153

مذہب کیا ہے؟

لفظ مذہب (Religion)ایک وسیع اصطلاح ہے جس کے عموم میں دنیا کے تمام مذاہب شامل ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ ان کے عقائد و ایمانیات اور تعلیمات منزل من اللہ ہیں، صحیح اورعقلی و منطقی ہیں یا غیر صحیح اور غیر عقلی ہیں، ہندومت ہو یا جین مت ، سکھ مت ہو یا بدھ مت، چاہے وہ آتش پرستی ہو یا مظاہر پرستی، عیسائیت ہو، یہودیت ہو یا خواہ اسلام ہو، لفظ ” مذہب” ان تمام دھرموں اور ادیان عالم کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔گویا جب کبھی بھی لفظ “مذہب” بولا جائے تو اس سے کوئی خاص مذہب مراد نہیں ہوتا، بلکہ ا س سے وہ شے مراد ہوا کرتی ہے جو تمام مذاہب کے اندر یکساں طور پر پائی جاتی ہے۔وہ شے کیا ہے جو تمام مذاہب کے اندر مشترک ہے اور یکساں طور پر پائی جاتی ہے؟ایمان بالغیب، وہ شے ایمان بالغیب ہے۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ بغیر دلیل کسی بات کو من و عن تسلیم کر لینا ایمان کہلاتا ہے۔ ایمان کا یہ تصور درست ہے یا غلط، اس بحث میں جائے بغیر ہمارامقصد صرف یہ بات واضح کرنا ہے کہ تمام مذاہب کے اندر “ایمان” ایک قدر مشترک ہے اور یہی وہ شے ہےجس کی بنیاد پر ہر قسم کے عقیدے کو “مذہب” کے زمرے میں ڈالا جاتا ہے۔ یہ ایمان بالغیب کسی بھی شے سے متعلق ہو سکتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ انسان کا مضبوط ترین عقیدہ یا ایمان اپنے خالق و مالک اور اس سے متعلق دیگر امور سے وابستہ ہوتا ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ انسان ، چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، ایک قادر مطلق اور برتر خالق و مالک کے وجود کا تصور رکھتا ہے، اس سے غرض نہیں کہ اس کا تصور خدا یا دیگر تصورات درست ہیں یا غلط، انسان بہر حال کچھ مابعد الطبیعیی موجودات کا قائل ہے۔ مثلا تمام اہل مذہب اس بات پر متفق ہیں کہ طبیعی یا مادی عالم(Physical World) سے پرے بھی ایک عالم ہے۔ ابراہیمی مذاہب کا یہ تصور سبھی کو معلوم ہے کہ ہر یہودی، عیسائی اور مسلمان اللہ تعالیٰ کے وجود کا قائل ہے، وہ اللہ کو اپنا خالق و مالک مانتا ہےاور خدا سے متعلق اس کے مزید بھی کئی عقائد ہوتے ہیں۔ اسی طرح تصور آخرت، جنات، فرشتوں، جنت و جہنم کے عقائد بھی عام طور پر معلوم ہیں، جنہیں اہل مذہب مختلف صورتوں میں ہی سہی ، الفاظ و اصطلاحات کے مختلف ہونے کے باوجود پورے یقین سے مانتے ہیں۔مذکورہ بالا گزارشات کےبعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تمام مذاہب کی اصل ایک ہے، یعنی یہ کہ تمام مذاہب کچھ مابعد الطبیعی(Meta Physical) موجودات (Beings)پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس مذہب سے مراد ایک ایسا مجموعہ عقائد(ایمان) ہےجو فرد یا افراد کے مختلف اعمال و افعال اور زندگی کے مختلف گوشوں کے پیچھے کارفرما ہوتا ہے۔
مذاہب عالم مختلف عقائد و عبادات کی تعلیم دیتے ہیں لیکن بیشترمعروف مذاہب کا جن عقائد پر اتفاق ہے ، وہ حسب ذیل ہیں۔ ہم ان عقائد کو “مذہب کا مقدمہ” کا عنوان دیں تو یہ زیادہ مناسب ہے؛
1۔ ایک بزرگ و برتر خدا تعالیٰ موجود ہے(تھیزم)
2۔ جس نے اس کائنات کو تخلیق کیا(تخلیقیت)
3۔ اس نے یہ تمام کائنات اور اس میں موجود کوئی بھی وجود بے مقصد پیدا نہیں کیا بلکہ اس عالم ہستی کا متعین مقصد اور غایت ہے (غایتیت)
4۔ انسان کی پیدائش کا مقصد حصولِ رضائے الہی ہے (عبدیت)
5۔ موت کے بعد زندگی ہے، جس میں انسان کو خدا کے حضور جواب دہ ہونا ہے(حیات بعد الموت)
6۔ خدا نے انسان کی رہنمائی کیلئے خاص ہدایات مختلف صورتوں میں انسان تک پہنچا دی ہیں تاکہ وہ اخروی امتحان میں کامیاب ہو سکے۔(نظام ہدایت)
مذکورہ مقدمات سے واضح ہے کہ مابعدالطبیعیات، تخلیقیت، غایتیت، عبدیت اور وحی پر ایمان لانا مذہب کا بنیادی مقدمہ ہے۔ ہم اس بحث میں نہیں جائیں گے کہ ان مقدمات کی تفصیلات میں مذاہب عالم کہاں کہاں اختلاف رکھتے ہیں۔

تاریخ الحاد مغرب
فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں