213

چار شادیاں اور ایک منطقی مغالطہ- فیصل ریاض شاہد

ایک اصولی نکتہ ہمیشہ ذہن نشین رکھئیے۔۔۔۔ کہ ایک شے ہے اللہ کا حکم اور ایک شے ہے اس حکم کی وہ عقلی و منطقی توجیہات و تشریحات جو علماے کرام پیش کرتے ہیں۔

(توجیہ سے مراد ہے کسی بات کی ایسی وجہ بیان کرنا جس کے بعد وہ بات عین عقلی یعنی “معقول” لگے ,سادہ الفاظ میں توجیہ سے مراد ہے “وجہ بیان کرنا”)

1. اللہ کا حکم
2. اور علماء کی توجیہات
یہ دو الگ الگ باتیں ہیں۔۔۔۔ بیشتر اوقات معترضین اسلام انہیں آپس میں گڈ مڈ کر دیتے ہیں اور نتیجتا علماء و شریعت سے بدظن ہو کر مادر پدر آزاد لبرل ہو جاتے ہیں۔

اس نکتے کو مثال سے سمجھئیے۔
اللہ نے فرمایا کہ زمین و آسمان پہلے جڑے ہوے تھے پھر ہم نے اسے پھاڑ کر الگ کر دیا
اس آیت (مفہوم) کی ایک تشریح وہ تھی جو قدیم علماء نے پیش کی
اور ایک توجیہ وہ ہے جو جدید علماء پیش کرتے ہیں کہ اس سے مراد Big Bang ہے
اب اگر کوی عقل کا اندھا یہ اعتراض کرے کہ قرآن کا بیان پہلے کچھ تھا اور بعد میں کچھ ہو گیا۔۔۔۔
تو اس سے کہئیے کہ قرآن کا بیان اپنی جگہ برقرار ہے۔۔۔۔صرف توجیہ بدلی ہے اور توجیہ کے بدلنے کی ذمہ داری اللہ پر نہیں کیونکہ اس نے صرف آیات کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے، توجیہات کا نہیں۔۔۔۔اور ویسے بھی توجیہ مختلف زمانوں میں بدل ہی جایا کرتی ہے ،یہ ایک فطری امر ہے جو قرآن و اسلام کی حقانیت ،وسعت اور مبنی بر فطرت ہونے کی واضح دلیل ہے۔

اسی طرح دوسری مثال عورت کی ہے۔ عورت ایک سے زائد مردوں سے بہ یک وقت شادی نہیں کر سکتی جبکہ مرد چار شادیاں کر سکتا ہے۔ عورت ایک سے زائد شادیاں کیوں نہیں کر سکتی؟

اسکی توجیہ مختلف علماے کرام نے مختلف بیان کی ہے۔ مثلا ایک مشہور توجیہ یہ ہے کہ اگر عورت زائد شادیاں کرے گی تو اولاد کی شناخت متنازعہ بن جاے گی۔۔۔ یہ قدیم ترین توجیہ ہے اور بالکل درست ہے۔ اب اگر کوی یہ کہے کہ فی زمانہ ڈی این اے ٹیسٹ سے اولاد کے تنازعے والے مسئلے کا حل ممکن ہے لہذا عورت کو بھی زائد شادیوں کی اجازت دی جاے تو اس سے کہئیے کہ ہر گز نہیں۔۔۔۔۔

کیونکہ یہ اللہ کا حکم ہے۔۔۔اس حکم کی علت، وجہ یا توجیہِ حقیقی کیا ہے یہ اللہ ہی سے پوچھئیے۔۔۔مومن بندے کا کام صرف حکم کی اتباع کرنا ہوتا ہے۔ اگرچہ علماء نے عورت کی زائد شادیاں نہ کر سکنے کی مختلف عقلی وجوہات و توجیہات بیان کی ہیں لیکن بات یہ ہے کہ عورت کیلئے زائد شادیوں کی حرمت کے مسئلے کی بنیاد علماء کی راے نہیں بلکہ حکم ربی پر ہے۔
مانا کہ ڈی این اے سے شناخت ہو سکتی ہے لیکن ڈی این اے ٹیسٹ کو یہ اختیار کس نے دے دیا کہ وہ اللہ کے حکم میں ترمیم کرے!

تو بات کا مقصد یہ سمجھانا ھے کہ اشیاء کو مکس اپ ہونا سے بچایا کیجئیے۔ بیشتر اوقات ملحدین و لبرلز ایسے ہی منطقی مغالطوں سے سادہ لوح مسلمانوں کو ورغلانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔ ان کے اعتراضات کا جواب دینے سے پہلے اعتراض کا تجزیہ کیا کیجئیے۔۔۔ان کے 99.9 فیصد اعتراضات صرف اور صرف منطقی مغالطوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔

فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

چار شادیاں اور ایک منطقی مغالطہ- فیصل ریاض شاہد” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں