26

مواخات اور امت – محمد دین جوہر

مواخات ایک اخلاقی اور سماجی تصور ہے، جبکہ امت ایک سیاسی تصور ہے۔ مسلمانوں کی مذہبی اور فکری اقلیم میں یہ دونوں تصورات پوری جامعیت سے موجود ہیں، اور مسلمانوں کی self-perception کا لازمی جزو ہیں۔ شاید ہی کوئی باشعور مسلمان مواخات کی اخلاقی تعلیمات سے ناواقف ہو اور امت کے اجتماعی اور سیاسی تصور سے لاعلم ہو۔

سوال یہ ہے کہ کیا عصر حاضر میں کوئی ایسی معاشرت موجود ہے جو مواخات کا مصداق ہو؟ یا کوئی ایسی سیاسی اکائی موجود ہے جسے امت کے تصور سے منسوب کیا جا سکے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ شکست اور جدیدیت کے پیدا کردہ مؤثرات کی وجہ سے مسلم معاشروں میں کوئی ایسا معاشرتی اسٹرکچر باقی نہیں رہا جو بالعموم مواخات کا مصداق کہلا سکے، اگرچہ اس کے متفرق مظاہر کثیر ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ امت ایک سیاسی تصور کے طور پر موجود ہے لیکن ہم عصر دنیا میں کوئی سیاسی اور تہذیبی واقعیت نہیں رکھتی۔

جس طرح ہر اخلاقی تصور اپنے تحقق کے لیے تسلیم و ارادے کا متقاضی ہے، بعینہٖ ہر سیاسی اور اجتماعی تصور واقعاتی حقیقت بننے کے لیے سیاسی قوت کا جائز مطالبہ رکھتا ہے۔ امکانی طور پر، مسلم دنیا میں سیاسی طاقت کے کسی بڑے مرکز کے سامنے آتے ہی امت پھر سے ایک تہذیبی حقیقت بن سکتی ہے۔ ہر سیاسی تصور تہذیب بننے کا فطری میلان رکھتا ہے، اور تہذیب صرف تصور یا سیاسی فکر کا نام نہیں ہے، بلکہ ایک تاریخی واقعیت بھی ہے۔ تصور اور سیاسی طاقت کا بیک آن جمع ہو جانا ہی تہذیب کو تاریخ کے دھارے میں لا کر اسے ”قوانین تاریخ“ کا پابند بنا دیتا ہے۔ ”قوانین تاریخ“، معاشروں اور تہذیبوں پر اپنا اطلاق ضرور رکھتے ہیں، لیکن فکر اور علمی تصورات سے اہم نسبتوں کے باوجود ان پر ججمنٹ نہیں ہو سکتے۔

اب اگلا سوال یہ ہے کہ کیا واقعاتی صورتحال کے جبر میں ہمیں اپنے دینی اور تہذیبی تصورات سے دستبردار ہو جانا چاہیے؟ یہ بے حمیتی ہے۔ یا جدید معاشرت اور جدید سیاست کے ایسے واقعاتی مظاہر کو ان کا مصداق قرار دے دینا چاہیے جو ان کی ضد ہیں؟ یہ خود فریبی ہے۔ یا ہمیں اپنے دینی اور تہذیبی تصورات کو لے کر جدید تاریخ کا سامنا کرنا ہے؟ یہ مزاحمت ہے۔ عصر حاضر منتظر ہے کہ ہم بے حمیتی، خود فریبی اور مزاحمت میں سے کسے اصلِ حیات کے طور پر اختیار کرتے ہیں!

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں