139

کانٹ اور انبیا کی تحصیل ِ وحی۔ ڈاکٹرمحمد شہباز منج

کانٹ کی معروف کتاب Religion within the limits of reason aloneکے نام ہی سے ظاہر ہے کہ اس کے نزدیک مذہب کی وہی صورت قابل قبول ہے، جس میں کوئی چیز عقل سے ماورا نہ ہو۔ اس کا کہنا ہے کہ مذہب کی بنیاد عقل پر ہونی چاہیے نہ کہ وحی پر۔وہ وحی کوایک غیر یقینی ذریعہ علم قرار دیتاہے، جس پر معاملات کی بنیاد رکھنا گمراہی ہے۔ وحی آدمیوں کے پاس آدمیوں ہی کے ذریعے سے پہنچتی ہے، جن سے غلطی ہونا عین ممکن ہے۔ یہی نہیں بلکہ اگر یہ بھی تسلیم کر لیا جائے کہ یہ آدمی کے پاس براہ راست خدا کی طرف سے آتی ہے، تو بھی آدمی کو اس کی تعبیر میں غلطی نہ لگنے کی کیا ضمانت ہے ؟حضرت ابراہیم کا خواب میں اپنے بیٹے کو بھیڑ کی طرح قربان کرنے کا حکم اسی قبیل سے ہے ۔ایسی صورت میں بندہ انتہائی درجےکے غلط کام کا خطرہ مول لیتا ہے ۔آج کل کانٹ کے اس خیال کے حوالے سے اہل علم میں بحث جاری ہے۔

راقم الحروف نے کانٹ کے اس خیال اور آ حضور ﷺ کے حوالے سے معروف قصہ غرانیق ( جو بعض بڑے بڑے مسلم مصنفین کی کتابوں بھی تائیداً نقل ہوا ہے) کا جائزہ لیاتو یہ نتیجہ سامنے آیا کہ انبیا کا وحی کو وصول کرنے اور لوگوں تک پہنچانے کے سلسلہ میں کسی قسم کی غلطیِ تعبیر یا آمیزش شیطانی سے دوچار ہونا ایک نہایت ہی مغالطہ آمیز مفروضہ ہے ،جسے مخالفین وحی کی غلط اندیشی، جھوٹی روایات پر انحصار اور مستشرقین کی اسلام دشمنی کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس طرح کے خیالات یا تو بد طینتی و تعصب یا پھر قدرت خداوندیِ وحقیقتِ نبوت سے ناواقفیت کی دلیل ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر تک خدا کی وحی نہایت حفاظت و صیانت کے ساتھ پہنچائی جاتی ہے ۔ پیغمبر معصوم عن الخطا ہوتا ہے اور اس کو خدا کی طرف سے عطا ہونے والی اس عصمت کا تقاضا ہے کہ وہ وحی الٰہی کو، اگرلفظی ہو تو لفظی اور معنوی ہو تو معنوی ہر اعتبار سے صحیح صحیح الفاظ و معانی کے ساتھ بغیر کسی خطا اور غلطی تعبیر کے لوگوں تک پہنچا دے۔ خدا تعالیٰ نے اس بات کا خصوسی انتظام کر رکھا ہوتا ہے کہ پیغمبر خدا کی طرف سے ملنے والی وحی کو وصول کرنے کے سلسلہ میں کسی بھی طرح کے ابہام اور خلط معانی سے دو چار نہ ہو۔ انبیاء کو خداکی طرف سے ملنے والی ہدایت کی خصوصی حفاظت سے متعلق قرآن کا ارشاد ہے: فَاِِنَّہٗ یَسْلُکُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ رَصَدًا ۔ لِّیَعْلَمَ اَنْ قَداَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّہِمْ وَاَحَاطَ بِمَا لَدَیْہِمْ وَاَحْصٰی کُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۔حضرت ابراہیم کے خواب سے متعلق ہرزہ سرائی کرنے والے ااگر اس واقعہ سے متعلق قرآنی بیانات پر نگاہ ڈالیں تو ان پر حقیقت واضح ہو جائے گی کہ حالت بیداری میں نازل ہونے والی وحی تو ایک طرف خواب میں ملنے والی وحی سے متعلق بھی نہ صرف یہ کہ پیغمبروں کچھ شک نہ ہوتا تھا بلکہ ان کے سعادت مند بیٹے بھی اس کو بغیر کسی الہام کے وحی خداوندی سمجھتے تھے۔ قرآن کیمطابق جب اسماعیل ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ دوڑنے پھرنے کی عمر کو پہنچتے ہیں تو حضرت ابراہیم ؑ اسماعیل ؑ سے کہتے ہیں: یٰبُنَیَّ اِِنِّیْٓ اَرٰی فِی الْمَنَامِ اَنِّیْ اَذْبَحُکَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰی قَالَ یٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْٓ اِِنْ شَآءَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ۔اب اس میں غور طلب امر ہے کہ حضرت ابراہیم کے الفاظ میں کہیں وحی خداوندی کا ذکر ہے اور نہ ذبح اسماعیل سے متعلق کسی حکم خداوندی کا ۔ آپ صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔ سعادت مند بیٹا جھٹ سمجھ جاتا ہے کہ خواب وحی الٰہی ہے، اور کہتا ہے کہ آپ کو جو حکم ہوا اس میں دیر کیسی ؟ تو جس نبی کا نہایت کم سن بیٹا اس درجہ صاحب بصیرت ہو، اسے وحی الٰہی کو سمجھنے میں کیسے غلطی لگ سکتی ہے۔

 جہاں تک حضورﷺ کی وحی میں آمیزشِ شیطانی کے واقعہ یا قصہ غرانیق کا تعلق ہے تو یہ گو بعض مسلمانوں کی تصنیفات میں مذکو ر ہے ،مسلم علمامحققین نے اسے نہایت لغو اور موضوع روایات پر مبنی افسانہ قرار دیا ہے۔ مولانا حقانی اسے سخت جھوٹ اور ملحدوں کی بناوٹ سے تعبیر کرتے ہیں۔ مولانا مودودی کے نزدیک کوئی مومن ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں مان سکتا کہ آنحضورؐ پر وحی کسی ایسے مشتبہ طریقے سے آتی تھی کہ جبریل کے ساتھ شیاطین بھی آپ پر کوئی لفظ القا کر جائے اور آپ اس غلطی فہمی میں رہیں کہ یہ لفظ بھی جبریل ہی لائے ہیں۔ ڈاکٹر شیخ محمد بن محمد ابو شھبہ نے متعدد آئمہ کے اقوال نقل کر کے اس قصے سے متعلق روایات کو موضوع ثابت کیا ہے۔ علامہ محمد صادق ابراہیم عرجون نے اس قصہ کو دشمنان اسلام کا گھڑا ہوا افسانہ قرار دیتے ہوئے نہایت سختی سے رد کیا ہے ۔

لہذا پیغمبر کے تحصیل و ابلاغ وحی کے سلسلہ میں القائے شیطانی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انبیاء کا تو خیر مرتبہ ہی بہت بلند ہے، قرآن کی رو سے اللہ کے صاحب ایمان اور نیک و پارسا غیر نبی بندوں پر بھی شیطان کا کچھ بس نہیں چلتا: اِنَّہٗ لَیْسَ لَہٗ سُلْطٰنٌ عَلَی الَّذِیْن َاٰمَنُوْا وَ عَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْن۔اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ وَ کَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیْلًا۔

سو جب ایمان ،خلوص اور توکل کی صفات سے متصف غیر نبی بندگان خدا کا شیطان کچھ نہیں بگاڑ سکتا تو ان نفوس قدسیہ پر کیسے غلبہ پا سکتا ہے، جو دنیا میں آتے ہی خلق خدا کو شیطان کے شر سے بچا کر دربار خداوندِ قدوس میں حاضر کرنے کے لیے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں