164

ڈیزم کیا ہے؟ فیصل ریاض شاہد

ڈیزم ایک ایسا الحاد ہے جس میں خدا کے وجود کو تو تسلیم کیا جاتا ہے لیکن خدا سے تعلق قائم کرنے کیلئے وحی، خارجی ہدایت اور مذاہب عالم کی تعلیمات کومن گھڑت اور غیر ضروری سمجھ کر یکسر مسترد کر دیا جاتا ہے۔اس نظرئیے کے مطابق انسان کا اصل اور خالص مذہب ڈیزم ہےیعنی یہ کہ خدا پر اپنی عقل اور خواہش کے مطابق ایمان لایا جائے اور خدائی احکامات پر عمل کر کے اسے خوش کرنے کی بجائے از خود اپنی عقل سے کائنات پر غور کر کے خدا کو خوش کیا جانا چاہئے۔ یعنی خدا کو یوں نہ مانا جائے جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ یوں مانا جائے جیسا کہ انسان اسے چاہنا چاہتا ہے۔

ورلڈ یونین آف ڈیسٹ کی ویب سائیٹ پر ڈی ازم کی تعریف یوں کی گئی ہے
” Deism is the belief that reason and observation of the natural world are sufficient to determine the existence of God, accompanied with the rejection of revelation and authority as a source of religious knowledge.”
” ڈیزم اس عقیدے کا نام ہے کہ وجود باری تعالیٰ اور علمِ دین کی تعین و تفہیم کیلئے عقل اور فطری دنیا کا مشاہدہ ہی کافی ہیں ، وحی اور نمائندگان مذہب اس دینی علم کا مآخذنہیں ہیں۔”

ڈیزم کے مطابق بلاشبہ یہ کائنات ایک مدبر و ناظم اعلیٰ خالق باری تعالیٰ کی تخلیق کا شاہکار ہے لیکن اپنے خالق کا عرفان حاصل کرنے کیلئے ہمیں کسی مذہب کی تعلیمات پر چلنے کی قطعا کوئی ضرورت نہیں کیونکہ تمام مذاہب پنڈتوں، پادریوں، مولویوں اور ربیوں کی اختراع ہیں بلکہ خدا نے ہمیں عقل عطا کی ہے، ہمیں اپنی عقل استعمال کر کے از خود ایسے طریقے دریافت کرنے چاہیں جن سے خدا خوش ہوسکتا ہے، مثلا ہمیں انسانوں کی خدمت کرنی چاہئے، جانوروں پر رحم کرنا چاہئے وغیرہ۔ ڈیسٹس، خصوصا میتھیو ٹنڈل اور تھامس پائین Thomas Paineکے نزدیک مذاہب عالم “اصل مذہب(یعنی ڈیزم)” سے منحرف ہو چکے ہیں ۔ اصل انسانی مذہب بہت سادہ، عقلی و منطقی اور مبنی بر وحی کی بجائے مبنی بر عقل انسانی تھا لیکن پادریوں ، مولویوں اور نمائندگان مذہب نے اس خالص مذہب میں ملاوٹ کر کے اپنے اپنے الگ مذاہب بنا لئے تاکہ وہ بھولے بھالے عوام الناس کے اندر اپنا اثر و رسوخ اور مقاصد حاصل کر سکیں۔
ڈیزم کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ خدا موجود ہے، اور وجود کائنات کی علت اولیٰ وہی ہے لیکن وہ براہ راست کائناتی امور میں مداخلت نہیں کرتا ، اس نے کائنات بنائی تو ضرور ہے لیکن اسے فطری قوانین کے ماتحت کر کے چلا دیا ہے۔ اب یہ کائنات اپنے داخلی قوانین کی مدد سے رواں دواں ہیں، اب خدا کا اس دنیا سے کوئی لنک باقی نہیں رہا، مدتیں ہوئیں خدا سویا پڑا ہے۔
ڈیزم معجزات، انبیائے کرام، خارجی ہدایت اور وحی کا انکار کرتا ہے کیونکہ اس کے مطابق فطری قوانین اٹل ہیں، خدا انہیں کبھی نہیں بدلتا۔ وحی کی بجائے عقل انسانی کافی ذریعہ ہے کہ جس کی مدد سے انسان خدا کے ساتھ تعلق قائم کرسکتا ہے۔

ڈیزم کے ماننے والوں کو ڈیسٹ Deistکہا جاتا ہے۔ لفظ Deismلاطینی زبان کے لفظ Deusسے بنا ہے جس کے معنی ہی ہیں، “خدا”۔ سترہویں صدی سے قبل تھیزم اور ڈیزم کو قریب قریب ایک جیسا سمجھا جاتا تھا لیکن سترہویں صدی کے مفکرین نے ان دونوں الفا ظ کے درمیان فرق کرنا ضروری سمجھا کیونکہ اگرچہ تھیسٹ اور ڈیسٹ وجود باری تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں لیکن تھیسٹس(روایتی اہل مذہب) کے مطابق خدا کائنات کے ساتھ ہر لحظہ رابطے میں رہتا ہے اور اس میں تصرف کرتا ہے جبکہ ڈیسٹس کے نزدیک خدا کا تخلیق کائنات کے دن کے بعد کائنات سے رابطہ ختم ہو چکا ہے۔

ڈیزم اپنی مختلف صورتوں میں مشرق و مغرب ہر جگہ عام ہے۔ کچھ عرصہ قبل بھارت میں ایک فلم ریلیز ہوئی جسے دنیا بھر میں بہت پزیرائی حاصل ہوئی۔ اس فلم میں ڈیزم ہی کی تشہیر کی گئی تھی۔ڈی ازم میں خدا پر تو کوئی تنقید نہیں کی جاتی، ہاں مگر مذاہب عالم کی تعلیمات اور مذہبی نمائندوں پر خوب سب و شتم کیا جاتا ہے۔ ڈیسٹ مفکرتھامس پائن لکھتا ہے
“As priestcraft was always the enemy of knowledge, because priestcraft supports itself by keeping people in delusion and ignorance, it was consistent with its policy to make the acquisition of knowledge a real sin.”
“جیسا کہ مذہبی پیشوائیت (پادریت/ملائیت) ہمیشہ سے علم دشمن رہی تھی کیونکہ نمائندگان مذہب لوگوں کو جہالت اور دھوکے میں رکھ کر خود کو مضبوط کرتے ہیں۔ حقیقی علم کی تحصیل(انکار وحی اور عقل پرستی) کو گناہ عظیم باور کروانے کے مقصد میں مذہبی پیشوائیت ہمیشہ سے جُٹی ہوئی تھی۔”

ڈیزم پر مبنی نظریات سترہویں صدی میں سائنسی انقلاب کی بدولت پیدا ہونا شروع ہو چکے تھے لیکن انہیں زیادہ شہرت اٹھارہویں صدی یعنی عہد تنویرAge of Enlightenment میں حاصل ہوئی، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور امریکہ میں خاص طورپر اس نظرئیے کی اشاعت ہوئی۔ خصوصا عیسائی دنیا میں ڈیزم کو بہت رواج حاصل ہوا۔ عیسائی روایتی کلیسائی مسیحیت سے بدظن تھے، اس لئے انہوں نے چرچ، پادریوں، غلط عقائد اوربائبل کی غلط تعلیمات و تعبیرات سے جان چھڑانے کیلئے ڈیزم ہی میں دلچسبی محسوس کی کیونکہ اس طرح نہایت آسانی کے ساتھ وہ اپنے تئیں کلیسا سے تعلق ختم کرنے کے باجود عیسائی رہ سکتے تھے۔ لارڈ ہربرٹ چربری Lord Herbert of Cherbury 1583–1648کو عام طور پر برطانوی ڈیزم کا بانی قرار دیا جاتا ہے جس نے اپنی کتابDe Veritateمیں ڈیزم کا پرچار کیا ہے۔ برطانیہ میں ڈیزم 1690 سے 1740ء کے درمیان زیادہ مروج ہوا، خصوصا میتھیو ٹنڈلMatthew Tindal کی کتاب Christianity as Old as the Creation(1730) کو ڈیسٹوں کی بائبلThe Deist’s Bibleکہا جاتا ہے ،اس کتاب نے اٹھارہویں صدی میں بہت شہرت حاصل کی۔ برطانیہ کے بعد ڈیزم پر فرانس میں والٹئیرVoltaire نے بہت کام کیا۔ اس کے بعد ڈیزم جرمنی اور امریکہ تک جا پہنچا۔
ڈیزم کا نظریہ نیچرلزم(نیچریت) کے قریب تر ہے البتہ مغربی دنیا میں اسے الحاد یا اسکی کوئی قسم نہیں سمجھا جاتا لیکن ہمارے نزدیک الحاد ہی کی قسم ہے۔ ڈیزم کو تشکیک(اگناسٹسزم) اور روایتی مذہبیت کا درمیانی نظریہ ہے۔

فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں