202

مُلحدین کی مغفرت، امام رازیؒ کو فریق نہ بنائیں – کاشف علی خان شیروانی

کیا قیامت کے روز ملحدوں کے پاس وجودِ باری تعالیٰ کے انکار کا کوئی عذر ہو سکتا ہے؟ “ابو یحییٰ” صاحب نے، جن کا اصل نام ریحان احمد یوسفی ہے، اور جو فرقۂ فراہی سے متعلق ہیں، اس موضوع پر ایک فتویٰ تصنیف فرمایا ہے جو “دلیل” میں شائع ہوا۔ انہوں نے اپنے مضمون “منکر خدا کا انجام” میں دعویٰ کیا کہ ہاں، “مخلص اور سچے” منکرینِ خدا کے پاس عذر ہو سکتا ہے، اور وہ یہ کہ انہوں نے نہایت اخلاص سے اللہ تعالیٰ کے وجود پر تحقیق کی، لیکن انہیں اس کے وجود کی کوئی دلیل نہ ملی، لہٰذا انہوں نے اللہ کے وجود کا انکار کر دیا اور اپنے رب کا انکار کرنے کے باوجود، اس عذر کی بنا پر انہیں معاف کر دیا جائے گا۔ طارق محمود ہاشمی صاحب نے اس مضمون پرنقد لکھا، اور قرآن مجید کی صریح نص، یعنی عہدِ الست (سورہ اعراف: آیت۱۷۲) کی بنا پر استدلال کیا، کہ “ابویحییٰ” صاحب کا موقف غلط ہے، قیامت کے روز منکرینِ ذاتِ باری تعالیٰ کے پاس کوئی عذر نہیں ہو گا۔ اپنے اس استدلال کے حق میں ہاشمی صاحب نے سلف صالحین میں سے مفسرین کرام کی آراء کو بھی پیش کیا، اور “ابویحییٰ” صاحب کے اکابرینِ تجدد کو بھی۔ ایک مکمل علمی تنقیدکی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف غلطی کی نشاندہی کرے بلکہ یہ بھی بتائے کہ اس غلطی کا ماخذ کیا ہے؟ طارق محمود ہاشمی صاحب نے درست تشخیص کی ہے کہ اگر نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے، تو اس کا پس منظر تجدد کی تحریک ہی میں تلاش کرنا چاہیے۔

طارق محمود ہاشمی صاحب کی تنقید جب “دلیل” پر شائع ہوئی، تو اس نے سوشل میڈیا پر ایک علمی بحث کا آغاز کر دیا۔ اس سلسلے میں کئی نادر تحقیقات سامنے آئیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر عرفان شہزاد صاحب نے اس میں غیر معمولی مثال قائم کی ہے۔ ڈاکٹر عرفان شہزاد نے طارق محمود ہاشمی صاحب کے مضمون پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ “دہریت وہی لائق ِسزا ہے جس میں انکار بلا تاویل، مکابرت یا جان بوجھ کر غفلت کی راہ سے کیا گیا ہو”۔ یعنی “ابو یحییٰ” صاحب کی طرح، ڈاکٹر عرفان شہزاد صاحب بھی ملحد کی مغفرت کے امکان کو تسلیم کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں الحاد کی طرح شرک بھی ناقابل معافی جرم ہےمگر الحاد کی طرح شرک بھی جب مؤول ہو، یا جانتے بوجھتے نہ کیا جائے، یا اس کی بنیاد مکابرت نہ ہو، تو ایسا ملحد رعایت کا مستحق ہو گا۔ اپنے مقدمے کے حق میں انہوں نے قرآن مجید کی سورہ المائدہ کی آیات ۱۱۸ اور ۱۱۹ سےاستدلال کیا ہے۔ فرماتے ہیں:

” اللہ نے شرک کو ناقابل معافی جرم قرار دیا۔ اس کے باوجود سورہ المائدہ میں مسیحی مشرکین کے لیے مسیح کی سفارش کو قبول کرتے ہوئے فرمایا کہ آج، روز قیامت، ان میں سے سچے لوگوں کی ان کی سچائی کا صلہ ملے گا وہ جنت کے باغوں میں داخل ہوں گے۔ اس پر اسلاف میں سے تفسیر کبیر میں بھی یہی موقف بیان کیا گیا ہے۔”

یہاں عرفان شہزاد صاحب نے امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ کے موقف کے بارے میں تین دعوے کیے ہیں:

۱۔ تفسیر کبیر میں امام رازی رحمہ اللہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ “سچے”مسیحی مشرکین کی معافی ہو سکتی ہے۔

۲۔ امام رازی رحمہ اللہ سورہ المائدہ کی آیت ۱۱۹ میں “الصادقین” سے مرا د مسیحی مشرکین میں سے “سچے” لوگوں کو سمجھتے ہیں۔

۳۔ تیسرا دعوی عرفان صاحب نے یہ کیا ہے کہ تفسیر کبیر میں “مسیحیوں کی بخشش کا جواز بتایا گیا ہے، کہا گیا ہے کہ وہ گناہ گار تھے، کافر نہیں تھے، بخشش کی گنجائش ہے”۔

سب سے پہلے تو ہم یہاں سورہ المائدہ کی آیات ۱۱۸ تا ۱۱۹ پیش کرتے ہیں۔ پھر امام رازی کا ان آیات پر موقف پیش کیا جائے گا۔ یہ مضمون سورہ المائدہ کی آیت ۱۱۶ سے شروع ہوا ہے۔ قیامت کے روزجب حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کو جواب دیں گے کہ میں نے ہرگز اپنی قوم کو یہ تعلیم نہ دی تھی کہ وہ مجھے اور میری والدہ حضرت مریم علیہا السلام کو خدا مانیں، تو اس کے بعد فرمایا:إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔ قَالَ اللَّهُ هَٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصَّادِقِينَ صِدْقُهُمْ ۚ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ

یعنی: اب اگر آپ انہیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کر دیں تو آپ غالب اور دانا ہیں۔ تب اللہ فرمائے گا: یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کی سچائی نفع دیتی ہے، ان کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، یہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے، یہی بڑی کامیابی ہے”۔

جب ہم ان آیات پر امام رازیؒ کی شرح کی طرف رجوع کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عرفان شہزاد صاحب تفسیر کبیر میں امام رازیؒ کا موقف بالکل نہیں سمجھ سکے۔ امام رازیؒ کے ہاں مشرکین کی معافی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ امام صاحبؒ فرماتے ہیں:
ہمارے نزدیک اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے کہ وہ کفار کو جنت میں داخل کر دے، اور زہاد و عباد کو دوزخ میں۔ بادشاہی اُسی کی ہے، اور اس میں کسی کو مداخلت کا اختیار نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقصود یہ ہے کہ تمام امور اللہ تعالیٰ ہی کو تفویض کیے جائیں۔ اور اس میں کوئی کلام نہ کیا جائے۔ اسی لیے انہوں نے اپنی بات اس پر ختم کی کہ “بےشک اے اللہ تو عزیز و حکیم ہے”۔ یعنی، “تُو ہر اس کام کو کرنے پر قادر ہے جو تُو چاہے۔ اور اپنے ہر کام میں حکیم بھی ہے، کسی کو بولنے کی جسارت نہیں۔ کہاں میں اور کہاں اللہ کی ربوبیت میں مداخلت!”۔ چنانچہ اللہ تعالی ٰ کا ارشاد، کہ وہ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا، ہمارے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے اختیار میں ہے کہ وہ شرک کو معاف کر دے۔ معتزلہ میں سے یہی موقف جمہور بصریوں کا ہے۔ البتہ ہماری شریعت میں ایک سمعی دلیل نے یہ بتا دیا ہے کہ ایسا ہوگا نہیں، یعنی اللہ مشرکوں کو معاف نہیں کرے گا ( بل دل الدلیل السمعی فی شرعنا علیٰ انہ لا یقع )۔ (دیکھیے: امام فخرالدین رازی، مفاتیح الغیب، دارلفکر، جلد ۱۲، صفحہ ۱۴۵)

یعنی، اللہ تعالیٰ پر نہ یہ واجب ہے کہ وہ نیکوں کو جزا دے، نہ یہ واجب ہے کہ وہ بُروں کو سزا دے۔ تمام اختیار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ چنانچہ اس نے اپنا یہ اختیار استعمال کرتے ہوئے یہ کہہ دیا ہے کہ: ان اللہ لا یغفر الشرک، اللہ تعالی شرک کو معاف نہیں کرے گا۔ یہ ہے امام رازی رحمہ اللہ کا مسلک۔

عرفان شہزادصاحب کے درج بالا اقتباس میں کیا گیا دوسرا دعویٰ بھی بالکل بے بنیاد ہے۔ عرفان شہزاد صاحب کے خیال میں امام رازیؒ کے نزدیک سورہ المائدہ کی آیت ۱۱۹ میں”الصادقین” سے مراد وہ مسیحی ہیں جو کسی تاویل کی بنیاد پر شرک کا ارتکاب کرتے رہے، اور اس لیے مغفرت کے مستحق ہوں گے، اور جنت میں جائیں گے، اور انہیں فوز عظیم ملے گی۔ عرفان شہزاد صاحب کا یہ دعویٰ بھی امام رازیؒ کےموقف کے سوئے فہم کا نتیجہ ہے۔ امام صاحبؒ کا موقف اس کے بالکل برعکس ہے۔ ان کے نزدیک “الصادقین” سے مراد بالعموم تمام انبیاء، اور بالخصوص حضرت مسیح بن مریم علیہما السلام ہیں۔ امام صاحب فرماتے ہیں:

ترجمہ:ـ پھر اللہ نے فرمایا: قال اللہ ھذا یوم ینفع الصادقین صدقھم: (آج کے دن صادقین کو ان کے صدق نفع بخش ہو گا)۔ اس آیت میں چند مسائل ہیں۔ اول: اس بات پر (تمام علماءکا) اجماع ہے کہ ھذا الیوم سے مراد یوم قیامت ہے اور اس کا معنی ہے کہ دنیا کا صدق (یعنی دنیا میں بولا گیا سچ)، لوگوں کو قیامت میں نفع پہنچائے گا۔اس کی دلیل یہ ہے کہ قیامت کے دن (بولا گیا) کفار کا سچ ان کو نفع نہیں دے گا۔ کیا تم نے دیکھا نہیں کہ قیامت کے دن تو ابلیس بھی سچ بولے گا (ان اللہ عودکم وعدا لحق و وعدتکم فأخفتکم)، لیکن اس کی یہ سچائی اسے وہاں نفع نہ دے گی۔ چنانچہ یہ آیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عیسیٰ کے اس قول کی تصدیق ہے، کہ (ما قلت لھم الا ما امرتنی بہ)، یعنی اے اللہ میں نے انہیں اسی کا حکم دیا تھا جس کا حکم تُو نے مجھے دیا تھا” (دیکھیے: مفاتیح الغیب، جلد ۱۲، صفحہ ۱۴۶ )۔

ڈاکٹر عرفان شہزاد صاحب کا تیسرا دعویٰ بھی اسی طرح بے بنیاد ہے۔ جس عبارت سے عرفان صاحب استدلال فرما رہے ہیں، اس میں امام رازیؒ نے اپنی رائے نہیں، بلکہ کچھ مجہول لوگوں کی رائے نقل کی ہے۔ اور وہ رائے بھی وہ نہیں ہے، جو عرفان شہزاد صاحب بتا رہے ہیں۔ اور اگر وہ رائے دی بھی ہوتی، تو الحاد کی معافی وغیرہ کی تائید نہ ہوتی۔ امام رازی فرماتے ہیں:

بعض اصحاب نے اس آیت سے حضورﷺ کی فساق کے حق میں شفاعت پر استدلال کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول (ان تعذبہم فانہم عبادک) اہل ثواب کے لیے نہیں ہے کیونکہ اہل ثواب کو عذاب دینا مناسب نہیں ہوتا، اور اسی طرح یہ (آیت) کفار کے لیے بھی نہیں ہو سکتی، کیونکہ ان (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کا قول (و ان تغفر لھم فانک انت العزیز الحکیم) کہ آپ چاہیں تو انہیں معاف کر دیں، کفار کے لیے مناسب نہیں ہے۔ اس دلیل سے معلوم ہوا کہ یہ بات صرف اہل ایمان میں سے فساق کے حق ہی میں کہی جا سکتی ہے۔ اور جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی فساق کے حق میں شفاعت ثابت ہو گئی تو پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حق میں تو یہ بطریق اولیٰ ثابت ہے(دیکھیے: مفاتیح الغیب، جلد ۱۲، صفحہ ۱۴۵ )۔

دیکھ لیجیے کہ یہاں مسیحی مشرکین کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ مسیحیوں میں بہت سے لوگ وہ ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قریبی ساتھی اور حواری تھے، اور وہ حضرت مسیح علیہ السلام کو، یا حضرت مریم علیہا السلام کو خدا نہیں مانتےتھے، بلکہ حق پر قائم تھے۔ تاہم ان سے گناہ سرزد ہو سکتے ہیں۔ اور ان کی مغفرت کی درخواست کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح مسیحیوں میں ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں، جو مشرک تو نہ تھے، مگر انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف غلط باتیں منسوب کر دی تھیں۔ یہ اگر چہ بہت بڑا گناہ ہے مگر شرک نہیں ہے۔ چنانچہ امام رازیؒ کے نزدیک ایسے لوگوں کی مغفرت کی دعا کی جا سکتی ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آں حضرت ﷺ، جو بالاتفاق حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہیں، وہ بھی گناہ گاروں کی شفاعت فرمائیں گے۔ اس سے پہلے، امام صاحبؒ تفصیل سے واضح کر چکے ہیں، کہ گو مسیحی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کو اپنا اِلٰہ بنا چکے ہیں، لیکن ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو موت سے پہلے تائب ہو گئے تھے (ان یکون بعضہم قد تاب عنہ)۔ انہوں نے اس کامکان بھی ظاہر کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس آیت میں وہ لوگ زیر بحث نہ ہوں جنہوں نے شرک کیا، بلکہ وہ مراد ہو سکتے ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جانب اس قسم کے دعوے – دانستہ یا نا دانستہ – منسوب کیے (حکوا ھذا الکلام عنہ)۔ یہ وہ لوگ ہیں جو گناہ گار ہیں، کافر نہیں ہیں۔ اور گناہوں کی معافی تو ہو ہی سکتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ایک تو یہ امام صاحبؒ اپنا موقف بیان نہیں کر رہے۔ کلاسیکی تفسیر کا یہ انداز اہل علم کو معلوم ہے کہ وہ بہت سے مواقف نقل کرتےہیں، اور کسی رائے کو دبانے کی بجائے قاری کو انتخاب کا موقع دیتے ہیں۔ بعض اوقات تو اپنی رائے دیتے ہی نہیں۔ لیکن اس مقام پر تو امام رازیؒ نے اپنا موقف واضح کر دیا ہے، لہٰذا ان کے خیال میں یہ رائے سرے سے مرجوح ہے۔ مختصر یہ کہ امام رازی ؒ کی عبارت میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جس سے عرفان شہزاد صاحب “مخلص” مسیحیوں کے لیے، یا ان مسیحی مشرکو ں کے لیے جو تاویل کی غلطی میں مبتلا ہیں، کسی رعایت کا جواز پیدا کر سکیں۔ چنانچہ یہاں بھی عرفان شہزاد صاحب نے حضرت امام رازی رحمہ اللہ کی جانب غلط بات منسوب کی ہے۔

ان نکات کے علاوہ ایک دو مزید گزارشات ہم یہاں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ایک تو ذرا ڈاکٹر عرفان شہزاد صاحب کے اس جملے پر غور فرمائیے:

“سورہ المائدہ میں مسیحی مشرکین کے لیے مسیح کی سفارش کو قبول کرتے ہوئے فرمایا۔۔۔ “

اب کیا اللہ کے رسول حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا ذکر ان الفاظ میں قابل قبول ہو گیا ہے؟ کیا یہ کسی دوست کا ذکر کیا جا رہا ہے؟ مسلمانوں کی روایت ہے کہ وہ اللہ کے برگزیدہ بندوں کا ذکر جس زبان میں کریں، اس کے ادب و آداب اور احترام و تقدس کے معروف اسالیب میں کرتے ہیں۔ کسی نبی یا رسول کا نام اس کے معزز القاب کے بغیر، اور صلوٰۃ و سلام کے بغیر کرنا بے ادبی سمجھی جاتی ہے۔ ان ادب آداب کی رعایت کرنے میں مسلمان دنیا بھر میں ممتاز ہیں۔ جدیدیت سے جتنے بھی متاثر ہوں، اس معاملے میں مسلمانوں کو تساہل سے کام نہ لینا چاہیے۔ مغرب نےمعاشرتی حفظ مراتب پر بھی ضرب لگائی ہے، اور دینی شخصیات کے احترام کو بھی غیر ضروری قرار دے دیا ہے۔ چنانچہ اب جو اسالیب نبیوں اور رسولوں کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں، وہ اگر ان لوگوں کے مکتبِ فکرکے اکابرین کے بارے میں اختیار کیے جائیں تو یہ اسے توہین سمجھیں گے۔ عرفان شہزاد صاحب بے خبر نہیں ہوں گے، کہ یہ تغافل فقط آداب کا معاملہ نہیں، اس پر ایمانیات کا مدار ہے۔ میر کا شعر ہے:

دُور بیٹھا غبارِ مِیر اس سے

عشق بن یہ ادب نہیں آتا!

تواصی بالحق کے تقاضے کے تحت ہم ان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ سے استغفار فرمائیں، اور آئندہ اس معاملے میں حد درجہ احتیاط کا قصد فرمائیں۔

دوسرا معاملہ دینی بیانات کے تقدس، احتیاط، اور عرق ریزی کا ہے۔ صحافتی مزاج دین کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ دینی معاملات کو میڈیا کے دیگر امور کی طرح نمٹانا خود دین کی تعظیم و توقیر کو متاثر کر رہا ہے۔ یہ افسوس ناک ہے کہ ہم اپنے فرقے کے مواقف و آراء کو نقل کرنے میں جتنے محتاط ہیں، اس قدر احتیاط دین کی امہات کتب کے معاملےمیں نہیں کرتے۔ اپنے فرقے، اپنے گروہ، اور اپنے اکابرین کی ہر بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے امام رازیؒ تو کیا، خود اللہ اور اس کے دین کو بھی فریق بنانے سے نہیں رُکتے۔ اس معاملے میں، عرفان شہزاد صاحب نے امام رازی رحمہ اللہ کا مسلک جس تساہل اور بے احتیاطی سے نقل کیا، اس سے ان کے وقار میں بھی اضافہ نہیں ہوا، اور علمی معاملات میں ان کی ثقاہت بھی مجروح ہوئی ہے۔ اس پر عرفان شہزاد صاحب کے ایک قاری نے ان سے عرض کیا کہ امام رازیؒ کا موقف یہ نہیں جو آپ فرما رہے ہیں، تو عرفان شہزاد صاحب نے اصرار فرمایا۔ اس پر ان کے قاری نے کہا کہ مجھے عربی نہیں آتی، لیکن میں نے ایک فاضل سے امام رازیؒ کی متعلقہ عبارات ترجمہ کرائی ہیں، اور ان میں یہ باتیں نہیں ہیں جو آپ امام رازیؒ سے منسوب کر رہے ہیں۔ اس دوسرے موقع کو بھی عرفان شہزاد صاحب نے ضائع کر دیا، اور اپنی بات پر بے جا اصرار کیا (یہ سب تبادلہ عرفان شہزاد صاحب کے فیس بک صفحے، مورخہ ۲۸؍اکتوبر، سنہ ۲۰۱۷ء پر موجود ہے)۔ نہ جانے کتنے لوگ اس غلط فہمی سے گمراہ ہوئے ہوں گے۔ اس معاملے میں انذار کی شدید ضرورت ہے۔ یہ تساہل ٹی وی پر آنے والے واعظین کا تو خاصہ بن چکا ہے، جو منہ میں آئے کہہ دیتے ہیں، نہ کوئی حوالہ نہ سند۔ اس کے نتیجے میں مہم جُو “مجتہدین” اور شعلہ بیان “واعظین” کی تو بہتات ہو گئی ہے، لیکن علم و تحقیق، اور حق و صداقت کا خون ہو رہا ہے۔ عرفان شہزاد صاحب سے توقع ہے کہ وہ اس معاملے میں بھی آگے بڑھ کر اپنی غلطی تسلم کریں گے، اور آئندہ ان امور میں احتیاط فرمائیں گے۔

مختصر یہ کہ ڈاکٹر عرفان شہزاد صاحب نے امام رازیؒ سے جو استشہاد کیا تھا، وہ درست نہیں ہے۔ ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ یہاں وہ علمی بددیانتی کے مرتکب ہوئے ہیں، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ان کی عربی عبارت فہمی کی استعداد ہی محدود ہو۔ لیکن عربی زبان سے ناواقفیت کے ساتھ، ایسے مہتم بالشان مسائل میں فتوے جاری کرنا، اگر علمی دیانت کی خلاف ورزی نہیں تو کم از کم تساہل ضرور ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں