71

منشائیات، غائیات اور فرجامیات – محمد دین جوہر

گزارش ہے کہ منشائیات (originary hypotheses/ questions of origin/ hypotheses of origin) اور غائیات (Teleology) علوم کے باقاعدہ شعبے نہیں ہیں، بلکہ علم و عمل اور وجود و شئون کے منابع اور ان کی منتہائی غایت پر ہمہ پہلو سوالات ہیں۔ نظری اور مذہبی دونوں طرح کے علوم میں یہ سوالات بہت بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ منشا اور غایت کے سوالات، خود مظاہر فطرت کی ہیئت اور حرکیات پر وارد سوالات سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ عقلی سوالات حدِ ادراک تک ہیں۔ مظہر فطرت کی ہیئت و حرکیات حدِ ادراک میں ہیں، لیکن ہر مظہر فطرت کا منشا و غایت حدِ ادراک میں نہیں ہے، اس لیے عقلی سوال کا موضوع بھی نہیں۔ منشا و غایت کے سوالات کی نوعیت حتمی سوالات (end questions) کی ہے، اس لیے وہ عقل کا موضوع بالکل نہیں۔ یہ سوالات انسان کے اقداری شعور (Axiological Consciousness) کے اقتضآت اور عقلی شعور کی ’پیچ و تاب‘ (anguish) کا اظہار ہیں۔ ان کا تعلق اصلاً ’وجودی موقف‘ یا ایمانیات سے ہے، اور اسی باعث دینی ہدایت میں منابع اور غایت کا موقف بالکل دوٹوک ہے۔

اوریجن اور غایت ہی کے سوالات میں یہ بھی بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ’اقدار‘ اور علم کا باہمی تعلق کیا ہے، اور علم اقدار کا نطق کیونکر ہے۔ اوریجن اور غایت ہی کے محل پر یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ عقل کا گھر اور منزل ایک ہی ہوتی ہے، یعنی عقل صرف اسی چیز کی تصدیق اور تفصیل پر قادر ہے جسے یہ پہلے سے مانتی ہے، اور جسے مان کر یہ اپنے جاننے کے سفر کا آغاز کرتی ہے۔ ہر علمی موقف (epistemological stance) جس چیز کی تفصیلات پر مشتمل ہوتا ہے وہ اصلاً وجودی موقف (ontological stance) ہی ہوتا ہے۔ ان میں سے صرف ایک وجودی موقف حق ہے جو رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ و سلم کی عطا ہے۔ باقی تمام وجودی موقف نابودیت (nihilism) کے علاوہ کچھ بھی نہیں اور صرف انکاری اوٹ کا کام کرتے ہیں۔

مثلاً نیچرل سائنس مظاہرِ فطرت کے مطالعہ پر مبنی ہے۔ اس مطالعے کا اول اصول ہی مانعاتی ہے، یعنی سائنس کا آغاز مادہ/توانائی کا مطالعہ ہے، طریقۂ کار سائنسی ہے، فریم ورک طے شدہ ہے، وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب عقلی کارگزاری ہے۔ لیکن عقل ابھی اپنے کام کا آغاز بھی نہیں کر پائی ہوتی کہ ایک سوال اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ یہ مادہ، یہ توانائی، یہ کائنات آئی کہاں سے ہے؟ سائنسی کارگزاری یقیناً عقلی اور ریشنل ہے، لیکن منشا/منبع/ اوریجن پر اٹھنے والا یہ سوال قطعی غیرعقلی ہے۔ یعنی کائنات کا اوریجن قطعاً کوئی مظہرِ فطرت نہیں، مشاہداتی نہیں، عقلی نہیں ہے، علمی نہیں ہے، اور انسانی حدِ ادراک سے باہر ہے۔ عقلاً یہ محال کو ممکن قرار دینے کی ضد ہے۔ لیکن لطف کی بات یہ ہے کہ عقل اس وقت تک حرکت نہیں کر سکتی، فعال نہیں ہو سکتی جب تک وہ اس سوال کا جواب نہ پا لے۔ یہ سوال عقل سے زیادہ گہرا ہے، اور عقل کا ہونا نہ ہونا اسی سوال سے متعین ہوتا ہے۔ اگر عقل کو شجر کہا جائے تو یہ سوال زمین ہے، اور عقل کو ہونے اور کرنے سے پہلے یہ زمین درکار ہے۔ اوریجن کے سوال سے پیدا ہونے والا جواب عقل کی حرکیات اور اس کے مقاصد کو متعین کرتا ہے۔ یہ سوال شعور کی ضرورت اور طلب سے پیدا ہوتا ہے، اور وجودی ہے۔ کوئی وجودی سوال حاصلاتِ عقل سے نہیں۔ ہر وجودی سوال مقتضیات شعور سے ہے۔ 

جدید علوم میں اوریجن کا سوال سائنسی اور سماجی علوم میں یکساں طور پر موجود ہے۔ مثلاً سائنس مبدائے کائنات کے سوال کا جواب یہ دیتی ہے کہ کائنات خود بخود وجود میں آئی ہے۔ اب نیچرل سائنس ’مظاہر فطرت‘ کے مطالعے کے ساتھ ساتھ اپنے اس وجودی مفروضے کی تصدیق و تفصیلات بھی مسلسل جوڑتی رہتی ہے، یعنی سائنس میں کارفرما عقل اپنی کارگزاری کو ہر قدم پر اپنے اس مفروضے کے تابع رکھتی ہے۔ یہ وجودی مفروضہ نیچرل سائنس کی بنیادی ’قدر‘ ہے، اور اس قدر کے بغیر جدید علم کی تقویم ہی ممکن نہیں ہے۔ یہی مسئلہ حیات کے اوریجن کا ہے، اور شعور کے اوریجن کا۔ معاشی، تاریخی اور عمرانیاتی علوم میں شعور اور عقل کی مکمل کارگزاری اسی اوریجن کی گرفت میں ہے۔

سائنس نے اوریجن کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے دو کام کیے ہیں۔ ایک یہ کہ وقت کی تقویم کو انسانی نہیں رہنے دیا۔ انسانی معنوں میں وقت تکوینی، تقدیری، تاریخی اور تجربی ہے۔ اب وقت سائنسی یعنی ارضیاتی (geological) اور کائناتی (cosmic) ہے۔ یہ وقت سانپ کی طرح چاروں طرف رینگتا ہے اور ہر اُس چیز کو ڈستا ہے جو ”اوپر“ سے ہونے کا دعویٰ کرتی ہو، اور ہر اس چیز پر پھنکارتا ہے جو کسی ”اوپر“ کی یاد دلاتی ہو۔ وقت کے اس تصور نے انسانی شعور کو ویسے ہی جکڑا ہوا ہے جیسے اژدہا کسی جانور کو لپیٹ لیتا ہے۔ وقت کے جدید تصور نے انسانی شعور اور اس کے پیدا کردہ تمام علوم میں ایک ایسی افقیت داخل کر دی ہے جو انسان سمیت کسی چیز کو بھی مٹی سے اوپر اٹھنے نہیں دیتی۔

ہر جدید شعبۂ علم میں اوریجن کا مفروضہ اس علم کا وجود دہندہ بھی ہے، اور اصول تنظیم (organizing principle) بھی ہے۔ جب ہم ان علوم کا مطالعہ کرتے ہیں تو کچھ دھڑکا سا لگتا ہے کہ یہاں کچھ گڑبڑ ہے۔ یہ معلوم نہیں ہوتا کہ گڑبڑ کیا ہے۔ ہم نے اس کا حل یہ نکالا ہے کہ جہاں ’تشویش‘ محسوس ہوتی ہے، وہاں قرآنی آیات لکھ دیتے ہیں، اور باقی نصابوں کو مغربی علوم کے چربے سے بھر دیتے ہیں۔

’علمِ کامل‘ کا بنیادی وظیفہ چیزوں کے اوریجن کے بارے میں بتانا ہے، اور یہ حقیقت کا علم بھی ہے۔ ’علم کامل‘ صرف مذہبی علم ہے، کیونکہ اس کا بنیادی وظیفہ حتمی سوالات کا جواب ہی ہے اور جو ہماری ایمانیات کا مدار بھی ہے۔ جدید علم مذہب کو رد کرنے کے بعد چیزوں کے اوریجن کے مسئلے کو مفروضات سے حل کرتا ہے۔ جدید علم اور مذہب کا تضاد بنیادی طور پر یہیں سے پیدا ہوا ہے اور ان معنوں میں جدید علم اور مذہب میں نہ صرف یہ کہ کوئی مشترکات نہیں ہیں بلکہ یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ اب مسلم ذہن کا یہ مسئلہ ہے کہ وہ بدیہیات کے ادراک اور ان کی حیثیت کے درست اندازے ہی کے قابل نہیں رہا تو اس طرح کی چیستاں سے اسے بھلا کیا سروکار ہو سکتا ہے؟ جب یہ صورتحال اس کے سامنے رکھی جاتی ہے تو وہ آگے سے جواب دیتا ہے کہ جدید علم کے منشائی مفروضات رد کر دیے جائیں اور جدید علم کے ’مچربات‘ سے اپنا ’پیٹ‘ بھر لیا جائے۔ یہی وہ طریقۂ کار ہے جو سرکاری سطح پر مجوزہ درسی کتابوں میں سامنے آتا ہے جہاں منشائی مفروضات کی جگہ قرآن مجید کی آیتیں لکھ دی جاتی ہیں اور آگے جدید علم کا چربہ لگا دیا جاتا ہے۔ یہ کام صرف وہی ذہن کر سکتا ہے جس کی علم سے کسی بھی طرح کی کوئی مناسبت باقی نہ رہی ہو۔ جدید علم میں منشائی مفروضات ہی اس کا اصولِ اول اور عقلی سانچہ ہیں، اس کے مقوم بھی ہیں اور اس کے مزاج اور منتہا کو متعین بھی کرتے ہیں۔

غائیات (Teleology) کا مسئلہ بھی اصلاً ’علمِ کامل‘ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ مذہبی علم اس ذمہ داری کو بخوبی پورا کرتا ہے۔ اور یہ بتاتا ہے کہ ’ہونے‘ کی غایت کیا ہے اور ’کرنے‘ کا مآل کار کیا ہے؟ اور یہ کہ ان غایات کو پورا کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ جبکہ وجود کے ہونے کی غایت، انسانی عمل کی غایت اور حرکتِ زماں کی غایت جدید علم ایک مفروضے سے قائم کرتا ہے۔ تاریخ اور معاشرے کی حرکت میں غایت کو Telos کہتے ہیں۔ Telos کے بغیر جدید تاریخی اور سماجی علوم کی تشکیل ممکن نہیں۔ جدید تاریخی اور سماجی علوم میں مفروضہ Telos نظریۂ ارتقا سے سامنے لائی جاتی ہے۔ ان علوم میں حرکتِ زماں کی منتہائی غایت، اور معاشرے اور تاریخ کے ارتقا کی غایت موجودہ مغربی تہذیب کا ظہور بیان کیا جاتا ہے۔ اس Telos کے بغیر مغرب کے پیدا کردہ تمام تاریخی اور سماجی علوم کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ یہ مفروضہ جدید تاریخی اور سماجی علوم کی نام نہاد ’معروضیت‘ کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ اس میں دلچسپ پہلو یہ ہے کہ تمام سائنسی علوم Telos سے خالی ہیں، اور تمام سماجی علوم میں ارتقائی منزلیں اسی تہذیبی Telos کے تابع ہیں۔

فرجامیات (eschatology) دنیا کے ہر مذہب میں موجود ہے۔ وقت کا انسانی تجربہ دو چیزوں سے خالی نہیں ہو سکتا۔ ایک پچھتاوا، اور دوسرا خوف۔ گزرا ہوا وقت پچھتاوا اور حسرت ہے اور آنے والا وقت خوف اور دہشت ہے۔ یہ تجربہ فرد سے گزر کر انسانیت سے مختص ہو جائے تو اس کی نوعیت قیامتی (apocalyptic) ہو جاتی ہے۔ مذہب وقت کے انسانی تجربے میں موجود ان دونوں کا مداوا ہے۔ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وقت اپنی نہاد میں موجود قیامتی ارتسامات سے خالی نہیں ہو سکتا۔ یعنی فرد کے اپنے خاتمے کا دھڑکا مرگ ہے، اور وقت کے خاتمے کا دھڑکا قیامت (apocalypse) ہے، اور یہ دھڑکا (foreboding) نفسِ انسانی کی فطری ساخت میں گندھا ہوا ہے۔ وقت کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مغربی تہذیب اپنی تمام تر سیکولیرٹی (secularity) کے باوجود قیامتی ہول (apocalyptic dread) سے نجات نہیں پا سکی۔ مغربی علوم اور ٹیکنالوجی سے ادنیٰ واقفیت رکھنے والے اہلِ نظر بھی اس امر سے واقف ہیں کہ ان پر قیامتی ہول کی چھاپ کتنی گہری ہے۔

ایمان، وجود انسانی میں ساری ہو کر جاری رہنے والے وقت کا تریاق بھی ہے۔ مذہبی معنوں میں فرجامیات ایمان کا حصہ ہیں۔ فرجامیات تاریخی واقعات کو تقدیری اور تکوینی تناظر کے تابع رکھنے کی محکم تدبیر ہے۔ انسان اور وقت دونوں ایک ’دن‘ مالکِ یوم الدین کے حضور حاضر ہوں گے۔ ہماری دینی تعلیمات میں قربِ قیامت اور مختلف زمانوں میں ظاہر ہونے والے فتنوں کی تفصیلات کا تعلق فرجامیات ہی سے ہے، اور ایسے زمانے میں جب وقت کے کواڑ اکھڑ چکے ہیں مسلمانوں کے لیے نفسی استحکام کا باعث ہیں۔ الحمد للہ رب العلمین۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

منشائیات، غائیات اور فرجامیات – محمد دین جوہر” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں