58

پاکستان میں الحاد کا بوٹا کس نے لگایا؟ ابوبکر قدوسی

میرے چھوٹے بھائی ہیں، ابوالحسن علی قدوسی، ملائیشیا میں ہوتے ہیں، وہیں سے کیمیکل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کی ہے. اگلے روز ڈاکٹر ابوالحسن قدوسی کا کہنا تھا کہ
’’فلاں صاحب کی تو بلامبالغہ الحاد کے حوالے سے بہت سی خدمات ہیں اور آپ ان کو الحاد کا سہولت کار بنائے دیتے ہیں.‘‘
تو میرا جواب تھا :
ممکن ہے ایسا ہی ہو، لیکن حدیث کے معاملے میں ان ’’متجددین‘‘ کا رویہ تشکیک پیدا کرتا ہے. کسی بھی امر کا اقرار یا انکار، رد یا قبول کسی اصول یا قانون کے تحت ہی کیا جا سکتا ہے. آپ نے کس رنگ کے کپڑے پہننے ہیں، آج کھانا کیا ہے، پکانا کیا ہے، بلاشبہ آپ کی مرضی اور پسند پر منحصر ہے، لیکن یہ تو ممکن نہیں کہ آپ معاشرتی امور بارے یہ رائے رکھیں کہ میری جو مرضی ہوگی کروں گا. ایسا ہی معاملہ مذہب کا ہے کہ جو ایک نظام حیات کا نام ہے، آپ کی مرضی کا نہیں. ہر مذہب کے طے شدہ ضابطے ہیں، جن سے کسی کو مفر کی اجازت نہیں دی جا سکتی. اب یہ تو ممکن ہے کہ کوئی ان ضابطوں کو ترک کر کے اس مذہب کے دائرے سے نکل جائے لیکن یہ نہیں کہ جو شے مجھے ناپسند ہے، وہ اس مذہب کا حصہ ہی نہیں یا جسے میرا جی چاہے اسے بدل دوں.

حدیث کے معاملے میں بھی اس طبقے نے یہی کیا کہ امت مسلمہ کے اکابر و اصاغر جس کی حجیت پر صدیوں سے متفق تھے، اس کے بارے میں انکار کا رویہ اختیار کیا، اور ان کے بنائے اصولوں کو ترک کر دیا. رہی دلیل تو اس طبقے کو اس سے دور کا بھی علاقہ نہیں، جیسے یہ ’ایجاد کردہ‘ اصول کہ: ’’جو حدیث قران سے ٹکرائے گی، ہم اس کو ترک کر دیں گے.‘‘ بظاہر تو کیسا خوش کن جملہ ہے اور اس سے انکار بھی ممکن نہیں اور کسی بھی مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے کہ قرآن کو ہر شے پر فوقیت ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ حدیث قرآن سے ٹکرا رہی ہے یا نہیں؟ اب اس کے لیے کس کو آواز دی جائے گی کہ آئے اور منصفی کرے.
کسی بزرگ کو؟
کسی پرانے امام کو؟
کسی تابعی کسی محدث کو ؟
جی نہیں، میرے دوستوں کے ہاں اس بات کا فیصلہ خود ان کی عقل، اور آپ کی میری عقل کرے گی. اور آپ جانتے ہیں کہ ہر بندے کی عقل الگ، اس کا معیار الگ ہے. یہ کوئی عقل کا وہ معیار نہیں کہ کہ جسے جبلت کہا جائے، جیسے آگ لگ جائے تو اس سے بچنا جبلت ہے اور یہ کہ عقل اسی جبلت کے تحت ایک ہی فیصلہ کرے گی کہ بھاگو، آگ لگ گئی ہے. یہاں معاملہ دوسرا ہے، یہاں غور و فکر ہے، نکات کی تلاش کا ہے، جو بظاہر مخلتف نظر آتا ہے بسا اوقات موافق ہوتا ہے، لیکن مخصوص سیاق اور پس منظر کو جانے بغیر اس کا فیصلہ ممکن نہیں ہوتا. خیر یہ الگ موضوع ہے، اس وقت ہم عقل کی طرف جا رہے ہیں.
سو صاحبو! جب ہمارے ان دوستوں نے عقل کو معیار حق بنا لیا، اور امت کے صدیوں سے جمے جمائے اتفاق کو ’’طرز کہن‘‘ قرار دے کر اپنی ’’نگوڑی‘‘ عقل کے گھوڑوں کو ریس کورس کے میدان میں چھوڑا تو عقل کے کچھ گھوڑے بدلگام ہو گئے، کہ عقل کا ازل سے یہی طریق رہا ہے. انہوں نے حدیث کے باب میں تشکیک پیدا کی، عقل کی بنیاد پر شک کا دروازہ کھولا. راوی بھول بھی تو سکتے ہیں، جھوٹ بھی تو بول سکتے ہیں، حافظہ کمزور بھی تو ہو سکتا ہے؟
ایسے سوالات کا انبار لگا دیا، لیکن ایک بات میں ڈنڈی مار گئے. عام لوگوں کو نہیں بتایا کہ محدثین نے عمریں کھپا کر اس بات کا فیصلہ کر دیا تھا کہ،
جی ہاں! یہ جھوٹ بولتا تھا سو مردود ہے، اس سی کوئی حدیث نہ لی جائے گئی.
یہ بھول جاتا تھا سو ضعیف ہے، یہ جھوٹ گھڑتا تھا سو متروک ہے …
محدثین کی اس محنت کو یا تو چھپایا گیا، یا اس کا مذاق بنایا گیا تو تشکیک کے بت مضبوط ہوئے.

اب تشکیک کا سفر رکتا نہیں کہ یہ ایک مرض ہے. شک کتنی بری شے ہے. آج ہی اپنی گھر والی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیجیے، کچھ دن میں آپ کو اپنے بچے بھی مشکوک لگیں گے. شک ایک بیکٹریا ہے، آپ ایک ہزار کلو دودھ ایک برتن میں ڈالتے ہیں، اور صرف ایک چھوٹا سا چمچ دہی کا اس میں شامل کرتے ہیں، اور بیکٹیریا اپنا کام شروع کر دیتا ہے، ایسے ہی شک کے بیکٹیریا جب آپ عقل کی بنیاد پر اپنی سوچوں کے شامل حال کرتے ہیں، تو بھائی عقل تو سب کی الگ الگ ہے، کسی کا سفر زیادہ اور کسی کا کم،
کسی کا چند احادیث تک رک جاتا ہے اور کوئی اسی شاہراہ انکار پر سفر کرتا کرتا قرآن تک جا پہنچتا ہے، پھر اسے ابراھیم کی ٹھنڈی آگ، خضر کا معصوم بچے کو مار دینا، موسی کے جھولے کا نیل کی لہروں میں فرعون کے محل سے جا لگنا، پکی ہوئی مچھلی کا زمین پر چلتے ہوئے دریا میں گھس جانا، سب عجیب لگے گا. ایک رات میں سوئے ہوئے بندہ رب کا اٹھ کے ہزاروں میل دور چلے جانا اور پھر آسمانوں کو چھو آنا، کچھ بھی اس کی عقل میں نہیں آنے کا.

سو دوستو! ہمارے یہ نادان دوست جنہوں نے عقل کی غلامی میں لوگوں کو دے دیا، اب اسے روک نہیں پا رہے. صبح شام انہوں نے اپنی اپنی وال پر مولوی کا خوب ’’توا‘‘ لگایا، مگر اب طوفان رک نہیں رہا. کوئی مانے نہ مانے. یہ الحاد کا بوٹا انہی ’’دوستوں‘‘ کا لگایا ہوا ہے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں