135

پیاس پانی کی دلیل ہے!-فیصل ریاض شاہد

انسان کوئی ایسا تصور قائم نہیں کر سکتا کہ جس کا متصور(مصداق-وہ شے جسے تصور کیا گیا ہو) خارج میں موجود نہ ہو۔
انسان جو بھی تصور قائم کرتا ہے وہ تصور یا تو انسان کے اندر پہلے سے موجود ہوتا یا خارج سے انسان کے اندر داخل ہوتا ہے۔ تیسری کوئی صورت ممکن ہی نہیں۔البتہ ایک صورت پھر بھی موجود ہے کہ انسان دو تصوارت کو ملا کر کوئی تیسرا تصور قائم کر لے۔

دوسری بات یہ کہ انسان کے ذہن میں جو بھی تصور ہو ،چاہے وہ innate، داخلی، وہبی یعنی پہلے سے موجود ہو ،چاہے خارج سے وارد ہوا ہو، دونوں صورتوں میں متصور یعنی وہ شے جسے تصور کیا گیا ہو کا خارجی وجود لازمی ہوتا ہے۔

آپ فورا کہیں گے کہ خارجی تصور کا تو خارجی وجود قرین قیاس ہے مگر داخلی تصور کا وجود خارجی قرین قیاس نہیں ،بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ میں جو بھی سوچتا ہوں وہ من و عن خارج میں بھی موجود ہو۔ مثلا آپ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کے ذہن میں ایک ایسے جزیرے کا تصور موجود ہے جس میں بھیڑئیے اور بھیڑیں ایک ہی ندی سے پانی پیتے ہیں، شیر اور بکریاں بھائی بہن بنے ہوے ہیں، ظلم ،جبر اور استحصال نامی کوئی شے وجود نہیں رکھتی، گویا وہ جزیرہ جنت نما ہے (ایسے تصوراتی جزیرے کو اصطلاح میں یوٹوپیا کہتے ہیں)۔ آپ کہیں گے کہ اس جزیرے کے تصور محض سے اسکا خارج میں پایا جانا بھلا کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔۔ یہ تو کھلا مزاق ہے!

لیکن بات اتنی سادہ نہیں، میں پھر وہی کہوں گا کہ آپ کے ذہن میں جس بھی شے کا تصور موجود ہو گا وہ لازما خارج میں پائی جاے گی۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ انسانی عقل ایک پروسیسر ہے ناکہ پروڈیوسر۔۔۔یعنی یہ خام مال پیدا نہیں کرتی بلکہ درآمد شدہ خام مواد کو پرسیس کرتی ہے۔ اسے مٹی دی جاے تو یہ مٹی سے کوئی کھلونا بھی بنا سکتی ہے اور تاج محل بھی لیکن مٹی پیدا نہیں کر سکتی۔ یعنی مٹی ہو گی تو یہ اس سے کچھ بناے گی ،اسی طرح تصور ہو گا تو عقل اس پر پروسیسننگ کرے گی۔

تو بات پھر وہی کہ تصور جو ذہن میں موجود ہو اس کا متصور خارج میں لازما موجود ہو گا۔ آپ کہیں کہ یوٹوپیا کب موجود ہے خارج میں، دیکھائیں پھر اگر موجود ہے تو۔۔۔
تو اسکا جواب یہ ہے کہ یوٹوپیا ہے کیا؟ ایک جزیرہ۔۔۔جس پر پیار ہی پیار ہے ،ظلم نہیں ہے، عدل و انصاف ہے؟؟؟ یہی ہے ناں۔۔۔ تو جناب آپ نے یوٹوپیا کی مثال دے کر کوئی تیر نہیں مارا نہ میرا مقدمہ غلط ثابت ہوا بلکہ آپ نے صرف اتنا کیا کہ مختلف تصورات کو ملا کر ایک معجون تیار کر لیا۔۔۔۔دیکھئیے، جزیرے کا تصور الگ ہے، عدل و انصاف اور پیار محبت اور ظلم و استبداد کے تصوارت الگ الگ ہیں،شیر،بھیڑ،بھیڑئیے اور بکری کے تصورات الگ ہیں۔۔۔آپ نے ان سب کی جمع تفریق کر کے، گویا انہی کو پروسیس کر کے ایک مرکب یعنی یوٹوپیا بنا لیا۔۔۔۔۔
جو کہ واقعی خارج میں موجود نہیں۔

دراصل میرا مقدمہ ایسے معجون و مرکب تصور سے متعلق ہے ہی نہیں۔ میں نے جس تصور کی بات کی ہے اسے میں اپنی اصطلاح میں “تصور اصلی” کہتا ہوں۔ یعنی ایک ایسا تصور جو نہ کسی دوسرے تصور سے مستعار لیا گیا ہو، جسے نہ تو کسی دوسرے تصور کو توڑ مروڑ کر بنایا گیا ہو اور جس میں نہ کوئی جمع تفریق کی گئی ہے۔ ایسے تصور کو میں تصور اصلی کہتا ہوں۔۔۔اور اس کے برعکس کو تصور فرعی۔۔آپ کی یوٹوپیا والی مثال مختلف تصوارت کا مجموعہ ہے جنہیں آپس میں اوور لیپ اور جمع تفریق کیا گیا ہے جبکہ میں جس تصور کی بات کر رہا ہوں وہ نہایت خالص تصور ہے۔

تو حاصل یہ کہ انسان کے ذہن میں جو بھی تصوارت اصلی موجود ہوں، ان کا خارج میں موجود ہونا لازمی ہے۔ اگر وہ خارج میں موجود نہیں تو پھر مان لیجئیے کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں، وہ تصور آپ کے ذہن میں بھی موجود نہیں۔ اور اگر آپ سچ بول رہے ہیں یعنی واقعی وہ تصور آپ کے ذہن میں موجود ہے تو پھر آپ مجبور ہیں یہ ماننے پر کہ وہ تصور خارجی وجود بھی رکھتا ہے۔بھئی ظاہر ہے، بکری کا تصور موجود ہے۔۔۔۔کیونکہ بکری موجود ہے!

ایسا ہی (بلاتشبیہ) ایک تصور اصلی خدا کا تصور ہے، خدا کا تصور ایک ایسی بزرگ و برتر ہستی کا ہے کہ جس سے بڑے بزرگ و برتر اور موصوف کا نہ تو آپ تصور کر سکتے ہیں اور نہ فی الواقع آپ کے ذہن میں اس سے بڑے بزرگ و برتر کا کوئی تصور موجود ہے۔۔۔ آپ کے ذہن میں جس اعلیٰ تر ہستی کا تصور موجود ہے وہی خدا ہے۔۔۔۔

اور خدا کا یہ تصور خارج سے آپ کے ذہن میں داخل نہیں ہوا بلکہ آپ اپنی پیدائش کے وقت اسے ساتھ لے کر ہی پیدا ہوے تھے۔ یہ تصور عہد الست کی یادہانی ہے۔
پیاس پانی کی دلیل ہے، اگر پیاس لگتی ہے تو گویا پانی خارج میں موجود ہے۔۔۔میرے وجود کو خدا نامی ہستی کی پیاس ہے، کیسے ممکن ہے کہ پھر خدا موجود نہ ہو!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(*اس تحریر میں لفظ تصور وسیع تر معنوں میں استعمال کیا گیا ہے)

فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں