99

وجود باری تعالی کی بحث میں ایک فرضی دلیل- ڈاکٹر زاہد مغل

وجود باری تعالی پر گفتگو کے دوران ایک طالب علم کہنے لگا کہ “سر اگر ایک پیدا ہونے والے بچے کو انسانوں سے الگ تھلگ مثلا جنگل میں کہیں رکھ کر پالا جائے تو اس کے ذہن میں خدا کا تصور نہ ہوگا”۔ وہ اس مقدمے پر مبنی بات کو مزید آگے بڑھانے لگا تو میں نے ٹوک کر کہا کہ “ایک منٹ کے لئے ذرا یہاں رک جاؤ، آپ کو یہ کیسے پتہ چلا کہ اس بچے کے ذھن میں خدا کا تصور نہیں آسکے گا، جس طرح آپ نے یہ مفروضہ قائم کرلیا کہ اس فرضی تخلیق شدہ بچے کے ذھن میں خدا کا تصور نہیں ہوگا میں یہ فرض کرسکتا ہوں کہ اس کے ذھن میں خدا کا تصور ہوگا۔ نیز اس سے بھی قبل مجھے یہ بتائیں کہ انسانی آبادیوں سے اس طرح مکمل طور پر کٹا ہوا بچہ کیا سوچے گا اور کیا نہیں، یہ آپ کو کیسے پتہ چل گیا؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کیونکہ ایسا کوئی بچہ تو آج تک کہیں پایا ہی نہیں گیا اور نہ اس کے خیالات سے متعلق کوئی تاریخی ریکارڈ وغیرہ کہیں موجود ہے کہ جس کی بنیاد پر اس سے متعلق کوئی بات اخذ کی جاسکے، ‘تو ایسا بچہ یہ سوچے گا اور وہ نہیں’ یہ یہاں بیٹھ کر آپ اور میں طے کررہے ہیں جن کے چند مخصوص خیالات ہیں، لہذا ‘وہ فرضی بچہ کیا سوچے گا’ اس کا اس کلاس روم میں بیٹھ کر ہم جو بھی جواب دیں گے وہ ہماری سوچ کا اظہار ہوگا نہ کہ اس بچے کی جو آج تک کہیں پایا ہی نہیں گیا۔ الغرض جو مفروضہ دلیل آپ یہاں قائم کررہے ہیں یہ آپ کے پسندیدہ خیالات کا مظہر ہے نہ کہ اس بچے کی۔ چنانچہ یہ فرضی استدلال ایسا ہی ہے کہ انسان یہ طے کرے کہ ‘گھاس کو دیکھ کر گدھے کو کیسا محسوس ہوتا ہے’، اب اگر اس کے جواب میں کہا جائے کہ گدھا خوش ہوتا ہے تو یہ گدھے کے احساسات کا بیان نہیں بلکہ انسان کے احساسات کو گدھے پر مسلط کرنا ہے”

ملحدین اکثر ایسے فرضی استدلال قائم کرتے ہیں اور لوگ اس کا جواب دینے لگ جاتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ دلیل ہی غلط ہے۔

ویسے اسلامی علم کلام میں اشاعرہ نے کئی صدیوں قبل اس “فرضی اصلی کیفیت” پر مبنی استدلال کی غلطی کو بھانپ لیا تھا جو انکے مخالفین مسئلہ حسن و قبح کے بارے میں پیش کیا کرتے تھے کہ “اگر انسان کو تمام بیرونی عناصر کے اثرات سے ماوراء حالت اصلی پر چھوڑ دیا جائے تو وہ عقلا و فطرتا ایسا اور ویسا کرے گا۔”

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں