46

معتزلہ و اشاعرہ کے “معرکہ خیر و شر” کا علمی تناظر ومضمرات- ڈاکٹر زاہد مغل

“خیر و شر کی نوعیت اور انکے تعین کا ماخذ” اسلامی علم کلام میں برپا ہونے والے چوٹی کے کلامی اختلافات میں سے ایک ہے۔ اس اہم کلامی معرکے کا حاصل یہ ہے کہ “کیا عقل بذات خود ماخذ شرع ہے یا نہیں؟”۔ اہل سنت (اشاعرہ و ماتریدیہ) کا مؤقف اس میں یہ ہے کہ عقل بذات خود (بدون وحی) ماخذ شرعی نہیں (اسی لئے اصولیین اہل سنت عقل کو ماخذات شرع میں شمار نہیں کرتے) جبکہ معتزلہ (نیز محدود معنی میں شیعہ حضرات) کا مؤقف یہ ہے کہ عقل بھی ماخذ شرع ہے۔ اس معرکے میں جب یہ بحث کی جاتی ہے کہ “کیا عقل حسن و قبح ذاتی کا ادراک کرسکتی ہے یا نہیں” تو اس میں اصل نکتہ یہی رہا ہے کہ “کیا عقل سے معلوم ہونے والا حکم عنداللہ بھی حسین و قبیح ہونا لازم ہے؟”

اس بحث میں اشاعرہ کی پوزیشن کا درست معنی یہ ہے کہ اشیاء کا “حسن و قبح شرعی” شارع کے قول کا محتاج ہے؛ باقی رہی یہ بحث کہ آیا عقل “حسن و قبح ذاتی” کا ادراک کرسکتی ہے یا نہیں تو اسکا جواب اصولا اگر “ہاں” مان بھی لیا جائے تب بھی خالصتا عقلی پیمانوں پر یہ سوال لاینحل رہتا ہے کہ “کس کی اور کونسی عقل؟” اگر جواب دیا جائے “عقل سلیم” تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کس کی عقل کو “عقل سلیم” مانا جائے، وہ جو ماں و بہن سے بدکاری کو برا نہیں سمجھتا یا وہ جو برا سمجھتا ہے؟ اگر جواب دیا جائے “حالت فطری کی عقل” تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج یہ دعوی کون کرسکتا ہے کہ اسکی عقل “حالت فطری” پر قائم ہے؟ دراصل معتزلہ و اشاعرہ کے درمیان لڑی جانے والی اس طویل جنگ میں “اصل اختلاف” اسی امر پر تھا کہ “عقل کا کوئی ایک” ہی تصور نہیں ہوتا، جیسا کہ معتزلہ کو دھوکہ لگا تھا، بلکہ عقل کے بے شمار تصورات ممکن ہیں؛ پس قرآن جس تصور عقل کے ذریعے خود کو اپیل کرواتا ہے وہ “کوئی بھی تصور عقل” نھیں بلکہ وہ عقل ہے جو خدائی الہیات کو ماننے پر امادہ ہو۔ اس پوری گفتگو میں اشاعرہ کا دعوی یہ نھیں کہ قرآن جو کہتا ہے انسانی ذات میں اسکی کوئی بنیاد موجود نھیں۔ اصل نکتہ یہ ہے کہ کیا اس انسانی نفس کی بنیاد پر حق کا ایسا درست تصور قائم کرنا ممکن ہے جو عنداللہ مقبول ہو؟

یہ ساری بحث بلا وجہ ہی نہیں لڑی گئی، بلکہ کتاب اللہ سے اکتساب و تعلق رکھنے کے حوالے سے یہ بحث اہم نتائج کی حامل ہے۔ اسکا ایک پہلو سمجھنے کے لئے وہ دلیل سامنے رکھنا ضروری ہے جو مغرب میں اعتزال (جو آگے چل کر الحاد میں بدلا) کے ابتدائی دور میں دی گئی کہ “بائبل خدا کا کلام (word) جبکہ کائنات خدا کا فعل (work) ہے، چونکہ دونوں کا منبع ایک ہے لہذا خدا کے کلام (بائبل) اور خدا کے فعل میں تضاد ممکن نھیں نیز عقل ان دونوں کے ذریعے خدا کے منشا کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پس عقلی مطالعہ کائنات سے جو حقائق معلوم ہورہے ہیں وہ منشائے خداوندی کو سمجھنے کا اتنا ہی معتبر ماخذ ہے جتنا کہ بائبل”۔ ادراک حقیقت کی بابت عقل کی یہ اصولی پوزیشن ماننے کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں میں اپنے تئیں خدا کے منشا کو سمجھنے کے لئے خدا کے کلام کو چھوڑ کر “خدا کے فعل” میں دلچسپی لینے کے رجحان کو عام جواز ملا۔ ابتداء جو پوزیشن یوں تھی کہ “کلام و فعل دونوں ماخذات ھیں” آگے چل کر (بوجہ دیگر عناصر) “فعل کو دیکھو کہ کلام میں تو اختلاف ہے” کی راہوں سے گزرتے گزرتے بالاخر “کلام (بائبل) کی بے معنویت” پر منتج ہوئی۔ ظاہر ہے اگر عقل ادراک حقیقت کی صلاحیت رکھتی ہے تو نبی اور اس پر نازل ہونے والے کلام کی فوقیت کو ماننے کی کیا توجیہہ؟ اسلامی تاریخ میں اشاعرہ و امام غزالی کا کنٹریبیوشن یہ ہے کہ جس یونانی اعتزال نے مغرب کو ہزار سال بعد فتح کیا اشاعرہ نے اسلامی تاریخ میں اس اعتزال کو شکست دی۔

اعتزال زدہ عیسائی یورپی مفکرین سے متاثر ہوکر ھمارے یہاں کے مفکرین نے بھی “دو قرآن” (غلام جیلانی برق مرحوم) نامی کتابوں کے ذریعے عین اسی دلیل کو نہایت مفید سمجھ کرعام کرنے کی کوشش کی۔ اپنے تئیں یہ حضرات سمجھتے ھیں کہ “مولوی عقل کا دشمن ہے” مگر اصل بات یہ ہے کہ “مولوی خدا کے کلام کی برتری کا محافظ ہے” کیونکہ عقل کے نام پر جس مرضی شے کو چاہو جائز ثابت کرنا ممکن ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

معتزلہ و اشاعرہ کے “معرکہ خیر و شر” کا علمی تناظر ومضمرات- ڈاکٹر زاہد مغل” ایک تبصرہ

  1. سر ڈاکٹر غلام جیلانی برق صاحب نے اپنی رائے سے رجوع کر لیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں