694

مسلم سیکولرز کے ساتھ ایک گفتگو- ڈاکٹر زاہد مغل

سیکولر فکر کے مضمرات کیا ہیں؟ انہیں واضح کرنے کے لیے مکمل تحریر کے بجائے یہاں سوال و جواب کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ اس گفتگو میں “مدعی” پاکستانی مسلم سیکولر ہیں اور “مبصر” ہم۔ نیز اس تمام گفتگو میں “مبصر” نے ایک “داخلی طور پر ہم آہنگ” اور “سیکولر فکر کے مضمرات سے واقف” مدعی کو فرض کیا ہے۔ یہ جو “شوقیہ مدعی” ہیں، ان سے گفتگو بہرحال محال ہے۔

پہلی تھیم
مدعی: آئین پاکستان کی اسلامی حیثیت ختم کرنا چاہیے.
مبصر: کیوں؟
مدعی: اس لیے کہ اس سے غیر مسلم اقلیتوں کے عادلانہ حقوق پامال ہوتے ہیں.
مبصر: آپ کے اس دعوے پر بعد میں گفتگو کریں گے، پہلے سر دست ایک سوال کا جواب دیجیے۔ آپ مسلمان اکثریت کی حیثیت میں گفتگو کر رہے ہیں یا غیر مسلم اقلیت کی، یعنی آپ کون ہیں؟
مدعی: جی میں مسلمان ہوں.
مبصر: تو بطور مسلمان آپ کا اسلام کے بارے میں کیا خیال ہے کہ اللہ تعالی نے جو احکامات نازل کیے، وہ اپنے بندوں کے درمیان عدل قائم کرتے ہیں یا نہیں؟ اگر جواب “ہاں” ہے تو پھر بطور مسلمان اعتراض کس بات پر ہے اور اگر جواب “نہیں” ہے تو پھر جس چیز پر آپ ایمان لائے بیٹھے ہیں اس کی اقداری حیثیت کیا ہے؟ یعنی پھر “بطور مسلمان” گفتگو کرنے کا کیا مطلب ہے، بس پہلے یہ بتا دیجیے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ “بطور مسلمان شناخت” اور “تصور عدل” کے مخمصے کا شکار ہیں؟ یعنی “بطور مسلمان” تو آپ کا ایمان ہے کہ اسلام عدل کا پیمانہ ہے اور پھر “تصورعدل” میں آپ بعینہہ اسی دعوے کو رد کرکے اسلام سے ماوراء عدل کا تقاضا کر رہے ہیں؟

دوسری تھیم
مدعی: چلیں فرض کرلیتے ہیں کہ میں مسلمان نہیں بلکہ مثلا ایک ہندو یا عیسائی وغیرہ کی حیثیت میں گفتگو کررہا ہوں.
مبصر: تو پہلے تو یہ مان لیجیے کہ “بطور مسلمان” (جو کہ “آپ ہیں”) آپ کے پاس یہ کہنے کا کوئی سپیس موجود نہیں کہ آئین پاکستان کی اسلامیت کو ختم کیا جانا چاہئے۔ اب ذرا ایک منٹ مزید رکیے، یہ بتائیے کہ “بطور مسلمان” ھندومت و عیسائیت وغیرہ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ وہ حق و عدل ہیں؟
مدعی: نہیں، مگر یہ تو بطور مسلمان میرا خیال ہے
مبصر: ٹھیک ہے میں سمجھ سکتا ہوں۔ دراصل فریم آف ریفرنس درست رکھنا مقصود ہے۔ اب یہ بتائیے کہ بطور مسلمان ایک ھندو یا عیسائی کے ساتھ آپ کا کیا تعلق ہے نیز اسکی طرف آپ کی کیا ذمہ داری ہے؟
مدعی: یہی کہ میں انہیں اسلام کی طرف دعوت دوں نیز شرع نے مجھ پر انکے جو حقوق لازم کئے ہیں انہیں پامال نہ کروں۔
مبصر: تو آپ کے سوال کا یہی جواب کہ اگر آپ ایک عیسائی یا ہندو ہوں گے تو میں آپ کو اسلام کی طرف دعوت دوں گا، نہ یہ کہ آپ کے اختلاف کرنے کی وجہ سے خود اس تصور حق و عدل پر عمل پیرا ہونے سے دستبردار ہوجاؤں گا، جسے میں دل و جان سے عدل سمجھتا ہوں۔ میں آپ کے ان حقوق کو ادا کرنے کا پابند ہوں، جو اسلام نے مجھ پر واجب کیے ہیں۔
مدعی: یہ تو پھر لڑائی والی بات ہوئی کہ بطور عیسائی پھر میں بھی یہی چاہوں گا۔
مبصر: بات تو ٹھیک ہے مگر حق و باطل کے مابین ازل سے معاملہ بہرحال مخاصمت ہی کا ہے۔

تیسری تھیم
مدعی: میں اس لڑائی کا ایک “عقلی حل” بتاتا ہوں۔
مبصر: ضرور، یہ تو دلچسپ بات ہوگی۔
مدعی: یہ فرض کرلیتے ہیں کہ نہ آپ مسلمان ہیں اور نہ ہی میں ہندو یا عیسائی ہوں۔
مبصر: تو پھر ہم سب کیا ہیں؟
مدعی: یہ فرض کریں کہ ہم سب انسان ہیں۔
مبصر: لیکن انسان تو ہم ابھی بھی ہیں، تو مسلمان و ہندو ہونے سے انکار کرنے کا انسان ہونے سے کیا تعلق؟
مدعی: مطلب یہ کہ آپ یہ مان لو کہ مسلمان و ہندو وغیرہ ہونے کا عدل کے سوال سے کوئی تعلق نہیں۔
مبصر: اچھا تو پھر عدل کے سوال کا تعلق کس امر سے ہے؟
مدعی: اس ایمان سے کہ ہم سب آزاد و مساوی افراد ہیں اور ہم سب کا مقصد اپنی اپنی مساوی آزادی کا حصول ہے۔
مبصر: مگر میں (مسلمان) اور ھندو، ہم دونوں میں سے کوئی بھی اپنے بارے میں یہ رائے نہیں رکھتا کہ ہم آزاد ہستیاں ہیں، ہم سب کا ماننا ہے کہ ہم ایک برتر ہستی کے بندے ہیں
مدعی: کوئی بات نہیں آپ بھلے یہ نہ سمجھتے ہوں مگر آپ یہی فرض کریں کہ آپ یہی ہو۔ آپ حقیقتا و ذاتی طور پر بھلے سے مسلمان رہو لیکن جب آپ اجتماعی و ریاستی عدل کا سوال اٹھائیں تب یہ فرض کریں کہ آپ مسلمان نہیں ہیں
مبصر: یہ بتائیں کہ جو “میں حقیقتا ہوں” خود کو اس سے علی الرغم و برعکس شخصیت و انفرادیت کے طور پر کس طرح فرض کرلوں؟ جناب ذات تو تاریخی و معاشرتی طور پر embedded ہوتی ہے، تو ذات کو اس کی ان particularities سے الگ تھلگ کرکے ذات کی نوعیت (کہ “وہ کیسی ہے”) کے بارے میں کوئی سوال کیسے اٹھایا جاسکتا ہے؟ یہ تو ایک قسم کا schizophrenia ہے کہ جو “میں واقعی ہوں” اور جن تقاضوں کے درست ہونے پر ایمان رکھتا اور ان کا اقرار کرتا ہوں، اجتماعی عدل کا سوال اٹھاتے وقت انہیں اگنورکرکے اپنے بارے میں ایک ایسا تصور قائم کرلوں جو میں جانتا ہوں کہ میں نہیں ہوں۔ یہ تو عجیب تر بات ہے کہ جس تصور خیر کو میں درست سمجھتا ہوں اجتماعی نظم میں انہیں اگنور کردوں
مدعی: دراصل یہ جو کچھ فرض کرنے کو کہا گیا ہمارے ایمان کے مطابق سب انسان حقیقت میں یہی ہیں۔
مبصر: چلیں اب آپ کی بات صاف ہوگئی۔ یہاں ایک منٹ مزید رک کر میں کچھ سمجھنا چاہوں گا۔ بطور مسلمان یا عیسائی یا ھندو میں جس تصور خیر کو حق سمجھتا ہوں اگر وہ مجھ سے اجتماعی عدل کے قیام کے بارے میں کچھ تقاضے کریں تو ان کے بارے میں میں کیا فرض کروں؟
مدعی: یہی کہ وہ غیر متعلق ہیں۔
مبصر: یعنی میں یہ سمجھوں کہ ایسے سب تقاضے غیر عقلی و لایعنی ہیں جن کے حق ہونے پر میں (مسلمان) یا دیگر اہل مذہب ایمان رکھتے ہیں۔
مدعی: جی ہمارے درمیان اس لڑائی کو ختم کرنے کے لئے یہی ماننا ضروری ہے۔
مبصر: یہ بتائیے کہ جب میں (مسلمان) نے اور ایک ہندو یا عیسائی نے یہ مان لیا کہ ہم مسلمان، ہندو یا عیسائی وغیرہ نہیں بلکہ ان سے ماوراء آزاد ہستی ہیں نیز اجتماعی عدل سے متعلق ہمارے تصورات خیر کے جتنے بھی دعوے و تقاضے ہیں وہ سب لایعنی ہیں تو یہ مسئلے کا حل (solution) تو نہ ہوا یہ تو مسئلے کو dissolve کرنا ہوا۔ یعنی جس معاملے پر ہمارا یہ اختلاف تھا کہ “ہم دو اہل مذہب میں سے” کون حق پر ہے، اسے آپ نے یہ کہہ کر حل کیا کہ “تم دونوں ہی کا تصور خیر باطل ہے، حق پر تو میں ہوں جو یہ کہہ رہا ہے کہ تم دونوں غلط ہو؟” جب ہم دونوں اپنے اپنے تصورات خیر سے دستبردار ہوچکے تو پھر لڑیں گے کاہے کو؟ یہ تو ہم دونوں کو ایک نئے و مستقل تصور خیر پر کھڑا کردینا ہے، یہ تو ایسے ہی ہے کہ میں عیسائی کو کہوں کہ “فرض کرلو کہ تم مسلمان ہو اور تم ہو بھی یہی نیز اجتماعی عدل کے قیام کے بارے میں تمہارے جتنے دعوے ہیں وہ سب لایعنی ہیں اور عدل کا تقاضا وہ ہے جو اسلام کہتا ہے، لو ہوگیا مسئلہ حل”۔ آخر منطقی اعتبار سے اس حل میں کشش کا کون سا پہلو ہے؟
مدعی: دیکھیے جب تک لڑائی کی بنیاد ختم نہیں ہوگی لڑائی رہے گی۔
مبصر: یعنی لڑائی کی بنیاد “ہمارا (اہل مذھب کا) یہ دعوی ہے کہ ہم میں سے کوئی حق پر ہے” اور حل یہ ہے کہ ہم سب آپ کی یہ بات مان لیں کہ ہم سب باطل پر ہیں اور حق وہ ہے جو آپ کہتے ہیں کہ ہم وہ ہیں جو ہم جانتے و مانتے ہیں کہ ہم نہیں ہیں”۔ ماشاء اللہ کیا خوب حل تجویز فرمایا ہے۔ یعنی ہم دونوں کا دعوی تو یہ تھا کہ “عدل ہم دونوں کے تصورات خیر کے اندر کی بحث ہے” اور آپ نے یہ حل طے فرمایا کہ “عدل کا تم دونوں کے دائرہ خیر سے کوئی تعلق نہیں ہے”۔ یہ بات توازخود لڑائی کی بنیاد ہے۔
مدعی: ہاں تو ٹھیک ہے جو ہماری یہ بات نہیں مانتا وہ غلط ہے اور صحیح و غلط کے مابین لڑائی ہی کا تعلق ہے۔
مبصر: تو آپ کا بھی معاملہ وہیں آکر رک گیا جہاں میرا اور ھندو کا رکا تھا، تو فرق کیا رہا، سوائے اس کے کہ پہلے عدل کی جس بحث پر میں اور ھندو جھگڑ رہے تھے اب ہم دونوں آپ سے جھگڑیں گے؟

چوتھی تھیم
مدعی: دیکھیے میرا حل عقلی ہے۔
مبصر: یہ مان لینے کی عقلی دلیل کیا ہے کہ ہم اصلا آزاد ہستی ہیں؟
مدعی: بھائی اس کی تو دلیل نہیں مگر یہ ان معنی میں عقلی ہے کہ اس کے بعد آپ کو مسلمان رہنے کی بھی آزادی ہوگی اور ایک ہندو کو ہندو اور عیسائی کو عیسائی۔ دوسرے لفظوں میں سب “سب کچھ رہتے ہوئے” امن و امان سے رہ سکیں گے۔ میرا حل مان لینے کے بعد اس دنیا میں ہم سب آپس میں مل جل کر رہ سکتے ہیں اور لڑائی بھی نہیں ہوگی۔ کیا دیکھتے نہیں کہ مغربی دنیا میں اب مذہب کے معاملے میں لوگ لڑتے نہیں۔
مبصر: یہ تو بڑی بھلی بات معلوم ہوتی ہے، میں چاہوں گا کہ اسے ذرا مزید کھول کر سمجھ لوں تاکہ شرح صدر حاصل ہوجائے۔
مدعی: جی جی ضرور ضرور
مبصر: یہ امن و امان والی بات پر بعد میں بات کرتے ہیں۔ آپ نے کہا کہ آپ کے تجویز کردہ حل کے مطابق میں وہ سب کچھ رہ سکوں گا جو میں ہوں، مثلا میں مسلمان ہوں تو مسلمان رہ سکوں گا۔
مدعی: جی جی بالکل، آپ کو کوئی نہیں کہے گا کہ اسلام ترک کردو۔
مبصر: لیکن آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ مسئلے کے حل کے لئے میں یہ مان لوں کہ عدل کے سوال سے متعلق اسلام سے برآمد ہونے والے تقاضے لایعنی و غیر متعلق ہیں۔ تو اسلام کے بارے میں یہ مان لینے کے بعد کہ قیام عدل کے لئے اس کے بیان کردہ حقوق کی تفصیلات درست نہیں اور یا کم ازکم متعلق نہیں، یہ مان لینے کے بعد میرے اور آپ کے “جیسے مسلمان ہم ہیں ویسے مسلمان رہنے کا” کیا مطلب رہا؟
مدعی: جی دراصل ہمارا خیال یہ ہے کہ عقل کے مطابق مذھب کا اجتماعی عدل کے سوال سے کوئی تعلق نہیں ہے لہذا اہل مذھب کو بھی یہ عقلی نتیجہ قبول کرنا چاہیے۔
مبصر: لیکن آپ نے تو خود فرمایا کہ اس کی کوئی عقلی دلیل نہیں ہے، تو اسے بار بار عقلی کہنے پر اتنا اصرار کیوں کررہے ہیں آپ؟ یہ تو اسی طرح کی ایمانی و اعتقادی پوزیشن ہے جیسے ایک مسلمان رکھتا ہے۔
مدعی: جی ایسا ہی سمجھیے، عقلی سے مراد وہی تھی جو پہلے کہی کہ “سب لوگ سب کچھ ہوسکیں گے”
مبصر: لیکن میں یہی تو سمجھنا چاہتا ہوں کہ آپ کی بات مان لینے کے بعد میرے لیے ویسا مسلمان رہنے کا کیا مطلب جیسا کہ میں ہوں یا ایک ہندو کے لیے ویسا ہندو رہنے کا کیا مطلب جیسا کہ وہ ابھی ہے؟
مدعی: ہمارا ماننا یہ ہے کہ دنیا کا ہر مذہب یہی کہتا ہے جو ہم بتا رہے ہیں کیونکہ یہ عقل کا بھی تقاضا ہے۔
مبصر: دیکھیے یہ عقل والے قضیے کو بار بار نہ دہرائیں۔ یعنی آپ کے مطابق مثلا اسلام یہی کہتا ہے کہ اجتماعی عدل کے قیام سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے، نیز اس بارے میں حقوق کی کوئی تفصیلات نہیں دیتا اور اگر دیتا بھی ہوں تو وہ غیر متعلق و لایعنی ہیں۔ اسی طرح مثلا ہندومت کی کتابیں بھی اپنے بارے میں یہی کہتی ہیں۔ تو پھر آئیں قرآن و سنت سے اس دعوے کو معلوم کرنے کی کوشش کریں؟
مدعی: نہیں ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ان مذاہب کی کتابوں میں حقوق سے متعلق یہی لکھا ہوگا، ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ اجتماعی عدل سے متعلق آپ اپنے مذہب کے بارے میں یہ مانیں کہ مذہب کو ایسا ہونا چاہیے۔
مبصر: اچھا یعنی کہ آپ یہ نہیں کہہ رہے کہ “مذہب (اسلام) کیسا ہے” بلکہ یہ کہہ رہے ہیں کہ “اسے کیسا ہونا چاہیے” نیز مذہب اسلام کو کیسا ہونا چاہیے، یہ اب میں قرآن و سنت سے معلوم نہ کروں بلکہ آپ کی مفروضہ پوزیشن سے اخذ ہونے والے نتائج کی روشنی میں طے کروں کہ قرآن و سنت کا کیا مطلب ہے، اور یہ صرف مسلمان نہ کریں بلکہ ہندو و عیسائی سب کریں۔ گویا مذہب خود اپنے ماخذ سے نہیں بلکہ آپ کی ایمانیات کے مطابق ڈیفائن ہونا چاہیے تاکہ آپ کے اجتماعی عدل کا تصور فنکشنل ہوسکے۔ لیکن اس کے بعد یہ کہنے کا پھر کیا مطلب رہا کہ “سب لوگ سب کچھ ہوسکتے ہیں”؟
مدعی: جی یہ تو ضروری ہے، “سب کچھ ہوسکتے ہیں” کا معنی یہی تھا “وہ کچھ ہوسکتے ہیں جو ہمارے بیان کردہ عدل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو”۔
مبصر: چلیں یہ بات بھی اب بالکل واضح ہوگئی کہ آپ کی بات ماننے کے بعد “سب کو سب کچھ ہونے کا موقع ہوگا” کا کیا مطلب ہے۔ چلیں اب یہ امن والی بات پر بھی بات کرلیتے ہیں۔

پانچویں تھیم
مدعی: یہ تو ایک ناقابل قطع عقلی دلیل ہے کہ میرے بیان کردہ حل سے تمام مذاہب کے پیرو کاروں کا اجتماعی عدل سے متعلق لڑائی جھگڑا ختم ہوجاتا ہے اور مغربی دنیا اس کی گواہی دیتی ہے۔
مبصر: آپ کی بات مان لینے کے بعد “جھگڑا نہ ہونے” کے جس نتیجے کو آپ بطور دلیل استعمال کر رہے ہیں نیز پھر اس کے لیے یورپ وغیرہ کی مثال دے رہے ہیں، اس میں عقلی بات کیا ہے؟ ایسا حل تو اس طرح بھی حاصل کیا جاسکتا ہے کہ مثلا سب لوگ مسلمان ہوجائیں یا عیسائی ہوجائیں وغیرہ وغیرہ۔ میرے کہنے کا مطلب یہ کہ اس حل میں ایسی دلچسپ بات کیا ہے؟ ظاہر ہے جب سب لوگ دل و جان سے یہ ایمان لے آئیں گے کہ ان کے تصور خیر اجتماعی زندگی کی تشکیل میں بے معنی ہیں تو پھر لڑائی ہوگی کس بات پر؟ اس ایمان کے بعد تو اجتماعی زندگی کے نکتہ نگاہ سے مذہب trivial چیز بن جاتا ہے اور trivial معاملے پر یقینا دنیا کا کوئی انسان نہیں جھگڑتا۔ تو آخر مذاہب کو trivial بتانے والے تصور خیر کو غالب کرکے مسئلہ حل کردینے میں ایسی کیا بات ہے جس میں میرے لیے “بطور مسلمان” (نہ کہ بطور آپ کے مفروضہ “انسان”) دلچسپی و معنی کا سامان ہو؟
مدعی: یہ کہ اس سے آپ کی آپسی لڑائی ختم ہوجائے گی۔
مبصر: جی مگر وہ اسی طرح تو ہوا کہ عدل سے متعلق ہم اپنے دعوی حق سے بھی دستبردار ہوگئے، تو جھگڑا ختم ہونا اپنے استحقاق سے پیچھے ہٹ جانے کا “لازمی نتیجہ” ہے نہ کہ اپنے استحقاق پر قائم رہتے ہوئے کسی قابل عمل صورت پر پہنچ جانا، جبکہ آپ تو یہ کہہ رہے تھے کہ جھگڑا بھی ختم ہوجائے گا اور تم سب اپنے اپنے دعوی حق پر قائم بھی رہ سکو گے، تو ایسا تو نہیں ہوا۔ دیکھیے آپ نے کہا تھا کہ “چلو فرض کرو میں بطور غیر مسلم اقلیت بات کر رہا ہوں” لیکن آپ نے تو یہ ثابت کیا کہ عدل کے لیے ہمیں غیر مسلم (عیسائی یا ہندو) رہ کر بھی نہیں سوچنا چاہیے۔ یہ جس یورپ و امریکہ کی مثال دے کر اپنے قائم کردہ امن کی آپ مثالیں دے رہے ہیں، وہاں دراصل یہی ہوا کہ لوگوں کے نزدیک اجتماعی عدل کے سوال میں مذہب لایعنی ہوگیا ہے اور لایعنی چیز پر جھگڑا کیسا؟ جھگڑا تو اس چیز پر ہوتا ہے جسے ہم معنی خیز سمجھتے ہوں۔ تو آخر اجتماعی عدل کے مسئلے میں مذہب کو لایعنی بتا کر آپ نے اہل مذہب پر ایسا کونسا احسان کردیا ہے کہ جس کے لیے وہ اس حل پر آپ کے شکر گزار ہوں؟ اس حل کی مثال یوں ہے کہ فرض کریں میرے پاس ایک گول شے ہے اور زید کے پاس تکون اور ہمارا اس پر جھگڑا ہے کہ ان میں سے درست یا افضل شکل کون سی ہے تو آپ آکر یہ کہیں کہ “یہ لو ایک چوکور ڈبہ اور اب تم دونوں اپنی اپنی شے کی کانٹ چھانٹ کرکے اسے اس میں فٹ کرلو، اس سے تمہارا جھگڑا ختم ہوجائے گا”۔ ٹھیک ہے جھگڑا ختم ہوجائے گا مگر ہماری چیزیں گول اور تکون بھی نہیں رہیں گی بلکہ آپ کی مرضی کے مطابق چوکور ہوجائیں گی۔
مدعی: جی امن کے لیے یہی مطلوب ہے کہ آپ لوگ دوسروں پر اپنے اپنے تصور خیر کو مسلط نہ کریں، اس طرح تو جس کو موقع ملے گا وہ دوسرے کو اقلیت بنا لے گا۔
مبصر: جی یہ “تصور خیر مسلط نہ کرنے” والی بات بہت اہم ہے، لیکن میں یہ سمجھناچاہتا ہوں کہ “میں آزاد ہوں نیز اجتماعی عدل کے لیے اس ہی عقیدے کے مطابق فیصلے ہونے چاہییں” یہ بھی تو بذات خود ایک تصور خیر ہی ہے، تو اسے سب پر کیونکر مسلط کیا جائے؟ نیز یہ اقلیت بنانے والا مسئلہ بھی کچھ عجیب ہے، یعنی اگر میں بطور مسلمان اجتماعی دائرے میں اسلام کے مطابق عدل قائم کروں تو “ایک کے سوا باقی سب کے” اقلیت بن جانے پر آپ کو اعتراض ہے لیکن آپ کے تصور خیر و عدل (جسے ہم میں سے کوئی بھی نہیں مانتا) کو مان کر “ہم سب کے سب” اقلیت بن جائیں تو یہ ٹھیک ہے۔ یہ کیسی منطق ہے؟
مبصر: میرا خیال ہے کافی بحث ہوگئی، اگر اب تک کی گفتگو کا خلاصہ کرلیا جائے تو اچھا نہ رہے گا؟
مدعی: جی ضرور، یہ تو بہت اچھا ہوگا کیونکہ سب کے لیے بات سمجھنا آسان ہوجائے گی ؟
مبصر: تو اب تک یہ واضح ہوا کہ :
– یہ مانا جائے کہ “مسلمان جیسےکہ ہم ہیں” رہتے ہوئے آپ کے لیے یہ کہنے کا کوئی جواز موجود نہیں کہ “چونکہ آئین پاکستان اسلامی حیثیت میں غیر مسلموں سے عدل نہیں کرتا لہذا اس کی اسلامی حیثیت کو ختم کیا جائے” کیونکہ اس کے بعد “مسلمان رہنے” کا جواز ختم ہوجاتا ہے۔
– یہ مانا جائے کہ درست تصور عدل اس مفروضے سے جنم لیتا ہے کہ ہم سب آزاد و خود مختار ہستی ہیں، یہی مفروضہ عقل کا تقاضا ہے۔
– یہ مانا جائے کہ حقیقی عدل کا تصور صرف اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر مذھب کے دائرہ خیر سے ماوراء ہے۔
– یہ مانا جائے کہ عدل سے متعلق اگر یہ مذاہب کوئی ایسے تقاضے رکھتے ہیں جو مفروضہ پوزیشن سے جنم لینے والے حقیقی عدل کے خلاف و ماوراء ہوں تو ایسے تمام تصورات لایعنی ہیں۔
– یہ مانا جائے کہ مذہب کو ایسے تقاضے کرنے کا حق نہیں ہے۔
– یہ مانا جائے کہ ہر مذہب والا اپنے مذہب کی اسی طور تشریح کرے جو آپ کے بیان کردہ “حقیقی عدل” کے مطابق ہو۔
تو اگر ہم سب مذہب والے یہ مان لیں تو ہمارے درمیان امن ہوجائے گا۔ ٹھیک ہے ناں یہ خلاصہ:
مدعی: جی ہے تو کچھ ایسے ہی لیکن ساتھ یہ بات بھی ملا لیں کہ یہ سب ماننا عقل کا تقاضا ہے۔
مبصر: لیکن اگر یہ سب مان لینے کے بعد میں مسلمان نہ رہوں تو؟
مدعی: اولا تو آپ کو یہی سمجھنا چاہیے کہ اسلام ایسا ہی ہے اور اگر ایسا نہ بھی ہو تو یہ تمھارا مسئلہ ہے میرا نہیں، میرے عقیدے کی رو سے مسلمان ہونا یا نہ ہونا بھلا کون سی معنی خیز بات ہے کہ میں اس کا حل پیش کروں؟
میرا خیال ہے اب تک کے لیے یہ کافی ہے۔

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “مسلم سیکولرز کے ساتھ ایک گفتگو- ڈاکٹر زاہد مغل

اپنا تبصرہ بھیجیں