150

مشخص اور غیر مشخص خدا- فیصل ریاض شاہد

ابراہیمی مذاہب(اصل عیسائیت، اصل یہیودیت اور اسلام) ایک مشخص خدا کو مانتے ہیں۔ بت پرست اور دیوتا پرست مذاہب بھی مشخص خداوں ہی کے قائل ہیں البتہ ابراہیمی و بت پرست مذاہب کے مابین مشخص خدا کے تصور میں بہت فرق ہے۔

لفظ “مشخص” قدیم یونانی زبان کے لفظ Anthropolos(جس کے معنی ہیں، “انسان/شخص”) کا ترجمہ ہے۔ قدیم یونانی لوگ دیوتا پرست تھے۔ ان کے خداوں کا ایک پورا قبیلہ تھا جو اولمپس کے پہاڑ پر رہتا تھا۔ ان سب خداوں کا آقا “زیوس دیوتا” تھا، جس کا مقام تمام دیوتاوں میں سب سے بلند سمجھا جاتا تھا۔ کینی اینتھنی کے مطابق یونانیوں کا خدا(مختلف دیوتا/زیوس) بالکل انسانوں جیسا تھا۔ ان دیوتاوں اور انسان میں فرق بس اتنا تھا کہ “انسان کو موت آتی ہے جبکہ انہیں موت نہیں آتی، باقی تمام معاملات اور حتیٰ کہ اپنے وجودی حیثیت میں بھی یہ دیوتا انسانوں ہی کے مماثل تھے،” وہ چلتے پھرتے کھاتے پیتے لڑتے جھگڑے اور ازدواجی تعلقات تک رکھا کرتے تھے۔ خصوصا زیوس دیوتا تو نوخیز دوشیزاوں کا رسیا تھا۔
یہ ہے قدیم یونانیوں کا تصور خدا، یونانیوں کے خدا جیسا خدا “مشخص” (شخصیت رکھنے والا) خدا کہلاتا ہے۔

ابراہیمی مذاہب کا خدا بھی مشخص ہے لیکن اس کا مفہوم یونانیوں سے نہایت مختلف ہے۔ یونانیوں نے خدا کو انسان کی سطح تک گرا لیا تھا لیکن ابراہیمی مذاہب کا خدا نہ تو فلاطینوس اور نوافلاطونیوں کی طرح ماورائے تصور و ناقابلِ سمجھ ہے اور نہ یونانیوں کی طرح انسان! یونانیوں اور نو افلاطونیوں دونوں کا تصور خدا افراط و تفریط کا شکار ہے۔

ان کے برعکس ابراہیمی مذاہب کا تصور خدا معتدل ہے جو نہ تو ناقابل سمجھ ہے اور نہ بالکل انسان نما۔۔۔ ہمارا(مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں) کا خدا ایک مستقل بالذات شخصیت کا مالک ہے لیکن اس کی شخصیت کا ادراک ممکن نہیں۔ اس کی شخصیت کو اس کی صفات سے محض ایک خاص حد تک سمجھا جاسکتا ہے، مثلا یہ کہ وہ رحمن ہے، رحیم ہے، کریم ہے وغیرہ۔
القصہ مشخص خدا Anthropological God سے مراد صفاتی خدا ہے جو اپنی مستقل بالذات شخصیت کا مالک ہو۔

یونانیوں، نو افلاطونیوں اور ابراہیمی مذاہب کے برعکس زیادہ تر مغربی فلاسفہ کا خدا غیر مشخص ہے۔ غیر مشخص سے مراد وہ خدا ہے جو موجود تو ہو مگر اسکی کوئی شخصیت نہ ہو، جس کی کوئی صفات نہ ہوں۔(ظاہر ہے جب اس کی شخصیت ہی نہیں تو صفات کہاں سے ہوں گی!)
اس نظرئے کو ڈی ازمDeismکہا جاتا ہے جس میں خدا کو تو مانا گیا ہے لیکن وہ خدا ایک بالکل نیا خدا ہے جو روایتی تصور خدا سے بالکل مختلف ہے۔

ڈی ازم میں اگرچہ خدا کو مانا جاتا ہے لیکن یہ بھی الحاد ہی کی ایک شاخ ہے۔ ہمارے نزدیک ہر وہ نظریہ جس میں خدا کو غیر موجود یا غیر مشخص مانا جائے وہ الحاد ہی ہے۔ ڈی ازم میں چونکہ خدا غیر مشخص ہے اس لئے اس کائنات کے ساتھ اس کا براہ راست کوئی تعلق نہیں، وہ نہ تو انسان کی ہدایت کیلئے پیغمبر بھیجتا ہے اور نہ وحی۔۔۔ گویا ڈی ازم خدا کو تو مانتا ہے لیکن مذاہب کا منکر ہے۔

الحاد کی ایک قسم ہمہ اوستPantheismہے، اگرچہ اس میں خدا کے وجود کو تو مانا جاتا ہے لیکن وہ بھی غیر مشخص ہے۔ یہ تصور ہندووں اور بعض مغربی فلاسفہ کا ہے۔ ہمہ اوست کے مطابق خدا کائنات کی ہر شے میں حلول کئے ہوئے ہے۔ خدا کائنات کے برابر ہے، نہ اس سے بڑا ہے نہ چھوٹا، بلکہ یہ کائنات خدا کا جسم ہے، اس کائنات کی ہر شے خدا کے جسم کا ٹکڑا ہے گویا سب اشیاء مل کر ایک عدد خدا ہیں۔ اس خدا کا تعلق کائنات کے ساتھ وہی ہے جو روح کا جسم کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہمہ اوست کے مطابق یہی زمان و مکان خدا ہیں، زمان و مکاں سے ماورا لامکاں میں خدا کا کوئی وجود نہیں، خدا اگر کچھ ہے تو وہ یہی زمان و مکان ہے، وہ اسی زمان و مکاں تک محدود و محصور ہے۔ مغرب میں یہ تصور رواقیوںStoics اور جدید فلسفے میں یہودی فلسفی بارخ سپائی نوزا نے پیش کیا، جسے اس کے اس نظرئیے کی وجہ سے یہودیت سے خارج قرار دے دیا گیا تھا۔ اصلا یہ عقیدہ ہندووں کا تھا، جو مشرق سے مغرب میں گیا ہے۔

ہمہ اوست کے علاوہ اس سے ملتا جلتا ایک نظریہ پینن تھیزم Panentheism ہے، ان دونوں میں فرق بس اتنا ہے کہ ہمت اوست میں خدا زمان و مکاں تک محدود ہے جبکہ پینن تھیزم کا خدا زمان و مکاں سے باہر لامکاں میں بھی وجود رکھتا ہے۔

فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں