58

قرآنی دعوت مشاہدہ اور سائنسی مشاہدہ- فیصل ریاض شاہد

سو میں سے غالبا ننانوے لوگوں کو یہ مغالطہ ہے کہ قرآن پاک جس غور وفکر و مشاہدہ کائنات کا درس و رغبت دیتا ہے وہ وہی مشاہدہ ہے جس کی بنیاد پر سائنس پنپتی ہے۔ گویا لوگ قرآنی دعوت مشاہدہ اور سائنسی مشاہدہ کو ایک ہی سمجھتے ہیں اور پھر یہ غلط استدلال کرتے ہیں کہ قرآن نے جگہ جگہ مشاہدہ کائنات کی دعوت دی ہے لہذا ہمیں بھی چاہئیے کہ سائنسی علوم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں کیونکہ قرآنی دعوت مشاہدہ کا مقصد ہی سائنسی ترقی ہے!

یہ نہایت گمراہ کن استدلال ہے۔ قرآن ایسے کسی مشاہدے کی ترغیب نہیں دیتا جیسا مشاہدہ و غور و فکر اہل سائنس کرتے ہیں۔ قرآن جس مشاہدے کی دعوت دیتا ہے اس کے نتائج پہلے سے طے شدہ ہیں، قرآنی دعوت مشاہدہ کا مقصد صرف ان طے شدہ حقائق مثلا وجود و عظمت باری تعالیٰ کی تصدیق ہے۔
جبکہ اہل سائنس جو مشاہدہ کرتے ہیں اس کے نتائج طے شدہ نہیں ہوتے اور اس کا مقصد تلاش و تصدیق حقیقت و عرفانِ ذاتِ باری تعالیٰ نہیں بلکہ تخلیق حقیقت و تسخیر کائنات اور ارادہ انسانی کا تسلط قائم کرنا ہوتا ہے۔

گویا قرآنی دعوت مشاہدہ تسخیر ذات کیلئے ہے جبکہ سائنسی مشاہدہ تسخیر کائنات کیلئے ہے۔ان دونوں مشاہدوں کی نوعیت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ خدارا آو دیکھا نہ تاو اندھا دھند، قرآن پاک کو سائنسیانے سے گریز فرمائیے۔

کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق
اقبال

فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں