108

مغربی فکر اور پروفیسر محمد دین جوہر – محمد طیب سکھیرا

یہ ستمبر 2015 کی بات ہے، ان دنوں ہم بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں ایم فل کررہے تھے ۔ یونیورسٹی کے شب و روز ہوں تو سیمینار چلتے ہی رہتے ہیں۔ خصوصاً ” اجتہاد ” کا موضوع تو ایسا دکھتا ہوا موضوع ہے کہ ہر تجدد پسند اس پر طبع آزمائی کا خواہش مند ہوتا ہے کہ اسلام کے احکام بارے رائے زنی کا کچھ تو موقع اس کو بھی میسر آئے۔ جسے گھر میں کوئی پنکھا بھی چلانے نہیں دیتا وہ بھی اسلامی فکر و احکام پر طبع آزمائی کرنا چاہتا ہے۔

انہی دنوں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اور بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامیہ کے اشتراک سے ” اجتہاد اور اس کی معاشرتی ضروریات ” کے عنوان سے ایک دو روزہ سیمینار ہوا۔ دو دن تجدد پسندانہ ذہنیت سے مرعوب مقررین جمود کا ذمہ دار مولویوں کو قرار دیتے رہے اور ہر کس و ناکس کو اجتہاد کی اجازت دینے پر بزور مصر رہے، ساتھ ہی ساتھ مغرب کی ترقی کے قصائد بھی پڑھتے رہے کہ کس طرح مغرب نے مذہب کے جمود کو توڑ کر ترقی کی معراج حاصل کی۔

ان مقررین کو مغرب کا نام اس ادب سے لیتے دیکھ کر ہمیں یہ ادراک ہوا کہ مرعوبیت کس قدر خطرناک بلا ہے کہ وہ کس طرح ایک سمجھدار آدمی کی ” مت ” ماردیتی ہے۔ اچھے بھلے لوگوں کو دیکھتے ہوئے ہم انگشت بدنداں تھے کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی؟

آخری سیشن تھا، پروفیسر محمد دین جوہر صاحب کو آخری تقریر کے لیے بلایا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب سیمینار کا ایک ٹیمپو بن چکا تھا کہ معاشرتی ترقی کے لیے اجتہاد کی شرائط کو پس پشت ڈال کر مغربی جدت سے ہم آہنگ ہونا ازحد ضروری ہے اور ” مذہبی جمود ” کے چولے کو تو اتار ہی پھینکنا چاہیے کہ یہی ترقی کی راہ میں اصل رکاوٹ ہے۔ اسی اثناء میں آخری مقرر جناب پروفیسر محمد دین جوہر صاحب ڈائس پر تشریف لائے۔ ان کی سب سے پہلے جو بات بھلی لگی کہ جس موضوع پر ان کو کمانڈ نہیں تھی، اس بابت اپنی لاعلمی کے اظہار میں ان کو کوئی باک نہ تھا۔ انہوں نے بہت کھلے پن سے ” اجتہاد ” کی بابت گفتگو سے معذرت کا اظہار فرمایا کہ میں اپنے آپ کو اس کا اہل نہیں سمجھتا۔ مزید یہ بھی فرمادیا کہ اجتہاد کا موضوع ایک اہم اور پیچیدہ موضوع ہے، اس پر گفتگو ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے (شاید مجھ ایسا مقرر ہوتا تو اپنی علمیت کی دھاک بٹھانے کے لیےموضوع سے مناسبت نہ ہونے کے باوجود خوب زور و شور سے تقریر کرتا) ۔

سیمینار کا چونکہ آخری سیشن چل رہا تھا اور نتیجتاً سامعین میں ایک مضبوط رائے بن چکی تھی کہ اجتہاد کے آپشن کو استعمال کرتے ہوئے اسلامی احکامات کو مغرب اور سائنس کے مزاج کے مطابق کیا جائے تاکہ ہمارے ہاں بھی مغرب کی مانند ترقی کا دھارا رواں ہوسکے۔ اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے جوہر صاحب نے اسی موضوع پر کھل کر گفتگو فرمائی۔

مغرب سے نفرت تو ہم پچھلے بیس سال کے ہر مذہبی و سیاسی بیانیے میں سنتے آرہے تھے لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ ” مقدمہ مغرب ” ذاتی مطالعے کے بجائے کسی دنیاوی تعلیمی پس منظر کے شخص سے مدلل اور معتدل انداز سے سننے کا موقع میسر آرہا تھا۔ اختلاف اور نفرت میں باریک سا فرق ہوا کرتا ہے پروفیسر محمد دین جوہر صاحب کی گفتگو میں مغربی فکر سے اختلاف تو تھا لیکن نفرت کا شائبہ تک نہ تھا۔ ان کی گفتگو بڑی شستہ اور دلائل سے بھرپور تھی انہوں نے مغرب کی ترقی پر چار حرف بھیجنے کے بجائے مغرب کی فکری اساس پر سیر حاصل گفتگو فرمائی۔ اس دوران پروفیسر محمد دین جوہر صاحب ” مغربی مرعوبیت ” سے کوسوں دور کھڑے نظر آئے۔ جہاں انہوں نے مغرب کے کچھ اقدامات کی تعریف کی وہیں مغرب کے چہرے پر پڑے دبیز نقاب کو ہٹا کر سامعین کو مغرب کا اصل چہرہ دکھایا کہ وہ مغرب جو ساری دنیا میں ” حقوق انسانیت ” کا ترجمان ہے وہ ” سرمایہ دارانہ سفاکیت ” میں کس مقام پر کھڑا ہے کہ جہاں مغرب کا معاشی مفاد نہ ہو وہاں انسانی حقوق کس دام بکتے ہیں؟

ساتھ ہی ساتھ ایک اہم فکری بات کی طرف توجہ دلائی کہ اسلام کی آفاقی سوچ اور مغربی سوچ کا موازنہ کیا جانا بہت ضروری ہے کہ اسلام دوسروں کو معاشی سہارا دینے اور کمزوروں کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کرتا ہے اور معاشرے کے کمزور طبقات کا سب سے پہلے خیال کرتا ہے اور مادہ پرستی کے بجائے انسان اور انسانیت کی وقعت پر زور دیتا ہے جبکہ مغرب اور اس کے سرمایہ دارانہ نظام میں مادہ پرستی کی ایک ایسی دوڑ ہے کہ مغرب میں کسی کی گردن پر پاؤں رکھ کر بھی ترقی ممکن ہو تو اس سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔

ایک خاص بات یہ تھی کہ جوہر صاحب نے مشہور بیانیے کی طرح مغرب کو برا بھلا کہنے کی بجائے سامعین کو ” مغربی مرعوبیت ” سے نکالنے کی سعی کی کہ مغرب کی مرعوبیت سے نکلنا کس قدر ضروری ہے اور مرعوبیت سے نکلے بغیر آپ غیر جانبدار ہوکر ” مغربی فکر ” کا تجزیہ اور محاکمہ نہیں کرسکتے مغرب کی خرابیوں اور بے راہ روی سے متعلق ان ایک بات بہت دل کو لگی کہ اس بابت مغرب نے کوئی نیا کام نہیں کیا بلکہ جن جاہلانہ رسومات اور آلائشوں کو حضور صلی اللہ علیہ السلام نے چودہ سو سال پہلے عرب کی مٹی تلے دفن کردیا تھا، مغرب نے انہی متعفن آلائشوں کو زرق برق لباس پہنا کر دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ مغربی جوا خانے، شراب، زنا، سود اور دیگر معاملات اس کی مثال ہیں۔ ایک اور بات فرمائی کہ مغرب کے اصل چہرے کو دیکھنے کے لیے “دی اکانومسٹ ” کو ضرور پڑھنا چاہیے کہ وہ مغرب کا نمائندہ ہے اور وہی مغرب کی پالیسی اور کلچر کھل کر بتاتا ہے کہ مغرب کی آئندہ سمت کیا ہوگی؟ اس لیے مغربی فکر کے مقابل کام کرنے والوں کے لیے ” دی اکانومسٹ ” کا مطالعہ ازحد ضروری ہے اور بھی بے شمار قیمتی باتیں تھیں جو صحیح ازبر نہ ہونے کے سبب نقل نہیں کرپارہا۔

بہرحال، جناب محمد دین جوہر صاحب کی ” مغربی فکر ” کی بابت مبنی بر اعتدال باتیں سن کر بہت اچھا لگا کہ کوئی تو ہے جو اس بہتے سیلاب کے مقابل بڑے طمطراق سے کھڑا ہے۔ جوہر صاحب کی یہ باتیں دلائل سے بھرپور تھیں گویا اجتماع کا سارا ٹیمپو ہی ٹوٹ چکا تھا اور دو دن کی محنت غارت ہوگئی تھی۔

پروفیسر محمد دین جوہر صاحب میں ایک چیز بہت جداگانہ نظر آئی کہ وہ روایت پسندی اور جدت پسندی کا حسین امتزاج تھے۔ ان کی تمام گفتگو شستہ، باوقار اور دلیل کی مکمل طاقت لیے ہوئے تھی۔ یہ سب باتیں اس لیے لکھنا پڑیں کہ آج کچھ پوسٹوں پر کئی شاہین پروفیسر محمد دین جوہر صاحب کو متعصب اور شدت پسند ثابت کرنے پر مصر نظر آئے۔ سچ پوچھیے تو جو لوگ ” مغربی مرعوبیت ” کا چولہ اتارنے پر آمادہ نہیں انہیں جوہر صاحب جیسے شخص کیونکر معتدل نظر آئیں گے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں