168

مغربی “ترقی” کی قیمت- صابر علی

اگر مغرب نے ترقی کرلی ہے ، تو اب مغرب کے پاس ؛
ماں ، باپ ، بہن ، بھائ ، کزن ، ماموں ، ممانی ، چچا ، چچی ، تائ ، تایا ، خالو ، دادا ، دادی ، نانا ، نانی ، پھوپھا ، پھوپھی ، سماجی تعلقات ۔۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں ۔۔۔۔!

باپ کا نام تک نہیں جانتے ۔۔۔
کوئ مر جائے تو ہمارے یہاں سینکڑوں لوگ رو رو کر ہلکان ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔ الحمدللہ

یورپ و مغرب میں کوئ مرے تو کون روتا ہے پیچھے ؟
کون ہوتا ہے بعد میں یاد کرنے والا ؟

مذہب ، اقدار ، روحانیت ، سادگی ، متانت ، سنجیدگی ، غیرت و حیا و شرم و تمیز و عزت و عصمت و عفت و پاکیزگی و بزرگی و عبادات و صبر و شکر و تحمل و تقوی و ایمان و اسلام ۔۔۔ آخر کون سی نعمت ہے ان کے پاس ؟؟

آپ کو بھی ترقی چاہئے !!؟
لیکن ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے بھائ جان !

وہ قیمت ادا کئے بنا کوئ چیز نہیں ملا کرتی ،
مغرب و یورپ نے قیمت ادا کی ۔۔۔۔ اور وہ ترقی کرگیا !

اس نے تین صدیوں میں 15 کروڑ انسان قتل کر ڈالے ، انہوں نے پوری دنیا سے لوٹ مار کی ۔۔۔۔

کوئ جھجھک تک نہیں آڑے آنے دی ، اس نے نئ سوچا کہ دنیا پلٹ کر ایک دن بدلے لے گی ، انہوں نے نئ سوچا کہ دنیا کیا کہے گی ۔۔۔!!

تو وہ ترقی کر گئے ۔۔!!!

لہذا انہوں نے ترقی ”کیسے” کی ۔۔؟
یہ ضرور معلوم ہونا چاہئے

اور اسی طرح ہر چیز کا ایک نتیجہ بھی ضرور ہوتا ہے ،
انہوں نے نتائج بھی بھُگتے ۔۔۔!!
نتائج کو بخوشی قبول کیا ۔۔!!

ترقی ہر اجتماعیت توڑ کر Individualism پیدا کر دیتی ہے ،

ترقی کا لازمی نتیجہ ؛
اکیلا پن و تنہائ و انفرادیت کے علاوہ اور کچھ ہے ہی نہیں !
خاندانی نظام ، معاشرت و سماج بالکل ختم ہوتا جاتا ہے !

ایک ریاست ہوتی ہے اور ایک آپ ہوتے ہو ،
ریاست چھ ہزار قوانین بنا کر آپ کو آزادی عطا کر دیتی ہے ،
کمانے اور خرچ کرنے کے سوا کسی شے کا نام آزادی ہے ہی نہیں ۔۔!!

مغرب و یورپ کا فرد لاکھ قوانین کی پابندیوں میں بالکل تنہا جیتا ہے !
وہ 24 گھنٹے مارکیٹ کا غلام ہے ، وہ ووٹر ہے اور ریاست کے ہزاروں قوانین و ضابطوں کا پابند ہے !

اس کے علاوہ مغرب و یورپ کے انسان کی اوقات و حیثیت ہی کیا ہے ؟؟

لیکن اس نے ترقی کے اِس رزلٹ کو ہنسی خوشی تسلیم کیا ہے !

جن معاشروں میں جتنی آزادی ہے ، اتنے ہی زیادہ وہاں قوانین ہیں !!
کیونکہ آزادی ہی اصل و حقیقی اور سب سے بڑا جبر ہے !
ہر شخص دوسرے کا کچھ نہیں لگتا ہوتا ، ہر کوئ وہاں دوسرے کیلئے Other کی حیثیت رکھتا ہے ، ہر کسی کو دوسرے سے خطرہ ہوتا ہے ، لہذا رشتوں و فیملی یونٹ کے کیسز بھی عدالتوں میں جاتے ہیں ،
آج مغرب میں بیٹا ماں پر اور بیوی خاوند پر اور بیٹی باپ پر کیس کر رہی ہے !

ترقی یافتہ معاشروں میں واش روم بھی محفوظ نہیں رہے ، کمروں کی آنکھ ہر جگہ ، ہر فرد کے سر پر ہے !

کیا آپ تیار ہیں ایسی جبر کی زندگی جینے کیلئے ؟؟
آپ کو شائد اندازہ نہیں کہ ترقی کس یاجوج ماجوج شے کا نام ہے !

یہ انسان کا کچھ نہیں چھوڑتی ،۔۔۔۔
اور یہ ایسے ہی نہیں نصیب ہوجاتی ۔۔۔!!

سوال یہ ہے کہ ؛
ایک حقیقی مسلمان رشتوں کو توڑ کر ، خاندانی نظام پاش پاش کرکے ، بیٹیاں اور بہنیں لٹا کر ،۔۔۔ مذہب کو لات مار کر ، اپنی اقدار و تہذیب کو چھوڑ کر ، آخرت بھُلا کر اور ہمیشہ کی زندگی کا ستیاناس کرکے ۔ زندگی جی سکتا ہے ؟؟

مسلمان کی طبیعت و مزاج و فطرت و سوچ و نظریہ و عقیدہ اور ایک آزاد فرد کی طبیعت و مزاج و فطرت و سوچ و نظریہ و عقیدہ ؛ قطعی مساوی و مماثل و مشابہ و مشترک و مترادف نہیں ہیں !!

مسلمان کا مقصدِ زندگی اور کافر کا مقصدِ زندگی ۔۔۔ ایک ہو ہی نہیں سکتا !

مسلمان کی محنت و لگن و تڑپ و جدوجہد و کوشش و سرگرمی و طرزِ زندگی اور کافر کی محنت و تڑپ و لگن و جدو جہد و کوشش و سرگرمی و طرزِ زندگی میں زمین آسمان کا فرق ہے ، اور یہ فرق ہمیشہ رہے گا ،

مسلمان کی راہ و منزل اور کافر کی راہ و منزل Same نہیں ہوسکتے !!

انعام یافتہ اور مغضوب و ضالّین کسی بھی طرح ایک ۔۔ یا ایک جیسے نہیں ہوسکتے ۔

چنانچہ آپ (صلّی اللہ علیہ وسلم) نے فرما دیا ؛
مَن تشبَّہ بقوم فھو مِنہُم

مفہوم ؛
جو مسلمان جس جیسا بننے کی کوشش کرتا مرے گا ، قیامت کو اُسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور اُسی کیساتھ اس کا انجام ہوگا

اللہم الھدنا الصراط المستقیم ،
صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولاالضالین

آمین

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں