166

مغربی تہذیب سے مرعوبیت کی المناک روش – عادل لطیف

موجودہ دور میں مسلم معاشروں کے اہل ثروت افراد پر اپنی اولاد کے مادی مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے انہیں مغرب کے پروردہ سیکولر اور ملحدانہ نظریات کے حامل تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوانے کا جنون سوار ہے. وہ سمجھتے ہیں کہ مغرب کے اعلی تعلیمی اداروں کی ڈگری سے انہیں اپنے ملک میں بہتر سے بہتر ملازمت ملنے میں آسانی پیدا ہوگی. مسلم امت کے خوشحال افراد کا یہ رویہ اپنے جگر گوشوں کو مغربی فکر اور مغربی تہذیب کی گود میں ڈالنے کے مترادف ہے. پاکیزہ نصب العین سے محروم نظام تعلیم سے نکلنے والے افراد اس دشمن سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتے ہیں، جو جدید اسلحہ جات سے ملک وقوم پر حملہ آور ہوتا ہے.

فقیر کی نظر میں اہل ثروت کے اس رویے سے مسلم معاشرے میں بہت سی ایسی خرابیاں پیدا ہورہی ہیں، جن کی وجہ سے مسلم معاشرے کا نوجوان عضو معطل بن کر رہ گیا ہے. ان میں سے چند یہ ہیں.

(1) مغربی تہذیب اسلامی تہذیب کے بالکل مد مقابل ہے، وہ اسی دنیا کو سب کچھ سمجھتی ہے، دین ومذہب کو مسترد کر کے زندگی کے سارے فیصلے ناقص عقل کے ذریعے ہی کرنا چاہتی ہے. مغرب کے اعلی تعلیمی اداروں سے تعلیم پانے والی نوجوان نسل زندگی کے بارے میں مغرب کے اس نکتہ نگاہ کو صحیح سمجھنے لگتی ہے اس طرح وہ بظاہر مسلم معاشرے کا حصہ ہوتی ہے، لیکن ذہنی وفکری طور پر مادہ پرست مغربی تہذیب اور اس کی مادی فکر کی علمبردار بن جاتی ہے.

(2) خالی ذہن اور غیر تربیت یافتہ نوجوان جب مغرب کے اعلی تعلیمی اداروں میں تربیت پاتے ہیں، تو اس کا لازمی نتیجہ(جو عام طور پر نکلتا ہے) وہ یہ ہے کہ اپنی پاکیزہ تہذیب پر ان کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے، مغربی تہذیب سے مرعوبیت اور اہل مغرب کا مہذب ہونا ان ناپختہ ذہنوں میں رسوخ حاصل کر لیتا ہے، وہ ذہنی طور پر مغرب کے ہی ہو کر رہ جاتے ہیں، وہ زندگی بھر اہل مغرب کے گن گاتے ہیں، اور ان کی ذہنی وفکری غلامی سے کبھی آزاد ہی نہیں ہو پاتے.

(3) مغربی اعلی تعلیمی اداروں کی ڈگریاں ہماری نوجوان نسل کے لیے زندگی نہیں بلکہ موت کا پروانہ ہیں. دنیا کے چند دنوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کی امید پر اپنی اولاد کی دائمی زندگی کو داؤ پر لگانا، مادہ پرستی پر مشتمل تہذیب کو مستحکم کرنے کا ذریعہ بننا بہت نقصان کا سودہ ہے، بلکہ سب سے بڑا خسارہ ہے. اس طرح مسلم معاشرے کے خوشحال افراد اپنی اولاد کو غیر شعوری طور پر مغرب کی مادہ پرست تہذیب کے حوالے کرنے کے ذمہ دار بن جاتے ہیں، اس گناہ کی وجہ سے وہ آخرت میں اللہ کے عتاب سے بچ سکیں مشکل ہے.

(4) مغرب کے اعلی تعلیمی اداروں کے سامنے مادہ پرستی اور دنیاوی مستقبل کو بہتر بنانے کے سوا کوئی مقصد پیش نظر نہیں ہوتا، اس لیے ان تعلیمی اداروں سے نکلنے والے افراد تجارت کا رخ اختیار کریں یا سیاست کا، وہ جس شعبے میں جاتے ہیں، وہاں دولت کمانے کے جنون اور زندگی کو عیش وعشرت کے ساتھ گزارنے کی حسرت کا باطل نصب العین ہی ان کا اوڑھنا بچھونا بن جاتا ہے. اس طرح کے نظام تعلیم سے نکلنے والے افراد دولت کی خاطر ملک وقوم کو بیچنے ہی کا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں.

(5) قرآن کریم نے یہ اہم نکتہ واضح فرما دیا ہے کہ ظالم قوموں کی طرف جھکنے کے نتیجے میں آگ کی لپیٹ سے بچنا ممکن نہیں. ظالم اور مادہ پرست قوموں کے مظاہر زندگی اور طرز زندگی سے نفرت کے بجائے ان سے دل بستگی اور ان پر فریفتگی کا لازمی نتیجہ دل روح اور نفسیات کا آگ کی لپیٹ میں آجانا ہے جہنم کی آگ سے پہلے اس دنیا میں بھی یہ آگ چھوئے بغیر نہیں رہ سکتی.

مغربی تہذیب کی طرف جھکنے کا یہ انجام ہے تو جو شخص مسلمان ہوتے ہوئے اس بدبو دار تہذیب جس کی بنیاد سیکولر نظریات پر ہے اور اس کی انتہاء الحاد ہے، اس کو دل وجان سے قبول کر لے اس سے اللہ تعالی کس طرح انتقام لیں گے الامان والحفیظ.

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں