68

نیوزی لینڈ، قتل عام اور عظیم پُرسہ- محمد دین جوہر

نیوزی لینڈ میں نسل پرست برینٹن ٹیرنٹ کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام پر وہاں کے معاشرے اور حکومت کا اخلاقی اور سرکاری رد عمل اس قدر شدید تھا کہ مظاہرِ خیر کی قوسِ قزح نے مسلمانوں کی خون میں تر لاشوں کو ڈھانپ دیا۔ منصوبہ بندی، شقاوت اور نشری انتظام میں قتل عام جیسا سفاک تھا، اس پر نیوزی لینڈ کی حکومت اور معاشرے کا ردعمل بھی غیرمعمولی ہمدردانہ تھا۔ ہمارا ادراک اور تجزیہ ایک ہی معاشرے میں شر اور خیر کے طاقتور مظاہر کے بیک آن اور اس شدت سے ظاہر ہونے کو سمجھ سکا اور نہ جوابی ردعمل میں توازن باقی سکا۔ قتلِ عام مغربی تاریخ کا واقعاتی تسلسل اور اس کی مستقل علامت ہے، اور اظہارِ ہمدردی مغربی اسلوبِ فرمانروائی اور انتظامِ ادراک (perception management) کا ایک پہلو ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قتلِ عام پر نیوزی لینڈ کی حکومت اور معاشرے کا مجموعی ردِعمل اعلیٰ انسانی جذبات کا مظہر اور بے مثل تھا، کیونکہ نیوزی لینڈ کی تاریخ میں مسلمانوں کا قتل عام بھی اتنا ہی بے نظیر تھا۔ قتل عام اور غمگساری دونوں ایک ہی معاشرے کے مظاہر ہیں، اور ایک کا ہونا دوسرے کا نہ ہونا نہیں ہے۔

وزیر اعظم آرڈرن کی غیرمعمولی قیادت اور انسان دوستی کا اعتراف خیر کی قوتوں کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔ لیکن اس ”ساتھ کھڑے ہونے“ کی درست مراد اور عملی صورت ابھی معلوم نہیں۔ خیر کے ان مظاہر کو جس طرح ہمارے ہاں سمجھا گیا اور ان کو عملی جامہ پہنایا گیا، وہ یقیناً شرمناک ہے۔ مثلاً وزیر اعظم آرڈرن کی اعلیٰ انسان دوستی کے مظاہر کو مسلمانوں پر زبان دراز کرنے کا موقع بنا لینا ٹیرنٹ کی طرح دستِ ظلم دراز کرنا اور اس کے ساتھ کھڑے ہونا ہے کیونکہ یہ بھی ”اسلاموفوبیا“ کی مسخ شدہ اور داخلی شکل ہے، اور اس سے وزیر اعظم جیسی خیر خواہ شخصیت یا مقتولین کو کوئی کمک نہیں مل سکتی۔ مزید برآں، وزیر اعظم آرڈرن کی خیرخواہی اور درمندی کی بنیاد پر مسلمانوں کے پہلے سے معلوم عیوب کو نمایاں کرنا بھی اس عظیم عورت کے جذباتِ خیر کی ناقدری کرنا ہے۔ بعض سیکولر اور ”جوش آمدہ“ مذہبی حضرات نے وزیر اعظم آرڈرن کی طرف سے اسلامی افعال و علامات کو برتنے پر انہیں کسی ”مفروضہ اسلام“ کی نمائندہ شخصیت قرار دیا ہے۔ یہ تہذیبی نوعیت کے گہرے احساس کمتری کا اظہار ہے۔ ہم انسانوں اور افکار میں کوئی جائز امتیاز باقی رکھنے اور چیزوں میں موازنہ کرنے کی اہلیت سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ مغرب میں کچھ برا ہو، تو اس سے ہم پر عائد فردِ جرم مضبوط ہو جاتی ہے، اور کچھ اچھا ہو جائے تو ہمارے عیوب کی فہرست کا اعادہ مع اضافہ ہوتا ہے۔

افسوس کہ ہم دھنک رنگ پُرسے میں اپنے لہو رنگ ماتم کی آبرو باقی نہ رکھ سکے۔ تارکینِ وطن کے قتل عام پر ورثا کو پرسہ دیتے ہوئے اس کو اسلامی رنگ دینا ہمدردی کی سچائی کا مظہر ہے، لیکن اس کا ایک سیاسی رنگ بھی ہے جو نیوزی لینڈ معاشرے میں ”اسلاموفوبیا“ کو رد کرنا ہے، اور یہ دونوں پہلو قابلِ قدر ہیں۔ لیکن دہشت گرد قاتل کو سرکاری ریکارڈ میں باقی رکھتے ہوئے قومی حافظے سے محو کرنا بہت معنی خیز اور انتظامِ ادراک (perception management) کی بروقت مثال ہے۔ اگر ٹیرنٹ نے قتل عام گوروں کا کیا ہوتا تو اسے کیونکر بھلایا جا سکتا تھا؟ اس سوال کے جواب کے لیے ٹیرنٹ کی بندوق پر مندرجات کو پڑھ لینا کافی ہے، جو دانشِ کسنجر کا اعادہ معلوم ہوتے ہیں، ارو یہ بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اہلِ مغرب کا تہذیبی حافظہ کس قدر طاقتور ہے۔

نیوزی لینڈ کے واقعات اور ان پر سرکاری ردعمل سے ہمارے ہاں اہلِ دانش کی انوکھی منطق سامنے آئی ہے کہ ہمارا ماتم غیر اہم ہے، اور قاتل کے قبیلے کا پرسہ اہم ہے۔ اس موقعے پر اکبر الہ آبادی کی ”برق کلیسا“ پڑھ لینا بہت مفید ہو سکتا ہے۔ پرسے کی ناقدری آدابِ تہذیب کے خلاف ہے۔ لیکن یہ برینٹن ٹیرنٹ اور یہ پرسہ گر قبیلہ ہمارے لیے اجنبی نہیں، ان کا تعارف ہماری ہڈیوں کے گودے میں رقم ہے۔ مسلمانوں کے خون سے ان کی پوست اور ہڈیوں پر رقم ہونے والے جدید تاریخ کے بیانیے کو ثقافتی ذرائع سے ادھر ادھر کرنا مغربی نسل کشی کی تاریخ نگاری کا بنیادی منہج ہے، اور ابھی یہ تصنیف جاری ہے۔ یہ خونِ ناحق پر ماتم کی بے آبروئی ہے جو پرسے کو میرا بیانیہ بتاتی ہے۔ ہمارے گھر آنگن صدیوں سے مغرب کی قتل گاہیں ہیں، اور اپنے ہوش و حواس کی دگرگونی میں ہم اس اچانک پرسے پر ہی نہال ہوئے جاتے ہیں۔ یہ پرسہ جتنا بھی عظیم ہو، ہمارے لہو کے ایک قطرے کا حساب بھی پورا نہیں کرتا۔ 

”اکانومسٹ“ نے ٹیرنٹ کو مغربی معاشروں کی ایک وسیع تر تحریک کا حصہ قرار دیتے ہوئے سفید فام نسل پرستی پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس میں اُس کے منشور کو بھی زیربحث لایا گیا ہے۔ جریدے کے کالم نگار ”بینیان“ کا تبصرہ بھی نہایت برمحل ہے کہ کیوی حکومت اور معاشرے کا شدید جذباتی ردعمل اس لیے سامنے آیا کہ قتل عام نے ان کی قومی self-perception کو ریزہ ریزہ کر دیا تھا۔ کیوی اچانک سے ہڑبڑا اٹھے کہ ”ہائے، ہم ایسے تو نہیں ہیں“، اور اپنے غیرمعمولی ردعمل سے اس یقین کو بحال کرنے کی کوشش میں ہیں کہ ”ارے، ہم واقعی ایسے نہیں ہیں“۔ کالم نگار کے بقول، کیوی حکومت کا پورا ردِ عمل اصلاً اپنا سیلف امیج چکنا چور ہونے اور اس کو دوبارہ بحال کرنے کی کاوش کا اظہار ہے۔ ”اکانومسٹ“ کے بقول اہلِ نیوزی لینڈ ایک دوراہے پر ہیں، اور ان کا سیاسی سفر بھی اپنے اسی self-image کی طرف ہے کیونکہ یہی ان کے نزدیک اہم ہے۔ ”اکانومسٹ“ کے کالم نگار نے اپنے تجزیے میں نیوزی لینڈ کے ادراکِ ’ذاتی‘ کو بنیاد بنا کر اس ردِ عمل کو ایک طرح سے بے معنی بنانے کی کوشش کی ہے۔ گزارش ہے کہ یہ ردِ عمل بھلے کیویوں کی قومی نفسیات کا مسئلہ ہو، لیکن قابلِ قدر ضرور ہے۔ یہ زمین روز ہمارے لہو سے لالہ زار ہوتی ہے، اور ہمیں کوئی ڈھنگ سے پرسہ بھی نہیں دیتا۔ حقِ انصاف کا امکان تو کہیں نہیں، لیکن وزیر اعظم آرڈرن نے حقِ پرسہ تو ادا کر دیا اور اسلامی علامتیت کی وجہ سے ”اکانومسٹ“ کو یہ بھی اچھا نہیں لگا!

پُرسہ پرستوں کی شادکامی کے باوجود، یہ امر اپنی جگہ ہے کہ وزیر اعظم آرڈرن نہایت فراست سے قتلِ عام کی معنویت کو تبدیل کرنا چاہتی ہیں، اور یہ سیاسی انتظام اس قدر غیرمعمولی ہے کہ بہت جلد اس واقعے کی طے شدہ معنویت ہی باقی رہ جائے گی، اور واقعے کا نشان بھی مٹ جائے گا۔ اہلِ نظر بخوبی واقف ہیں کہ لوگوں کو بلوانا اور چپ کرانا ہمارے ہاں سرمائے اور سیاسی طاقت کا کمال سمجھا جاتا ہے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہ نہایت معمولی اور ازحد گھٹیا کام ہے۔ سیاسی طاقت کے اصل کمالات تو اہل مغرب کے ہاں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ وہاں تاریخ، اذنِ کلام کے لیے اہلِ امر کی دریوزہ گر ہے۔ عموماً یہ کام پیشہ ور اہلِ علم سے لیا جاتا ہے، لیکن دمِ افتاد اہل سیاست یہ ضروری کام خود کرتے ہیں۔ تاریخ، خاموش آوری (silencing) اور امتحا (erasure) سے گزر کر شدھی ہوتی ہے۔ وزیر اعظم آرڈرن، ٹیرنٹ کے امتحا کا آغاز کر چکی ہیں، اور خود واقعہ دوسرے مرحلے میں اس عمل سے گزرے گا۔ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی تو پوری تاریخ ہی خاموش آوری اور امتحا کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ لیکن پرسے کا نزول کیا ہوا ہماری شامتِ اعمال فرد جرم بن گئی، اور پُرسہ پرست ہیں کہ ہمارے مذہب، تاریخ، معاشرے، ملک، یہاں تک کہ ہمارے وجود ہی کو پُن رہے ہیں۔ سوچتا ہوں کہ ہماری قتل گاہوں کی منڈیروں کے یہ مکیں ہمارے نصیبوں کے آسیب بن کر نہ جانے کب تک ہم پہ مسلط رہیں گے۔

نائن الیون کے بعد، ”اسلام اور مسلمان“ مغربی ممالک کی خارجہ، دفاعی اور داخلہ پالیسی کا مرکزی موضوع ہیں۔ تعلیمی، علمی اور ثقافتی ذرائع سے اسلام اور دہشت گردی کو ہم معنی قرار دینا ایک معمول کی سرگرمی ہے۔ زبردست معاشی وسائل، انتظامی ہنرمندی اور ثقافتی پالیسی سے اسلاموفوبیا کو مغربی معاشروں میں مکمل نفوذ دیا گیا ہے، اور مسلم تارکین وطن کا روزمرہ تجربہ ہے۔ کیوی معاشرہ بھی اس کے اثرات سے خالی نہیں۔ اسلاموفوبیا اب مغرب کے سیاسی کلچر اور مین اسٹریم سیاسی ساخت کا جزو لاینفک ہے۔ کرائسٹ چرچ کے واقعے پر اظہار خیال کرنے والے تقریباً تمام ذرائع نے اس کو موضوع بنایا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں پرسے نے ایسی فضا پیدا کر دی کہ اس پر کوئی معروضی بات کرنا ہی ممکن نہ رہا۔ وزیر اعظم آرڈرن کی طرف سے اسلامی علامات کا حامل ردعمل براہ راست اسلاموفوبیا کے عفریت سے نمٹنے کی ایک سیاسی کوشش بھی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ میں اسلاموفوبیا کو باقاعدہ موضوع بنا کر سیاسی اقدامات کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔ اسلاموفوبیا کی موجودگی کا اعتراف کیے بغیر قتل عام کو اکلوتا واقعہ سمجھ کر اس سے نمٹنا نیوزی لینڈ کی شرمناک استعماری تاریخ کا تسلسل ہی ہے، جو اصلاً مقامی آبادیوں کی نسل کشی کی تاریخ ہے۔

وزیر اعظم آرڈرن کے پرسے سے ہمارے ہاں جو میڈیائی صورت حال پیدا ہو گئی، اور ہمارے دانشور جیسے چاروں طرف للک پھنکارنے لگے، اس سے کرائسٹ چرچ کے واقعے پر معروضی گفتگو بہت مشکل ہو گئی۔ پرسہ پرستوں کے ردعمل کی بڑی وجہ ان کی یہ آرزومندی ہے کہ کاش ہمارا بھی کوئی حکمران ایسا ہوتا! مجھے اس سے ہمدردی ہے۔ میں ذاتی طور پر وزیر اعظم آرڈرن کے اقدامات کی ناقدری کرنا بدترین درجے کی بدتہذیبی اور بداخلاقی سمجھتا ہوں۔ لیکن پبلک ڈومین میں اخلاقی مظاہر خالص سیاسی مقاصد کے تابع ہوتے ہیں، اور سیاسی عمل میں کسی بنیادی تبدیلی کا کبھی ذریعہ نہیں بنتے۔ اس لیے یہ سمجھنا ابھی باقی ہے کہ پرسہ اس قدر شدید کیوں تھا، اس کے پیچھے وہ اصل محرکات کیا تھے جن کا ذکر معتبر تجزیہ نگاروں کے ہاں بھی سامنے آیا۔ ہمیں دیانت داری سے یہ طے کرنے کی ضرورت ہے کہ مغربی اخلاقیات کا اظہار ہوتے ہوئے پرسہ کس حد تک ان کے سیاسی مقاصد کو آگے بڑھاتا ہے۔ ہمارے ذہن کی مفلس جذباتی تشکیل کو واحد resource مان کر یہ ضروری ذمہ داری ادا کرنا سرے سے ممکن ہی نہیں۔

کرائسٹ چرچ، نیوزی لینڈ، میں مسلمانوں کے قتلِ عام کا اہم ترین پہلو اس کے وقوع کا جغرافیہ ہے۔ ایک طے شدہ جغرافیے کے ساتھ مسلمانوں کا قتلِ عام جدید اور ہمعصر تاریخ کا معمول اور طاقت کے عالمی نظام کی بنیادی کارگزاری ہے۔ برینٹن ٹیرنٹ کا اصل جرم یہ ہے کہ اس نے ایک ایسے مؤثر ترین اصول کی سنگین خلاف ورزی کی ہے جو مسلمانوں کے قتل عام کے لیے مغربی سیاست میں متفق علیہ ہے۔ نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، امریکہ اور کینیڈا تو قائم ہی ایسی سرزمنینوں پر ہوئے ہیں جنہیں مقامی آبادیوں کی نسل کُشی اور قتل عام سے خالی کرا کے یوروپی معاشروں کو آباد کیا گیا ہے۔ ان ”مستحکم کردہ“ جغرافیوں میں اب قتل عام کی اجازت نہیں، کیونکہ مغرب کی زیرِ قیادت، قتلِ عام اور نسل کشی ”غیرمحفوظ جغرافیوں“ میں منتقل ہو کر بلا روک آج بھی جاری ہے۔ یہ ”غیرمحفوط جغرافیے“ لاطینی امریکہ، افریقہ اور ایشیا کے وہ علاقے ہیں جہاں دنیا کے کمزور معاشرے اور مسلمان آباد ہیں۔

اگر ان ”محفوظ جغرافیوں“ میں کوئی تارکِ وطن مسلمان کسی گورے کو مار ڈالے، تو اپنے ”غیرمحفوظ جغرافیوں“ میں ہمیں برے، اور اگر کوئی ٹیرنٹ مسلم تارکین وطن کا قتل عام کرے اور پرسہ بھی لِوا لائے، تو بھی اپنے ”غیرمحفوظ جغرافیوں“ میں ہمیں برے۔ یہ خودکار اصول بہت مؤثر اور سود مند ہے، اور اپنی تفہیم اور اطلاق میں ذہن کی ضرورت نہیں رکھتا۔ اس کے لیے پرسہ پرستی کا حامل ”قلبِ سلیم“ کافی ہے۔ ایک ایسی دنیا جس میں پانی گدلا کرنے کے سارے فیصلے بھیڑیے نے ہی کرنے ہوں، وہاں ایسے اصول ہی رواں ہو سکتے ہیں۔ میری تو مجال نہیں کہ پرسہ پرستوں کی رقتِ قلبی، رفعتِ فکری، بصیرتِ ذہنی، خشیتِ اخلاقی اور طلاقتِ لسانی کی تاب لا سکوں۔ پھر بھی مجھے ضد ہے کہ میں پرسے کو نیا بیانیہ کیسے مان لوں کہ ابھی قتل گاہیں تھمی نہیں ہیں؟ چشمِ قاتل میں نمی دیکھ کے میں دستِ قاتل کو کیسے فراموش کر دوں؟

مغربی تہذیب اپنے عملی اور سیاسی پہلوؤں میں غیرِ مغرب تہذیبوں اور معاشروں کی نسل کُشی اور قتل عام کی تہذیب ہے۔ مغرب کا یہ تہذیبی عمل سرمائے اور طاقت میں ایک ادارہ جاتی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ جدید علم اس کا خوش رنگ چہرہ اور جدید قانون اس کا جواز ہے۔ نیوزی لینڈ کی پوری تاریخ میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں ہے جب یہ مغرب کے اس تہذیبی پراجیکٹ میں بالفعل شامل نہ رہا ہو، اور آج بھی شامل ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں جو مسلم ممالک اور معاشرے تہہ و بالا کیے گئے ہیں، ان میں بھی نیوزی لینڈ براہ راست شریک رہا ہے۔ اس کا براہ راست نتیجہ ”غیرمحفوظ جغرافیوں“ میں لاکھوں مسلمان بچوں، عورتوں اور مردوں کی ہلاکت ہے۔ اپنی ادارہ جاتی حیثیت کی وجہ سے مغربی پالیسی کو نسل کشی اور قتل عام کے طور پر دیکھنا بہت مشکل ہے۔ یہی صورتحال غیر مغربی ممالک کو معاشی طور پر تاراج کرنے کی ہے۔ چونکہ نسل کشی کے ساتھ ساتھ معاشی جبر و استحصال کو بھی ادارہ جاتی حیثیت دے دی گئی ہے اس لیے اسے لوٹ مار کے طور پر دیکھنا بھی ہمارے لیے بہت مشکل ہو گیا ہے۔ جمہوریت اور حقوق انسانی کے بیانیوں میں نسل کشی اوجھل ہو جاتی ہے اور ترقی کا بیانیہ لوٹ مار کو ڈھانپ دیتا ہے۔ یہی صورتحال برینٹن ٹیرٹ کے واقعے کے ساتھ پیش آئی ہے۔

برینٹن ٹیرٹ کا جرم یہ ہے کہ اس نے ایک طے شدہ اصول اور طریقۂ کار کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ نائن الیون کے بعد مسلم معاشروں کی نسل کشی، لوٹ مار اور ان کی تباہی میں نیوزی لینڈ امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کے ساتھ پرجوش طریقے سے شریک رہا ہے۔ برینٹن ٹیرٹ اگر یہی کام افغانستان، شام یا لیبیا وغیرہ میں کرتا تو اس کو شجاعت کے تمغے سے نوازا جاتا لیکن اس کی حماقت یہ ہے کہ اس نے مغرب کی جغرافیائی حدود میں پناہ گزین مسلمانوں کو خون میں نہلا دیا۔ مغرب کی جغرافیائی حدود میں یہ جرم ہے اور حدود سے پرے یہ پالیسی ہے۔ ٹیرنٹ نے یہ پردہ چاک کر دیا لیکن وزیر اعظم آرڈرن کا چہرہ ایسا روشن تھا کہ اندورنِ مغرب کی یہ حقیقی جھلک انہوں نے لمحوں میں ڈھانپ دی۔ میں وزیر اعظم آرڈرن کے چہرۂ روشن اور اس کے میڈیائی جمال کا قدردان ہوں لیکن میں آنسوؤں کے غبار میں مغرب کے اندروں سے نگاہیں نہیں ہٹا سکتا، کیونکہ کارِ تدفین ہمارا زورمرہ کا معمول ہے۔ میں یہ بیان حلفی دینے کے لیے بہر حال تیار ہوں کہ مغرب جس دن کمزوروں اور مسلمانوں کے معاشروں کو ویران کرنا موقوف کرے گا، میں خوش خصال و صاحبۂ جمال، خوش کلام و سرو اندام وزیر اعظم آرڈرن کے پرسے کو ضرور اپنا بیانیہ بنا لوں گا۔ امید ہے پرسہ پرست اپنے خاص لطفِ کریمانہ سے اتنی مہلت کا اہتمام تو فرما ہی دیں گے۔

میں اہل دانش سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہوں گا کہ وہ اس پرسے ہی کو میرا بیانیہ کیوں بنانا چاہتے ہیں؟ اور قاتل کی مرقع بندوق اور فصیح منشور پر کوئی بات کیوں نہیں کرنا چاہتے جبکہ اسے ہر جگہ زیربحث لایا گیا ہے؟ قتل عام سے ٹیرنٹ کا ایک بڑا مقصد اپنے منشور کی تشہیر تھا۔ ”نئے بیانیے“ کے ذیل میں اس کو دیکھنا ضروری ہے۔ 

دنیا کے کم ترقی یافتہ ممالک میں ریاستی اداروں اور ان کی فرمانروائی کی صورتِ حال ناگفتہ بہ ہے۔ پاکستان اور دیگر مسلم معاشرے بھی ان گنت سیاسی اور معاشی مسائل کا شکار ہیں۔ کم ترقی یافتہ اور پس ماندہ معاشروں کے سیاسی جبر اور معاشی نا انصافی کے ماحول میں ایسی آرزؤں کا پیدا ہونا بالکل فطری ہے کہ ان کے حکمران بھی وزیرِ اعظم آرڈرن کی طرح ہوتے جو ترقی یافتہ اور منصفانہ معاشرے کے قیام کے ساتھ ساتھ، اعلیٰ اخلاقی مظاہر بھی سامنے لا سکتے۔ شاندار فرمانروائی کی طویل ترین روایت کے خاتمے اور رومانوی ماضی پرستی کی وجہ سے مسلمانوں میں یہ بھوک زیادہ گہری اور عام ہے۔ دینی سیاسی افکار کے انہدام، جدید سیاسی افکار سے سطحی واقفیت، عالمگیر سیاسی اور سرمائے کے نظام کے بارے میں خوش فہم تصورات اور استعمار و استشراق کے پروردہ رہنماؤں کی پستی نے مسلم سیاسی ذہن کو بالکل دیوالیہ کر دیا ہے اور وہ ”جاتا ہوں تھوڑی دور ہر راہرو کے ساتھ“ کے مصداق جہاں کوئی چشم التفات دیکھتا ہے، دھڑ سے وہیں بیٹھ رہتا ہے۔ اگر چشمِ التفات ”ترقی یافتہ“ بھی ہو تو رالیں ہمارے پورے وجود سے بہتی ہیں۔ ہمارے دل اس قدر ٹوٹے ہوئے ہیں، ذہن اس قدر ماؤف ہیں اور بھوک اس قدر گہری ہے کہ ہم دلجوئی اور ہمدردی کے کسی بھی روشن گوشوارے کو اپنا پورا بیانیہ بنانے کے لیے بلکنے لگتے ہیں۔ وزیر اعظم آرڈرن کی دلجوئی تو ایسی تھی کہ گویا ہم اسی کی تلاش میں تھے۔ بس من کی مراد پالی، گوہر مقصود ہاتھ لگا، اور منزل اچانک مل گئی۔ مسلمانوں کی لاشیں گریں کہ ان کی سرزمینیں ویران ہو جائیں، ہماری بلا سے۔ بیانیے تاریخ کی کلائی مروڑ دینے والے ہاتھ رقم کرتے ہیں، غمگسار ہاتھوں کی تھپک کے آرزومند لوری پہ راضی ہو جاتے ہیں۔ ہمارا مفلس سیاسی اور انسانی ذہن ابھی لوری اور بیانیے میں امتیاز کے قابل نہیں ہوا۔

ہمارے ہاں کسی سنجیدہ تجزیہ نگار نے دہشت گرد اور قاتل ٹیرنٹ کے منشور The Great Replacement کو ہاتھ بھی نہیں لگایا، حالانکہ اس میں مغرب کی ہم عصر سیاست اور اس کی پوری تاریخ جھلکتی، بلکہ پھنکارتی ہے۔ ٹیرنٹ کا بیان کردہ مغرب چونکہ ہمارے مفروضہ اور خیالی مغرب سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھتا، اس لیے ہم اپنی خوش فہمی میں یہ فرض کرتے ہیں کہ وہ موجود ہی نہیں ہے۔ ہم تو جیسے وزیر اعظم آرڈرن کے پرسے کی آس لگائے بیٹھے تھے، اور اس کے آتے ہی اپنے واحد اخلاقی اصول ”خذ ما صفا و دع ما کدر“ کا جھنڈا اٹھا کے دوڑ پڑے۔ ایسے میں ٹیرنٹ کے منشور کا ذکر کرنا بھی ہم نے بدمذاقی خیال کیا۔ ہمیں اندیشہ رہا کہ اس منشور کا ذکر کرنا ہماری اعلی اخلاقیات کو مشتبہ نہ بنا دے۔ سب سے دلچسپ حالت تو ”پکے مسلمان جدیدیوں“ کی رہی۔ ان کا تو پرانا موقف ہے کہ اسلام ”وہاں“ ہے، اور مسلمان ”یہاں“ ہیں، اور ”وہاں“ کسر صرف کلمے کی رہ گئی ہے۔ مغرب ان کا انسانی آئیڈیل تو ہے ہی، مذہبی آئیڈیل بھی ہے۔ ان کا ردعمل اور ہماری شامت اسی سانچے میں سامنے آئی ہے۔

گزارش ہے کہ ”اکانومسٹ“ نے سفید فام نسل پرستی پر اپنے تجزیے میں ٹیرنٹ کے منشور پر تفصیل سے لکھا ہے۔ جریدے نے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ ٹیرنٹ کے سیاسی خیالات ”انوکھے“ نہیں ہیں، اور وہی الفاط و خیالات مغرب کے قومی سیاستدانوں کی طرف سے سامنے آنے کی مثالیں پیش کی ہیں۔ ہفت روزے کے بقول منشور کے نسل پرستانہ تصورات اب نہ صرف مغرب کے مین اسٹریم سیاسی کلچر اور زندگی کا حصہ ہیں بلکہ نیوزی لینڈ، اسٹریلیا، یورپ اور شمالی امریکہ کے نسل پرست سیاست دانوں اور انتہائی بائیں بازو کے رہنماؤں کے ہاں عام اظہار پاتے ہیں۔ یہاں اس امر کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ تھیچر اور ریگن کے رجعت پسندانہ سیاسی موڑ کے بعد، فسطائی تصورات اور سفید فام نسل پرستانہ نظریات مغرب میں ایک نیو نارمل کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ، ٹیرنٹ کا ہیرو بلاوجہ نہیں ہے اور ٹیرنٹ کی پسندیدہ پالیسیاں اس وقت غزہ میں بروئے کار لائی جا رہی ہیں اور بیت المقدس کی نئی شناخت نافذ کی جا رہی ہے۔

دہشت گرد ٹیرنٹ کے منشور کو نظرانداز کر کے، وزیر اعظم آرڈرن کے پرسے کو ہمارا نیا بیانیہ بنانے پر بضد احباب سے گزارش ہے کہ وہ اس منشور کے ساتھ ”فرانسیسی منشور“ کو بھی ضرور دیکھیں، اور حال ہی میں فرانسیسی حکومت نے صیہون دشمنی اور سامیت دشمنی کو ہم معنی قرار دینے کا جو فیصلہ کیا ہے اس کو بھی پیش نظر رکھیں۔ ”فرانسیسی منشور“ ۲۱؍ اپریل سنہ ۲۰۱۸ء کو جاری کیا گیا تھا۔ اس منشور پر فرانس کی تین سو مقتدر اور معتبر شخصیات کے دستخط تھے جن میں مسلم دشمن سابق فرانسیسی صدر سارکوزی اور سابق وزیر اعظم بھی شامل ہیں۔ اس منشور کا روئے سخن سامیت دشمنی کے خلاف قوت بہم پہنچانا ہے۔ یاد رہے کہ سامیت دشمنی مغرب کی غیرمعمولی مستحکم سماجی اور ثقافتی روایت ہے۔ ہٹلر اور اس کی سیاست اس کا سب سے بڑا سیاسی مظہر ہے۔ فرانسیسی منشور بددیانتی اور مجرمانہ سیاست کا شاہکار ہے۔ اس میں new anti-Semitism نام کی کسی شے کو ازسر نو ڈیفائن کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کا مقصد سامیت دشمنی کے ساتھ ”نیو“ کا سابقہ لگا کر اسے مسلمانوں کے ساتھ منسوب کرنے کی مذموم کوشش ہے۔ پھر اسے آڑ بنا کر نئی سامیت دشمنی اور صیہون دشمنی کو ہم معنی قرار دیا گیا ہے۔ صیہونیت ایک سیاسی فلسفے کے طور پر براہ راست مسلمان سے متعلق اور ان کو نیست و نابود کرنے کا سیاسی نظریہ ہے۔ فرانسیسی منشور کی آڑ ہی میں فرانسیسی حکومت نے صیہون دشمنی کو بھی سامیت دشمنی کا ہم معنی قرار دیا ہے۔ یہی وہ تناظر ہے جس میں فرانسیسی منشور نے قرآن مجید میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے اور یہود کے بارے میں آیات کو حذف کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جو اس کے بقول ”نفرت“ کو فروغ دیتی ہیں۔

دہشت گرد ٹیرنٹ کا منشور جس سیاسی اور نسلی تصور کو سامنے لاتا ہے، وہ مغرب کی تہذیبی شناخت کا جزو لاینفک ہے، اور اس کی مرقع بندوق مغرب کے سیاسی عمل کی مستقل علامت ہے۔ جدید تاریخ کی سفاک واقعیت سے منقطع ہمارے مفلوج ادراک کا کمال یہ ہے کہ وہ عظیم پرسے کی اخلاقی سرسراہٹ کو محسوس کر سکتا ہے۔ لیکن جدید دنیا کی سفاک واقعیت اور اس کے پیچھے کارفرما فکر کو جاننے سے قاصر ہے۔ افسوس کہ نیوزی لینڈ جیسے واقعات بھی ہماری مفلس اخلاقیات اور غلامی پر تشکیل یافتہ ذہن کو معروضی دنیا کا سامنا کرنے پر مائل نہیں کر سکتے۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

نیوزی لینڈ، قتل عام اور عظیم پُرسہ- محمد دین جوہر” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں