40

قدر اور علم – محمد دین جوہر

ہمارے موجودہ ثقافتی حالات میں قدر اور علم کے حوالے سے بنیادی مسئلہ التباس کا ہے۔ ذہن اور عمل کی سیکولرائزیشن میں اس التباس کو بنیاد کا درجہ حاصل ہے۔ جدید تاریخ اور ثقافت کے دباؤ میں ہمارے لیے قدر اور علم کے امتیازات کو باقی رکھنا مشکل ہو چکا ہے کیونکہ ہمارے علوم ذہن و قدر سے غیر متعلق اور ہماری خام آرزومندی کا طومار بن کر رہ گئے ہیں۔ علم انسان کا صرف ذہنی مسئلہ ہے، جبکہ قدر انسان کی وجودی طلب ہے، یعنی شعور، ارادے اور نفس کی صورت گر ہے۔ ہماری تہذیبی، دینی اور علمی روایت کا بڑا کمال قدر اور علم کے امتیازات کو انتہائی حد تک ممیز رکھنا تھا، اور ہم اس کے ذمہ داری ہونے ہی سے اب غافل ہیں۔ علم، چاہ کے اس قطرے کی طرح ہے جو کبھی، یعنی کبھی گوہر نہیں ہو سکتا، لیکن اس میں کیا شک ہے کہ آبِ چاہ مفید ہوتا ہے۔ اور قدر ہیرے کی ایسی کنی ہے جو کبھی، یعنی کبھی علم کی گرد میں منتشر نہیں ہو سکتی۔

مثلاً دائیں ہاتھ سے کھانا تناول کرنا ایک ایسا حکم ہے، ایک ایسی سنت ہے جو ہمیں حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام سے ملی ہے۔ اسے ہم جدید معنوں میں ایک قدر کہہ سکتے ہیں۔ ظاہر ہے مراتب اقدار میں اور توحید و رسالت کے مقابلے میں یہ نستباً ایک معمولی قدر ہے۔ اب انسانوں کے علوم اولین و آخرین میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ہمیں اس قدر ہی تک پہنچا سکے۔ اس میں کیا شک ہے کہ علوم اولین و آخرین مفید ہیں، لیکن اس ایک نسبتاً معمولی قدر کے مقابلے میں قطعی ہیچ ہیں۔

قدر کا براہِ راست مخاطب انسان ہے، کیونکہ وہ انسان کی صورت گر ہے، اور انسان دنیا کا صورت گر ہے۔ قدر براہِ انسان دنیا اور ارض سے متعلق ہے۔ قدر کو براہِ راست مادی شے کی میکانیات، تجریدی صورت حال، اور معاشرے اور تاریخ جیسی تجریدات سے متعلق کرنا قدر کو علم کے گردباد میں جھونک دینا اور اسے اثباتیاتی (positivist) علم کی کھائی میں گرا دینا ہے۔ جدید انسان نے مذہبی اقدار کا براہِ راست مخاطب ہونے کی جگہ خالی کر دی ہے، اور ان اقدار کو تاریخی اور ارضی مؤثرات سے براہ راست متعلق کر کے مذہب اور اقدار کی فنا کا راستہ ہموار کیا ہے۔

حصہ دوم
مندرجہ بالا عنوان سے کی گئی پوسٹ پر احباب نے تبصروں سے نوازا جس کے لیے میں ازحد ممنون ہوں۔ میں کسی بھی موضوع پر مثبت اور منفی، تائیدی اور مخالفانہ، ہر طرح کی رائے کو اہم سمجھتا ہوں کیونکہ یہ ہر گفتگو اور خاص طور پر علمی مکالمے کے تشکیلی اجزا میں سے ہے۔ نظری علم کا بڑا مسئلہ اس میں پایا جانے والا خلقی chaos ہے جس سے یہ کبھی جانبر نہیں ہو پاتا۔ مختف آرا نہ صرف اس chaos کا اظہار ہوتی ہیں بلکہ اس سے نکلنے کے امکان کو بھی جزواً بروئے کار لاتی ہیں۔ قدر، علم کی آرزو ہے، اور علم کی مستقل نارسائی یہ ہےکہ وہ کبھی اس کے حصول میں کامیاب نہیں ہو پاتا۔ علم، تفہیم کی مستقل سینہ کوبی ہے، جبکہ قدر محکم راستوں کی پاکوبی ہے۔ علم تجزیہ و تحلیل ہے، جبکہ قدر تشکیل و تعمیر ہے۔ علم وجودِ کائنات کی سرگرانی ہے، اور قدر انسان کی سرفرازی ہے۔ علم کی مستقل سرگرمی قدر کا سوانگ بھرنا اور نامراد رہنا ہے۔ کسی بھی تہذیب کا پورا ایپس ٹیم کبھی کسی معمولی سی قدر کے درجے تک بھی نہیں پہنچ پایا۔ علم، کائنات اور مقامِ کائنات کو متعین کر کے اسے انسانی خوراک بنانے سے فزوں تر کچھ نہیں۔ قدر مقامِ آدمیت کو جان لینا ہے۔ قدر کا واحد منبع ہدایت ہے۔ مذہبی معاشرہ اقدار پر قائم ہونے والا معاشرہ ہے، جبکہ جدید معاشرہ علم کا پیدا کردہ معاشرہ ہے۔

جناب احمد العباد صاحب نے پوسٹ پر اپنے بصیرت افروز تبصرے میں گفتگو کو آگے بڑھایا ہے اور قدر اور علم کے حوالے سے ان کی رائے سے مجھے اتفاق ہے۔ جناب محمد شاکر صاحب نے اقدار کے حوالے سے ہم عصر دنیا کی دلچسپ صورت حال کی نشاندہی کی ہے کہ ”جدید سماج اختراعی اقدار مرتب کرنے میں آزاد ہے۔ جبکہ عقائد سے جڑا انسان متعین کردہ اقدار کے زیر اثر سماجی و معاشرتی روایات مرتب کرنے کا خود کو پابند سمجھتا ہے۔ یعنی ایک طرزِ فکر سماج کے لیے اقدار مرتب کرتا ہے تو دوسرا طرزِ فکر اقدار کی مناسبت سے سماج کو مرتب کرتا ہے۔“ اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ صورت حال اب تقریباً عالمگیر ہے، لیکن اس کے مضمرات پر گفتگو کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی مذہبی اقدار کو جدید علمی تناظر میں زیربحث لانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ جناب شاکر صاحب کا تبصرہ اقدار اور علم کی گفتگو کا آغاز کرنے میں اہمیت کا حامل ہے۔

جناب ابو الحسین آزاد صاحب نے بھی نہایت صائب تبصرہ فرمایا ہے کہ آدمی بھلے مذہبی اقدار سے گلو خلاصی کرا لے، لیکن اقدار کے سوال سے لاتعلق نہیں ہو سکتا۔ اصل میں یہی وہ نکتہ ہے کہ ہمیں اپنی اقدار کو آج کی انسانی صورت حال کے پس منظر میں سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ اس میں کیا شک ہے کہ ایک مسلمان کے لیے اقدار کا واحد منبع صرف ہدایت ہے۔ مطالعے، مشاہدے اور ہم عصر دنیا کے تھوڑے بہت جائزے کے بعد، ہر گزرے دن کے ساتھ میرا یہ احساس پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ اب انسانیت کے لیے واحد منبع اقدار صرف دینی ہدایت ہے، اور اس کے علاوہ کوئی سرچشمہ باقی نہیں رہا۔ اقدارِ ہدایت کو رد کر کے صرف علم کی اساس پر انسانی معاشرے اور تہذیب کو تشکیل دینے کا مغربی تجربہ اب مکمل طور پر ثمرآور ہو چکا ہے۔ ہمیں اپنے دو سو سالہ غلامانہ شعور اور تہذیبی احساس کمتری سے نکل کر جدید معاشرے کو اپنی اقدار کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ علم کی اساس پر قائم ہونے والا معاشرہ طاقت اور سرمائے کے بنیادی مقاصد کے حصول میں کامیاب ہو چکا ہے، اور مغربی انسان نے اپنی حدود تہذیب سے باہر انسان کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اسے بھی دیانت داری سے تہذیبی balance sheet میں جگہ دینے کی ضرورت ہے۔ 

حصہ سوم

تہذیبی سطح پر علمی گفتگو کا اہم کام صرف اسی صورت میں ممکن ہے اگر مسلم ذہن میں روئیدگی کے کچھ آثار پیدا ہو جائیں۔ فی الوقت مسلم ذہن کا بڑا اور براہ راست مسئلہ مغربی تہذیب کا سیاسی اور علمی غلبہ نہیں ہے، بلکہ یہ مسئلہ بالواسطہ ہے۔ اصل مسئلہ ہمارے وہ داخلی علوم ہیں جو ان کے زیراثر پیدا ہوئے ہیں، اور جو مکمل طور پر مسخ شدہ اور مذہب سے جواز یافتہ ہیں۔ ادوارِ شکست میں ہمارے اقداری علوم کی جو نئی تشکیل سامنے آئی وہ ہمارے معاشروں کے لیے مہلک ثابت ہوئی ہے، اور ان علوم نے مسلم ذہن کی انسانی تشکیل کو بہت حد تک مسدود کر دیا ہے۔ ہمیں مغربی علوم کی تنقیح کا چیلنج تو یقیناً درپیش ہے، لیکن اس کا اہم اور مثبت پہلو یہ ہے کہ اس کی شرائط معروف ہیں۔ داخلی طور پر صورت حال زیادہ پیچیدہ ہے۔ مثلاً داخلی طور پر ردِ مذہب کے مسخ شدہ علمی مباحث ان مباحث سے قطعی مختلف ہیں جو وسیع تر مغربی علوم میں مذہب کے خلاف سامنے آئے۔

محترم جناب حسن علی صاحب نے بھی مذکورہ پوسٹ سے اعتنا فرماتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار فرمایا جس کے لیے ان کا ممنون ہوں۔ انہوں نے اقدار اور علم کے مسئلے پر جدید اور پاپولر رائے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے علم کو معروضی اور اقدار کو موضوعی قرار دیا ہے۔ آنجناب کے خیال میں اقدار خاص تاریخی صورت حال، اس میں دستیاب اور فراہم شدہ علم اور کلچر کے تابع ہوتی ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ مواقف محل نظر ہیں۔ جدید علوم سے واقف کوئی صاحبِ علم یہ بات نہیں کہہ سکتا۔ جدید علوم اور ذہن نے انکارِ حق کو ’تلاش حق‘ کا انوکھا عنوان دیا ہے، اور تلاش حق کے لیے جدید ذہن جو علمی اصول وضع کرتا ہے، ان کا اولین مقصد امکانِ حق کو پہلے قدم پر ہی خارج کرنا ہوتا ہے۔ جدید ذہن کے علمی اصول اس کے وجودی موقف کے تابع ہوتے ہیں، اور یہ وجودی موقف اہوا کی تام مثال ہیں۔ وجودی موقف کے حوالے سے مفصل گزارشات میں پیش کر چکا ہوں۔

جناب سعید ابراہیم صاحب کا عمومی موقف کئی اعتبار سے قابلِ اعتنا ہے۔ ہمارے کلچر اور دینی روایت پر مغربی غلبے اور جدید علوم کے اثرات سے انکار نہیں۔ مثلاً یہ اثرات ہمارے معاشرے کے مذہبی لوگوں پر بھی مرتب ہوئے اور وہ متجدد ہوئے، اور یہ اثرات ہمارے معاشرے کے سیکولر لوگوں پر بھی مرتب ہوئے اور وہ دانشور ہوئے۔ متجددین کے ہاں مغرب، خاص طور پر سائنسی علوم کے حوالے سے، اقدارِ حق کا نمائندہ ہے۔ متجددین کا اصولِ مذہب اخلاقی ہے، اور انہوں نے جدید تعبیرات سے مذہب کی نئی اخلاقی تشکیل کی ہے تاکہ حق کی اقدار کو زیربحث لانے کی گنجائش کا حتمی خاتمہ ہو سکے۔ انہوں نے مذہب اور ’مغربی اقدار‘ کا ایک ملغوبہ تیار کیا ہے۔ متجددین نے بچے کا پاجامہ ہاتھی کو پہنانے کی دلاورانہ کوشش کی ہے۔ جبکہ جناب سعید ابراہیم جیسے سیکولر دانشوروں نے زیادہ دیانتداری سے کام لیا ہے، اور مذہب کے بارے میں اپنے موقف کو کسی لگی لپٹی کے بغیر بیان کیا ہے۔ لیکن انہوں نے بھی ایک نام نہاد ’آفاقی اخلاقیات‘ کے تھیلے میں اپنی زاد فکر کا سارا مال جمع کر رکھا ہے۔ انہوں نے بھی سیکولر اخلاقیات اور مغربی اقدار کا ایک ملغوبہ بنایا ہوا ہے۔ دونوں میں ایک بڑی قدر مشترک ان کا عقلی جھنڈا ہے جس کو یہ بہت زور زور سے آپ کے منہ پر ایسے لہراتے ہیں کہ گبھراہٹ طاری ہو جاتی ہے۔ یہ اصلاً غلامانہ شعور ہی ہے جو متجددین اور سیکولر دانشوروں کے ہاں اظہار پاتا ہے، کیونکہ یہ نہ ہمارے ساتھ ہیں، نہ مغرب کے ساتھ ہیں، اور نہ اپنے ساتھ ہیں۔ اپنے ذاتی تصورِ عظمت کے تحت ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ عقل یا عقلِ سلیم کے ساتھ ہیں، جبکہ اس کا کوئی نام و نشان بھی ان کے ہاں نہیں پایا جاتا۔ دونوں کا مائنڈ سیٹ اور دونوں کا ’علمی‘ شعور ایک اخلاقی دھرے پر گھومتا ہے، اور وہ بھی ان کا خود ساختہ ہے۔ جناب سعید ابراہیم جمال پرور آدمی ہیں، اور میں ان کی آرائش جمال اور اخلاقی غضب کے مظاہر ہی میں کھویا رہتا ہوں۔ ان کو مذہب سے رنجش ہی سہی، لیکن ہم یہی سمجھتے ہیں کہ دل دِکھانے آئے ہیں۔ چشم ما روشن دل ما شاد۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں