37

وجودِ باری تعالیٰ کا انکار- طارق محمود ہاشمی

چند روز قبل “دلیل ” میں”ابویحییٰ” صاحب کا ایک فتویٰ شائع ہوا ہے۔ یہ فتویٰ ایک اہم دینی مسئلے پر سوال کے جواب میں جاری کیا گیا ہے۔ سائل نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے لکھا ہے کہ اس نے الحادی لٹریچر پڑھا ہے اور جدید مسلمان اہل قلم کی تحریریں بھی پڑھی ہیں (جن میں اس نے صرف “ابویحییٰ ” صاحب کی کتب کا بالصراحت ذکر کیا ہے)، لیکن اس کے باوجود، وہ وجود خدا کے دلائل کو کافی نہیں پاتا (لہٰذا اب انکارِ وجودِ باری تعالیٰٰ پر قائم ہے یا انکار کرنے کی جانب مائل ہے)۔ اس اہم موڑ پر وہ کسی صاحب علم سے دینی ہدایت کا طالب ہوا ہے اور قرعۂ فال مجتہد العصر کے نام نکلا ہے، چنانچہ وہ گویا ہے کہ “ابو یحییٰ” صاحب بتائیں کہ اسلام کی رُو سے ایک مُلحد کا آخرت میں کیا انجام ہوگا؟

قبل اس کے کہ ہم یہ عرض کریں کہ اس سوال کا مُفتی صاحب نے کیا جواب دیا ہے، اس جانب توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ یہ سائل – اگر فی الواقع کوئی حقیقی وجود رکھتا بھی ہو – تو ضروری نہیں کہ اپنا حقیقی مسئلہ بیان کر رہا ہو۔ فرضی سائلین کو مخاطب کرنا اور فرضی سوالات کے جوابات دینا تجدّد کے میڈیا کلچر کا جزو لاینفک ہے۔ یعنی جب کوئی مؤلد خیال اظہار کے لیے زور لگائے، تو اس انوکھے خیال کو ایک فرضی سوال کے جواب کے پردے میں بیان کیا جا سکتا ہے، جس میں سوال کے الفاظ و اسالیب، پہلے سے سوچے سمجھے اور طے شدہ جواب کے لیے موزوں کر لیے جاتے ہیں۔ غیب کا علم اللہ ہی کو ہے، لیکن قرائن بتا رہے ہیں کہ ایسا مسئلہ کسی کو درپیش نہیں ہو سکتا کہ وہ اللہ پر تو ایمان نہ رکھتا ہو، بلکہ اس کے وجود ہی کا منکر ہو، لیکن اس کے ساتھ آخرت کی فکر اس کو کھائے جا رہی ہو اور اسے دوزخ کا عذاب بے چین کر رہا ہو؟ تاہم، اس مضحکہ خیز صورت کو بفرض محال مان کر “ابویحییٰ” صاحب کے فتوے کے تجزیے کی طرف آتے ہیں۔

لفظ “ابو یحییٰ” کو ہم نے واوین میں اس لیے لکھا ہے کہ گو یہ فتویٰ اسی نام سے معنون ہے، لیکن یہ ان کا اصل نام نہیں ہے۔ ان کا اصل نام ریحان احمد یوسفی ہے اور یہ فرقہ ٔفراہی سے متعلق ہیں۔ منکرین حدیث ہونے کی وجہ سے، کئی ضروریاتِ دین کا انکار کرنے کی وجہ سے اور اپنے بعض دوسرے دینی مواقف کی وجہ سے، اس گروہ کو عامۃ المسلمین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ چنانچہ ریحان یوسفی صاحب اپنی اس شناخت کے بارے میں محتاط ہو گئے ہیں اور قلمی نام یا کنیت سے لکھتے ہیں۔ گو اپنے فرقے سے جامد تقلید کی حد تک عقیدت رکھتے ہیں، لیکن اپنی ان تحریروں میں جو “دلیل” پر شائع ہوتی ہیں، کبھی فرقۂ فراہی یا جاوید غامدی وغیرہ کا نام یا ان کی تصانیف کا ذکر نہیں کرتے۔ لیکن خیالات ہمیشہ ٹھیٹھ اپنے فرقے ہی کے بیان کرتے ہیں۔ یہ وضاحت ضروری تھی تاکہ قارئین اس معاملے کے پس منظر سے باخبر رہیں، اور انہیں جاننے میں آسانی ہو کہ “ابویحییٰ” صاحب کے استدلال کے “الہامی” مآخذ کیا ہیں؟

اس سوال کے جواب میں “ابو یحییٰ”نے لکھا ہے کہ الحاد کوئی پریشان کن چیز نہیں۔ اگر کوئی ملحد حق کا سچا طالب ہے اور روز قیامت اللہ تعالیٰ کو یہ باور کروا سکتا ہے کہ اس کی مخلصانہ کوشش کے باوجود موجود دلائل اُسے خدا کے وجودپر قائل نہیں کر سکے، تو یقینی انجام کی تو خبر نہیں، لیکن “ابو یحییٰ” صاحب نے اسے امید دلائی ہے کہ اللہ تعالیٰٰ اُسے جہنم کی سزا نہیں دے گا۔ یعنی مغرب کے کتنی ہی گمراہیوں کو سند جواز دینے کے بعد، ہمارے متجددین اب دین کی آخری فصیل پر حملہ آور ہو رہے ہیں – یعنی وجود باری تعالیٰٰ کے انکار کے لیے بھی گنجائش پیدا کر رہے ہیں، جو مغربی فکر و تہذیب کا امتیازی نشان ہے۔

قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں منکرین خدا کے بارے میں تفصیل سے کلام کیا گیا ہے اور ان کا انجام بھی واضح کر دیاہے۔ اللہ تعالیٰٰ کا ارشاد ہے:وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ

اور اے نبیؐ، لوگوں کو یاد دلائیے وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا “کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟” انہوں نے کہا، “ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں۔” یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ “ہم تو اس بات سے بے خبر تھے۔ “(سورہ اعراف، آیت 172)

اس آیت کریمہ کی تفسیر میں علامہ ابو اللیث سمرقندی حنفی رحمہ اللہ(م۔ 373) نے اپنی تفسیر بحر العلوم میں لکھتے ہیں:وقوله تعالى: { وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِن بَنِي ءادَمَ مِن ظُهُورِهِمْ } أي: اذكر يا محمد إذا أخذ ربك ويقال معناه وقد أخذ ربك من بني آدم، من ظهور بني آدم { ذُرِّيَّتَهُمْ } يعني: أخذ ربك من ظهور بني آدم ذريتهم وقال بعضهم يعني الذرية التي تخرج وقتاً بعد وقت إلى يوم القيامة { وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنفُسِهِمْ } فقال لهم { أَلَسْتَ بِرَبّكُمْ قَالُواْ بَلَىٰ } يعني إنَّ كل بالغ تشهد له خلقته بأن الله تعالى واحد { شَهِدْنَا } يعني قال الله تعالى شهدنا { أَن تَقُولُواْ } أي لكيلا تقولوا، ويقال هذا كراهة أن يقولوا: { يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَـٰذَا غَـٰفِلِينَ }.

اللہ تعالیٰٰ کا ارشاد ہے “وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِن بَنِي ءادَمَ مِن ظُهُورِهِمْ” یعنی: یاد کرو، اے محمد ! جب تمہارے رب نے نکالا — اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا معنی ہے، اور تمہارا رب نکال چکا ہے بنی آدم سے، یعنی بنی آدم کی پشتوں سے،ان کی ذریت کو “ذُرِّيَّتَهُمْ” یعنی تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی ذریت کو نکالا، اور بعض کے مطابق، اس ذریت کو جو قیامت تک وقتاً فوقتاً سامنے آتی جائے گی۔ “وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنفُسِهِمْ” اور انہیں خود اُن کے نفوس پر گواہ بنایا۔ اور ان سے پوچھا : “أَلَسْتَ بِرَبّكُمْ قَالُواْ بَلَىٰ” کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟’ انہوں نے کہا،”کیوں نہیں!” یعنی ہر بالغ شخص پر اس کی خلقت گواہی دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد ہے۔ “شَهِدْنَا” یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے یہ گواہی اس لیے لی “أَن تَقُولُواْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَـٰذَا غَـٰفِلِينَ” تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہو، یا نہیں کہنا چاہیے، کہ ہم تو اس حقیقت سے غافل تھے ( بحر العلوم،جلد 1، صفحہ، 562)۔

اسی طرح المحرر الوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز کے مصنف، علامہ ابن عطیہ رحمہ اللہ، اس آیت کی شرح میں لکھتے ہیں:المعنى في هذه الآيات أن الكفرة لو لم يؤخذ عليهم عهد ولا جاءهم رسول مذكر بما تضمنه العهد من توحيد الله وعبادته لكانت لهم حجتان إحداهما كنا غافلين والأخرى كنا تباعا لأسلافنا فكيف نهلك والذنب إنما هو لمن طرق لنا وأضلنا فوقعت شهادة بعضهم على بعض أو شهادة الملائكة عليهم لتنقطع لهم هذه الحجج

ان آیات کا مفہوم یہ ہے کہ اگرچہ (دنیا میں ) کوئی عہد نہ لیا گیا ہو، اور کوئی رسول لوگوں تک ان امور کی تذکیر کرنے نہ آیا ہو جو توحید اور اللہ کی عبادت سے متعلق ہیں، پھر بھی کفار کے خلاف دو دلائل موجود ہیں۔ پہلی دلیل لفظ “غافلین” میں ہے۔ (یعنی عہد الست کے بعد وہ یہ عذر پیش نہیں کر سکتے کہ وہ وجود باری تعالیٰ اور اس کی توحید سے بے خبر تھے) اور دوسری دلیل ان کے اس دعویٰ کے خلاف ہے کہ “ہم تو اپنے اسلاف کے پیرو ہیں۔ ہمیں کیونکر سزا دی جا سکتی ہے؟ گناہ تو ان لوگوں کا ہے جنہوں نے یہ غلط روش ڈالی اور ہماری گمراہی کا سامان کیا”۔ تو اس میثاق سے ان میں سے بعض کی بعض پر گواہی ہو گئی یا فرشتوں کی ان پر گواہی لے لی گئی تاکہ ان کے پاس یہ عذر باقی نہ رہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ، 476)۔

اس عہد کی واقعاتی تفصیلات سے قطع نظر، تقریبا تمام مفسرین اس بنیادی نقطہ پر متفق ہیں کہ عہد الست توحید کے معاملے میں قطع اعذار کر دیتا ہے۔ اسی بنیاد پر امام طبری نے سورہ آل عمران کی آیت 106 کی شرح میں حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تفسیر کو راجح قرار دیتے ہوئے لکھا ہے:وأولى الأقوال التي ذكرناها في ذلك بالصواب، القولُ الذي ذكرناه عن أبي بن كعب أنه عنى بذلك جميع الكفار، وأنّ الإيمان الذي يوبَّخُون على ارتدادهم عنه، هو الإيمان الذي أقروا به يوم قيل لهم: أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا

“جو اقوال ہم نے پیش کیے ہیں ان میں سب سے راجح قول ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے۔ ان کے مطابق اس آیت میں تمام کفار مخاطب ہیں۔ جس ایمان سے مرتد ہونے پر انہیں زجرو توبیخ کی جا رہی ہے وہ ان کا اقرار ہے، جو انہوں نے اس سوال کے جواب میں کیا تھا: “أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ”۔ بَلَى شَهِدْنَا انہوں نے کہا تھا: ضرور۔ ہم گواہی دیتے ہیں” (ابن جریر طبری، جامع البیان، جلد 7، صفحہ 95)

جس آیت پر علامہ طبریؓ یہ تفصیل پیش کر رہے ہیں وہ یہ ہے: فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ۔ یعنی روزِ قیامت، سیاہ رُو کفار سے کہا جائے گا کہ ایمان پانے کے بعد بھی تم نے کفر کیا ؟ تو اب اپنے کفر کے بدلے عذاب بھگتو۔ (آل عمران، آیت 106)۔ اس آیت مبارکہ میں کفار کو عذاب کی وعید ہے، اور علامہ طبریؒ فرما رہے ہیں کہ اس عذاب کا جواز عہد الست میں موجود ہے۔

ممکن ہے کہ ریحان یوسفی صاحب اسلاف کی تفسیر پر یہ اعتراض کریں کہ انہیں “عربیت” کا وہ ذوق حاصل نہیں تھا جو اِن متجددین کو حاصل ہے۔ گو ہمارے متجددین کے “نودریافت شدہ” دین کی حقیقت اہل علم نے جگہ جگہ عیاں کر دی ہے، اور کارِ تجدید کی بنیاد جس “عربیت” پر ہے وہ بھی اب واضح ہو چکا ہے، لیکن مخاطَب کی ذہنی ساخت کی رعایت کرتے ہوئے، ضروری ہے کہ ان کے اپنے “اکابرین” کی طرف بھی رجوع کیا جائے۔ غامدی صاحب اپنی تفسیر البیان میں آیت عہد الست کے تحت لکھتے ہیں:

“قریش کو اُس عہد فطرت کی یاددہانی کرائی ہے جس کی بنیاد پر تمام بنی آدم قیامت کے دن مسئول ٹھیرائے جائیں گے اور خدا کی بارگاہ میں کوئی شخص یہ عذر پیش نہیں کر سکے گا کہ اُسے کسی پیغمبر کی دعوت نہیں پہنچی یا اُس نے شرک اور الحاد کے ماحول میں آنکھ کھولی تھی اور خدا کے اقرار اور اُس کی توحید کے تصور تک پہنچنا اُس کے لیے ممکن نہیں تھا۔ قرآن نے اِس عہد کو جس طریقے سے پیش کیا ہے، اُس سے واضح ہے کہ یہ محض تمثیلی انداز بیان نہیں ہے، بلکہ اُسی طرح کے ایک واقعے کا بیان ہے جس طرح عالم خارجی میں واقعات پیش آیا کرتے ہیں۔ اِس سے یہ حقیقت بالکل مبرہن ہو جاتی ہے کہ خالق کا اقرار مخلوقات کی فطرت ہے۔ وہ اپنے وجود ہی سے تقاضا کرتی ہیں کہ خالق کی محتاج ہیں۔ اُن کے لیے خالق کا اثبات پیش نظر ہو تو کسی منطقی استدلال کی ضرورت نہیں ہوتی، صرف متنبہ کرنے اور توجہ دلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ انسان بعض اوقات انکار کر دیتا ہے۔ لیکن یہ محض مکابرت ہے، لہٰذا جس وقت انکار کرتا ہے، عین اُسی وقت اپنے دائرۂ علم میں ہر انفعال کے لیے فاعل، ہر ارادے کے لیے مرید، ہر صفت کے لیے موصوف، ہر اثر کے لیے موثر اور ہر نظم کے لیے ایک علیم و حکیم ناظم کی تلاش میں سرگرداں ہوتا ہے۔ اُس کا تمام علم اِسی سرگردانی کی سرگذشت ہے۔یہ عمل کی تکذیب ہے جو اُس کے انکار کی حقیقت بالکل آخری درجے میں واضح کر دیتی ہے” (جاوید احمد غامدی، البیان، جلد 1، صفحہ 240-1)۔

اس کے بعد والی آیت کے تحت مزید فرماتے ہیں:

“یعنی جہاں تک توحید اور بدیہیات فطرت کا تعلق ہے، اُن کے بارے میں مجرد اِس اقرار کی بنا پر بنی آدم کا مواخذہ کیاجائے گا۔ اُن سے انحراف کے لیے کسی کا یہ عذر خدا کے ہاں مسموع نہیں ہو گا کہ اُسے کسی نبی کی دعوت نہیں پہنچی یا اُس نے یہ انحراف خارجی اثرات کے نتیجے میں اختیار کیا تھا اور اِس کے ذمہ دار اُس کے باپ دادا اور اُس کا ماحول ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ انسان کے باطن کی یہ شہادت ایسی قطعی ہے کہ ہر شخص مجرد اِس شہادت کی بنا پر اللہ کے حضور میں جواب دہ ہے” (جاوید احمد غامدی، البیان، جلد 1، صفحہ 242)۔

تاہم، حسبِ دستور، متجددین کے علمی کام کے عمومی ضعف کی طرح، جاوید غامدی صاحب اپنی اس رائے پر قائم نہ رہے اور اپنے گزشتہ عقیدے سے غیرعلانیہ رجوع کر کے، اپنے ایک نئے مضمون میں لکھتے ہیں کہ آج کل کے لامذہبوں کو بھی کافر نہیں کہہ سکتے کہ ان پر ابھی اتمام حجت نہیں ہوا (دیکھیے غامدی صاحب کا مضمون: “مسلم اور غیر مسلم” )۔ یہ تحریر لکھ کر غامدی صاحب نے آیۂ الست کا الغاء کر دیا ہے، اور یہی وہ استدلال ہے جو ان کے مقلدین اب ملحدوں اور دہریوں کو “راسخ العقیدہ مسلمان” ثابت کرنے کے لیے پیش فرما رہے ہیں، جس کی ایک مثال “ابو یحییٰ” صاحب کا زیر بحث فتویٰ ہے۔

لیکن خود غامدی صاحب کے “استاذ امام” امین احسن اصلاحی کا معاملہ مختلف تھا۔ مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ کے اثرات کی وجہ سے امین اصلاحی تجدد میں اس مقام پر نہ پہنچے تھے جس پر غامدی صاحب اور ” ابویحییٰ” صاحب فائز ہو چکے ہیں۔امین اصلاحی نے اپنی تفسیر تدبر قرآن میں لکھا تھا:

“جہاں تک توحید اور بدیہیاتِ فطرت کا تعلق ہے ان کے باب میں قیامت کے دن مواخذہ ہرشخص سے مجرد اس اقرار کی بنا پر ہو گا جو مذکور ہوا، قطع نظر اس سے کہ اس کوکسی نبی کی دعوت پہنچی یا نہیں۔۔۔۔ نبی کی دعوت اگر نہیں پہنچی تو یہ بدیہیاتِ فطرت کے معاملے میں کوئی عذر نہیں بن سکے گی۔ ان پر مواخذہ کے لیے فطرت کا یہ عہد کافی ہے” (تدبر قرآن،جلد سوم، صفحہ: ۳۹۳)۔

اس کے ساتھ امین اصلاحی نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ “یہاں جو حقیقت بیان ہو رہی ہے وہ کسی خاص دور ہی کے بنی آدم سے متعلق نہیں ہے، بلکہ قیامِ قیامت تک جتنے بھی بنی آدم پیدا ہونے والے ہیں، سب ہی سے متعلق ہے” (تدبر قرآن، جلد سوم، صفحہ: ۳۹۲)۔ مزید لکھتے ہیں: “جہاں تک خدا کی ربوبیت کا تعلق ہے، ہر شخص مجرد اسی عہد کی بنا پر عنداللہ مسئول ہو گا” (تدبر قرآن، جلد سوم، صفحہ: ۳۹۳)۔

لیکن اس سے زیادہ دلچسپ امین اصلاحی کی وہ تقریر ہے جو ایسے متجددین کے خلاف انہوں نے کی ہے جو مغرب کے اثرات کے تحت عہدِ الست ہی کے منکر ہو گئے ہیں۔ پہلے یہ بتایا ہے کہ قرآن مجید میں جس عہدِ الست کا ذکر ہے اس کا انکار جدید مغربی فلسفہ و سائنس نے کیا ہے، اور دہریت و الحاد کی اس تحریک کی قیادت مارکس اور فرائڈ کے ہاتھ میں رہی ہے۔ اس تقریر میں جاوید غامدی اور ان کے مقلدین کے لیے بہت عبرت کا سامان ہے۔ امین اصلاحی لکھتے ہیں:

“اس زمانے کے نئے تعلیم یافتہ لوگوں پر مارکس اور فرائڈ کا جادو چلا ہوا ہے۔ ان ظالموں کی خاکبازیوں نے لوگوں کو اس طرح اندھا بنا دیاہے کہ اب لوگوں کو انسان کے اندر بطن اور فرج کے سوا اور کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی۔ ان کے نزدیک انسان کا سارا فکر و فلسفہ بس انہی دو محوروں پر گھوم رہا ہے۔ اس روایتی چوہے کی طرح جسے ہلدی کی ایک گرہ مل گئی تو اس نے پنساری کی ایک دُکان کھول لی۔ مارکس اور فرائڈ نے بھی بطن و فرج پر سارے فکر و فلسفہ اور تمام مذہب و اخلاق کو ڈھال دیا،اور اس طرح ان لوگوں کو جو پہلے ہی بطن و فرج کے غلام تھے، دو ایسے مرشد بھی مل گئے جن کا وہ فخر کے ساتھ حوالہ دیتے ہیں، کہ وہ بے پِیرے نہیں ہیں بلکہ انہیں بھی شرفِ نسبت و ارادت حاصل ہے” (تدبر قرآن، جلد سوم، صفحہ: ۳۹۳)

یہی یہاں ہو رہا ہے، اب ملحدین کو “نجات یافتہ” قرار دینے کے لیے صحافیانہ فتاویٰ لکھنے والوں کو بھی کم از کم دو عدد مرشد مل گئے ہیں۔ تاہم ایک نکتہ قابل توجہ ہے۔ جہاں انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ امین اصلاحی پر مولانا مودودیؒ کے صالح دینی اثرات کو واضح کیا جائے، وہاں یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ مولانا مودودیؒ سے الگ ہونے کے بعد، امین اصلاحی کا سرسید و فراہی کے مکتب کی جانب رجعت کا عمل شروع ہو گیا۔ ان کی اُٹھان فراہی و شبلی کے مکتب میں ہوئی تھی، جس کی بنیادیں سرسید کی “تحریکِ اصلاح” میں تھیں، لہٰذا کچھ عرصہ مولانا مودودیؒ کی قیادت میں سلامتیٔ دین و ایماں کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد جب الگ ہوئے، تو رجعت قہقری کا شکار ہو گئے، اور اُن کے ہاں تجدد، ضروریات دین کا انکار (جیسے شادی شدہ زانی کو رجم کی سزا کا انکار) اور احادیث مطہرہ کے استخفاف و انکار کا جذبہ زور پکڑتا گیا۔ افسوس، کہ وہی رجحانات جب عالَمِ شباب کو پہنچے ہیں، تو اس سے جاوید غامدی صاحب اور “ابو یحییٰ” وغیرہ کے افکار نے جنم لیا ہے۔

دہریت و الحاد کا جو حملہ استعمار کے ساتھ ہوا تھا، دنیا کی اکثر قومیں اس کے آگے ڈھیر ہوتی چلی گئیں، بس مسلمانوں نے اس کے خلاف فکری مزاحمت کی، اور کر رہے ہیں۔ نواستعماری دور میں اب دوسرا حملہ جاری ہے۔ اس کا شکار فقط استعماری منکرینِ حدیث اور متجددین ہی نہیں ہو رہے، بلکہ بعض مذہبی حلقوں کے لوگ بھی اس ارتداد کی لہر سے نہیں بچ پا رہے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ مغرب کے پاس “اصل اسلام” ہے اور شکر ہے کہ وہ اس پر عمل کر رہے ہیں، لہٰذا ہمیں یہ “اصل اسلام” ان سے لے لینا چاہیے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ مسلمان اخلاقی پستی کا شکار ہیں، لہٰذا ہمیں دیکھ کر اگر مغرب ملحدانہ نظریات کو اختیار کر رہا ہے تو اُن کے پاس یہ کافی عذر ہے۔ ایک صاحب فرماتے ہیں کہ مسلمانوں نے ایمان باللہ کے اثرات اپنے ہاں پیدا کر کے نہیں دکھائے، تو کافر سوچتا ہے کہ اللہ کو ماننے کا کیا فائدہ، اس وجہ سے کفارِ مغرب کے ساتھ انشاءاللہ رعایت کی جائے گی۔ ان سب کا مطلب یہ ہے کہ عہدِ الست کافی نہیں ہے، بلکہ کچھ اور خارجی عوامل بھی درکار ہیں جن کے بغیر کفارِ مغرب اللہ کو مان نہیں پا رہے، لیکن ان حضرات کو اہل مغرب سے یہ حسنِ ظن ہے کہ وہ ماننا تو چاہتے ہیں، لیکن روایتی اسلام کی خرابیوں کی وجہ سے مان نہیں پا رہے۔ یعنی کفارِ مغرب کے الحاد کے ذمہ دار بھی اب ہم مسلمان ہی ہیں! اس قسم کے استدلالات کی غیر معقولیت سے قطع نظر یہ غور طلب بات ہے کہ جب مرزا غلام احمد اور اس کے پیروکار اپنی نبوت کا انکار کرنے والے مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں، یا غلام احمد پرویز تمام مسلمانوں کو عجمی سازش کا شکار بتا کر انہیں نام کے مسلمان کہتے ہیں، یا جب خوارج اور داعش کے مفتیان مسلمانوں کی عملی کوتاہی کی وجہ سے ان کی علی الاطلاق تکفیر کرتے ہیں، اور جاوید غامدی صاحب صوفیانہ روایت کی وجہ سے تقریباً تمام امت کی تکفیر کرتے ہیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت حکم لگاتے ہوئے انہیں ایک متوازی دین کا پیروکار بتاتے ہیں، تو اس وقت مسلمانوں کو کوئی رعایت دینے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن جب اہل مغرب کے کفر کا سوال سامنے آئے تو ان کے حق میں ریاضت کر کے ایسے ایسے عذر تلاش کرتے ہیں، اور ایسے ایسے فکری غوامض سامنے لاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جائے۔ کیا اس کے پس منظر میں بھی وہی استعماری احساس تو پوشیدہ نہیں جس میں مشرق کی ہرشے پست اور قبیح نظر آتی ہے، جب کہ سفید فاموں کی ہر کافرانہ ادا پر بے ساختہ قربان ہونے کو جی چاہتا ہے؟ یہی وہ وقت ہے کہ مسلمان اہل علم اس معاملے میں حساس ہو جائیں، اور ایمان باللہ کی دینی روایت، اور عہد الست کی سچائی پر اصرار کریں۔

“ابویحییٰ” صاحب اور جاوید غامدی صاحب کی جن تحریروں پر گفتگو ہو رہی ہے، وہ بنیادی طور پر ایمان باللہ کے اُن شواہد کےبارے میں ہے جن سے کسی انسان پر اس معاملے میں اتمام حجت ہوتا ہے۔ معلوم ہے کہ یہ لوگ ان معاملات میں حدیث کی بجائے فقط قرآن مجید کو دین کا ماخذ مانتے ہیں۔ لیکن کیسی دلچسپ بات ہے کہ غامدی صاحب نے اپنے مضمون”مسلم اور غیر مسلم” میں، اور “ابویحییٰ” صاحب نے اپنے اس فتوے میں، قرآن مجید کی اس آیت کا ذکر کرنے سے ایسے احتراز کیا ہے جیسے ذیابیطس کا مریض شکر سے پرہیز کرتا ہے۔حالانکہ جب بھی ایمان باللہ کی مسئولیت کا سوال کھڑا ہو گا،ہر صاحبِ علم کا دھیان، سب سے پہلے،اسی آیت کی طرف جائے گا۔ لہٰذا موضوع زیر بحث پر ان حضرات کی تحریروں سے اس آیت کا غائب ہونا مصلحت سے خالی نہیں ہو سکتا۔ یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے۔ محمد دین جوہر صاحب نے لکھا تھا کہ ماڈرن مسلمانوں کا کوئی علمی موقف نہیں ہوتا۔ اسی طرح نادر عقیل انصاری صاحب نے لکھا ہے کہ استعماری انکارِ حدیث میں حدیث کا انکار اصلاً مقصد نہیں ہوتا بلکہ مقصد کے حصول کا ایک ذریعہ ہوتا ہے، یعنی قرآن مجید ہو یا احادیث مبارکہ ہوں، ان کے نزدیک محض “instrumental” جہت کے حامل ہیں۔ مغربی افکار کو اسلام میں سمونے کے لیے یہ لوگ ہر قسم کے طریقے اختیار کرتے ہیں۔ چنانچہ یہاں دیکھیے کہ قرآن مجید بھی، جس کا نام لے لے کر یہ تھکتے نہیں ہیں، جب وہ مغربی فکری اساس کے خلاف پڑ رہا ہو، تو اس کا نام لینے سے بھی پرہیز کر رہے ہیں، اور بے دریغ مغربی عصری فکر کو “خالص دین” بنا کر پیش کر رہے ہیں۔

حق یہ ہے کہ وجودِ باری تعالیٰٰ، اور اُس کی ربوبیت و وحدانیت کے معاملے میں ہر انسان پر اتمامِ حجت ہو چکی ہے، اور اللہ تعالیٰٰ نے کہا ہے کہ قیامت کے روز اس معاملے میں کوئی عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔ اللہ کے وجود کا منکر کافر ہے، اور عذاب کاسزاوار ہو گا۔ یہ اصول ہے۔ تاہم، ہم یہ نہیں کہتے کہ فردِ معین کا جب معاملہ آئے تو ایسے سائل کو فوراً علانیہ کافر قرار دیا جائے۔ نہیں، اس کی بجائے یہ کہا جائے گا کہ تمہارا استدلال غلط ہے، بلکہ تم اس میں بد دیانتی کے مرتکب ہو رہے ہو۔ تمہیں معلوم ہے کہ خدا کے وجود کا وجدانی شعور ہر انسان کو ہے۔ لہٰذا ٓخرت میں تمہارا عذر مقبول نہ ہو گا، اور اللہ کی پکڑ میں آؤ گے۔ لیکن جو حکمت بھی ایسے معین ارتداد یا میل الی الارتداد کے معاملے میں اختیار کی جائے، فی الحقیقت اس میں لمحہ برابر شک نہ کیا جائے کہ یہ شخص اصلاً کافر ہو چکا ہے۔ دوسرا اہم نکتہ ایسےشخص کے ساتھ معاملہ کرنے کا یہ ہے کہ اس سے انفرادی سطح پر ہی معاملہ کیا جائے اور اس میں ترغیب و ترہیب دونوں کو استعمال کیا جائے۔ نہ کہ یہ مژدۂ نجات اخبارات میں چھاپ دیا جائے، تاکہ دوسرے ملحدین کو نوید ہو، اور جو متذبذب ہیں ان کی حوصلہ افزائی ہو، کہ اللہ کا انکار کرنے والے مخلص دہریے انشاءاللہ دوزخ سے بچ جائیں گے! اور انہیں کسی دکھ اور رنج میں مبتلا نہ ہونا چاہیے، گویا انہیں یہ سنایا جائے: ولا خوف علیہم و لا ہم یحزنون! (نعوذباللہ من ذلک)۔ مختصر یہ کہ “ابویحییٰ” صاحب کے اس فتوے میں، اور غامدی صاحب کے اس استدلال میں، کہ دہریہ بھی کافر نہیں ہوتا، دراصل حق و باطل کے فرق، اور ایمان و کفر کی بنیاد – یعنی ایمان باللہ- ہی کو مٹا دیا گیا ہے۔ اور ایسے نا پختہ فتاویٰ اور بے دھڑک دعوے، اُن ہلاکت خیز نتائج کا بیّن ثبوت ہیں، جو بے لگام تجدد اور استعماری انکارِ قرآن و حدیث سے پیدا ہو رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں