218

مغربی اصطلاحات کی تعریف (حصہ اول)- فیصل ریاض شاہد

۔۔۔سیکولرازم۔۔۔

ذیل میں کچھ مشہور و معروف مغربی اصطلاحات کی فنی تعریفات پیش کی جارہی ہیں، جنہیں میں نے فلاسفہ و مفکرین مغرب اور خود ان اصطلاحات کے موجدین کی فکر و نظر اور مطلوبہ مفاہیم کی روشنی میں مرتب کرنے کی کوشش کی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم مغربی اصطلاحات تو بے دریغ استعمال کرتے ہیں لیکن ان کے حقیقی مفاہیم(وہ مفہوم جو اہل مغرب کی حقیقی مراد ہوں) سے آگاہ نہیں ہیں۔ اوپر سے یہ ظلم کہ ہمارے دیسی لبرل دانشورمغرب کا نمک حلال کرتے ہوے ان اصطلاحات کو عین اسلامی قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں، یہ لوگ جان بوجھ کر اسلام پر مغربیت کا لبادہ اوڑھنے کے درپے ہیں، ان سے ہوشیار رہئے اور اصطلاحات کو ان کے حقیقی مفاہیم کو مدنظر رکھ کر ہی استعمال کرنے کی عادت ڈالئے۔ شکریہ

1۔ سیکولرازم/سیکولرزم/Secularism:-

پاکستان کی سرکاری اردو لغت(http://udb.gov.pk) میں سیکولرازم کا مطلب یہ بتایا گیا ہے
“لادینیت، مذہبی عقیدے سے بریت، ایسا نظریہ حیات جو عقائد کی مداخلت سے پاک ہو۔”

عرف میں سیکولرازم کا مفہوم یہ بتایا جاتا ہے کہ
سیکولرازم ایک ایسا نظریہ ہے جس کے مطابق چرچ(مذہب) اور اسٹیٹ(ریاست) کو الگ الگ رکھا جانا چاہئے۔
اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ ریاستی یا انسان کے اجتماعی معاملات میں مذہب کو الگ رکھا جانا چاہئے اور اجتماعی انسانی مسائل کا فیصلہ وحی، کسی مخصوص مذہب یا مطلقا مذہب کی تعلیمات کی بجائے، اکثریت، انسانی اجتماع یا General/Common Willکی روشنی میں کیا جانا چاہئے۔

فکروفلسفہ مغرب کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم سیکولرازم کی تعریف یوں کر سکتے ہیں؛
“سیکولرازم تنویری مفکرینِ مغرب(Enlightened Western Thinkers) کا پیش کردہ ایک ایسا نظریہ حیات ہے جس کے مطابق انسان کے اجتماعی معاملات کو ہدایتِ الہی(Religion)سے آزاد فکرِ انسانی(Reasoning) کے اصولوں پر طے کیا جانا چاہئے۔”
اگر ہم اس تعریف پر غور کریں تو مندرجہ ذیل نقاط اخذ ہوتے ہیں؛
1۔ سیکولرازم کوئی الہامی نظریہ حیات نہیں بلکہ اس کا فلسفہ مغرب کے دین بیزار مفکرین کی ایجاد ہے۔
2۔ سیکولرازم صرف نظریہ ریاست نہیں بلکہ ایک مکمل نظریہ حیات ہے۔
3۔ سیکولرازم کا تعلق انسان کے اجتماعی معاملات سے ہے۔
4۔ سیکولرازم انسانی معاملات کو طے کرنے میں خدائی یا پیغمبرانہ نورِ ہدایت یا سادہ لفظوں میں “وحی” سے انکار کرتا ہے۔
5۔ سیکولرازم خدا اور وحی کو انسانی اجتماعی مسائل سے غیرمتعلق قرار دینے کے نظریہ کو بطور نظریہ حق تسلیم کرنے کا نام ہے۔
6۔ سیکولرازم وحی کو معطل کر کے انسان ساختہ اصولوں Man Made Laws/Human Rights کی بنیاد پر اجتماعی مسائل کا حل تلاش کرتا ہے۔

مذکورہ نقاط میں سے کوئی ایک بھی نقطہ ایسا نہیں جسے رد کیا جا سکے۔ مغربی مفکرین کی کتب سیکولرازم کے اسی مفہوم کو بیان کرتی ہیں اور اسی مفہوم کی دعوت دیتی ہیں۔ پس ہم آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ سیکولرازم لادینیت ہے۔بعض مغربی مفکرین یہ کہتے ہیں کہ سیکولرازم لادینیت نہیں ہے کیونکہ لادینیت خدا کے انکارکا نام ہے جب کہ سیکولرازم خدا کا انکار نہیں کرتا ۔
یہ محض ایک مغالطہ ہے۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ سیکولرازم لادینیت ہی ہے۔ درحقیقت لادینیت کی تعریف اہل مغرب کے ہاں مختلف ہے جبکہ ہم مسلمانوں کے نزدیک مختلف ہے۔ مغربی مفکرین کے نزدیک لادینیت صرف وجودباری تعالیٰ کے انکار کا نام ہے جبکہ ہم مسلمانوں کے نزدیک انکارِ وجود باری تعالیٰ کے ساتھ ساتھ انکارِ مذہبDeism بھی لادینیت ہے پس اسلامی نقطہ نظر کے مطابق سیکولرازم لادینیت /الحاد ہے۔ سیکولرازم کے لادینیت ہونے پر دوسری دلیل یہ بھی ہے کہ سیکولرازم خدا کو انسانی اجتماعی زندگی سے غیر متعلق قرار دینے کے نظریہ کو بطور نظریہ حق اپنانے یا نافذ کرنے کا نام ہے۔

فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں