221

مذہبی ریاست – ڈاکٹر زاہد مغل

مذھبی ریاست کی حقیقت سے متعلق بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں جس کی بنا پر اسلامی تاریخ اور حال میں موجود حکومتوں کے بارے میں متضاد تجزیہ کاری وجود میں آتی ہے۔ ایسی تجزیہ کاری پر مبنی گفتگو کچھ ایسی ہوتی ہے:

  • صرف خلفائے راشدین کے دور میں اسلامی حکومت تھی۔ پھر مسلمان بادشاہوں کی حکومتیں آگئیں جس میں خاندان حکومت کیا کرتے تھے
  • یہ بات کہنے والوں کی اکثریت اہل علم سے اگر پوچھا جائے کہ کیا پاکستان اسلامی ریاست ہے تو جواب ملے گا “ہاں”۔ کیوں؟ اس لئے کہ آئین میں لکھا ہوا ہے۔
  • کیا مسلمان بادشاہوں نے کہیں لکھ کر طے کررکھا تھا کہ ہماری سلطنت میں فیصلے اسلام کے مطابق نہ ہونگے؟ کیا ان کے ادوار میں قضا کا سارا نظام شرع پر مبنی نہیں تھا؟
  • نہیں بادشاہ اپنی مرضی کیا کرتے تھے، ان پر شرع کا حکم نہ چلتا تھا، وہ فلاں غیر شرعی تصرف کرتے تھے وغیرہ وغیرہ۔
  • موجودہ دور میں جن ریاستوں کو آپ اسلامی مانتے ہیں ان کے حکمران کیا ایسے کرتوت نہیں کرتے؟ تو پھر اس تخصیص کی وجہ کیا ہے کہ ان بادشاہوں کے جرائم تو نظام کو غیر اسلامی بنانے کے لئے کافی ہوں مگر آج والوں کے نہیں؟

دراصل اس تجزیہ کاری کی بنیاد وہ غلط مفروضات ہیں جو کسی نظام کے اسلامی ہونے کے بارے میں قائم کرلئے گئے ہیں۔ فقہاء نے مسئلے کو جڑ سے پکڑا: اسلامی سلطنت وہ ہوتی ہے جہاں احکام شرع کا نفاذ و سربلندی ہو۔
کیا مطلب؟

  • احکام کے نفاذ کے لئے پہلے ان کے صدور (derivation) کا عمل ہوتا ہے، اگر احکام صادر ہی نہ ہوں تو وہ کبھی بھی نافذ نہیں ہوسکتے۔ مطلب یہ کہ اسلامی حکومت وہ ہوتی ہے جہاں پالیسی سازی (اخذ احکام) کا ماخذ شریعت ہو اور منصب اقتدار پر بیٹھے لوگوں کی جانب سے انہیں جاری بھی کیا جاتا ہو۔ حکمران کا “عوام کا نمائندہ” ہونا نہ تو اس کی لازمی شرط (necessary condition) ہے اور نہ ہی کافی شرط (sufficient condition)۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “مذہبی ریاست – ڈاکٹر زاہد مغل

اپنا تبصرہ بھیجیں