68

محترم عمار خان ناصر صاحب اور مکالمے کی نفسیات-محمد دین جوہر

جدیدیت اور مذہبی موقف کی باہمی نسبتوں کے حوالے سے محترم عمار خان ناصر صاحب کی تحریر سے متبادر بنیادی موقف یہ ہے کہ جدیدیت اور اسلام کے مابین مہمات مسائل حل ہو چکے ہیں۔ پوری امتِ مسلمہ جدیدیت کے بارے میں ’الحمد للہ‘ یکسو ہو کر اپنے تطبیقی کام میں لگ گئی ہے، اور جو تھوڑے بہت مسائل باقی رہ گئے ہیں، ان کا حل بھی آیا چاہتا ہے۔ علما کے ہاں ”تردیدی“ یعنی ’منفی موقف‘ اب ختم ہو چکا ہے، اور ”تطبیق“ یعنی ’مثبت موقف‘ اب مکمل فتح مند ہے۔ ”فقہی دانش“ بھی جدیدیت کی پیدا کردہ دنیا میں ’مثبت‘ مذہبی ”دریافتوں“ میں مصروف ہو کر کبریت احمر پا چکی ہے۔ جدیدیت اب علم کے موضوع کے طور غیر اہم ہے۔ اپنے فرائضِ منصبی نبھاتے ہوئے ان کا اصل مقصد تو اسی ”ولایتی تبشیر“ کا اعلان ہی ہے۔ لیکن ”روایتی مذہبی فکر“ اور ”روایت پسندوں“ کی کھکھیڑ انہیں اس لیے پالنا پڑی کہ جو لوگ
look the gift horse in the mouth
کے مرتکب ہوتے ہیں، ان کا بندوبست بروقت کیا جا سکے۔ محترم عمار خان ناصر صاحب کا مقصد بھی فی الوقت جدیدیت پر فکری گفتگو کرنے والوں کا سدباب کرنا ہے۔ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ ان کا قرعۂ التفات مجھ ہیچ مداں فقیر کے نام نکلا۔ اللہ اللہ۔

اعتراض یا اختلاف؟
جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ آنجناب سوائے ”روایت پسندوں“ کی تفہیم جدیدیت کے، ہر علمی موضوع پر اپنے اصل موقف کو اخفا میں رکھتے ہیں، اور ناچیز سے گفتگو میں بھی اعتنائے علمی موجود نہیں۔ علمی گفتگو میں کسی ایک یا ایک سے زیادہ مواقف میں اختلاف اہم ہوتا ہے، اور ایسی گفتگو ”کیا“ مرکز ہوتی ہے۔ جبکہ حیثیت اور اتھارٹی کو بنیاد بنا کر کی جانے والی گفتگو علمی نہیں ہوتی۔ ایسی گفتگو ”کیوں“ مرکز ہوتی ہے۔ یہاں سائل و مسئول کی پہلے سے مفروضہ حیثیت کا فرق اعتراض میں ظاہر ہوتا ہے، اور مسئول سے صرف ’ہاں‘ میں جواب مطلوب ہوتا ہے۔ ’نہ‘ میں جواب آنے کی صورت میں فتویٰ/ججمنٹ پہلے سے تیار ہوتی ہے۔ اختلاف کی بنیاد پر ہونے والی گفتگو احترام آدمیت سے شروع ہو کر ابلاغِ دلائل پر ختم ہو جاتی ہے، کیونکہ سوچ کا سفر یہی ہے۔ جبکہ اتھارٹی کی بنیاد پر گفتگو فتوے/ججمنٹ پر پہنچتی ہے، جو عمل، نیت، موقف یا حیثیت پر ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ آنجناب کے اعتراضات ناچیز پر negativity کی ججمنٹ میں اپنی منزل مراد پا چکے ہیں۔ اب آگے وہ یہ مضمون سو رنگ سے باندھیں گے۔ 

محترم عمار خان ناصر صاحب کو اس صورتحال میں اندازہ نہیں ہو رہا کہ وہ علمی گفتگو کر رہے ہیں یا اپنی حیثیت جتا رہے ہیں۔ ان کی پوری تحریر ان کی حیثیت کے اسی احساس سے پیدا ہوئی ہے۔ اس میں علم کی کچھ بات نہیں، بس وہ اپنی اخلاقی تزویرات کے تانے میں نفسیاتی تاویلات کا بانا لگاتے جا رہے ہیں، تاکہ آخر میں فتوے کی گاڑھی کھڈی تیار ہو جائے۔ میں معروف علمی شرائط پر ان سے گفتگو کو سعادت سمجھتا ہوں، جس میں انہیں کبھی دلچسپی نہیں رہی۔ لیکن ”کیوں“ مرکز سوالات چونکہ ”مکلف“ ہونے کو موضوع بناتے ہیں، اس لیے ان کا جواب دینے سے قاصر ہوں۔ لبرل ماڈرنسٹ علما تو گھر کے بھیدی ہیں، اور تفتیشی سوالات اٹھانا ان کی روش بھی ہے۔ ”کیوں“ مرکز تفتیش کا مقصد کبھی علم نہیں ہو سکتا۔ یہ فرد جرم عائد کرنے کا طریقۂ کار ہے۔ ایسی تفتیش کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ”علمی بحث“ کا التباس پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ جب غیرعلمی، ثقافتی اور طاقتی ذرائع سے یہ التباس مشتہر ہو جاتا ہے تو پھر ججمنٹ آتی ہے۔ اب مخاطب کی ذمہ داری یہ رہ جاتی ہے کہ وہ صفائیاں دیتا پھرے۔ مجھ پر یہ تازہ ذمہ داری آن پڑی ہے کہ میں اب اپنی negativity کی صفائیاں بھی ان کی خدمت میں پیش کروں! اصل میں نئی استعماری اخلاقیات کی کل جمع پونجی یہی ہے، اور جسے استعمار و استشراق نے 
blaming the victim 
کے عنوان سے بہت تفصیل دے رکھی ہے۔ اب تمام سیکولر لبرل اہل علم اور لبرل ماڈرنسٹ علما اسی موقف کو آگے بڑھاتے ہیں۔ ان کے ہاں مستقل ہاہاکار یہ ہے کہ اگر امریکہ نے افغانستان یا عراق یا لیبیا کو جو برباد کیا اور لاکھوں لوگوں کو جو قتل کیا ہے، تو اس کے ذمہ دار یہ ملک اور معاشرے خود ہیں۔ یا مسلم دنیا میں جو اودھم مچا رکھا ہے، اس کی وجہ بھی مسلمان خود ہیں۔ اس اخلاقیات کی بنیادی سرگرمی استعمار کو ہر تنقید سے محفوظ رکھنا ہے۔ حالانکہ یہ استعماری اخلاقیات، سفاکی کی نئی ثقافتی تشکیل ہے، اور محترم عمار خان ناصر صاحب اس کے آزمودہ ہتھکنڈے مجھ ناچیز پر بھی آزما رہے ہیں۔ یہ بلا وجہ نہیں ہے کہ وہ مجھے ”بے رحمانہ“ کا veiled threat پہنچانا اپنے فرض منصبی کا حصہ سمجھتے ہیں۔

ان کے بنیادی سوالات ”کیوں“ مرکز ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے: (۱) ”تو ایسا کیوں ہوا کہ مذہبی علوم سے تعلق رکھنے والے طبقے میں تطبیق و مطابقت کا رجحان پختہ ہوتا چلا گیا، جبکہ مزاحمت اور قومی ودینی حمیت کی اصل اور مستند اسلامی اسپرٹ نے اپنے مسکن کے لیے روایت پسندوں کے قلب ودماغ کو چننا زیادہ مناسب خیال کیا؟“ (۲) اور ”آخر کیا وجہ ہے کہ روایتی مذہبی علوم سے وابستہ طبقے نے بطور طبقے کے ان علوم سے صحیح راہ نمائی لینا چھوڑ دی اور یہ سعادت کلیتاً روایت پسندوں کے حصے میں [کیوں] آ گئی کہ وہ ان علوم کی تدریس وتحقیق سے متعلق نہ ہونے کے باوجود زیادہ صحیح اور مستند مذہبی پوزیشن اختیار کر سکیں؟“ (۳) اور ”اگر یہ اجتماعی بے حمیتی کا مسئلہ ہے جس کا روایتی علوم سے وابستہ طبقہ شکار ہے تو پھر سوال اور بھی گمبھیر ہو جاتا ہے: یہ بے حمیتی بطور طبقے کے روایتی علوم پڑھنے پڑھانے والوں پر ہی کیوں مسلط ہے؟“ (۴) اور ” اور حمیت صرف اس طبقے میں ہی کیوں ہے جو روایتی علوم پڑھتا پڑھاتا نہیں؟“ (۵) اور ”اس تقسیم میں آخر ’’دینی علوم سے وابستگی’’ ہی کیوں فارق اور فاصل بن رہی ہے؟“ اس پر انہیں خوش فہمی ہے کہ وہ کوئی علمی گفتگو کر رہے ہیں۔ ”کیوں“ کی یہ جلالت مآبی خواندنی، دیدنی اور شنیدنی ہے۔ میں ”کیوں“ کی اس گردان پر دست بستہ یہی عرض کر سکتا ہوں کہ حضور والا! ان سوالات کا جواب یا تو آنجناب جانتے ہیں، یا اللہ جانتا ہے۔ مجھے ان کے بارے میں کچھ پتہ نہیں کہ ایسا کیوں ہوا؟

محترم عمار خان ناصر صاحب نے اپنے مضمون کے شروع ہی میں فرما دیا تھا کہ ”یہ فرق صرف انفعالی ردعمل اور ذہنی رویے تک محدود نہیں” اور مجھے ان کی علم دوستی اور لبرل استعماری اخلاقیات سے یہی امکان تھا کہ آخر میں بات کٹکھنی نصیحت اور ججمنٹ پر ہی ختم ہو گی۔ اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے وہ مسلسل ”پریشانی“، ”کرب“، ”وجودی کرب“، ”اضطراب“، ”جبر“، ”ہمدردی“، ”فرسٹریشن“، ”نفسیاتی“، ”نفسیاتی سہاروں“، ”نفسیاتی مشترکات“ وغیرہ کی تراکیب استعمال فرماتے رہے ہیں۔ اس سے مجھے بخوبی اندازہ ہو رہا تھا کہ ان کی دلچسپی موضوعات کے علمی پہلوؤں میں کس حد تک ہے، اور ان کا اصل ایجنڈا کیا ہے۔ سب سے دلچسپ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب وہ فرماتے ہیں کہ ”عقیدہ اور عبادات وغیرہ میں علماء کی تقلید کو بطور چھتری استعمال نہ کریں اور نہ فرق کی نشان دہی پر ’’نالج پالیٹکس’’ جیسے نفسیاتی سہاروں کی طرف لپکیں۔ جدیدیت کے حوالے سے جتنا جرات مندانہ آپ کا موقف ہے، اتنی ہی اخلاقی اور فکری جرأت اس پر پوزیشن لینے میں بھی تو دکھائیں۔ اپنا استناد خود پیدا کریں، جعلی استناد کا سہارا تو نہ لیں۔“ اب اس نصیحت کے سامنے میں سوائے حاضر جناب کہنے کے اور کیا عرض کر سکتا ہوں؟ لیکن اپنے ڈسکورسی جلال میں ”ہماری“ نیازمندی کو وہ نہ جانے شرف قبولیت بخشیں بھی کہ نہیں؟

اب تک احباب پر یہ بات یقیناً واضح ہو گئی ہو گی کہ عمار خان ناصر صاحب کی پوری تحریر ”کیوں“ کی تفتیش اور جواب طلبی سے پیدا ہونے والی مذہبی ادعائیت اور اخلاقی کروفر کے اظہار پر کھڑی ہے، اور کوئی علمی بات کرنا ان کے پیش نظر نہیں ہے۔ اب میں کیا بتاؤں کی ہوا کیوں چل پڑی، سورج کیوں ڈوبا، بارش کیوں برسی؟ وسوسے کی طرح سرعت سے پھیلتی یہ تحریر نفسیاتی تلازمات کے تار عنکبوت بھی ساتھ بُنتی چلی جاتی ہے۔ لیکن ”کیوں“ مرکز یہ تحریر اہل علم کے لیے ”کیوں“ زدہ کئی سوالات ضرور چھوڑ جاتی ہے کہ ہمارے ہاں ہر مکالمہ ”کیوں“ کے تفتیشی بھنور میں ”کیوں“ ڈوب جاتا ہے؟ وہ اعتراض سے گزر کر اختلاف کو موضوع ”کیوں“ نہیں بنا پاتا؟ مکالمے کا اخلاقی کروفر نیتوں کے غار میں تارِ عنکبوت بُننے ہی کو ”کیوں“ قابل فخر سمجھتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔

میرے نزدیک اس تحریر کے مفروضہ علمی محتویات سے کہیں اہم ان اخلاقی مزعومات کو دیکھنا ہے جن کو یہ آگے بڑھا رہی ہے۔

(۴)

جدید اخلاقیات اور علمی مکالمہ
لارڈ میکالے کا ارشاد تھا کہ برصغیر کے مذاہب بالکل ردی اور توہم پرستانہ ہیں، عقل کے خلاف ہیں، اور ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ اسی باعث استعماری حکومت نے ایک نئی اخلاقیات متعارف کرائی۔ مسلم معاشرے میں نئی اخلاقیات کے بڑے پرچارک ماڈرنسٹ علما ہی تھے، جن کے سرخیل آقائے سرسید ہیں۔ ان کے افکار سے واقف اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ ان کا بنیادی ورلڈ ویو مذہبی نہیں اخلاقی ہے۔ استعماری حکومت کے ثقافتی وسائل اور جدید تعلیم کی وجہ سے نئی اخلاقیات کو معاشرے پر مسلط کرنے میں بالعموم کامیابی حاصل ہوئی۔ جدید استعماری اخلاقیات کا اصل مقصد تو مذاہب میں مشترک اخلاقی مقاصد پر زور دے کر مذاہب کو کمزور اور غیر اہم بنانا تھا اور آخر کار ان کی replacement تھا۔ اگرچہ مذاہب کا خاتمہ تو نہ کیا جا سکا، لیکن نئی اخلاقیات نے مقامی مذاہب پر گہرا اثر ڈالا اور ان کے ادراک ذاتی (self-perception) کو بنیاد میں بدل دیا۔ یہی وہ اثرات تھے جن میں اسلام کا مکمل ہدایت ہونا اوجھل ہو گیا اور اسے ”ایک مکمل ضابطۂ حیات“ کہا جانے لگا۔ اب ہر طرف نوبت بجنے لگی کہ
Islam is a complete code of life.
واضح رہے کہ ”کوڈ“ ہمیشہ اخلاقی اور قانونی ہوتا ہے۔ حاضر و موجود سیاسی طاقت سے ”کوڈ“ کی نسبتیں براہ راست اور معلوم ہوتی ہیں، جبکہ حق سے موہوم۔ یہی وہ استعماری اور ’اخلاقی‘ اثرات ہیں جن میں اسلام کو مکمل ہدایت اور واحد حق کہتے ہوئے ماڈرنسٹ اخلاقیوں کا گلا رندھ جاتا ہے، اور ان کے صبح و شام کلبلاتے رونگٹے بیٹھ جاتے ہیں۔

آقائے سرسید نے جس ”ماڈرن اسلام“ کی تشکیل کی اس کو گھٹی اسی استعماری اخلاقیات کی دی گئی تھی۔ ”ماڈرن اسلام“ کا پورا ڈسکورس دو اہم پہلو رکھتا ہے۔ مغرب اور جدیدیت کے سامنے یہ اپنی نہاد میں collaborative اور co-optative ہے۔ مسلم معاشرے کے روبرو یہ judgmental ہے اور یہ ججمنٹ آقائے سرسید کے تتبع میں اغلباً اخلاقی اور نفسیاتی ہے، فقہی نہیں ہے۔ محترم عمار خان ناصر صاحب کا اوڑھنا بچھونا چونکہ ”ماڈرن اسلام“ ہے جس میں لبرلزم کا تڑکا بھی لگا ہوا ہے، اس لیے ان کے ہاں بھی دو بڑے مظاہر یہی ہیں۔

”ہمارے“ روایتی علما کے ہاں بنیادی چیز تقویٰ اور اس کے روایتی تصورات ہیں، جبکہ ماڈرنسٹ علما نئی استعماری اخلاقیات کے اسیر ہیں اور جس میں تقویٰ کے عباداتی پہلوؤں کی کچھ رعایت رکھی گئی ہے۔ ماڈرنسٹ علما کے نام نہاد علمی مباحث میں اصل مسئلہ یہ نئی اخلاقیات ہے، علم نہیں ہے۔ علم اور علمی مباحث کا تعلق public domain سے ہے، جبکہ اخلاقیات نجی، خانگی اور سماجی ڈومین تک محدود ہوتی ہے۔ علم کے مصداقات اور اطلاقات کا تعین پبلک ڈومین میں رہتے ہوئے سامنے لایا جا سکتا ہے، لیکن اخلاقیات کا نہیں۔ اخلاقیات کے مصداقات اس دائرے تک سفر ہی نہیں کر سکتے، اس لیے وہ لازماً ذات و نفسیات پر فتاویٰ میں ظاہر ہوتے ہیں جیسا کہ محترم عمار خان ناصر صاحب کے عمل میں سامنے آ رہا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ”بہرحال، اگر آنجناب زاویہ نظر کی نیگٹویٹی کو عارضی طور پر معطل فرما کر غور کر سکیں…“۔ میری ’علمی‘ ذمہ داری اب یہ رہ گئی ہے کہ آنجناب کی اس قیمتی [اخلاقی] نصیحت پر ان کا شکریہ ادا کروں۔ لیکن انہوں نے ”بہرحال“ کی بندہ پروری بھی کی ہے، اس پر میں بیش از بیش ممنون ہوں، کیونکہ نصیحت کا جواب شکریہ ہی ہوتا ہے۔ 

نظری علمی گفتگو میں اصل اہمیت موضوع سے متعلق ہونے کی ہوتی ہے، اور صحیح و غلط کا تعین دلیل سے ہوتا ہے۔ نظری گفتگو کا مطلب ہی یہ ہے کہ چیزیں طے شدہ نہیں ہیں۔ استناد طے شدہ چیزوں کا نام ہے۔ اس لیے ہمیں کسی طرح کے استناد کی، بھلے وہ جعلی ہو یا اصلی، سرے سے کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔ میری پوزیشن کو کوئی دلیل سے قبول کر لے تو مہربانی ہے اور کوئی رد کر دے تو اس کی آزادی ہے۔ میری حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عمار خان ناصر صاحب تو ایک مذہبی عالم کے طور پر بات کرتے ہیں، اور مذہبی عالم کے لیے روایتی استناد کی اہمیت سے ہر کوئی واقف ہے۔ لیکن وہ جس ایجنڈے پر کاربند ہیں، اس کو تو کوئی نظری یا مذہبی استناد حاصل ہی نہیں ہے، اس لیے استناد کا مسئلہ ان کے ہاں ایک گلٹ (guilt) کے طور پر ظاہر ہوا ہے، اور حسب معمول منسوب میری طرف ہوا ہے۔ اس کا منبع بھی وہی استعماری اخلاقیات ہے۔ ”ماڈرن اسلام“ یا ”اسلامک ماڈرنزم“ ایک معروف اور متفق علیہ مبحث و موضوع ہے، ہر رنگ و نسل کے اہل علم اس پر داد سخن دیتے ہیں، اور مسلم معاشرے میں اس کے حاملین جیسے کہ محترم عمار خان ناصر صاحب خود ہیں، معلوم و معروف ہیں۔ اس میں اصل سوال یہ ہیں کہ جدیدیت اور ماڈرن اسلام کی نسبتیں کیا ہیں؟ جدیدیت کے اثرات نے اسلام کی تعبیرات کو کیسے متاثر کیا؟ جدیدیت کے روبرو اسلام اپنی اساسات کو کہاں تک باقی رکھ سکا؟ جدیدیت کے اثرات عقیدے کی تبدیلی اور نئے سیاسی تصورات میں کیسے ظاہر ہوئے؟ وغیرہ وغیرہ۔ یعنی جہاں سوالات پوچھنا ضروری ہیں، وہاں ممنوع ہیں۔ اور جہاں ضروری سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، وہاں ان کے خیال میں negativity ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ متجددین کی حق پرستی ان کی استعماری اخلاقیات سے باہر نکل سکے؟

محترم عمار خان ناصر صاحب چونکہ لبرل ماڈرن عالم ہیں، اس لیے چودھاری بات چلانے کے ماہر ہیں، اور ”حدیث دیگراں“ کا ہنر بھی خوب جانتے ہیں۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ جدید علم کو بھی اپنی مستعار استعماری اخلاقیات ہی کی نوع سمجھتے ہیں۔ اخلاقیات اصلاً کچھ نفسی اقدار کو محیط ہوتی ہے، اور انسانی رویوں اور نفسیاتی مظاہرات کو اپنا موضوع بناتی ہے۔ وہ چونکہ اس نئی استعماری اخلاقیات پر ایمان کامل رکھتے ہیں، اور جدیدیت کی بحث کو اسی تناظر میں دیکھنے پر بضد ہیں، اس لیے ان کی کاوشِ تفکر کے نتائج پہلے سے طے شدہ ہیں۔

آنجناب ایک جگہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ”سیاسی طاقت“ کے سوال کو ”فکری بحثوں“ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ شاید اسی لیے وہ ’علمی گفتگو‘ کے امکانات سے مایوس ہو چکے ہیں، اور استعماری اخلاقیات کی نفسیاتی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ لیکن ”ہمارے تناظر“ (شکر ہے ”ہمارے/ہماری“ کی واپسی تو ہوئی) میں یہ ضرور دریافت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ ”طاقت اور فکر کا تعلق اس ہمہ جہت فرقہ واریت میں ظاہر ہوتا ہے جو استعماری دور کے بعد ”ہماری تقدیر“ بنی ہوئی ہے۔“ یہ بھی ان کی استعماری اخلاقیات کی ایک نفسیاتی دریافت ہے کیونکہ یہاں بھی وہ ”لہجوں کی تلخی، نیتوں اور عزائم کی کھوج“ وغیرہ جیسے نفسیاتی پہلوؤں میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ فکری اور تاریخی صورت حال ”کیا“ متعین کرنے کی اول علمی ذمہ داری کو وہ سرے سے قابل اعتنا نہیں سمجھتے۔

آخر میں ہم سب کے لیے ضروری ہے کہ ”اہل حسد“ سے بچتے ہوئے عمار خان ناصر صاحب کی بصیرت پر بھروسہ کریں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ”میں علی وجہ البصیرت یہ کہتا ہوں اسلامی علمی روایت سے پھوٹنے والا ’فکری انتشار‘ اس وقت اس ’جمود‘ کے لیے ایک تریاق کا حکم رکھتا ہے“۔ جب روایت محض انتشار ہو، حاضر جمود ہو تو کیا مستقبل جدیدیت نہ ہو گی؟ یقیناً اہل نظر کے لیے اس بصیرت میں بڑی نشانیاں ہیں۔ التماس صرف یہ ہے کہ ”بصیرت“ کی مراد کو استعماری اخلاقیات کی نفسیاتی ترجیحات تک محدود رکھا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں