33

پاکستان کا موجودہ بحران – محمد دین جوہر

پاکستان کا موجودہ سیاسی عدم استحکام اور معاشی انتشار کافی طویل ہو گیا ہے۔ اس امر کا قوی امکان ہے کہ آئندہ مہینوں میں یہ صورتحال کچھ بدل جائے، لیکن اس میں کسی تحول (transformation) کا کوئی امکان نہیں۔ اپنی بنیادی ہیئت کے ساتھ یہ بحران ایک غیرفعال آتش فشاں کی طرح کچھ دیر کے لیے خفتہ رہے گا، لیکن نہیں کہا جا سکتا کہ کب پھر سے فعال ہو جائے۔ اس بحران کا اہم ترین پہلو خارجی اور یہ ہے کہ سیاسی طاقت اور سرمائے کا علاقائی نظام اب کسی بنیادی تحول (transformation) کے بغیر آگے نہیں چل سکتا۔ گرد و پیش کی اس صورت حال میں پاکستان کے داخلی سیاسی نظام میں بھی گہری تبدیلیاں نہ صرف یقینی ہیں بلکہ لازمی ضرورت کی حیثیت اختیار کر گئی ہیں۔ لیکن ناچیز کی رائے میں اس بحران کی جڑیں برصغیر کی ہماری تاریخ میں بہت گہری ہیں، اور موجودہ صورت حال اسی کا تسلسل ہے۔ برصغیر کا مسلم معاشرہ اور خصوصاً پاکستان سیاسی طاقت اور سرمائے کی جن علاقائی اور بین الاقوامی ساختوں میں گھرا ہوا ہے، ان سے براہ راست تعرض کیے بغیر اس بحران کو نہ سمجھا جا سکتا ہے اور نہ اس سے نکلنے کا راستہ بنایا جا سکتا ہے۔

اس امر کا قوی امکان ہے کہ موجودہ بحران کے داخلی ہچکولے اپنے شدید معاشرتی، معاشی اور سیاسی اثرات کے باعث دور رس قومی نتائج مرتب کریں گے۔ ان ہچکولوں کا منبع پاکستانی معاشرہ نہیں، بلکہ عالمی طاقت اور سرمائے کے علاقائی نظام کا اتار چڑھاؤ ہے۔ گزارش ہے کہ سنہ ۱۸۵۷ء کے بعد برطانوی paramountcy کے ساتھ ہی برصغیر میں سیاسی طاقت اور سرمائے کا جو علاقائی اور عالمی نظام قائم ہوا تھا وہ اپنے بنیادی ترین استعماری خدوخال میں سنہ ۲۰۰۱ (نائن الیون) تک قائم رہا ہے۔ طاقت کے ہر نظام میں حرکت (movement) اور تحول (transformation) کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔ برصغیر کی تقسیم، بنگلہ دیش کا قیام، اور پاک بھارت جنگوں کی حیثیت اس نظام کی داخلی حرکت کی تھی۔ ان واقعات کو یہاں قائم استعمار کے عالمی اور علاقائی نظام میں روٹین کی ایسی حرکت کہا جا سکتا ہے جس سے اس کے بنیادی استعماری خدو خال کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ لیکن بیسویں صدی کی آخری تہائی میں اس خطے میں چار ایسے بڑے واقعات رونما ہوئے جن کا مرکز پاکستان تھا اور جن کی وجہ سے طاقت اور سرمائے کے اس علاقائی نظام کا علیٰ حالہ قائم رہنا ممکن نہیں رہا تھا، اور یہ امر طاقت کے عالمی نظام کے لیے قابل قبول نہیں تھا۔ ناچیز کے خیال میں یہ چار واقعات مندرجہ ذیل ہیں:

1۔بھٹو صاحب کا ظہور، پاکستان میں جدید سیاسی عمل کی بازیافت اور پاکستانی معاشرے کی غیرمعمولی سیاسی mobilization؛

2۔ افغانستان پر روسی جارحیت اور جواباً پاکستانی معاشرے کی غیرمعمولی عسکری mobilizatioin؛

3۔ پاکستان کا ایٹمی طاقت کا حصول؛

4۔ غیرمتوقع طور ابھرتے ہوئے چین کے پاکستان کے ساتھ نامیاتی تعلقات اور عالمی نظام کے لیے ان کے مضمرات۔

تحریک پاکستان میں ظاہر ہونے والے سیاسی عمل نے استعماری نظام کی وسیع اسٹرکچر کو موضوع بنائے بغیر اس کی داخلی حرکت میں نہایت بنیادی تبدیلی پیدا کی۔ بھٹو صاحب کے ظہور سے جو سیاسی عمل شروع ہوا وہ حمیتِ انسانی، وفائے وطن، ہندوبالا دستی کے مکمل انکار، اور استعمار دشمنی پر مبنی تھا۔ یہ قومی سیاسی عمل اپنے دور رس نتائج میں اس خطے کے علاقائی استعماری نظام کے لیے عدم استحکام کا باعث بنا۔ پاکستان مرکز ان چار نئے سیاسی عوامل کی وجہ سے برصغیر میں ڈیڑھ صدی سے قائم سیاسی طاقت اور سرمائے کے علاقائی استعماری نظام کا اپنی سابقہ صورت میں باقی رہنا کسی طور ممکن نہ تھا۔ ان ”خطرناک“ عوامل کو undo کرنے کے لیے پاکستان کو undo کرنا ضروری سمجھا گیا۔ اس کی فوری اور بنیادی ترین وجہ ایسے ملک کو ختم کرنا تھا جو کسی بھی معنی میں غیرمتوقع ابھرتے ہوئے چین کے لیے مفید ہو سکے جو مغرب کے لیے بڑے خطرے کی علامت ہے۔ امریکہ کی افغانستان پر جارحیت کا بنیادی مقصد یہی تھا۔ مغربی استعمار محکوم اقوام کے ملک بنانے اور توڑنے، اور ان کے معاشروں کو غارت کرنے کا تین سو سالہ تجربہ رکھتا ہے۔ پاکستان اوسط اہمیت، وسائل اور طاقت رکھنے والا ملک ہے، اور استعمار کو یقین تھا کہ وہ ایک خفیہ جنگ (covert war) کے ذریعے اس کے جغرافیے میں ردو بدل کر سکتا ہے۔ اگر استعمار کو اپنی اس صلاحیت میں ذرا سا بھی شک ہوتا تو نائن الیون کے بعد جو حملہ افغانستان پر ہوا، وہ براہ راست پاکستان پر ہونا تھا۔ سنہ ۲۰۰۷ء تک استعمار کو خفیہ جنگ کے ذریعے اپنے مقاصد کے حصول میں ناکامی ہوئی تو پاکستان پر براہ راست حملے کا امکان بہت بڑھ گیا تھا۔ اس سال کے آس پاس پاکستان پر براہ راست امریکی حملہ اپنے خطرناک عالمی مضمرات کے باعث ممکن نہ ہو سکا۔ لیکن مابعد فوراً ہی ہماری داخلی سیاسی حرکیات کو فوکس میں لایا گیا، تاکہ استعماری مقاصد کو آگے بڑھایا جا سکے۔

ہمارے ہاں جمہوریت اور سیکیورٹی کی موجودہ داخلی جدلیات میں سب سے طاقتور عنصر خارجی ہے۔ فی الوقت ہمارے داخلی ”سیاسی نظام“ کی تمام جدلیات اسی حقیقت سے جڑی ہوئی ہے اور اس کی تمام حرکیات یہیں سے اخذ ہو رہی ہے۔ دو خارجی عناصر پاکستان کی داخلی سیاسی جدلیات میں غیرمعمولی طور پر مؤثر ہیں:

1۔  ہندو/ بھارتی عنصر؛

2۔  عالمی استعماری طاقت کی ترجیحات؛

برصغیر میں مسلم اور ہندو معاشرے کا سیاسی عمل overlapping ہے اور ایک کو دوسرے کے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا۔ ہندو اور مسلم معاشرہ ایک زبردست باہمی جدلیات رکھتے ہیں، ان کی نہایت پیچیدہ تاریخ باہم گتھی ہوئی ہے اور اس سے بامعنی تعامل کے لیے تاریخی تناظر میں متوازی بیانیہ ضروری ہوتا ہے۔ ہندو معاشرے کی داخلی جدلیات میں مسلم عنصر غیر معمولی طور پر اہم ہے۔ ہندو معاشرے کی self-perception برصغیر کی مسلم تاریخ سے قطعاً منفک نہیں ہے۔ اسی طرح مسلم معاشرے کی داخلی جدلیات میں ہندو عنصر بھی ویسی ہی اہمیت رکھتا ہے۔

موجودہ حالات میں پاکستانی پاور اسٹرکچر شدید ترین عالمی اور علاقائی دباؤ میں ہے، لیکن مہلک ترین خطرات داخلی طور پر ظاہر ہو رہے ہیں کیونکہ قومی سیاسی عمل بے شناختی، بے یقینی اور بے سمتی میں منتشر ہو چکا ہے۔ اس وقت ہمارے قومی سیاسی عمل کو بعینہٖ اس صورت حال کا سامنا ہے جو اسے قیام پاکستان کے وقت درپیش تھی۔ ایک بڑا فرق یہ ہے کہ موجودہ حالات میں قومی سیاسی عمل کا سائبان بننے والی کوئی سیاسی فکر بھی موجود نہیں ہے اور قومی سیاسی عمل ایک خطرناک موڑ مڑ چکا ہے۔ بے نظیر کی موت، الطاف حسین کا انخلا، اور نواز شریف کی موجودہ نااہلی اس کی بڑی علامتوں میں سے ہیں۔ اہل دانش اور اہل صحافت کی یہ بات درست ہے کہ موجودہ صورت حال میں غدار وغیرہ کے القابات غیراہم ہو چکے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قومی سیاسی عمل کی یہ کروٹ بڑے اسکیل پر واقع ہوئی ہے اور اپنی تفہیم کے لیے نئے فکری تناظر اور نئی اصطلاحات کا تقاضا کرتی ہے۔

تحریک پاکستان کے وقت مسلم معاشرے کی داخلی سیاسی جدلیات نہایت فیصلہ کن رہی کیونکہ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے نے ہندو بالادستی کو فکری اور عملی طور پر قبول کر لیا۔ لیکن اس کے علی الرغم پاکستان وجود میں آیا۔ برصغیر کے مسلم معاشرے کا یہ زخم کبھی مندمل نہیں ہوا بلکہ سنہ ۱۹۷۱ء میں مزید گہرا ہو کر اب ناسور بن چکا ہے۔ پاکستان کے موجودہ حالات میں یہ پھر سے رسنا شروع ہو گیا ہے۔ سنہ ۲۰۰۷ء کے بعد سے قومی سیاسی قوتوں نے برصغیر میں ہندو بالادستی کو ویسے ہی قبول کرنے کا غیردانشمندانہ اور خطرناک فیصلہ کیا ہے جو قیام پاکستان کے وقت ایک بڑے طبقے کے طرف سے سامنے آیا تھا۔ کیونکہ اس فیصلے کی افسوسناک نظیر، اس کے سماجی، مذہبی اور سیاسی ارتسامات ہماری قومی سیاست اور کلچر میں موجود اور متحرک رہے ہیں، اس لیے یہ فیصلہ اس طرح محسوس نہیں کیا گیا جس کا یہ متقاضی ہے۔ لیکن سیاسی قوتوں کی یہ بے وقت کی راگنی خون کے چھینٹوں کی تراوٹ لیے ہوئے ہے جس میں کچھ اڑ چکے ہیں اور باقی ابھی منڈلاتے بادلوں میں ہیں۔ اہم تر حقیقت یہ ہے کہ ماضی کے برعکس، ہندو بالا دستی کی قبولیت کا موجودہ سیاسی رجحان اور عالمی پاور اسٹرکچر کی ترجیحات ہم قدم ہیں، اور یہ امر قومی صورت حال کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا دیتا ہے۔ تحریکِ پاکستان کے وقت استعمار مسلم معاشرے کی ان سیاسی قوتوں کے ساتھ مفاہمت میں تھا جو برصغیر میں ہندو بالادستی کو قبول کرنے سے انکاری تھیں اور یہ صورت حال سنہ ۲۰۰۱ تک جاری رہی ہے۔ اب صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔

تحریک پاکستان کے وقت مسلم معاشرے کی ان دو متحارب قوتوں کی ایک بڑی خصوصیت یہ تھی کہ دونوں سیاسی طور پر تقریباً متوازن تھے اور دونوں کے بیانیے مذہب سے جواز یافتہ، طاقتور اور نہایت واضح تھے۔ پس منظر میں سیکیورٹی اور طاقت استعمار کے پاس تھی۔ اس وقت بیانیے ہکلا رہے ہیں، تاریخ نقاب پوش ہے اور داخلی طاقت کا نظام ”پراسرار انداز“ میں ایک بڑی اور خطرناک کروٹ لینے کی کوشش میں ہے۔ سیاسی قوتوں کے اس فیصلے کے پس منظر میں کارفرما داخلی اور خارجی طاقت کا توازن بھی ماضی سے قطعی مختلف ہے۔ سنہ ۲۰۰۷ء کے بعد ہماری سیاسی قوتوں کے اس اہم فیصلے کو صرف پاکستان کے داخلی تناظر میں قطعاً نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس فیصلے کی تفہیم کا درست تناظر برصغیر کی تاریخ اور اس کے پس منظر میں متحرک عالمی اور علاقائی صورت حال ہے۔ موجودہ پاکستانی سیاسی علوم اور صحافت میں ایسے وسائل قطعی ناپید ہیں جو پاکستان کی اس خطرناک داخلی حرکیات اور اس میں بنیادی تبدیلی کو سمجھنے میں ہماری معاونت کر سکیں۔ مواعظ کے صبح و شام تذکرے سے طاقت کی حرکیات کو سمجھنے میں کوئی مدد نہیں ملتی اور نہ ان سے نبرد آزما ہونے کے وسائل فراہم ہوتے ہیں۔

ناچیز کے نزدیک ایل کے اڈوانی نے جب یہ کہا تھا کہ تقسیمِ برصغیر کے ساتھ امن یہاں سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گیا تو کچھ غلط نہیں کہا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان سنہ ۱۹۴۷ء سے مستقل سرد یا گرم جنگ کی صورت حال میں ہیں۔ ناچیز کے خیال میں اس کی وجوہات شخصیتوں اور اداروں کی بجائے طاقت اور سرمائے کے عالمی اور علاقائی نظام کے ساتھ ساتھ ہماری تاریخ میں پیوست ہیں۔ طاقت کا نظام اپنی حرکیات کے جبر کا پابند ہوتا ہے، اور اس کی ہر حرکت نہایت میکانکی ہوتی ہے اور سفاکی سے واقع ہوتی ہے۔ معاشرے اپنی طاقت کی تحدیدات میں رہتے ہوئے اس حرکیات کو respond کرتے ہیں۔ اس خطے کی موجودہ علاقائی اور عالمی صورت حال میں پاکستان مقابلتاً اہم ترین اور سب سے کمزور player ہے، اور اسی وجہ سے خطرات بھی بہت زیادہ ہیں۔ بھارت اور پاکستان کے باہمی تعلقات کو دیکھنے کا واحد تناظر عالمی سرمائے اور سیاسی طاقت کی ترجیحات اور برصغیر کی تاریخ سے فراہم ہوتا ہے۔ یہاں دیرپا امن کے امکانات بھی انہی شرائط پر زیر بحث اور زیر عمل لائے جا سکتے ہیں۔ دلی خواہش کے باوجود کسی اخلاقی یا جمہوری وعظ سے تاریخ کی اس سفاک واقعیت کو ادھر ادھر نہیں کیا جا سکتا۔ آرزومندانہ سوچ اور سفاک تاریخی واقعیت کو الگ الگ رکھنا ہر سیاسی صورت حال کو سمجھنے کی بنیادی شرط ہے۔ طاقت اور قومی اقتدار معاشروں کی اصلِ حیات اور ان کی فطری اور سفاک حرکیات کا نام ہے۔ ان پر کوئی کمپرومائز یا ”مذاکرات“ نہیں ہوا کرتے۔ پاکستانی طاقت اور قومی اقتدار کو نظرانداز کرنے، مشتبہ بنانے اور تاریخ کے بہاؤ کو لوریاں سنانے کے نتائج صرف پاکستان کے داخلی سیاسی عمل تک محدود نہیں رہ سکتے، بلکہ پورا خطہ ان کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

سیاسی لیڈر قوم کے سیاسی عمل کا نگہبان ہوتا ہے اور اس کی عظمت کا پیمانہ بھی یہیں سے اخذ ہوتا ہے۔ ہر معاشرے کا سیاسی عمل تین اجزا کا مجموعہ ہوتا ہے:

1۔  حمیتِ انسانی اور سیاسی آرزو مندی؛

2۔  عدل اجتماعی پر مبنی اقتدار کی جہدوجہد؛

3۔  اور قومی سلامتی کے تقاضے۔

ہر معاشرے کی حیاتِ اجتماعی کے یہ تینوں پہلو قومی بیانیے میں اظہار پاتے ہیں۔ تحریک پاکستان کے وقت سامنے آنے والا سیاسی عمل اور اس کو ظاہر کرنے والا بیانیہ ایک عدمِ تناسب سے ان تین پہلوؤں کو محیط تھا۔ یہ عدم تناسب قومی سیاسی عمل اور عدل اجتماعی کے مابین سامنے آیا۔ حالات کے جبر میں ہمارا سیاسی عمل اور بیانیہ شناخت اور سلامتی پر غیرمعمولی شدت سے مرکوز رہا۔ قیامِ پاکستان کے بعد قومی بیانے میں سیاسی عمل اور عدل اجتماعی کا جو عدم تناسب موجود تھا، اس کا توازن مزید بگڑ گیا، اور نتائج سنہ ۱۹۷۱ء میں سامنے آئے۔ دو قومی نظریے یا نظریہ پاکستان کے ردعمل میں دو نئے بیانیے ہماری سیاسی اور ثقافتی زندگی میں شامل ہوئے اور قومی بیانیے کی کمزوری اور سیاسی عمل کے انتشار کا باعث بنے:

1۔  ایک یہ کہ پاکستان کا سیاسی عمل (خلافت راشدہ جیسا) اسلامی نظام قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

2۔  دوم یہ کہ پاکستان کا سیاسی عمل یورپی طرز کا جدید فلاحی معاشرہ تشکیل دینے میں ناکام رہا ہے۔

بیانیے کی یہ دونوں روئیں ہماری سیاسی اور ثقافتی زندگی میں بہت طاقتور طریقے پر موجود ہیں، اور کسی بھی وسیع البنیاد بیانیے اور قومی سیاسی عمل کی تشکیل میں زبردست رکاوٹ ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم استعماری ورثے اور روایتی مذہبی ورثے سے بیک وقت نبردآزما ہونے اور ان سے متوارث سیاسی افکار اور سیاسی عمل کی ہیئت کا درست محاکمہ کرنے میں قطعی طور پر ناکام رہے ہیں۔ سادہ لفظوں میں ہم نے برصغیر کی مسلم تاریخ اور یہاں کی استعماری تاریخ سے بامعنی تعامل سے صرف نظر کیا ہے، اور آج کی صورت حال اسی کا نتیجہ ہے۔

جدید معنوں میں برصغیر کے مسلمانوں کی اولین سیاسی تحریک، وہابیت کی تحریک تھی۔ اس تحریک نے مسلمانوں کی سیاسی زندگی اور سیاسی فکر پر بہت گہرے نقوش چھوڑے ہیں اور جو آج بھی ہماری سیاسی فکر اور سیاسی عمل میں غیرمعمولی طور پر مؤثر ہیں۔ مذہب کی بنیاد پر بننے اور چلنے والی مابعد تمام تحریکوں کا سانچہ یہی تحریک ہے۔ تحریک وہابیت کے سیاسی افکار اور سیاسی عمل کے بارے میں ایک بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ برصغیر کے مسلم معاشرے کی حمیتِ مذہبی کا اظہار تھی۔ لیکن اتنے ہی یقین سے یہ بات بھی کہی جا سکتی ہے کہ یہ تحریک حمیتِ انسانی سے مطلقاً خالی تھی۔ ہر سیاسی تحریک کی بنیادی ترین ذمہ داری خود متعلقہ معاشرہ اور اس کی تاریخ ہوتی ہے، اور یہ ذمہ داری صرف اسی وقت پوری ہو سکتی ہے جب سیاسی عمل کی بنیاد حمیتِ انسانی پر استوار ہو۔ سیاسی تحریک کا جائز موضوع انسان کے معاشرتی اور تاریخی ”حالات“ ہوتے ہیں، اس کے شعوری اور نفسی ”احوال“ نہیں ہوتے کیونکہ وہ اخلاق و علم کا موضوع ہیں۔ تحریک وہابیت نے مذہب کو بنیاد بناتے ہوئے برصغیر میں مذہبی سیاسی عمل کے تاریخ سے انقطاع کا نہ صرف آغاز کیا بلکہ اسے مکمل بھی کر دیا۔ سیاسی تحریک انسانی احوال کی تجریدیت سے لڑنے کی بجائے انسانی حالات کی واقعیت سے نبردآزما ہوتی ہے۔ سیاسی تحریک معاشرے اور تاریخ میں موجود ظلم سے پنجہ آزمائی کرتی ہے۔ ظلم کی معنویت عدل اور عقیدے دونوں کے بالمقابل متعین کی جا سکتی ہے۔ اگر ظلم کی معنویت عدل کے تناظر میں اخذ کی جائے تو اقدارِ شریعت سیاسی عمل کی بنیاد بنتی ہیں۔ اور اگر ظلم کی معنویت عقیدے کے تناظر میں اخذ کی جائے تو عقیدہ عمل کی بنیاد فراہم کرتا ہے جو نہ صرف سیاسی عمل کے مکمل انتشار کا باعث بنتا ہے بلکہ معاشرے کے لیے بھی تباہ کن ہوتا ہے۔ حمیتِ انسانی ظلم کے شکار انسان کی طرف لپکتی ہے اور اسے عدل سے بہرہ مند کرنےکا داعیہ رکھتی ہے، جبکہ حمیت مذہبی ظلم سے مخرب عقیدے کے حامل انسان کی طرف لپکتی ہے اور اسے ختم کرنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں حمیتِ انسانی پر برپا ہونے والی ہر تحریک ”مظلوم عوام“ کے لیے کچھ نہ کچھ کرنے میں ضرور کامیاب ہوئی ہے۔ جبکہ حمیت مذہبی کی بنیاد پر چلنے والی ہر تحریک نہ صرف یہ کہ عقیدے کو ”ظلم“ سے پاک نہیں کر سکی بلکہ معاشرے میں سیاسی عمل کے انتشار کا باعث بھی بنتی رہی ہے۔

برصغیر میں اسلام کی سیاسی تعبیرات میں تین رجحانات غالب رہے ہیں۔ ایک یہ کہ جدید اسلامی سیاسی افکار کے ذریعے استعمار کی محکومی اور اکثر غلامی کو جواز دینے کی نہایت وسیع البنیاد کوشش کی گئی۔ اس کی بڑی مثال آقائے سرسید ہیں۔ لیکن اس میں ایک چیز ”تاکہ“ کے ذیل میں بیان ہوتی رہی کہ یہ ساری کاوش مسلمانوں کی تعلیمی، معاشرتی اور بھلائی کے لیے زیرعمل لائی گئی ہیں۔ اس ”تاکہ“ کی وجہ سے یہ کوشش حمیت انسانی کو کم از کم سطح پر شامل رہی ہے، اگرچہ حمیتِ مذہبی کے لیے یہ کاوش زہر قابل ثابت ہوئی۔ دوم، جدید اسلامی سیاسی افکار کے ذریعے ہندوؤں سے بھائی چارے (مراد ہندو بالادستی) کو جواز بخشا گیا۔ ان دونوں کاوشوں میں اسلام کی سیاسی تعبیرات پہلے سے طے شدہ کچھ مواقف کی تائید میں آگے بڑھائی گئیں۔ سوم، از راہِ بندہ نوازی مذہب کی بنیاد پر جو جدید سیاسی افکار خاص مسلمانوں کے لیے وضع کیے گئے وہ نہ صرف فکری طور بانجھ اور مسلمانوں کے معاشرتی، تاریخی اور سیاسی حالات سے غیرمتعلق تھے بلکہ مسلمانوں کی دینی روایت اور تاریخی تجربے سے بھی متغائر تھے۔ مثلاً خلافتِ الہیہ وغیرہ کا جدید سیاسی تصور ہمارے ہاں بالکل نیا تھا اور برصغیر میں ہمارے اسلوبِ فرمانروائی اور تاریخی تجربے سے بھی بالکل غیرمتعلق تھا۔ مذہب سے اخذ شدہ ہمارے جدید سیاسی تصورات ہماری دینی روایت اور تاریخ سے منفک ہو کر سامنے آئے اور نہ صرف ہمارے سیاسی اور مذہبی شعور کی پرداخت میں روکاوٹ رہے بلکہ انہوں نے ہماری پوری تاریخ اور اقتدار کو مطعون قرار دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگر کسی بھی سیاسی نظریے کی بنیاد پر برصغیر میں مسلم تاریخ اور اقتدار کو delegitmize کر دیا جائے تو ہمعصر دنیا میں اقتدار کی جدوجہد کے لیے درکار کوئی ثقہ فکر اور قوتِ عمل مسلمانوں کو فراہم ہی نہیں ہو سکتی۔

اس شرط پر گزشتہ دو سو سال میں واحد تحریک جو برصغیر کے مسلمانوں میں سیاسی عمل کے احیا اور حمیتِ انسانی کا اظہار بنی وہ تحریک پاکستان ہے۔ سیاسی اقتدار کی جدوجہد اور اس کا حصول حمیتِ انسانی کا بنیادی ترین تقاضا اور اظہار ہے۔ سیاسی طاقت اور اقتدار ہر معاشرے کی اصلِ حیات ہے۔ ہر وہ نظریہ جو معاشرے کی اس خلقی آرزومندی اور عملی حقیقت پر ضرب لگائے، سمِ قاتل اور کشتنی ہے۔ تحریک خلافت سمیت برصغیر میں ہماری مذہب اساس تحریکیں حمیتِ مذہبی سے پُر اور حمیتِ انسانی سے خالی تھیں، اور حصول منزل کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوئیں۔ واحد حمیتِ مذہبی کو سیاسی عمل کی اساس بنانے میں بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر ظلم سے مخرب عقیدہ ”اصلاح“ نہ پا سکے تو حمیتِ مذہبی معاشرے کے خلاف جنگی کاروائی کا یقینی مذہبی جواز بھی تلاش کر لیتی ہے جیسا کہ تحریک وہابیت میں ہوا، اور جس کی ایک حالیہ مثال تحریکِ طالبان پاکستان ہے۔ سیاسی عمل کی جائز بنیاد شرعی تصورِ عدل ہے، تصورِ عقیدہ نہیں ہے، کیونکہ عدل ایک شرعی قدر کے طور پر معاشرتی اور تاریخی صورت حال میں سیاسی عمل کو بنیاد فراہم کرتا ہے۔ معاشرے کے لیے وہی سیاسی عمل مفید ہو سکتا ہے جو شریعت کی عملی اقدار پر استوار کیا جائے۔

پاکستان کے موجودہ بحران میں تشویش کا بڑا پہلو یہ ہے کہ قومی سیاسی عمل تاریخی خود آگہی سے خالی ہو کر ایک داخلیت کا شکار ہو چکا ہے۔ ہمارا موجودہ سیاسی عمل ہم عصر دنیا اور اپنی تاریخ سے بیک وقت حالتِ انکار میں ہے۔ اس کا نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ ہمارا قومی سیاسی عمل جمہوریت، عدل اجتماعی اور سلامتی کو either/or کی عینک سے دیکھ رہا ہے۔ ہمیں یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ داخلیت کا شکار قومی سیاسی عمل تاریخ کا تر نوالہ ہوتا ہے۔ قومی بیانیے کا بنیادی وظیفہ ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ سیاسی عمل کو تاریخی خودآگہی سے بہرہ مند رکھے اور حمیتِ انسانی کی بنیاد پر اقتدار کی جدوجہد اور اس کی حفاظت کو تاریخ کی رزمگاہ میں ممکن بنا دے۔ اللہ تعالیٰ اولی الامر اور اہل دانش کو قومی سیاسی عمل کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق اور بصیرت عطا فرمائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں