255

پوسٹ ماڈرن ازم اور روحانیت کے حوالے سے

سوال:-

از: نعیم احمد، کشمیر(انڈیا)

“السلام علیکم!  اسلام میں روحانیت کا صحیح تصور کیا ہے اور مابعد جدیدیت کا یہ دعویٰ کہ  ایک انسان بغیر مذہب کے بھی روحانی ہو سکتا ہے، کی صحیح پوزیشن کیا ہے اور اسلام اس نقطہ نظر کو کیسے دیکھتا ہے؟”

جواب:-

از: فیصل ریاض شاہد

وعلیکم السلام

غالبا یہ سوال آپ کے ذہن میں مابعد جدیدیت (پوسٹ ماڈرن ازم) کے دعویٰ کو سن کر پیدا ہوا ہے اور آپ یہ پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ اگر روحانیت مذہب کے بغیر بھی ممکن ہے تو پھر اسلام میں کس روحانیت کا تصور اجاگر کیا گیا ہے۔ اور پوسٹ ماڈرن ازم کے تصور روحانیت کو اسلام کس نظر سے دیکھتا ہے۔

جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ

روحانیت مادیت کا الٹ ہے۔

جدیدیت نے تو مذہب اور مابعد الطبیعات کا انکار کر دیا تھا،

لیکن مابعد جدیدیت نے مذہب اور مابعد الطبیعات کو جزوی طور پر قبول کر لیا ہے۔

اگرچہ مابعد جدیدیت نے مذہب کو بحثیت ایک معاشرتی ضروری مظہر کے قبول کیا ہے لیکن اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ مابعد جدیدیت نے مذہب کے ساتھ ساتھ روحانیت کو قبول کر لیا ہے۔ مذہب کے خارجی مظاہر دونوں طرح کے ہیں، یعنی روحانی بھی اور مادی بھی، مابعد جدیدیت نے صرف مادی مظاہر کو قبول کیا ہے، روحانیت سے اب بھی مابعدجدیدیت کا کوئی تعلق نہیں۔

جاننا چاہئے کہ مذہب میں سے روحانیت کو نکال دیا جائے تو مذہب کی بنیادیں ہل جاتی ہیں کیونکہ مذہب اپنی اصل میں روحانی ہوا کرتا ہے، جبکہ اس کے مادی مظاہر کی حیثیت ثانوی ہوا کرتی ہے۔ یہاں یہ واضح ہو گیا کہ روحانیت کے بغیر مذہب کی کوئی ویلیو نہیں رہتی، بلکہ اس کی صورت مسخ ہو کر رہ جاتی ہے۔ لیکن یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر مذہب کے بغیر روحانیت کا کیا ماجرا ہے؟

جس طرح روحانیت کے بغیر مذہب مسخ ہو کر رہ جاتا ہے عین اسی طرح مذہب کے بغیر روحانیت بھی مسخ ہو جاتی ہے کیونکہ روحانیت کے جتنے بھی تصورات آج موجود ہیں وہ سب کے سب مذہب ہی نے پیش کئے ہیں۔ مابعد جدیدیت اصلا مادی ہے لہذا اس نے اپنی طرف سے اگر کوئی تصور روحانیت پیدا کر بھی لیا ہے تو وہ حقیقی روحانیت سے کوسوں دور ہے۔  اس کا اندازہ اسی سے ہو سکتا ہے کہ روحانیت مابعدالطبیعات کو یونیورسل ٹروتھ اور آفاقی سچائی کے طور پر مانتی ہے جبکہ مابعدجدیدیت ہر طرح کے مہابیانئے کو مسترد کرتی ہے، تو مابعد جدیدیت اور روحانیت میں تو یہیں سے ٹھن جاتی ہے پھر یہ کیونکہ ممکن ہے کہ کوئی حقیقی روحانیت مابعدجدیدیت کے بطن سے پیدا ہو سکے۔ یہ منطقی طور پر جمع بین الضدین کہلائے گا۔

اسلام میں روحانیت کا ایک ہی تصور ہے اور وہی حقیقی اسلامی تصور ہے جو تھوڑی بہت کمی بیشی کے ساتھ تاریخ اسلام کے ہر دور میں موجود رہا ہے۔ اسلامی تصور روحانیت یہ ہے کہ انسان فی نفسہ ایک اخلاقی وجود ہے۔ یعنی انسان کی اصل شناخت اس کی روح ہے، جبکہ اس کا جسم محض اس کا خارجی اظہار ہے۔ اسی طرح نفس انسانیت بھی حقیقی وجودِ انسانی کا محض ایک پیرایہ اظہار ہے۔ دیگر تمام مخلوقات کی طرح انسان بھی  اصلا ایک عبد ہے۔ باقی اسلامی تصور روحانیت میں تمام اسلامی مابعد الطبیعات شامل ہیں جو مابعد جدیدیت کو کسی صورت قبول نہیں ہیں۔

الحاصل یہ کہ مابعد جدیدیت کا یہ دعویٰ ہی اصولا غلط ہے کہ بدون مذہب کوئی روحانیت وجود رکھ سکتی ہے۔روحانیت کا تعلق مابعد الطبیعات کی آفاقیت سے ہے جبکہ مابعد جدیدیت ہر طرح کی آفاقیت کی منکر ہے۔ واللہ اعلم

اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “پوسٹ ماڈرن ازم اور روحانیت کے حوالے سے

  1. آپ کے نزدیک اسلامی تصور روحانیت یہ ہے کہ انسان فی نفسہ ایک اخلاقی وجود ہے۔ یعنی انسان کی اصل شناخت اس کی روح ہے.
    سوال یہ ہے کہ روح کیا ہے؟ اخلاقیات اور روح کا کیا تعلق ہے؟ اسلامی روحانیت میں ماورائے مادہ کا تصور بھی یعنی خدا,ملائکہ,جنات وغیرہ ہے تو اسلامی روحانیت کا تعلق صرف انسانی اخلاقی وجود سے کیوں ہے؟ اسلامی مابعد الطبیعیات کیا ہے؟

    1. ہمارے نزدیک انسان فی نفسہ محض ایک اخلاقی وجود نہیں بلکہ ایک روحانی وجود ہے۔ اخلاقیات ہمارے نزدیک روحانیت کا ایک جزو ہے، کُل نہیں۔
      روح ہمارے نزدیک اللہ تعالیٰ کے امور میں سے ایک امر ہے۔ یعنی جس طرح کائنات کی ہر شے اللہ کے امرِکن کا فیکون ہے ایسے ہی روح بھی ایک امر کن کا فیکون یعنی نتیجہ ہے۔ اس کی حقیقت کیا ہے، اس کا ہمارے پاس کوئی علم نہیں۔
      اخلاقیات کا روح کے ساتھ وہی تعلق ہے جو اخلاق کا انسان کے ساتھ ہے۔ یعنی اخلاقیات روح کے اخلاقی شعور کا نام ہے۔
      یہ بات غلط ہے کہ اسلامی روحانیت کا تعلق صرف اخلاقیات کےساتھ ہے، اوپر ہم عرض کر چکے ہیں کہ اخلاقیات روحانیت کا محض جزو ہے۔ اسلامی مابعدالطبیعات اسلامی عقائد ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں