132

ماتریدیہ، اشاعرہ کے نزدیک ہیں یا معتزلہ کے؟ ڈاکٹر زاہد مغل

معتزلہ کو “عقل دوست” اور اشاعرہ کو “عقل مخالف” فرض کرکے پھر احناف (ماتریدیہ) کو معتزلہ کے قریب قرار دینا غلط فہمی ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ عقل کے مختلف معانی کی تنقیح نہیں کی گئی۔ اس قضیے کی دلیل کے طور پر مسئلہ حسن و قبح کی مثال پیش کی گئی کہ دیکھئے اس مسئلے میں ماتریدیہ معتزلہ سے قریب ہیں۔ اگر اسے “علمی قربت” کہتے ہیں تو اس مسئلے میں ماتریدیہ اشاعرہ سے بھی اتنے ہی قریب ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ حسن و قبح میں ماتریدیہ کی اشاعرہ کے ساتھ قربت محض ظاہری جبکہ اشاعرہ کے ساتھ حقیقی ہے۔ چنانچہ مسئلہ خیر و شر کے بارے میں اشاعرہ و ماتریدیہ کے مابین بحث صرف نظریاتی ہے جبکہ اشاعرہ و معتزلہ کے مابین بحث اصلی، حقیقی و عملی ہے۔ ایسا اس لئے کہ عملی سوال یہ ہے کہ “مجھے عمل کس شے پر کرنا ہے، اس شے پر جو خدا نے نازل کیا یا وہ جسے میں خود خیر سمجھ رہا ہوں؟” چنانچہ اشاعرہ و ماتریدیہ دونوں کا اتفاق ہے کہ عملی تکلیف خدا کے کلام ہی کی بنیاد پر قائم ھوتی ہے۔ نتیجتا یہ دونوں پوزیشن ھر قسم کی سیکولرائزیشن کے امکان کو ختم کردیتی ہیں کیونکہ عمل کے لئے خدا کے حکم کا ریفرنس معلوم کرنا ہوگا۔ اس تصور سے شریعت و اجتہاد کا بالکل الگ تصور برآمد ھوتا ھے۔ اس کے مقابلے میں معتزلہ کے یہاں عملی تکلیف کی بنیاد ازخود عقل کے ذریعے معلوم کردہ اشیاء کا ذاتی خیر و شر ہے، خدا کا حکم صرف ایک اضافی چیز ہے۔ یہ پوزیشن شرع کو redundant قرار دے کر پوری عملی زندگی کو سیکولرائز کرنے کا جواز پیدا کرتی ہے، اسی لئے اھل سنت کے دونوں گروھوں اشاعرہ و ماتریدیہ نے اسکی مخالفت کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ “مقاصد شرع” کے جس فریم ورک کو نہایت مرغوب سمجھا جاتا ہے وہ اشعریوں ہی کی طرف سے کھڑا کیا گیا تھا۔ تو کیا یہ سب بغیر عقل استعمال کئے کیا گیا تھا؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں