296

مغربی اصطلاحات کی تعریف (حصہ دوم)-فیصل ریاض شاہد

2۔ لبرل ازم/ لبرلزم/Liberalism:-

لبرل ازم ایک پیچیدہ اور جامع اصطلاح ہے۔ مغربی مفکرین کی اکثریت اسے ایک سیاسی نظریہ قرار دیتی ہے لیکن اگر لبرل ازم کے فلسفے کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ صرف ایک سیاسی نظریہ نہیں ہے۔ اس کی جڑیں حیات انسانی میں انفرادی سطح سے اجتماعی سطح تک کے ہر شعبہ ہائے زندگی میں پھیلی ہوئی ہیں۔

پاکستان کی سرکاری اردو لغت(http://udb.gov.pk) میں لفظ لبرل کا مطلب یہ بتایا گیا ہے

“کھلے ذہن کا مالک، وسیع القلب، کشادہ نظر، وہ شخص یا افراد کا گروہ جو انفرادی آزادی، جمہوری نظام حکومت اور آزاد تجارت کا حامی ہو، جاگیرداری اور رجعت پسندی کے مقابل، فیاض، کریم، دریادل، سخی ۔”

لفظ لبرل کے جو معانی بتائے گئے ہیں ان میں سے آخری چار معانی لغوی ہیں جبکہ بقیہ سب اصطلاحی معانی ہیں۔

عرف میں لبرل ایک ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو انفرادی و اجتماعی آزادی کی بات کرتا ہو، جمہوریت کا حامی ہو، فری ٹریڈ کا حامی ہو، حقوق نسواں کی تحریکوں کو نظریاتی سطح پر جسٹیفائے کرتا ہو اور اشیاء کا جائزہ بالعموم مذہب کی بجائے عقل و خرد کی بنیاد پر کرتا ہو۔

مغربی فکر و فلسفے کے مطالعے سے واضح ہے کہ  لبرل ازم ایک جامع اصطلاح ہے جس میں سیکولرازم، ہیومن ازم اور انہی کے طرح کے دیگر “اِزم” بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ درحقیقت جتنے بھی مغربی “اِزم” ہیں وہ کئی کئی جہات سے ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اس لئے ان کے درمیان کوئی واضح خط فاصل کھینچنا خاصا مشکل کام ہے۔

جہاں تک ہم لبرل ازم کو سمجھتے ہیں، اس کے مطابق، لبرل ازم اور سیکولر ازم کی تعریف میں صرف ایک لفظ کا فرق ہے ،

“لبرل ازم تنویری مفکرینِ مغرب(Enlightened Western Thinkers) کا پیش کردہ ایک ایسا نظریہ حیات ہے  جس کے مطابق انسان کے انفرادی معاملات کو ہدایتِ الہی(Religion)سے آزاد فکرِ انسانی(Reasoning) کی اصولوں پر طے کیا جانا چاہئے۔”

آپ نے دیکھا کہ سیکولر ازم کا تعلق انسان کے اجتماعی معاملات سے تھا جبکہ لبرل ازم کا تعلق انفرادی معاملات سے ہے۔

لبرل ازم کا بنیادی نعرہ ہے، “آزادی”، قابل غور بات یہ ہے کہ آزادی سےمغربی مفکرین کی مراد کیا ہے؟ مغربی فکر اور معاشرے میں آزادی ایک بنیادی قدر ہے۔ تمام مغربی فلسفے فرد یا افراد کی آزادی کے گرد ہی گھومتے ہیں۔جاننا چاہئے کہ مغربی تصور آزادی سے مراد ہے، “مذہب کی حدود و قیود سے آزادی۔” ہمارے دیسی لبرل دانشور اگرچہ واشگاف الفاظ میں یہ مفہوم بیان نہیں کرتے لیکن اگر آپ لبرل ازم کے حقیقی مفکرین اور دانشوران مغرب کے افکار کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔

لبرل ازم کا نصب العین آزادی کو یقینی بنانا ہے، لہذا ضروری ہے کہ ہم آزادی کے مغربی تصور پر روشنی ڈالیں۔  

مغربی تصور آزادی یہ ہے کہ “میری خواہشات اور ترجیحات کی تقسیم اور درجہ بندی متعین کرنے کا حتمی اختیار صرف اور صرف میرے پاس ہے، خیر و شر کا حتمی پیمانہ میں ہوں، خدا اور نبی کون ہوتے ہیں جو مجھے بتائیں کہ مجھے کیا چاہنا چاہئے اور کیا نہیں چاہنا چاہئے!”

1۔ لبرل ازم وحی اور مذہب کو اولا تو انسان کی انفرادی زندگی سے معطل کرنے اور بعد ازاں ان کے انکار کا نام ہے۔

2۔ لبرل ازم خیر و شر کا پیمانہ خدا اور نبی کی بجائے خود فرد کو قرار دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر میں شراب پینا پسند کرتا ہوں تو مجھے شراب پی لینی چاہئے، یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ خدا اسے ناپسند کرتا ہے کیونکہ خدا کو کوئی حق نہیں کہ وہ میری پرسنل لائف میں انٹر فئیر کرے!(العیاذ باللہ)

3۔ لبر ل ازم ہر قسم کی مذہبی تعلیمات اور حدود و قیود کو توڑ کر ان سے آزادی حاصل کر لینے کا نام ہے۔

4۔ لبرل ازم ہر شعبہ ہائے زندگی سے مذہب کو بے دخل کر کے نفسانی خواہشات کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کے نظریہ کو بطور نظریہ حق اپنانے یا نافذ کرنے کا نام ہے۔

5۔ لبرل ازم اسلامی نقطہ نظر کے مطابق کفر ہے اور ہر نظریاتی لبرل دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

فیصل ریاض شاہد

27-12-2018ء

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں