار کرنے کا مقصد تجدد پسندانہ افکار کو سند جواز فراہم کرنے کے لیے ایک ایسی اہم دلیل کو رد کرنا ہے جو روایت پسند طبقات متجددین پر وارد کرتے ہیں کہ “چونکہ تمہاری بات اسلامی تاریخ و روایت کے خلاف ہے، لہٰذا یہ غلط ہے”۔ اس دلیل کے جواب میں عمار صاحب کی پوسٹ دراصل یہ کہہ رہی ہے کہ جناب! یہ جس روایت کے نام پر آپ کچھ لوگوں کو تجدد پسند ڈکلئیر کرکے انہیں ڈس کریڈٹ کرتے ہیں پہلے علمیاتی سطح پر اس کا وجود تو ثابت کیجیے۔ یعنی جس روایت کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ تو حال میں اختیار کردہ پوزیشنز کی بنیاد پرتاریخ کے بارے میں ایک خود ساختہ تصور (جسے وہ pseudo تناظر کہتے ہیں) کا نام ہے، تو ایسے پیمانے کی بنیاد پر آپ کسی گروہ کے غلط ہونے کا دعویٰ کیسے کرسکتے ہیں؟

یہاں اس پوزیشن کا جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی کیونکہ تجدّد پسندانہ افکار کو سند جواز دینے کے لیے یہ ایک نئی دلیل وضع کی گئی ہے جس کے لیے فلاسفی آف سائنس کے بعض مباحث سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ان کی اس پوزیشن کے بیان کے بعد اب اس کے تجزیے کی طرف آتے ہیں۔ اس استدلال میں اہم ترین دعویٰ یہ ہے کہ تاریخ محض حال کی بنیاد پر بیان کردہ تعبیرات کا نام ہے جس میں فرد کے حال سے ماوراء کسی معروضیت کا کوئی وجود نہیں۔ عمار صاحب فہم تاریخ کے بارے میں اس طریقہ کار ہی کو درست قرار دیتے ہیں جیسا کہ انہوں نے لکھا: “تاریخ کا مطالعہ اور تعبیر معروضی نہیں ہو سکتی، یہ ایک پیش پا افتادہ حقیقت ہے۔ ہم تاریخ کا مطالعہ اپنے حال کو ایک تناظر دینے اور اپنے موجودہ مواقف کو جواز فراہم کرنے کے لیے کرتے ہیں۔”

ان کے اس استدلال کے بارے میں درج ذیل نکات اہم ہیں:

1) یہ بات محض جزوی طور پر درست ہے کہ تاریخ تعبیرات (interpretations) کا نام ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ تاریخ کلیتاً اسی چیز کا نام ہے کیونکہ تاریخ تعبیر کے ساتھ ساتھ چند واقعاتی حقائق پر بھی مشتمل ہوتی ہے جنہیں فرد کے حال سے ماوراء چند خارجی اصولوں کی بنیاد پر جانچا جاسکتا ہے۔ تاریخ اگر صرف تعبیرات پر مشتمل ہو تو پھر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ مثلاً امریکہ کی تاریخ اسلامی ریاست بنانے کی تاریخ تھی یا تحریک پاکستان ایک ہندو ریاست کے قیام کی جدوجہد سے عبارت تھی۔ تاریخ کے بارے میں اس نظریے کو اختیار کرکے اگر کوئی محقق چند حقائق و واقعات کو جوڑ کی ایسی تعبیرات پیش کرے تو ان کی کوئی علمی وقعت نہیں ہوگی۔ چنانچہ یہ کہنا کہ “تاریخ سے ہر نقطہ خیال کے حق میں یا اس کے خلاف یکساں طور پر استدلال کشید کیا جا سکتا ہے، فہم تاریخ کے بارے میں اس قدر عمومی دعویٰ درست نہیں۔

2) جس طرح بعض محققین کی یہ رائے ہے کہ تاریخ محض تعبیر کا نام ہے، فلسفہ تاریخ کے بعض ماہرین کی یہ رائے بھی ہے کہ بیان تاریخ کے کچھ داخلی علمی معیارات و اصول ہوتے ہیں۔ اس نکتہ نظر کے حامی مثلاً ہیگل یا مارکس ہیں (ہم یہاں یہ نہیں کہہ رہے کہ ان کی بیان کردہ تعبیر تاریخ درست ہے بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ فہم تاریخ کے بارے میں اہل علم کے یہاں صاحب پوسٹ کے بیان کردہ اسلوب کے سواء دیگر اسالیب بھی موجود ہیں)۔

3) اس ضمن میں فہم تاریخ کے متعدد طرق و اصول ہیں۔ مثلاً (الف) ایک طریقہ (جو Heraclitus سے منسوب ہے) Archaic میتھڈ کہلاتا ہے جس کے مطابق تاریخ خود کو repeat کرتی ہے۔ (ب) بعض محققین (مثلاً فوکویاما وغیرہ) کے خیال میں فہم تاریخ کا درست طریقہ Genealogical میتھڈ ہے جس کے مطابق فہم تاریخ کے لیے “عدم تسلسل” یعنی discontinuity اور “فرق” (difference) کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے، یعنی یہ دیکھنا کہ مثلاً عیسائیت یا تنویریت نے اپنے سے قبل معاشروں و افکار میں کیا تبدیلی رونما کی؟ وغیرہ۔ (ج) بعض محققین (جن میں اکثریت اہل مذہب کی ہے) کے مطابق تاریخ چند مخصوص و چنیدہ افراد کے ارد گرد گھومتی ہے (مثلاً عیسائی حضرات تاریخ کو تین ادوار میں تقسیم کرتے ہیں، ماقبل مسیح، مابعد مسیح اور مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی کے بعد)۔ اسے Messianic تصور تاریخ کہتے ہیں۔ اہل مذہب کے یہاں تاریخ کو بالعموم “انبیاء کی تاریخ” کے اصول کے تحت دیکھا جاتا ہے۔ الغرض کہنے کا مقصد یہ کہ اہل علم کے یہاں فہم تاریخ کا محض کوئی ایک ہی اصول ثابت شدہ نہیں ہے کہ جس کی بنیاد اسلامی روایت کو جانچ کر اسے مبہم و غیر ثابت شدہ کہہ دیا جائے۔

4) تاریخی عمل کے تسلسل اور فہم تاریخ کا ایک اہم اصول ابن خلدون نے پیش کیا جسے cross examination کا طریقہ کہا جاتا ہے، یعنی فرد کی سبجیکٹیویٹی سے ماوراء رہتے ہوئے تاریخی واقعات کے تسلسل و معنویت کو جانچنے کا اصول یہ ہے کہ واقعات کو متعدد طرح کے قرائن و طرق سے جانچنے کا اہتمام کیا جائے. چنانچہ جو واقعات و آراء کراس ایگزامینیشن کے اس ٹیسٹ پر جس قدر پورا اترتی ہوں وہ اسی قدر مصدّقہ ہوتی ہیں (یہ طریقہ یونانی فلسفی Herodotus سے منسوب ہے البتہ اس کی رائے میں یہ طریقہ صرف ایک ہی نسل کے لیے کارآمد ہوسکتا تھا)۔ اگر اسلامی علمی روایت کا جائزہ لیا جائے تو وہ ‘کراس ایگزامینیشن’ کے اس طریقے پر محفوظ ہوئی۔ مثلاً علم اسماء الرجال اور جرح و تعدیل کا تو بالخصوص مقصد ہی یہی تھا کہ رسول اللہﷺ اور ان کی طرف کسی بات کی نسبت کرنے والوں کی زندگی کو علمی پیمانوں کے مطابق جمع کیا جائے تاکہ وہ آنے والوں کے لیے حوالہ بن سکے۔ اسی طرح مختلف اسلامی علوم میں جو ڈیولپمنٹس ہوئیں وہ ایک دوسرے سے الگ تھلگ نہ تھیں بلکہ باہم مربوط و جڑی ہوئی تھیں۔ مثلاً اصول فقہ کے قواعد علم تفسیر و حدیث میں استعمال ہوتے رہے، فقہی اجتہادات کے لیے تفسیر و حدیث کو استعمال کیا جاتا رہا وغیرہ۔ الغرض یہاں اختیار کی جانے والی ایک علمی پوزیشن کے رونما ہونے کو دیگر علوم میں ٹریس کیا جانا ممکن ہوتا ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ کسی ایک علم پر مکمل دسترس حاصل کرنے کے لیے دوسرے علوم پر مہارت حاصل کرنا لازم ہوتا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ علوم کے ان باہمی تعامل کی بنا پر ان کا اظہار کرنے والے باقاعدہ چند اصول بھی وضع ہوئے۔ مثلاً اصولیین کے یہاں یہ اصول مانا جاتا ہے کہ اگرچہ علمائے حدیث کے اصولوں کی رو سے ایک حدیث ضعیف ہو لیکن اگر آئمہ مجتہدین نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے تو یہ اس کے ضعف کو زائل کردے گا نیز اسی طرح احادیث کو جانچنے کے لیے روایت کے ساتھ ساتھ درایتی پیمانے بھی وضع کیے گئے۔

کہنے کا مقصد یہ کہ “اسلامی تاریخ میں فہم اسلام کی مین سٹریم روایت کیا رہی ہے اور کیا نہیں؟”، اس بارے میں فرضی گھوڑے دوڑانے کے کچھ بہت زیادہ امکانات موجود نہیں ہیں کیونکہ اسلامی علمیت نہایت معتبر طرق پر محفوظ و مربوط ہوئی ہے اور اس میں کوئی ایسے بہت بڑے بڑے اندھیرے گڑھے موجود نہیں ہیں جہاں کوئی محقق غوطہ زن ہوکر ایسے چھپے ہوئے “قیمتی علمی موتی” نکال کر لا سکتا ہے جو فہم اسلام کی پوری روایت کو مشکوک بنا دے نیز اس کے مدمقابل فہم اسلام کا ایک “یکساں تاریخی تصور” لا کھڑا کرے۔ جن لوگوں نے ایسی کوششیں کیں وہ ناکام ہوئے۔

5) اس ضمن میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ مذکورہ دعویٰ نہ صرف یہ کہ متجددین کی آراء بلکہ خود صاحب دعویٰ کے علمی طرز عمل کے بھی خلاف جاتا ہے۔ وہ اس طرح کہ اگر یہ بات درست ہو کہ تاریخ سے کسی بھی نکتہ نظر کے حق میں یکساں طور پر استدلال لایا جاسکتا ہے تو پھر ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ہر متجدد اپنی آراء کو اسلامی تاریخ میں تابعین سے لے کر مابعد شاہ ولی اللہ تک چلیں ایک مکمل و مسلسل کڑی کے طور پر نہ سہی مگر کم از کم کچھ چھوٹی چھوٹی متصل کڑیوں یا ایک طویل متصل کڑی کے طور پر ہی دکھا سکیں کہ دیکھئے جو میں اب کہہ رہا ہوں یہ بات فلاں دور سے لے کر فلاں دور کے بڑے بڑے آئمہ و علماء نے یونہی بیان کی تھی نیز انہیں قبولیت عامہ بھی حاصل ہوئی؟ کیا وجہ ہے کہ ہر متجدد کو بالاخر یہی کہنا پڑتا ہے کہ “اسلام یا اس کے فلاں فلاں اہم اصول و مسائل جو میں بیان کررہا ہوں یہ کسی کو سمجھ نہیں آئے تھے؟” اگر اسلامی علمی روایت میں ہر رائے کے لیے یکساں امکانات موجود ہیں تو پرویز صاحب کو اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے اسلامی تاریخ و علمیت کو سازش زدہ کیوں قرار دینا پڑا؟ جناب غامدی صاحب کو یہ کیوں کہنا پڑتا ہے کہ فلاں فلاں مسائل میں فقہاء سوء فہم کا شکار ہوجانے کے سبب دین کا منشاء نہ سمجھ سکے؟ اور پھر خود صاحب دعویٰ جب مثلاً حدود کے مباحث میں اپنی تحقیق پر مبنی کچھ نئی آراء پیش کرتے ہیں تو ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ اس کے حق میں وہ اسلامی تاریخ سے معتمد فقہاء و علماء کے حوالوں کا ایک انبار جمع کرکے ثابت کردیں کہ جو میں کہہ رہا ہوں یہی اسلامی روایت بھی ہے؟ تو آخر نئے محققین کو اسلامی تاریخی روایت کو ردّ و غیر معتبر کیوں ثابت کرنا پڑتا ہے؟ ایسا اسی لیے تو ہوتا ہے کہ ان نئے محققین کی اکثر آراء کراس ایگزامینیشن کے اس ٹیسٹ کے آگے کھڑی نہیں ہوپاتیں، یہاں کسی ایک نئے دعوے کو جب کسی تاریخی چیز سے زبردستی ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کچھ ہی دور چل کر اس کا ضعف سامنے آجاتا ہے۔

پھر زیر مطالعہ دعویٰ اور صاحب دعویٰ کا علمی طرز عمل اپنے اندر ایک تضاد کو لیے ہوئے ہے۔ جب ایک نیا محقق اپنی تحقیق کو اس طور پر پیش کرتا ہے کہ “میری یہ بات پرانے علماء کے اجتہاد سے اس طور مختلف و برتر ہے” تو درحقیقت وہ اسی بات کا اقرار کر رہا ہوتا ہے کہ مجھ سے پہلے کی تاریخ ایک خاص طرح سے وقوع پزیر (unfold) “ہوئی ہے”۔ تو اس اقرار کے بعد (کہ تاریخ ایک مخصوص طرز کے موقف کے اعتبار سے ہی ان فولڈ ہوئی)، یہ کہنے کا کیا مطلب کہ تاریخ کو کسی بھی موقف کے حق میں یکساں طور پر پیش کیا جاسکتا ہے؟ یہ دو متضاد موقف ہیں۔

خلاصہ یہ کہ صاحب دعویٰ نے فلسفہ تاریخ کے جس مقدمے کی بنیاد پر استدلال قائم کیا، وہ بنیاد ثابت شدہ نہیں، اسلامی علمی روایت جس طور پر مربوط و محفوظ ہوئی وہ علمی پیمانوں پر پورا اترتی ہے نیز خود متجددین کا طرز عمل ان کے اس دعوے کے خلاف گواہی دیتا ہے۔

ڈاکٹر زاہد مغل

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں