220

مغرب زدہ لبرل طبقات کا المیہ (۱) – وقاص احمد

پاکستان میں موجود ہمارے مغرب سے متاثر اور متاثر ہ لبرل سوچ کے حامل دوستوں کی کئی اقسام و طبقات ہیں جیسے ایک تو وہ ہیں جو بعض فنڈڈ این جی اوز کے نمائندہ ہیں، جو نمک حلالی کرتے ہوئے بس کچھ سکھی سکھائی، رٹی رٹائی باتیں کرتے ہیں، مغرب کی تُندوتیز اور ہوش ربا ہواؤں میں اڑتے ہوئے اپنے دلا ئل دیتے ہیں اور بغیر کسی تحقیق ، بغیر کسی علمیت کے اسلامی مؤقف اور دلائل کی مخالفت کرتے ہیں۔ پھر بعض صحافی حضرات ہیں جو چند کتابیں پڑھ کر، یورپ، امریکہ میں زندگی کا کچھ وقت گزار کر یا چند دورے کرکے، اس کے سحر میں گرفتار ہیں۔ دینِ اسلام، شریعتِ اسلامی کے فلسفہ و حکمت پر ان کی معلومات زیادہ تر سنی سنائی یا کچھ مستشرقین کی کتابوں تک محدود رہتی ہے۔ یہ لوگ اسلام اور قرآن سے زیادہ علماء کے کردار اور ان کی سوچ پر بات کرتے ہیں۔ ان دو کیٹیگریز میں ہمارے لبرل جماعتوں کے لبرل سیاستدان بھی شامل ہیں۔

لیکن ایک طبقہ وہ ہے جو کالجز اور یونیورسٹیز میں استاد ہے، عصر ِ حاضر کے جدید علوم سے آراستہ ہے۔ امریکہ اور یورپ سے ڈاکٹریٹ اور ڈگری یافتہ ہے۔ دینِ اسلام، شریعتِ اسلامی کے فلسفہ و حکمت پر ان کی معلومات بھی گو کہ ثانئ الذکر کی طرح ہی ہوتی ہے مگر اسلامی طرزِ فکر اور خاص طور پر اجتماعی نظام کے خلاف ان کے دلائل قدیم و جدید فلسفے، یورپی تحریک تنویر اور اس سے جنم لینے والی تاریخ ، معاشی، سیاسی نظام اور سائنس و ٹیکنالوجی سے مزیّن و آراستہ ہوتے ہیں اسلیے زیادہ توجہ سے سنے اور پڑھے جاتے ہیں۔ انہی دانشوروں، پروفیسروں کے شاگردوں میں جامعات و کالجز کے نوجوانوں کے علاوہ وہ مغرب زدہ لبرل این جی اوز کے نمائندے، صحافی، اینکر پرسن اور سیاست دان ہوتے ہیں جنکا تذکرہ پہلے کیا گیا۔

ان خواتین و حضرات کے بعض عام اور کثرت سے استعمال کردہ دلائل پربات کرنے سے پہلے ایک جملہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ ان سے لاکھ ذہین، سمجھدار اور کچھ دیانت دار تو وہ مستشرقین ہیں جو کم از کم اسلامی طرزِ فکر اور اجتماعی نظام ِ حیات پر نقد و نظر سے پہلے علومِ اسلامی، تاریخِ اسلامی اور ماخذِ شریعت کا خاطر خواہ مطالعہ تو کرتے ہیں اور اس حوالے سے ان کو کوئی چیز عقلی، علمی اور سائنسی بنیادو ں پر اچھی اور متاثر کن لگتی ہے تو اس کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں۔مائیکل ہارٹ، منٹگمری واٹ، گبن، گاندھی، جارج برنارڈ شا، کیرن آرم سٹرونگ کچھ مثالیں ہیں۔ مشہور روسی ناول نگار لیو ٹالسٹائی کہتے ہیں کہ قرآن کا قانون تمام عالم میں پھیل جائے گا کیونکہ یہ عقل و شعور اور منطق سے مطابقت رکھتا ہے۔

سب سے بڑی لیکن بچکانہ غلطی جو ہمارے بعض دانشور، پروفیسر کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ دینِ اسلام کا تجزیہ اور موازنہ یورپ میں عیسائیت کے عرو ج و زوال سے کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جس طرح عیسائیت اور پوپ کو یورپ میں صدی در صدی یہاں تک کہ سترہویں اٹھارہویں صدی تک جو اثر و رسوخ و غلبہ حاصل رہا اور جس طرح ان کا گٹھ جوڑ بادشاہوں کے ساتھ رہا اور پھر جس طرح دونوں نے مل کر اپنے اپنے میدان میں لوگوں کا استحصال اور ان پر ظلم کیا، دینِ اسلام کا بھی یہی ایک طریقہ کار اور Pattern ہے جس کا اسلامی معاشرہ شکار ہے اور اس سے بچنا ضروری ہے۔

ہمارےیہ دوست سمجھتے ہیں کہ جس طرح یورپ میں انسانی، سماجی، سیاسی حقوق کی ترقی، علم وعقل کی بلندپرواز، انسان کا سیاسی ومذہبی اجارہ داری سے آزادی کا عمل تب ہی شروع ہوا جب یورپ نے بتدریج (خاص طور پر اٹھارہویں صدی میں) چرچ اور ریاست کی جدائی کا عمل شروع کیا اسی طرح کے اقدامات پاکستان میں کرنے ہونگے۔ تاریخِ یورپ یہ وہ دور تھا جب آزاد سوچ، تنویریت (Enlightment) اور (Scientific Methodology) کے ذریعے تورا ت اور انجیل کے بعض کا ئناتی، حیاتیاتی، تاریخی دلائل کا سائنسی بنیادوں پر رد ثابت کیا گیا اور اس کے نتیجے میں ان کے آسمانی نہ ہونے کا ٹھوس جواز فراہم کیا گیا۔ جب کتاب مشکوک ہوگئی تو پھر کلیسا کے سارے عقائد اور تعلیمات پر نہ صرف تردّد اور شک پیدا ہوگیا بلکہ نفرت اور حقارت کے جذبات بھی پیدا ہوئے۔ ماضی میں برٹرینڈ رسل اور موجودہ دور میں رچرڈ ڈاؤکنز، سام ہیرس کی کتابیں ان جذبات کی تازہ مثالیں ہیں۔ نتیجتاً تورات و انجیل کی اخلاقی اور روحانی تعلیم کی بھی کوئی وقعت، اہمیت و ضرورت نہ رہی۔ ہاں اتنی اجا زت دے گئی کہ عقائد، عبادات و رسومات کو انسان کا ذاتی انتخاب و پسند قرار دیکر اجتماعی معاملات میں مذہب کو سزا کے طور پر بالکل الگ کردیا گیا۔

ہمارے بعض پاکستانی ڈاکٹرز، فلاسفہ، دانشور بھی اسی نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دبے چھپے لفظوں اسلام وقرآن کے بارے میں انہی باتوں کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ مجرمانہ سادگی میں یہ بھول جاتے ہیں کہ عقلی و تنویری دو ر میں جن مسائل کا سامنا یورپ میں عیسائی مذہب اور مذہبی پیشواؤں کو کرنا پڑا اس کا عشر و عشیر بھی اسلام اور اسلامی رہنماؤں، اماموں کو نہیں کرنا پڑا۔ یورپ میں سائنسدانوں اور فلاسفہ نے ایک منظم انداز میں مختلف علمی محاذوں سے حملے کرکے پہلے سے ہی تحریف شدہ تورات اور بائبل میں درج علمی اور خاص طور پر سائنسی معلومات کا سائنسی بنیاد پر رد کیا جس نےان عیسائیت اور یہودیت اور ان کے علماء، راہبوں کی علمی بنیادیں ہلا دیں اور مذہب بیزاری اور نفرت کی سوچ کی ابتداء ہوئی۔ سائنسی ترقی نے تورات اور انجیل میں تحاریف کا پول کھول کر رکھ دیا جس نے پوری کتاب کو ہی مشکوک بنا دیا۔ اس کے بعد تو سیلاب نے سارے بندتوڑ دیے۔ انتہا پسند فلسفی، سائنسدانوں، دانشوروں نے الحاد کو منزل بنایا جبکہ اس سے کم سطح کے لو گوں نے تشکیک و تشکک کی راہ اپنا ئی۔

واضح رہے یہاں تورات اور انجیل کے اُن نکات اور واقعات کی بات قطعا ً نہیں ہورہی جس کو خود ان کتابوں نے معجزہ کہا۔ کیونکہ اس کا جواب تو یہی ہے کہ انسانی عقل کو عاجز کرنے والی چیز کو ہی معجزہ کہا جاتا ہے جو انبیاء علیہ السلام اپنی حقانیت ثابت کرنے کے لیے پیش کیا کرتے تھے چونکہ ان معجزوں کا ظہور اب نہیں ہوسکتا اس لیے اس موضوع پر عقل پرست بلکہ حواس پرست لوگوں سے بات کرنا فضول ہے۔ یہاں بات ہماری کائنات، ہماری زمین، ہمارے جسم وغیرہ کے بارے میں بیان کردہ حقائق کی ہورہی ہے جن کو وقتاً فوقتاً سائنس کی ترقی نے واضح سے واضح تر کیا۔

اسلام اور قرآ ن کی علمیت کو سابقہ مذاہب اور کتب کا ہی تسلسل قرار دینے والے ہمارے مجرمانہ غفلت کا شکار دوست ساتویں صدی عیسوی سے تیرہویں صدی عیسوی تک مسلمانوں کے علم اور سائنس کے عروج کا اعتراف تو کرتے ہیں وہ بھی اکثر یاد دلانے پر(تاریخی حقیقت کی وجہ سے)۔ جب عرب، افریقہ، وسطی اور جنوبی ایشیا میں عباسی خلافت اور سپین میں اموی خلافت میں معاشرہ بھی ٹھیٹھ اسلامی تھا، شریعت بھی نافذ تھی۔ اللہ رسول ﷺ پر ایمان، اللہ کے مسبب الاسباب ہونے کا عقیدہ ان کے جستجوِ علم میں قطعاً حائل نہیں ہوا۔ لیکن ہمارے دوست اس کا منبع و سر چشمہ قرآن و سنت کو کہتے ہوئے شرماتے ہیں بلکہ بعض دفعہ ڈھٹائی کا بھی مظاہرہ کرتے ہیں۔

اس پورے علمی خزانے پر جس پر یورپ کے جدید علمی عمارت کی بنیاد رکھی گئی اس کی Inspiration صرف اور صرف قرآن مجیدہے جو رسول اللہ ﷺ کے ذریعے مسلمانوں کو حاصل ہوا۔ اب اگر آج امّت کا حال برا ہے، تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے، جس میں حکمران و عوام دونوں شامل ہیں تو امت پر تنقید کریں اس کی آڑ میں پاکستان کے برٹرینڈ رسل اور رچرڈ ڈاکنز بننے کی کوشش نہ کریں۔ یورپ و امریکہ کی مذہب بیزاری کی تاریخ کو اسلام سے گڈمڈ نہ کریں۔ (فرقہ واریت کے حوالے سے ہمارے مسائل کچھ اور ہیں۔ اس پر بعد میں بات ہو سکتی ہے)

ابھی کچھ دیر پہلے معجزات کی بات ہو رہی تھی، ہمارے اباحیت پسند اور تشکک کا شکار نفوس، پرچار تو عقل و شعور کا کرتے ہیں لیکن مباحث میں دور ِ جاہلیت کے لوگوں کی طرح حواس کو مطمئن کرنے والی نشانیاں اور Evidence مانگتے ہیں۔ ان کی نظر میں سائنس نے ہر اس بات کا جواب دیدیا ہے جس کو مذہب خدا کا اختیار و طاقت کہتا ہے۔حا لانکہ سائنس کی طرف واضح اشارے بلکہ اس کا حکم تو خود قرآن نے ہی دیا۔ قرآن کو پا تے ہی علم وفن کی ترقی میں مسلمان کہاں سے کہاں پہنچ گئے یہ ہم جانتے ہیں۔ سائنسدان “سبب اور نتیجہ” کے سلسلوں میں بھی ایک حد تک پہنچنے کے بعد فلسفوں اورنظریات کا ہی سہارا لیتے ہے۔ جیسے مشہورِ زمانہ سٹیفن ہاکنگ نے اس کا اظہار اپنی کتاب The Grand Designمیں سائنسی باتیں کرتے کرتے فلسفہ ٹھوکا کہ کائنات خود اپنے آپ کو پیدا کر سکتی ہے۔ ڈارون تھیوری پر یورپ کے خالص اکیڈمک حلقوں میں بے انتہا تنقید اور مسائل کی نشاندہی کی جاتی ہے، کتابیں لکھی جاتی ہیں اور جب انہی نظریات پر جب سائنسی بنیادوں پرہی تنقید ہوتی ہے تو وہ مین سٹریم میڈیا پر نہیں دکھائی جاتی۔ پاپولر میڈیا صرف یک طرفہ تحقیقات دکھاتا ہے۔ کیا یہ معلومات کی آزادی ہے ؟کیا یہ لبرلزم ہے؟ سائنس کے نام پر الحاد کا فلسفہ پھیلایا جاتا ہے۔

اب میں یہاں کوشش کرتا ہوں کہ پاکستان میں پائے جانے والے اباحیت پسند، تشکک میں مطمئن، وحی اور شریعت بیزار دانشوروں، مفکروں اور سائنسدانوں کے عقائد کیا ہیں۔ کیونکہ کسی بھی مذہب اور آسمانی کتاب کی حقانیت پر یقین نہ رکھنا خود اپنے اندر بہت سے عقائد اور تیقن رکھ سکتا ہے۔ ایک دو باتیں اوپر آچکی ہیں یعنی ’’ قرآن اتنی ہی سائنس کی حوصلہ افزائی کرنے والی کتا ب ہے تو اس کو پڑھنے والے آج سائنس میں اتنا پیچھے کیوں ہیں؟ دنیا میں سائنس کی تحقیق میں مسلمانوں کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ کیوں بارہویں تیرہویں صدی عیسوی کے بعد کوئی مسلمان سائنسدان نامور نہ ہوسکا؟”

اس پر اوپر بات ہوچکی ہے کہ اس کا تعلق قرآن کے عظمت اور حقانیت سے کہاں ہے؟ کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ قرون وسطیٰ میں جب دین و دنیا کے علوم کا دارالعلوم، بیت الحکمہ، جامعات میں انظمام تھا، شریعت بھی نافذ تھی۔ لوگ عام نما زیں بھی جمعے کی نماز کی طرح پڑھتے تھے تب تو مسلمان دنیا میں سائنس، ریاضی، جسمانی، حیاتیاتی علوم کے امام تھے۔

دوسری بات جو کہی جاتی ہے وہ یہ کہ ” قرآ ن پر جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اسے کتاب الٰہی کہتے ہیں، تو ضرور ایمان رکھیں لیکن قرآن میں موجود سینکڑوں سائنس سے متعلق ا ٓیات کو سائنس میں پرکھنے کی کوشش نہ کریں۔ یہ کرنا بے کار ہے۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ ایک خطرناک عمل ہے۔ اس سے مذہب کو معاشرت، معیشت اور خاص طور پر سیاست میں مداخلت کا موقع ملتا ہے۔ جو کہ نہیں ہونا چاہیے”

تو کہیں اصل مسئلہ قرآن میں موجود آفاق اور انفس کے متعلق آیات کو میسّر سائنسی علم کے مطابق سمجھنے (حتیٰ کہ جانچنے) کے بجائےکہیں یہ مسئلہ تو نہیں کہ ان مباحثوں میں آیات کی حقانیت ثابت ہوجانے سے قرآن حکیم کے دوسرے احکامات کی بھی حجت لبرل طبقات میں واضح اور ثابت نہ ہوجائے۔

یہاں یہ لوگ کسی قرآن کی آیت کا حوالہ نہیں دیتے جو ان کے نزدیک اب تک کی سائنسی معلومات سے متعارض ہو۔ ( ہوسکتا ہے پاکستانی ماحول بات کرنے سے ڈرتے ہوں) بلکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ قرآن کے متعلق ان کی معلومات انتہائی معمولی درجے کی ہوتی ہے۔ اس حوالے سے ان پروفیسرز، ڈاکٹرز اور دانشوروں کے اندر علمیت، کوشش کی حد تک بھی محسوس نہیں ہوتی ہا ں البتہ اس بات پر ان کی ریسرچ پوری ہوتی ہے کہ کس عالم نے اپنی کتاب، اپنی تفسیرمیں، اپنی تقریر میں، کس سنہ میں کس مقام پر کسی آیت کی تشریح میں موجودہ مروجہ سائنس کے خلاف با ت لکھی یا کہی؟ کس نے اسپیکر کو حرام قرار دیا؟ زمین کو ساکت کہہ دیا، جینیات کے متعلق غلط بات کہہ دی؟ جنینیات (Embryology)کے عمل میں غلط رہنمائی کردی؟ اور اسی بنیاد پر ہمارے یہ دانشور سائنسدان علمی بددیانتی سے کام لیکر قرآن کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انتہائی عقلمند اور سائنس میں بال کی کھال نکالنے والے یہ ذہین سائنسدان اس بات پر غور کرنے کو بھی تیار نہیں ہیں کہ کس طرح قرآن 1400 سال سے لفظاً لفظًا محفوظ ہے اور اسلام کے تمام فرقوں میں متفق علیہ ہے۔ کیا یہ سائنٹفک لیول پر معمولی بات ہے؟ کیا یہ عام سی بات ہے کہ اس کے لفظاً مخفو ظ ہونے، بے انتہا پڑھے جانے اور اس پر بے شمار کتابیں تفاسیر لکھی جانے کی وجہ سے عربی بھی زندہ زبان ہے۔ اب کسی بھی آیت جو کسی سائنسی موضوع سے متعلق ہے اس کا تجزیہ عربی لغت سے کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ اکثر سائنس سے متعلق آیت کی تشریح وتفصیل سنت و حدیث میں نہیں ملتی (قرآن کا موضوع سائنس نہیں، انسان کی ہدایت ہے اور اس ہدایت کے لیے قرآن مختلف انواع کی نشانیاں بیان کرتا ہے۔ لوگوں کی مختلف ذہنی سطح، علمی رجحان و ذو ق کے مطابق ان کو متاثر اور رہنمائی کرتا ہے۔ ) تو اس آیت کی تشریح موجودہ سائنسی علوم و حقائق کی رُو سے کی جاسکتی ہے۔ مختلف زمانوں میں اسلامی اسکالرز، علماء اس حوالے سے کوشش کرتے رہے ہیں اور سمجھنے میں غلطی کر سکتے ہیں لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ تو وہیں اپنی جگہ موجود ہیں اور عربی زبان اور لغت بھی حاضر ہے۔تو اس کی تشریح صحیح سےصحیح تر انداز میں بغیر کسی کھینچ تان کے کی جاسکتی ہے۔ ہاں جہاں قرآن کسی چیز کو معجزہ کہہ رہا ہے یا عالمِ غیب کی شے بیان کر رہا ہے تو پھر کسی سائنسی تاویل کی ضرورت نہیں رہتی اور نہ کسی کھینچ تان سے امت کی خدمت ہوتی ہے جیسی کوشش خوامخواہ بر صغیر کے ایک بڑے رہنما نے کی۔ اسی طرح کچھ دینی مذہبی رجحان والے سائنسدان عالم امر کی حقیقتوں کے سائنسی جوابات دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ فرشتے کس رفتار سے سفر کرتے ہیں، دوزخ کی آگ کا درجہ حرارت کیا ہوگا وغیرہ۔ ان چیزوں میں تحقیق کرنے سے احتراز کرنا چاہیے کیونکہ انہی چیزوں پر ہمارے لبرل دانشور سائنسدان دین و مذہب کو طنز کا نشانہ بناتے ہیں۔

قرآن کی وہ آیات جو سائنسی مضامین سے متعلق ہیں ان کو دنیا کے سامنے پیش کرنا بہت ضروری ہے۔ یہ بات کہ 1400 سال پہلے ان حقا ئق کا علم نبی امّی حضرت محمد ﷺ کو کیسے ہوا؟ بلکہ اُس زمانے کے عرب کے خاص غیر سائنسی و علمی ماحول میں دنیا کے سامنے پیش کی جانے والی دس بیس نہیں سینکڑوں آیات میں سے اگر آج ایک بھی آیت سائنسی لحاظ سے غیر متعلقہ نہیں ہے تو ایک غیر مذہب، لا مذہب عقل کو بھی سوچنا چاہیے کہ اس کتاب کو سنجید ہ لیا جائے پر مکمل ہدایت کی نیت سےاسے پڑھا جائے۔ ماضی میں کئی غیر مسلم مگر سلیم الفطرت سائنسدان قرآن کی ایک دو مقامات کو ہی پڑھ کر مبہوت رہ گئے اور حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔

(جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں