39

مذہب اور امن – محمد دین جوہر

”کیا اسلام امن کا مذہب ہے؟“ ہمارے ہاں اکثریت کا موقف ہے کہ ”اسلام امن کا مذہب ہے“۔ یہ قضیہ ثابت کرنے کے لیے عموماً لغت کا ہی سہارا لیا جاتا ہے۔ اس میں اندیشہ یہ ہوتا ہے کہ اگر یہ ”ثابت“ نہ ہو سکا تو پھر اس کا متضاد قضیہ ثابت ہو گا کہ ”اسلام جنگ کا مذہب ہے“۔ اور جدید استعماری قوتیں یہی ثابت کرنا چاہتی ہیں تاکہ وہ مسلمانوں کے خلاف اپنی مسلسل جنگی کاروائیوں کو جواز دے سکیں، اور دہشت گردی کو اسلام سے جوڑ سکیں۔ اس میں اصل بات کوئی نہیں کرتا کہ ”اسلام امن کا مذہب ہے/اسلام جنگ کا مذہب ہے“ ایک سیاسی ججمنٹ ہے جو اسلام پر وارد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جدید سیاسیات اور جدید سیاست اسلام پر حَکم ہے یا اسلام جدید سیاسیات اور جدید سیاست پر حَکم ہے؟ گزارش ہے کہ بطور ہدایت اسلام، جدید سیاسیات اور جدید سیاست پر حکم ہے، یعنی آج کی دنیا میں جو سیاست رائج ہے، اس پر اسلام کی ججمنٹ درکار ہے۔ کیا ہم دین کی اجتماعی اقدار اور سیاسی افکار کے تناظر میں جدید سیاست کی ہیئت اور اس کے پس پردہ کارفرما فکر پر کام کی کوئی بات سامنے لانے کی استعداد رکھتے ہیں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں