202

مغرب زدہ لبرل طبقات کا المیہ (۲) – وقاص احمد

جس طرح پچھلی قسط میں اس بات پر زور دیا گیا کہ قرآن کی وہ آیات جو سائنسی مضامین سے متعلق ہیں، ان کو دنیا کے سامنے دعویٰ کے ساتھ پیش کرنا بہت ضروری ہے۔ اس لیے کہ قرآن مجید کی دعوت و تبلیغ ایک مشکوک، لادین اور سائنسی ذہن تک تب ہی پہنچ سکتی ہے، جب اسے باور کرایا جائے کہ یہ اس ذات کی طرف سے ہے جسے ہر شے کا علم ہے، جس نے ہم سب کو پیدا کیا اور جس کا اصل موضوع انسان کے تمام ذہنی، اور شعوری مسائل کا حل اور شکوک کا علاج ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس بات کی اہمیت کو واضح کرنا بھی نہایت ضروری ہے کہ 1400 سال پہلے ان حقا ئق کا علم نبی امّی حضرت محمد ﷺ کو کیسے ہوسکتا ہے سوائے اس کے کہ کائنات اور مخلوقات کے رب نے یہ آپ ﷺپر وحی کی ہو۔

ہمارے الٹرا لبرل عقل پرست، وحی بیزار دانشور اور سائنسدان کا سارا مورچہ یہ ہوتا ہے کہ سائنس تو حقائق اور تجرباتی نتائج پر مبنی ہے جبکہ مذہب، کتاب و پیغمبر کے موضوعات تو بس انسانی اعتقادات اور جذبات کا معاملہ ہے، جسے سائنسی بنیاد پر ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ سو یہ عقائد کوئی رکھے نہ رکھے یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے لیکن ان عقا ئد کی بنیاد پر دنیا کا کو ئی اجتماعی نظام مرتب کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ لیکن ان اصحاب کو یہ پتہ نہیں ہے یا یہ پتہ کرنا ہی نہیں چاہتے کہ قرآن کے ذریعے رب العالمین نے اُن کی عقلی اور شعوری پیاس بجھانے کا خاطر خواہ انتظام کیا ہواہے۔ چاہے وہ عاقل و بالغ چھٹی، ساتویں صدی کے ہوں یا اکیسویں صدی کے۔کیونکہ اب جبکہ انبیاء و رسل کی آ مد کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے چنانچہ اللہ نے نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی رسالت اور آپ ﷺ کے معجزہ یعنی قرآن کو بھی ابدی کردیا۔ اس کے علاوہ انسانیت پر ایک عظیم احسان یہ بھی کیا کہ اس معجزے تک رسائی ہر انسان کو دے دی۔ خاص طور پر امت مسلمہ کا کوئی بھی شخص قرآن کا علم حاصل کرکے اس کی دعوت دنیا تک پہنچا سکتا ہے۔

ہمارے پاکستان کے ایک مذہب اور وحی بیزار طبیعات کے پروفیسر یہ کہتے ہوئے بھی سنے گئے کہ ’’ چونکہ ہر مذہب کے اپنے عقائد ہیں حتیٰ کہ اسلام میں بھی فرقہ پرستی کے مسائل ہیں، فرقے کسی بات پر متفق نہیں ہوتے، چنانچہ سائنس ہی انسانوں کو ملا سکتی ہے اس لیے اجتماعی اور عالمی سطح پر سائنس (عقل) کی جانب ہی سعی اور جدوجہد کرنا چاہیے نہ کہ کسی مذہب کی راہ میں ‘‘۔ آگے کہتے ہیں کہ ’’ ہر مذہب ٹھیک ہے کیونکہ انسان بغیر چوائس اور مرضی کے اس میں پیدا ہوگیا۔ انتہائی کم لوگ ہی اپنا مذہب بدلتے ہیں، سو ہر مذہب اپنے عقائد، عبادات اور رسومات میں ٹھیک ہے۔‘‘ یعنی سائنس کی آڑ میں انسانی عقل بلکہ اصلاً وائٹ اینگلو سیکسن پروٹیسٹنٹ اور یہودی عقل کے اشتراک نے دنیا کو جو اجتماعی نظام (نیو ورلڈ آرڈر) دیا ہے جو عقلِ سلیم سے زیادہ نفس و ہوس پرستی، دولت پرستی، اجارہ داری اور نچلے طبقات کے استحصال پر مبنی ہے اس پر اکتفا کیا جائے اور اسی کی خدمت کی جائے۔ اسلام کی نظام ِ عدل و قسط کی بات بھی نہ کی جائے۔ عقل و شعور کو استعمال کرکے سائنس، اکانومی اور سوشل علوم تو پڑھے جائیں لیکن اسی کو استعمال کرکے صدیوں پرانے ما بعد الطبیعات مسائل کا اطمینان بخش حل نہ ڈھونڈا جائے۔ بہتر اجتماعی نظام عدلِ و قسط نہ تلاش کیا جائے۔

اسی مقام پر یہ بات بھی کر لی جائے تو بہتر ہے کہ کیا وہ سوالات جن کے جوابات ڈھونڈنے میں میں انسان ہزاروں سال سے سرگرداں ہے، کیا سائنس سے ان کا جواب دے دیا ہے؟ سائنس تو انتہائی واضح طور پر کہہ دیتی ہے کہ مابعدالطبیعات سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ اس کا Domain ہی نہیں۔کیا یورپ، امریکہ میں عیسائیت اور یہودیت کو سائنسی اور تاریخی لحاظ سے غیر معتبر ثابت کرنے کے بعد مفکرین، محققین، فلاسفہ اور سائنسدانوں کو اُن سوالا ت کے حوالے سے ذہنی اور شعوری امن و سکون حاصل ہوگیا جن پر عیسائیت و یہودیت بحث کرتے ہیں؟ بلکہ اِس Scientism کی رَو میں آج، جاپان، چین، کوریا بھی بہہ رہے ہیں اور ہندومت، بدھ مت بھی ایک روایت و کلچر ہی بن کر رہ گئے ہیں۔ ان کا ورلڈ ویو تو مادّیت میں کہیں کھو کر رہ گیاہے۔ آج چین، جاپان و کوریامیں عوام کی ایک بڑی تعداد الحاد اور تشکک یا مختلف فلسفیانہ خیالات کے محلول میں زندگی بسر کر رہی ہے۔ دوسری طرف انسان میں اُس عظیم کھوج، اُن انتہائی نا گزیر سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کا اشتیاق، سائنس کے عروج و دوام سے کم نہیں ہوا بلکہ اور بڑھ گیا۔

یورپ امریکہ میں خوشگوار زندگی، خوشی اور اطمینان کی حقیقت، مادّی ترقی و بڑھوتری سے خوشی کا تعلق اور اس کے مقابلے میں خوشی و آسودگی کا تعلق رشتے، ناتوں سے اور سماج کی خدمت سے جانچنے کی باقاعدہ سائنسی کوششیں ہورہی ہیں۔ انتہائی معتبر کیلیفورنیا کی برکلے یونیورسٹی میں باقاعدہ “Science- of- Happiness” کا کورس پڑھایا جا رہا ہے۔ ہزاروں کتابیں لکھی جارہی ہیں۔ لیکن یہ کوششیں بھی اس بات کا جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ انسان زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اس کائنات سے اس کا رشتہ، اس میں اس کی حیثیت کیا ہے؟ اس کا انجام کیا ہے؟ موت دیوار ہے یا دروازہ؟ میں نیکی کیوں کروں؟ عدل کیوں کروں؟ نیکی کرنے میں جسمانی، مالی تکلیف کیوں اٹھاؤں؟ لذت انگیز گناہوں سے کیوں بچوں؟ کیا یہ چیزیں کہیں مجھے دو بارہ دکھائی جائیں گی؟ حساب و کتاب ہوگا؟

افسوس صد افسوس کہ دنیا میں ایک کتا ب ہے جو ان سب سوالات کے جوابات دیتی ہے اور وہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ سچ ہے، حق ہے۔ مزید برآں، اس بات کو جانتے ہوئے بھی کہ ماضی مذاہب کے پیغامات اور کتب میں تحریفات ہوئیں اور ان کو انسانوں نے یادداشتوں کے ذریعے مرتب کیا اور باوجود اس امر کے کہ بعد میں آنے والے سائنسی حقائق نے ان میں تحاریف کا پول بیچ چوراہے پر کھول دیا، یہ کتا ب (قرآن) چیلنج کرتی ہے کہ:

۱۔اس کتاب میں تحریف و اضافہ کر کے دکھاؤ۔
۲۔ اس جیسی دوسری کتا ب لے آؤ بلکہ اس کتاب کی سب سے چھوٹی سورت کے مقابل کوئی کلام لے آؤ۔
۳۔ اس کتاب میں موجود کسی ایک بھی تاریخی اور سائنسی بات کو غلط ثابت کردو۔

یہ کوئی وقتی یا جذباتی دعویٰ نہیں تھا بلکہ اگر سیرت صاحبِ قرآن ﷺ کو پڑھا جائے تو رسول اللہ ﷺ تو اپنے اکمل و کامل کردار و تقویٰ، بے مثل خلوص و استقامت، عقل و شعور میں نہ سمانے والی اختیاری سادگی اور مسکینی کے ساتھ عدیم المثال سخاوت و فیاضی، بے نظیر قربانی اور ایثار اور پھر قرآن مجید کی قلب و جان میں اتر جانے والی آیات اور سلیم الفطرت عقلوں کو پگھلا دینے والے پیغام کی وجہ سے پہلے ہی محبان و جاں نثاران کی وہ جماعت بنا چکے تھے جس نے جزیرہ نمائے عرب کو ہی نہیں بلکہ اس سے باہر بھی ایک تہائی دنیا کو کامل نظام عدل و قسط دیا۔ تو پھر ان سینکڑوں قرآنی آیات کو پیش کرنا جن کا تعلق سائنس سے ہو اور پھر اس پر دعوٰی بھی قائم کرنا ایک خطرہ مول لینے والی بات تھی۔ کیونکہ اگر آپ ایک ہزار مرتبہ ایسی بات کرتے ہیں جس کو سائنسی تجرباتی لحاظ سے غلط ثابت کیا جاسکتا ہو تو آپ کی ہر بات کے ٹھیک ہونے کا چانس نہایت کم رہ جاتا ہے جبکہ ان میں سے کئی بیانات کے متوقع جوابات دو یا تین نہیں سینکڑوں میں ہوں لیکن جیسا اوپر تذکرہ ہوچکا کہ قرآن کوہر زمانے میں مختلف ذہنی ذوق کے انسانوں کے لیے ہر حوالے سے معجزہ رہنا تھا۔

یہ کوئی آج کل کی بات نہیں بلکہ کارل پوپر نے 1935-36ء میں Critical Rationalism کی اصطلاح تجویز کی جس کے تحت اس نے کہا کی سائنسی اور غیر سائنسی (Pseudo-Science) بیانا ت کا فرق بیان کیا۔ اس کے مطابق جب کسی بیان کو غلط ثابت کرنے کا عملی، تجرباتی (Conceivable) امکان موجود ہو تو وہ بیان سائنٹفک بیان ہے۔ کارل پوپر کسی بھی بیان کو روایتی حواس پرستی سے مسترد کرنے کے خلاف تھا اور اسی طرح اس بات کو بھی نہیں مانتا تھا کہ کسی بیان کی حمایت میں بہت ساری مثبت دلیلیں دینے سے اور ثبوت فراہم کرنے سے بھی بیان سائنٹفک ہو جاتا ہے۔ بلکہ پوپر کی نظر میں سائنس اور غیر سائنس میں فرق تب واضح ہوگا جب کسی بیان کو غلط ثابت کرنے کا طریقہ بھی ہو۔ یعنی بیانیہ اس قابل ہو کہ اسے موجودہ سائنسی حقائق یا مستقبل میں کسی قابلِ عمل سائنسی تجربے کی بنیاد پر غلط ثابت کیا جاسکے۔ یہ ایک جرات مندانہ دعویٰ ہوتا ہے جسے اپنے مسترد قرار دیے جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ یہ بات اس بات سے مختلف ہے کہ یہ کہا جائے کہ ایک سینگھ والا گھوڑا دنیا میں موجود ہے کیونکہ یہ غلط ثابت کیا ہی نہیں جاسکتا۔ اس لیے Unicorn کے ہونے کا دعویٰ سائنٹفک نہیں ہے۔ پوپر کہتا ہے کہ سائنسی ذہن کے لوگ ہمیشہ اپنے نظریہ یا بیانیے کو غلط ثابت کرنے کے امکان کو کھلے دل سے ظاہر کرتے ہیں۔ اس پوری تھیوری کو (Falsification Test) کہا جاتا ہے۔

کارل پوپر کا یہ نظریہ اب سائنسی اور غیر سائنسی بیانات کے فرق کو واضح کرنے میں اب Established ٹیسٹ سمجھا جاتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر قرآن طبیعات، حیاتیات، جنینیات، فلکیات، ارضیات حتی کہ بعض مستقبل میں آنے والےواقعات کے بارے میں بھی آیات بیان کرتا ہے اور ساتھ میں چیلنج کرتا ہے۔ کئی واقعات گزشتہ 1400 سالوں میں وقوع پذیر ب بھی ہوچکے ہیں جیسے ابو لہب کا ایمان نہ لانا، رومیوں کا ساتوں صدی کی ایک بڑی جنگ میں ایرانیوں سے جیتنا، فتحِ مکہ، فرعون کی لاش کا دریافت ہونا وغیرہ۔ اس حوالے سے ڈاکٹر ذاکر نائیک کی مساعی اور کوششیں انتہائی قابلِ تعریف ہیں۔ ان موضوعات پر ان کی تقاریر انتہائی مدلّل، جامع اور عقل و شعور کو اُکسانے والی ہیں۔

آخر میں یہی با ت کہوں گا کہ قرآن نے اپنی سینکڑوں عقلی، تجرباتی اور سائنسی آیا ت کو پیش کرکے انسان کو قرآنی ما بعدالطبیعات یعنی عقائد کی دعوت دی ہے۔ ذہنی گتھیوں کا حل ایمان میں دیا، اخلاق اور نیکی کی حقیقت بتائی، توحید، رسول اللہﷺ اور آخرت کے بنیادی عقائدپر استوار اس دنیا کے لیے ایک نظام َ عدل و قسط دیا اور سب سے بڑھ کر انسانی فلاح و کامیابی کا مطلب بتایا۔ ہمیں قرآن تھام کر جدید علوم کو حاصل کرکے انسانیت کو راہِ ہدایت پر لانے کی کوشش کرنا ہے اور اُس سازشی ذہن کو ناکام بنانا ہے جو عقل و شعور، سائنسی فکراور لبرلزم کے نام پر دنیا اور پاکستانی معاشرے خاص طور پر یونیوسٹیز کالجز میں کار فرما ہے۔ محسنِ انسانیتﷺ کی سیرت اور قرآن مجید وہ روشنی کے عظیم مینارے ہیں جو ہمیشہ سلیم عقل و تکبر سے پاک ذہنوں کو منور، متحیر اور متحرک کرتے رہیں گے۔

سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ ۗ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (53) عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیان آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے، کیا یہ بات کافی نہیں کہ تیرا رب ہر چیز کا شاہد ہے۔(حم السجدہ)

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں