374

مسئلہ خیر و شر-ایک اعتراض کا جواب- فیصل ریاض شاہد

اعتراض:-

“خدا اگر موجود ہے تو وہ نہایت سنگدل اور ظالم ہے۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان لاانتہا مسائل سے دوچار ہے، لوگوں کے مسائل روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں، بھوک ننگ ہر طرف پھیلی ہوئی ہے، یہ کیسا خدا ہے جو انسانی دگر گوں حالات کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیتا!”

جواب:-

یہ اعتراض بہت پرانا ہے۔ حتیٰ کہ میری معلومات کے مطابق یہ اعتراض زمانہ قبل مسیح کے معروف یونانی فلسفی ایپی کیورئیس نے اٹھایا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ خدا بہ یک وقت “رحمٰن و رحیم” اور “قادر مطلق” نہیں ہوسکتا۔ اس کے الفاظ کچھ یوں تھے(ایپی کیورئین پیراڈاکس)؛

اگر وہ شر کو ختم کرنا تو چاہتا ہے لیکن اسے ختم کرنا اس کے بس میں نہیں، تو پھر خدا “قادرمطلق” نہیں،

اگر وہ شر کو ختم کرنے پر قادر ہے لیکن جان بوجھ کر ختم نہیں کر رہا تو پھر خدا “رحمن و رحیم” نہیں،

اور اگر وہ نہ تو شر کو ختم کرنا چاہتا ہے اور نہ اسے ختم کرنے پر قادر ہے تو پھر وہ خدا کس بات کا ہے!

سب سے پہلے اس اعتراض کی بنیادی روح کو سمجھ لیجئے۔ معترض کے مطابق جہاں اہل مذہب خدا کی دیگر بہت سی صفات کا ذکر کرتے ہیں وہیں اہل مذہب یہ بھی کہتے ہیں کہ خدا کی دو اہم صفات “قادرمطلق” اور “رحمن و رحیم” ہونا بھی ہیں۔ معترض یہ کہتا ہے کہ اہل مذہب نے جو یہ خدا کا تعارف پیش کیا، اس میں منطقی تضاد پایا جاتا ہے۔ اس منطقی تضاد کو واضح کرنے کیلئے وہ ایپی کیورئیس کا مشہور پیراڈوکس پیش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مذکورہ دونوں صفات کا بہ یک وقت خدا میں پایا جا سکنا محال ہے یعنی یا تو وہ قادر مطلق ہو گا یا رحمن و رحیم ہو گا، ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ بہ یک وقت قادر مطلق بھی ہو اور رحمن و رحیم بھی ہو۔ ایسا کیوں نہیں ہو سکتا؟ اس کیلئے مذکورہ پیراڈوکس کو دوبارہ دیکھئے۔ یہ ہے ملحدین کا بنیادی اعتراض، جس کا جواب پیش خدمت ہے۔

اس اعتراض میں بنیادی مقدمہ “دنیا میں شر کا وجود” ہے۔ یعنی دنیا میں لاکھوں مسائل ہیں تو یہ کیسا خدا ہے جو ان مسائل کو ختم نہیں کر رہا!!! چونکہ اعتراض کی بنیاد وجودِ شر پر ہے لہذا پہلے ہمیں شر کی نوعیت کو سمجھ لینا چاہئے۔ اسے سمجھ لینے سے جواب از خود واضح ہو جائے گا۔

آپ جانتے ہیں کہ ہر بری شے شر کہلاتی ہے جبکہ اچھی اشیاء خیر کہلاتی ہیں۔ کائنات میں خیر بھی بکثرت موجود ہے اور شر بھی بکثرت موجود ہے۔ لیکن یہاں ایک نقطہ قابل غور ہے کہ اس خیر و شر میں سے اولیت کس کو حاصل ہے؟ ہم اہل مذہب اس کا واضح طور پر یہ جواب دیتے ہیں کہ اولیت خیر ہی کو حاصل ہے اور آخری فتح خیر ہی کی ہو گی۔ یعنی مستقل حیثیت خیر کی ہے، جبکہ شر کی حیثیت ثانوی ہے۔ بالفاظ دیگر خیر خدا سے براہ راست صادر ہوتا ہے جبکہ شر کا خالق بھی اگرچہ باری تعالیٰ ہی ہے لیکن شر کا وجود خدا سے براہ راست صادر نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے کارفرما قوت شیطان کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں خیر کی نسبت خدا کی طرف کرنے جبکہ شر کی نسبت خدا کی طرف نہ کرنے کی تعلیم دی ہے۔

اعتراض کرنے والے نے خدا کی دو صفات کو تو مدنظر رکھا ہے لیکن اس کی بقیہ صفات اور مذہب کے پورے مقدمے سے صرفِ نظر کر لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خود بھی گمراہ ہوا اور دوسروں کو بھی گمراہ کر رہا ہے۔

صورت حال یہ ہے کہ ہم اہل مذہب جب خدا کا تعارف پیش کرتے ہیں تو اس میں صرف یہی نہیں بتاتے کہ خدا قادر مطلق اور رحمن و رحیم ہے ، بلکہ خدا کے تعارف میں ہم یہ بھی بتاتے ہیں کہ خدا حکیم، علیم اور بصیر وغیرہ بھی ہے۔ اس نے یہ کائنات ایک خاص منصوبے کے تحت تخلیق فرمائی ہے۔ انسان کو اس دنیا میں بھیجنے کا مقصد انسان کا امتحان ہے۔ گویا یہ دنیا دارالامتحان ہے۔

اس مکمل تعارف کو ذہن نشین رکھئے۔

اب آتے ہیں پیراڈوکس کی طرف۔ ایپی کیورئیس نے کہا

” اگر وہ شر کو ختم کرنا تو چاہتا ہے لیکن اسے ختم کرنا اس کے بس میں نہیں، تو پھر خدا “قادرمطلق” نہیں،”

اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ شر کو بہ یک کلمہ کُن ختم کر دینا خدا کے بس میں ہے لہذا اس کی صفت قدرتِ مطلقہ پر کوئی ضرب نہیں پڑتی۔ حقیقت حال یہ ہے کہ وہ شر کو ختم کرنا ہی نہیں چاہتا۔ کیونکہ اگر وہ شر کو ختم کر دے تو پھر حیات انسانی میں سے خیر و شر کی کشمکش ختم ہو جائے گی اور نتیجتا دنیا دارالامتحان باقی نہیں رہے گی۔ سو دنیا کو امتحان گاہ برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ خیر کے ساتھ ساتھ شر کو بھی موجود رکھا جائے۔

ایپی کیورئیس کا دوسرا مقدمہ یہ ہے

“اگر وہ شر کو ختم کرنے پر قادر ہے لیکن جان بوجھ کر ختم نہیں کر رہا تو پھر خدا “رحمن و رحیم” نہیں،”

یہ مقدمہ ایک عدد مغالطہ ہے جو خدا کے ادھورے تعارف کے سبب پیدا ہوتا ہے۔ اوپر جو ہم نے خدا کا زرا مفصل تعارف کروایا اسے مدنظر رکھئے تو بات واضح ہو جاتی ہے۔ یہ درست ہے کہ خدا جان بوجھ کر شر کو ختم نہیں کر رہا (اس کی وجہ اوپر بیان کر دی گئی ہے) لیکن اس سے ہر گز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ رحمن و رحیم نہیں ہے۔ یہاں اصل بحث یہ پیدا ہوتی ہے کہ آیا وجودِ شر خدا کی صفتِ رحم و کرم کے متعارض ہے یا نہیں ؟ تو اس کا جواب ہم اہل مذہب کے مطابق یہ ہے کہ شر کا وجود اور خدا کی صفات رحم و کرم بالکل بھی متعارض نہیں ہیں۔ شر کو برقرار رکھنے کے باوجود خدا رحمن بھی ہے رحیم بھی ہے۔ وہ اس طرح کہ صفاتِ باری تعالیٰ میں ایک اہم صفت ” حکیم” کی بھی ہے۔ حکیم کے معنی حکمت والا کے ہیں۔ آپ بتائیے، حکیم کون ہوتا ہے؟ یقینا حکیم آپ اس فرد کو کہتے ہیں جو آپ کی بیماری کا علاج کرتا ہے۔ علاج کے طور پر حکیم آپ کو کچھ ادوایات دیتا ہے، کچھ چیزوں سے پرہیز کی ہدایت کرتا ہے اور اگر حکیم اچھا ہو تو وہ علاج کا باقاعدہ کورس کرواتا ہے ۔ اس کورس میں کیا ہوتا ہے؟ اس میں آپ کو حکیم کی ہدایات کے مطابق رہنا ہوتا ہے۔ لیکن کیوں؟ اس لئے تاکہ آپ کی بیماری دور ہو جائے۔ تو گویا حکمت کے سارے قصے میں بنیادی بات یہ ہے کہ حکیم سے مراد ایسا فرد ہے جو وقتی طور پر آپ کیلئے مشکل حالات پیدا کردیتا ہے۔ جس سے اس کا مقصد صرف و صرف یہ ہوتا ہے کہ آپ کی بیماری کو دور کر کے آپ کو صحت مند بنا دیا جائے۔

حکیم آپ کو کڑوی ادوایات دے، انجیکشن لگائے، پرہیز کروائے۔۔۔ اس کے باجود کبھی آپ نے یہ کہا کہ حکیم ظالم ہے؟ وہ سنگ دل، جابر اور ستم خُو ہے؟ ہر گز نہیں بلکہ ایک بچہ بھی جانتا ہے کہ وقتی طور پر ازیت میں مبتلا کرنے والا حکیم اصلا آپ کا خیر خواہ ہی ہوتا ہے۔ بلاتشبیہ خدا بھی حکیم ہے۔ وہ حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت عالیہ میں جہاں بہت سی دیگر خصوصیات شامل ہیں وہیں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ انسان کو وقتی طور پر مشکل حالات میں رکھ کر اس کی آزمائش کرتا ہے ، جو اس آزمائش میں کامیاب ہو جائے اور اس کے احکامات کے مطابق یہ مشکل وقت گزار لے، اسے ہمیشہ کیلئے جنت میں داخل کر دے گا۔ عین اُسی اصول پر حکیم کو تو آپ مدبر کہتے ہیں لیکن خدا کو سنگ دل کیوں؟؟؟ تو جب ہم خدا کا مکمل تعارف حاصل کر لیتے ہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اعتراض کرنے والا درحقیقت بذات خود خدا کے مکمل تعارف سے واقف نہیں، کمی خود اس کے اپنے علم ہے میں۔

ایپی کیورئیس کا تیسرا مقدمہ یہ ہے

” اور اگر وہ نہ تو شر کو ختم کرنا چاہتا ہے اور نہ اسے ختم کرنے پر قادر ہے تو پھر وہ خدا کس بات کا ہے!”

یہ بات درست ہے کہ وہ شر کو ختم نہیں کرنا چاہتا اور یہ بات غلط ہے کہ وہ شر کو ختم کرنے پر قادر نہیں۔ اگر یہ دونوں باتیں درست ہوتیں یعنی خدا وجودِ شر کو ختم کرنے پر قادر نہ ہوتا تو پھر ایپی کیورئیس کا مقدمہ درست تھا۔ واقعی جو خدا قادر مطلق نہ ہو وہ خدا نہیں ہو سکتا۔

المختصر یہ کہ دنیا میں انسان جتنے بھی مصائب (شر) کا شکار ہے، اولا تو یہ مصائب خود انسان کے اپنے پیدا کئے ہوئے ہیں، دوئم شر کو موجود رکھنے کے باوجود خدا کا ظالم ہونا لازم نہیں آتا کیونکہ جہاں خدا قادر اور رحمن ہے وہیں وہ حکیم و بصیر بھی ہے۔ اگر وہ حکیم نہ ہوتا اور اس نے یہ دنیا امتحان گاہ نہ بنائی ہوتی تو پھر بلاشبہ مذکورہ اعتراض درست ہوتا لیکن جب اس نے یہ دنیا بنائی ہی امتحان کیلئے ہے تو پھر کسی طور پر ملحدین کا یہ اعتراض درست نہیں۔ واللہ اعلم

فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں