172

“مذہب تو موروثی چیز ہے”؛ تو پھر کیا ہوا! ڈاکٹر زاہد مغل

مذہب پر گفتگو کرتے ہوئے سیکولر حضرات کا ایک عمومی استدلال یہ ہوتا ہے کہ “جو مسلمان کے گھر میں پیدا ہو وہ مسلمان رہتا ہے، جو ہندو کے گھر میں پیدا ہو وہ ہندو ہوتا ہے وغیرہ”۔ اس “دلیل” کا مطلب یہ کہنا ہوتا ہے کہ چونکہ مذہب ایک موروثی (بمعنی غیر عقلی و اتفاقی) چیز ہے لہذا اس دائرے میں “سچ یا جھوٹ اور حق و باطل” کو تلاش کرنا اور پھر اس پر اصرار کرنا بےمعنی چیز ہے، یعنی مذہب کا ڈسکورس کوئی عقلی ڈسکورس نہیں ہے کہ اسے اس قدر سنجیدگی سے لیا جائے کہ اسے کھینچ کر اجتماعی معاملات میں گھسیٹ لیا جائے، بس لوگ سنی سنائی بات کی وجہ سے مذہب قبول کرلیتے ہیں۔

آج ایک طالب علم نے بعینہ اسی دلیل کو دہرایا کہ “سر یہ مذہب تو موروثی چیز ہوتی ہے”۔ اس پر جو بحث ہوئی یہاں اس کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے، البتہ اس گفتگو سے یہ احساس ہوا کہ سیکولر لوگ کس طرح “ایشوز کی لسی” بنا کر نوجوانوں کے سامنے پیش کرتے ہیں اور انھیں اپنی “اصل بات” کھل کر نہیں بتاتے۔

ابتدائیے کے طور پر عرض ہے کہ یہ دعوی غلط ہے کہ جو کوئی عیسائی کے گھر پیدا ہوا، وہ بس عیسائی ہی رہتا ہے، وغیرہ، کیونکہ دنیا میں لوگ ہمیشہ سے مذہب تبدیل کرتے رہے ہیں اور آج بھی یہ عمل جاری ہے۔ خیر، یہ بحث کا اصل نکتہ نہیں۔ زیر نظر مقدمے میں پیوست غلطی کو سمجھنے کے لیے پہلی بات یہ سمجھ لینی چاہیے کہ انسانی نسل و زندگی کو آگے بڑھانے کا ناگزیر طریقہ انسانوں کے ذریعے بچوں کا پیدا ہونا اور پرورش پانا ہی ہے۔ ایک انسان موروثی طور پر (یعنی ماں باپ، اساتذہ و معاشرے کے عمومی رجحانات) کی بنا پر صرف “چند مذہبی عقائد” ہی قبول نہیں کیا کرتا بلکہ سائنس، اخلاقیات، تاریخیات، سماجیات، سیاسیات وغیرہ تک انسانی زندگی سے متعلق تمام دائروں میں متاثر ہوتا ہے۔ چنانچہ جس طرح یہ مشاہدہ بیان کیا جا رہا ہے کہ “مسلمان کے گھر پیدا ہونے والا مسلمان ہوتا ہے وغیرہ” بعینہ یہ بھی عام مشاہدہ ہے کہ یورپ اور امریکہ میں پیدا ہونے اور تعلیم و تربیت کی منزلیں طے کرنے والا شخص نظریاتی طور پر بالعموم “لبرل ٹائپ” کا ہوتا ہے نہ کہ مثلا مارکسسٹ (یا مثلا پانچ سو سال قبل یورپ کے خیالات رکھنے والا یا مثلا تہجد گزار مؤمن)، مخصوص طرز کے لباس پہننے کو نارمل سمجھتا ہے، مخصوص کھانے کی اشیاء کو فطرت کا تقاضا گردانتا ہے، چند مخصوص اعمال کو غیر اخلاقی و غیر قانونی جبکہ بعض کو فطری و اخلاقی سمجھتا ہے، اس کے برعکس مارکسسٹ روس میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والے لوگوں کے رجحانات و خیالات اس سے مختلف ہوا کرتے تھے۔ الغرض “موروثیت” صرف مذہبی عقائد کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ یہ تو انسانی زندگی کے تقریبا ہر ہی دائرے (بشمول سائنسی علوم کیونکہ ہر فرد کو یہ تمام علوم اپنی تفصیلات میں موروثی طور پر ہی ملے ہوتے ہیں) میں اسے متاثر کرتی ہے، لہذا یہ کہنا کہ “موروثیت کی بنا پر حاصل شدہ تفصیلات کو عدل و اجتماعیت کی بحث سے خارج کرکے انفردی سطح تک محدود کردیا جائے”، یہ نہ صرف یہ کہ محض خلط مبحث ہے بلکہ اپنے مخصوص عزائم کو بڑھاوا دینے کی ایک “فکری چال” بھی ہے، جس کے ذریعے اہل مذہب کو بالعموم پھانسنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر کسی کی یہی دلیل ہے تو پھر اسے چاہیے کہ انسانی نسل کی افزائش کا موجودہ طریقہ تبدیل کرکے انسانوں کو مشینوں کے ذریعے پیدا کرنے اور انھی کے ذریعے ان کی افزائش کے پولٹری فارم بنانے کا طریقہ ایجاد کرے، کیونکہ ایک انسان تو دوسرے پیدا ہونے والے انسان کو اپنے خیالات، میلانات اور اخلاق سے متاثر کرکے رہے گا۔ اور شاید مشینوں سے بھی یہ مسئلہ حل نہ ہوسکے، کیونکہ مشین بھی بہرحال مخصوص اصولوں کے تحت فنکشن کرکے اگلی نسلوں کو متاثر کرکے رہیں گی، نیز اس مشین کے فنکشنگ کے اصول پیدا ہونے والے انسان سے پہلے والوں نے طے کیے ہوں گے۔
لہذا پہلے یہ اصولی بات سمجھ لینی چاہیے کہ انسانی آبادی کو انسانوں ہی کے ذریعے آگے بڑھنا ہے، چنانچہ ایک انسانی نسل کے دوسری انسانی نسل کو اپنے خیالات سے متاثر کرسکنے کی صلاحیت ایک ناگزیر اور لازمی چیز ہے، نیز یہ صلاحیت صرف “مذہبی عقائد” کی منتقلی تک محدود نہیں۔ تو اگر ایک انسانی نسل کو یہ اخلاقی حق حاصل ہے کہ وہ اپنے سے بعد والوں کو لازمی طور پر چند امور موروثی طور پر منتقل کرے (جس میں “جمہوریت” بھی شامل ہے) اور انھیں نظم اجتماعی میں شامل کرے تو پھر مذہب کے معاملے پر یہ اعتراض اٹھانے کی کوئی عقلی بنیاد موجود نہیں ہے۔

اب یہ سمجھیے کہ یہ امر انسانی معاشرے کی صرف حقیقت ہی نہیں بلکہ ضرورت بھی ہے اور اسی کے سبب انسان کسی بھی قسم کے خیر کو جمع و محفوظ کرپاتا ہے۔ چنانچہ ایک نسل کا دوسری نسل سے یہ تعلق اگر ختم کر دیا جائے تو انسانی زندگی میں کبھی کوئی “ادارہ”، “روایت” و “تہذیب” پنپ نہ سکے. “علم کا تسلسل” برقرار رکھ کر اس میں اضافہ کرتے چلے جانا ناممکن ہوجائے گا اور حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی حیوانوں کی طرح ایک ہی سطح پر جامد رہ جائے گی۔ “موروثیت” (اگلی نسل کا دوسری نسل کے ساتھ جڑا ہونا) ہی ہر قسم کے خیر کی بقا کا ذریعہ ہے، اس دنیا اور انسان کو پیدا کرنے والے نے انسانی زندگی کو اسی اصول پر بنایا ہے۔ تو یوں سمجھیے کہ “موروثیت” حق و خیر کی بقا کا ایک زبردست ذریعہ ہے اور ہر نظریے کو ماننے والے اسے اپنے فائدے میں استعمال کرتے ہیں۔ تو پھر صرف اہل مذہب ہی کو اس قدر احمق کیوں سمجھا جاتا ہے کہ وہ اس کے ذریعے اس چیز کو کہ جسے وہ اس کائنات کا سب سے بڑا سچ و خیر سمجھتے ہیں، اسے اگلی نسل تک منتقل کرکے اس کی حفاظت نہ کریں یا اسے پبلک لائف سے نکال باہر کرنے کے مطالبے کو قبول کرلیں؟ دلیل کی یہ کونسی قسم ہے کہ بس اہل مذہب اپنے خیر کو موروثی جان کر اسے بے وقعت سمجھیں. باقی رہا وہ سارا نظریاتی خیر جسے آپ خیر سمجھتے ہیں، اسے آپ پوری یکسوئی کے ساتھ انسانوں کی اگلی نسلوں تک منتقل کرتے رہیں؟ اسے دلیل نہیں آنکھوں میں دھول جھونکنا کہا جاتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ مذہب موروثی طور پر منتقل ہوتا ہے یا نہیں؟ نیز کیا موروثی چیز کو پبلک لائف کا حصہ ہونا چاہیے یا نہیں (کیونکہ یہ تو انسانی زندگی کے ناگزیر حقائق و ضرورتیں ہیں)، اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ (سیکولر) لوگوں کا علمی ڈسکورس مذہب کو حق و خیر کے دائرے کی چیز سمجھتا ہی نہیں اور اس وجہ سے آپ مذہب کو اجتماعی دائرے سے نکالتے ہیں۔ یہ وہ بات ہے جسے آپ کھل کر نہیں کہتے بلکہ اس کے لیے ایسے حیلے بہانے تراشتے ہیں۔

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں