177

“قانون ِ فطرت “: اصل مسائل از ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

چین میں کتا خوری کے تہوار کے تناظر میں قانون ِ فطرت پر ایک پوسٹ لکھی تھی جس میں جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے ایک شاگرد رشید کی ایک بات پر تبصرہ بھی کیا تھا ۔ برادر محترم جناب عمار خان ناصر نے ضروری سمجھا کہ جناب منظور الحسن صاحب کا ایک پرانا مضمون جو 2007ء میں “الشریعہ” میں شائع ہوا تھا وہ شیئر کردیں ۔ منظور بھائی کا یہ مضمون دوبارہ پڑھ کر ایک تو یاد آیا کہ کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا! اللہ انھیں ہمیشہ خوش رکھے ! دوسرے ، میں نے یہ ضروری محسوس کیا کہ اس موضوع پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔ منظور بھائی نے یہ مضمون دراصل جناب حافظ زبیر صاحب کے جواب میں لکھا تھااور مسئلہ یہ ہے کہ ان دونوں مضامین میں اصل مسائل پر بحث نہیں کی گئی ۔ منظور بھائی تو پھر بھی اس سلسلے میں عذر رکھتے تھے کیونکہ انھوں نے تو انھی مسائل کا جواب دینا تھا جو حافظ زبیر صاحب نے اٹھائے تھے ۔

اسی لیے میں نے قانون ِ فطرت پر فلسفۂ قانون کے ماہرین کے منتخب مباحث شیئر کرنے کا ارادہ کیا اور H. L. A. Hart کےکچھ اقتباسات دیے۔ ابھی مزید بھی دوں گا ، ان شاء اللہ ۔

تاہم منظور بھائی کا یہ مضمون پڑھنے کے بعد ضروری محسوس ہوا کہ اصل مسائل کا خلاصہ اردو میں بھی پیش کردوں ۔ حدود قوانین کے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل کی عبوری رپورٹ کا جائزہ میں نے 2006ء میں ایک مختصر کتاب میں لیا تھا اور اس کتاب کے پہلے باب میں بعض ان اصولوں کا تجزیہ بھی کیا تھا جو reforms کے علم بردار عام طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ ان اصولوں میں ایک “قانون ِ فطرت” ہے ۔

اس بحث سے کچھ اقتباسات اگلی پوسٹس میں شیئر کروں گا ۔ اہلِ علم یہ بھی دیکھ لیں کہ “قانون ِ فطرت” کے برتنے میں جناب جاوید احمد غامدی صاحب اور ان کے “استاذ امام ” مولانا امین احسن اصلاحی رحمہ اللہ کے درمیان کچھ اختلاف ہے یا نہیں ۔

حصہ دوم:

بعض لوگ کہتے ہیں کہ حدود سزائیں ”فطری اصول عدل“ (Principles of Natural Justice) سے ہم آہنگ نہیں ہیں اس لیے انہیں ختم کرکے ان کی جگہ ایسی سزائیں مقرر کرنی چاہیئں جو فطری اصول عدل کے موافق ہوں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ اصول عدل کیا ہیں؟ انصاف کیا ہے اور نانصافی کسے کہتے ہیں؟ اس کا تعین کون کرے گا؟

اسی طرح کی ایک بحث مغربی ماہرین قانون میں بھی چھڑی ہوئی ہے۔ Positivists کا کہنا ہے کہ ریاست کا وضع کردہ ہر قانون صحیح اور واجب التنفیذ ہے اگر وہ مقررہ ضابطے کے مطابق وضع کیاگیا ہو۔ قانون کی صحت پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا کہ وہ ایک’’اچھا“ قانون ہے یا ”برا“۔ اس کے برعکس Naturalists کا کہنا ہے کہ اچھائی اور برائی، انصاف اور ناانصافی اور ”فطری اصول عدل“کا علم ”عقل وفطرت“ کے ذریعے حاصل ہوسکتا ہے۔ ریاست کا وضع کردہ صرف وہی قانون صحیح اور قابل تنفیذ ہے جو عقل وفطرت کے ان اصولوں کی رو سے صحیح ہو۔ مایۂ ناز امریکی قانون دان Oliver Wendell Holmes، جو امریکی سپریم کورٹ کے جج بھی رہے، نے بجا طور پران اصولوں کے ذریعے قانون کی صحت یا عدم صحت کا اندازہ لگانے کے عمل کو “ominous brooding in the sky” قرار دیا۔

کچھ اسی قسم کی بحث اصول فقہ اور علم کلام میں بھی ملتی ہے۔ معتزلہ کا کہنا تھا کہ حسن و قبح اشیاء کی ذاتی خصوصیات ہیں اور ان کا علم عقل کے ذریعے حاصل ہوسکتا ہے۔ گویا شریعت نے جس کام کا حکم دیا اس کی اچھائی عقل کو پہلے ہی سے معلوم تھی، اور جس کام سے منع کیا اس کی برائی بھی عقل پہلے ہی سے جانتی تھی۔ ان میں بعض جری لوگ تو یہاں تک پہنچ گئے کہ انہوں نے قرار دیا کہ جسے عقل برا کہے شریعت اسے لازماً ممنوع قرار دے گی اور جسے عقل اچھا کہے شریعت اسے لازما ًمامور بہ قرار دے گی۔ گویا عقل کو شریعت پر حاکم قرار دیا گیا۔ مولانا امین احسن اصلاحی کہتے ہیں:”یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ اشیا کے درمیان خبیث و طیب کا فرق محض ایک امر اضافی ہے، اس کی کوئی عقلی یا فطری و اخلاقی بنیاد نہیں ہے۔۔۔ ایسا سمجھنا صریح سوفسطائیت ہے۔“

اس کے برعکس امت مسلمہ کے اہل علم کی انتہائی غالب اکثریت نے قرار دیا کہ حسن و قبح کا معیار عقل نہیں بلکہ شریعت ہے۔ جسے شریعت نے حرام قرار دیا وہ برا ہے، اور جسے شریعت نے واجب قرار دیا وہ اچھا ہے۔ انسانی عقل حسن و قبح کی پہچان میں ٹھوکر کھا سکتی ہے، اس لئے اسے معیار نہیں قرار دیا جاسکتا۔ اولاً تو یہ بات ہی متنازعہ ہے کہ عقل کے ذریعے حسن و قبح کا قطعی علم ہوسکتا ہے۔ ثانیاً اگر یہ مان بھی لیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عقل کا یہ فیصلہ قانونی حیثیت کیسے حاصل کرلیتا ہے؟ یعنی یہ حکم شرعی کیسے بن جاتا ہے؟اسی لئے فقہاء نے ”حکم شرعی“ کی تعریف میں صراحتا قرار دیا کہ وہ شارع کا خطاب ہے۔ گویا جو شارع کا خطاب نہیں ہے وہ حکم شرعی بھی نہیں ہے۔

یہی سوال مغربی مفکرین بھی کرتے ہیں۔ Positivists کا کہنا ہے کہ اگر اچھائی اور برائی کا علم عقل کے ذریعے حاصل ہوسکتا ہے تو وہ قانون کیسے بن جاتا ہے؟ Naturalists میں مختلف گروہ اس سوال کا مختلف جواب دیتے ہیں لیکن سب سے دلچسپ ان لوگوں کا قول ہے جو قانون فطرت کو قانون خداوندی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ John Austin ان لوگوں کے قول کا خلاصہ یوں ذکر کرتے ہیں:

“Of the Divine laws, or the laws of God, some are revealed or proclaimed, and others are unrevealed. Such of the laws of God as are unrevealed are not unfrequently denoted by following names and phrases: ‘the law of nature’; ‘natural law’; ‘the law manifested to man by the light of nature or reason’… Paley and other divines have proved it beyond a doubt, that it was not the purpose of Revelation to disclose the whole of these duties. Some we could not know, without the help of Revelation; and these the revealed law has stated distinctly and precisely. The rest we may know, if we will, by the light of nature and reason; and these the revealed law supposes or assumes. It passes them over in silence, or with a brief and incidental notice.”

عصر حاضر میں اس قسم کی آرا بعض مسلمان اہل علم کی جانب سے بھی پیش کی گئی ہیں۔ مثلاً مولانا امین احسن اصلاحی ”بدیہیات فطرت“ کو شریعت الٰہی کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں:

فاتوھن من حیث امرکم اللہ (تو ان کے پاس آؤ، جہاں سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے) سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ تمام بدیہیات فطرت اللہ کے اوامر میں شامل ہیں اور اس پہلو سے وہ شریعت الٰہی کے اجزا ہیں، اگرچہ لفظوں میں خدا کی طرف سے ان کا حکم دیا گیا ہو یا نہ دیا گیا ہو۔ مثلاً یہ کہ اگرچہ اس بات کا کہیں حکم نہیں دیا گیا ہے کہ لقمہ منہ میں ہی ڈالنا چاہیے، ناک یا آنکھ میں نہیں ڈالنا چاہیے، تاہم یہ خدا کا حکم ہے اس لیے کہ فاطر نے ہماری فطرت یہی بنائی ہے۔ اگر کوئی شخص اس کی خلاف ورزی کرے تو درحقیقت وہ خدا کے ایک واضح بلکہ واضح تر حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے، اور اس پر وہ خدا کے ہاں سزا کا مستحق ہوگا۔ ہم نے اس کو واضح کے بجائے واضح تر اس لیے قرار دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے معاملات کو صرف اس وجہ سے ہماری فطرت پر چھوڑ دیا ہے کہ فطرت ان کی وضاحت کی وجہ سے ان میں کسی رہنمائی کی محتاج نہیں تھی۔“

اسی طرح جناب جاوید احمد غامدی کہتے ہیں:

”شریعت صرف ان امور سے بحث کرتی ہے جن میں عقل انسانی نے ٹھوکر کھائی ہے یا اس کے ٹھوکر کھانے کا امکان ہے۔ مثلاً معیشت سے متعلق سات آٹھ احکام ہیں، اسی طرح چند احکام سیاست سے متعلق ہیں، کچھ احکام معاشرت کے حوالے سے بیان کیے گئے ہیں، پانچ سات چیزیں آداب و شعائر کے بارے میں متعین کر دی گئی ہیں، حدود و تعزیرات میں صرف پانچ جرائم ہیں جن کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ ان کے علاوہ باقی معاملات کو عقل انسانی پر چھوڑ دیا گیا ہے۔“

تاہم جیسا کہ ہم آگے ذکر کریں گے، یہ شریعت کے متعلق ایک قسم کی over- simplification ہے۔ نیز شریعت نے ”باقی معاملات“ کو عقل انسانی پر نہیں چھوڑا بلکہ ان کے لئے قواعد عامہ دیے ہیں جو”عقل و فطرت ” کی رہنمائی کرتے ہیں ۔

حصہ سوم:

حسن و قبح کے اس اصولی اور کلامی مسئلے پر اختلاف کے بعد جزئیات کے تعین میں بھی اختلاف ہوا۔ ایک بحث یہ ہوئی کہ جب وحی کا نزول نہیں ہوا تھا تو اس وقت مختلف کاموں کے لئے کیا حکم تھا؟ کیا ہر کام جائز تھا؟ امام ابو حامد الغزالی اس کی شدت سے نفی کرتے ہیں کیونکہ جواز یا اباحت بھی حکم شرعی ہے۔ جب شریعت نازل ہی نہیں ہوئی تھی تو کیسے کسی کام کے متعلق کہا جاسکتا تھا کہ وہ مباح ہے؟ اسی طرح کسی کام کو حرام یا واجب بھی نہیں قرار دیا جاسکتا تھا۔ پس اس وقت حکم ”توقف“ تھا۔ یعنی حکم شرعی کے نازل ہونے تک کسی کام کو مباح، حرام یا واجب نہیں قرار دیا جاسکتا تھا۔ جب شریعت نازل ہوگئی تو اس کے بعد اگر کسی معاملے میں شریعت نے حکم طے کیا تو وہی حسن و قبح کا معیار ہوگیا۔ تاہم جہاں بظاہر شریعت خاموش ہے وہاں کیا کیا جائے گا؟ ظاہر ہے کہ وحی اور شریعت کے نزول کے بعد ”توقف“ حکم نہیں ہوسکتا۔

ایسا مسئلہ جس میں بظاہرقانون خاموش ہو، اصول قانون کی اصطلاح میں Hard Case کہلاتا ہے۔ مگر ایسے مسئلے میں قانونی حکم کہاں سے اخذ ہوگا، جبکہ بظاہر قانون خاموش ہے؟ Naturalists کا کہنا ہے کہ اس صورت میں فطری عدل کے اصولوں کے مطابق کسی کام کو جائز یا ناجائز ٹھہرایا جائے گا۔ Positivists کا کہنا ہے کہ اس صورت میں جج اپنی”تربیت یافتہ قانونی صلاحیت“ (Trained Legal Skill)اور ”عدل کے متعلق تمیزکی حس“ (Discretionary Sense of Justice) استعمال کرے گا۔ گویا اس صورت میں ان دونوں مکاتب فکر کا آپس میں طریق کار پر اتفاق ہو جاتا ہے۔ مگر بہت سے ماہرین قانون جج کی discretion کو ماننے سے انکار کرتے ہیں کیونکہ اس صورت میں جج قانون کا شارح باقی نہیں رہتا بلکہ وہ خود قانون ساز اور شارع کی حیثیت اختیار کرلیتا ہے۔ مایہ ناز ماہر قانون اور فلسفہ قانون کے ایک بڑے ”امام“ Ronald Dworkin نے مضبوط دلائل سے ثابت کیا ہے کہHard Cases میں جج discretion کے بجائے”قانون کے قواعد عامہ“ (General Principles of Law) کا استعمال کرتا ہے۔

بعینہ یہی مسئلہ مسلمان اہل علم کے درمیان زیر بحث آیا۔

جناب جاوید احمد غامدی اس سلسلے میں لکھتے ہیں:”اس ]اجتہاد [ کا مطلب یہ ہے کہ قر آن و سنت جن معاملات میں خاموش ہیں ان کے بارے میں عقل و فطرت کی روشنی میں رائے قائم کی جائے۔ یہی اجتہاد کا صحیح مفہوم ہے۔“

تاہم مسئلے کی یہ تعبیر امت مسلمہ کے اہل علم کی غالب اکثریت کے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ پروفیسر عمران احسن خان نیازی فقہاء اور اصولیین کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:

“Once revelation has come, such laws may only be discovered in the light of revelation, because revelation does not pass them over in silence; it indicates them through general principles.”

“قانون ِ فطرت” اور “حسن و قبح” پر اصول فقہ ، علم کلام اور فلسفۂ قانون کے مباحث کے خلاصے کے بعد اگلی پوسٹ میں جناب منظور الحسن صاحب کے مضمون کا تجزیہ پیش کیا جائے گا ، ان شاء اللہ ۔

چوتھا حصہ:

اب آئیے جناب منظور الحسن صاحب کے مضمون میں اٹھائے گئے نکات کی طرف ۔ اگرچہ انھوں نے جناب حافظ زبیر صاحب کے اعتراضات کے جواب میں ہی یہ مضمون لکھا ہے جس کی وجہ سے اس میں جاوید صاحب کے تصور فطرت کی مربوط اور جامع توضیح نہیں آسکتی تھی لیکن انھیں داد دینی چاہیے کہ بنیادی نکات وہ بہرحال سامنے لے آئے ہیں ۔ وہ نکات یہ ہیں :

1۔ انسانی فطرت میں خیر و شر کی پہچان رکھی گئی ہے اور یہ اس عہد کا نتیجہ ہے جو دنیا میں انسانوں کے بھیجنے سے قبل ان سے لیا گیا تھا ۔

2۔ “اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خیر و شر کی مبادیات کا کامل شعور اللہ تعالیٰ نے انسان کو براہ راست ودیعت کررکھا تھا مگر ان کے لوازم و اطلاقات اور جزئیات و تفصیلات میں انسان کو مزید رہنمائی کی ضرورت تھی ۔ ”

منظور صاحب کا یہ جملہ جوں کا توں نقل کیا گیا ہے کیونکہ اصل مسئلے کی وضاحت اس سے بہت جامع طریقے سے ہوجاتی ہے ۔ آگے واضح کروں گا۔

3۔ کیا فطرت دین کا “مستقل ماخذ ” ہے ؟ منظور صاحب کے الفاظ پھر جوں کا توں نقل کرنے ضروری ہیں :

“انبیاے کرام نے دین ِ فطرت کی تائید و تصویب کی ہے اور انسانوں کو اس کے حقائق کی طرف متوجہ کیا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے ان اختلافات کو بھی رفع کیا ہے جو فطرت کے تقاضوں کے فہم میں پیدا ہوئے تھے یا ہوسکتے تھے ۔ چناں چہ انبیا کی رہنمائی کی موجودگی میں فطرت مستقل ماخذ دین کی حیثیت نہیں رکھتی ۔ فطرت کی تعیین انبیا کی تائید و تصویب سے ہی ہوتی ہے اور اس کی تعیین کے لیے وحی کی رہنمائی سے آزاد کوئی الگ اور مستقل معیار موجود نہیں ہے۔ “

4۔ اگر فطرت کی تعیین میں کسی جگہ اختلاف ہو تو “ذریت ِ ابراہیم کا رجحان” فیصلہ کن ہوگا کیونکہ “گزشتہ کئی صدیوں سے پیغمبر انھی میں آئے ہیں ۔ ” (واوین میں الفاظ جناب غامدی صاحب کے ہیں ۔ )

5۔ چوں کہ رسول اللہ ﷺ پر سلسلۂ انبیا کا اختتام ہوا ، اس لیے فطرت کی تعیین میں “اصل معیار” کی حیثیت اس آخری وحی کی تصویب ہی کو حاصل ہے ۔

6۔ غامدی صاحب فطرت کو “قرآن کی دعوت سمجھنے میں معاون ایک ذریعہ ” تو سمجھتے ہیں “لیکن کہیں بھی اسے مستقل بالذات ماخذِ دین کے طور پر پیش نہیں کیا ۔ ” ( واوین میں الفاظ منظور صاحب کے ہیں ۔ )

7۔ اسی وجہ سے غامدی صاحب کو “مبادی تدبر فطرت “لکھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوئی ۔

ان نکات پر اگلی پوسٹس میں اپنی راے پیش کروں گا ، ان شاء اللہ ۔

پانچواں حصہ:

اب جناب منظور الحسن صاحب کے مضمون میں اٹھائے گئے نکات پر شق وار گفتگو کرتے ہیں ۔

ان کا پہلا نکتہ یہ تھا کہ انسانی فطرت میں خیر و شر کی پہچان رکھی گئی ہے اور یہ اس عہد کا نتیجہ ہے جو دنیا میں انسانوں کے بھیجنے سے قبل ان سے لیا گیا تھا ۔

اس سلسلے میں چند معروضات پیشِ خدمت ہیں :

1۔ قرآن نے یہ تو تصریح کی ہے کہ انسانوں سے عہد لیا گیا ؛ یہ بھی قرآن نے صراحت کی ہے کہ نفس انسانی کو اللہ تعالیٰ اس کے فجور اور تقوی کا الہام کیا ہے ؛ لیکن یہ تصریح کہاں کی ہے کہ یہ الہام اس عہد “کی وجہ سے” یا “اس کے نتیجے میں” ہوا ؟ ہوسکتا ہے یہ سوال بہت سے لوگوں کو اتنا اہم نہ لگے لیکن اس کا تعلق اس مسئلے کے ایک نہایت اہم پہلو سے ہے ۔ وہ پہلو ہے اجتہاد کی تعریف اور “اجتہادی امور” اور “منصوص امور” میں فرق ۔ وضاحت بعد میں آئے گی ۔

2۔ جس آیت سے ان کا بنیادی استدلال ہے (فالھمھا فجورھا و تقواھا) کیا اس کی عبارت النص ، اشارت النص ، دلالت النص یا اقتضاء النص سے کسی طرح یہ ثابت ہوتا ہے کہ نفس انسانی ، یا عقل انسانی ، “وحی الٰہی کی رہنمائی کے بغیر “خیر اور شر کی “یقینی پہچان “کرسکتی ہے ؟ آپ کہتے ہیں کہ “خیر و شر کی مبادیات کا کامل شعور ” انسان کو ودیعت کیا گیا ہے ۔ اس نکتے پر آگے الگ سے بحث آئے گی لیکن اس موقع پر ذرا ٹھہر کر اس سوال پر غور کریں کہ آپ نے یہ “کامل شعور” صرف “خیر و شر کی مبادیات” تک کس دلیل کی بنیاد پر محدود کیا ؟ اس آیت میں ایسا کیا ہے جس کی بنا پر آپ اسے “تمام خیروشر کے کامل شعور کا الہام” ماننے سے گریز کررہے ہیں؟ پھر جب آپ یہ مانتے ہیں کہ “خیر و شر کی مبادیات کا کامل شعور “نفس انسانی کو پہلے ہی سے ودیعت کردیا گیا ہے تو کم از کم اتنا تو آپ کو اپنے موقف کے لازمی تقاضے کے طور پر ماننا پڑے گا کہ “خیر و شر کی مبادیات” کی پہچان کے لیے وحی الٰہی کی ضرورت نہیں تھی ۔

3۔ یہیں سے وہ اصل سوال سامنے آجاتا ہے جس کا سارے فسانے میں کہیں ذکر ہی نہیں ہے : یہ “خیر و شر کی مبادیات” کیا ہیں ؟ بلکہ زیادہ بنیادی سوال کی طرف جائیے : یہ “خیر و شر “کسے کہتے ہیں ؟ فلسفۂ قانون اور فلسفۂ اخلاق کے طالب علم جانتے ہیں کہ اس بنیادی سوال پر کتنے فلسفیوں نے بال سفید اور صفحات سیاہ کیے ہیں لیکن اتفاق راے تو ایک طرف کوئی اکثریتی راے (“جمہور” کا لفظ منظور صاحب نے بہت استعمال کیا ہے ) بھی کم از کم پچھلے ڈھائی ہزار سال میں تو سامنے نہیں آسکی ۔

4۔ امام رازی کی عبارت سے فطرت ِ انسانی کے معیار ماننے کے لیے استدلال کرنے سے قبل آپ نے ذرا ٹھہر کر اس بات پر غور نہیں کیا کہ امام رازی عقیدے میں اشعری تھے اور اشاعرہ کے متعلق معلوم حقیقت ہے کہ وہ خیر شر کو مطلق (absolute) نہیں بلکہ اضافی (relative) مانتے ہیں ۔ پھر بھلا وہ کیسے طیبات و خبائث کی پہچان کے لیے نفس انسانی کو حجت مان سکتے ہیں ؟ آپ ذرا ان کی عبارت دوبارہ پڑھیے اور دیکھیے کہ وہ اصل میں کہہ کیا رہے ہیں ؟ وہ صریح الفاظ میں کہہ رہے ہیں کہ جس چیز میں “لذت” ہے وہ اچھی ہے ۔ذرا تامل سے آپ یہ نتیجہ بھی نکال سکتے ہیں کہ جو چیز فائدہ پہنچانے والی ہے اسے انسان اچھا سمجھتا ہے ۔ لیکن نتیجہ تک چھلانگ لگانے سے قبل اس پر بھی توجہ کریں کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر وحی میں اس کے خلاف کچھ نہ ہو تو ! اس سے آپ نے یہ نتیجہ نکالا کہ وہ آپ کے موقف کی تائید کرتے ہوئے گویا یہ کہہ رہے کہ جسے انسان اچھا سمجھتا ہے وہ اچھا ہے اور اس کے لیے وحی کی ضرورت نہیں ہے ۔ جو لوگ امام رازی (اور اشاعرہ ) کے بنیادی مقدمات سے واقف ہیں وہ اس کے برعکس نتیجہ نکالتے ہیں کہ انسان کا کسی چیز کو اچھا سمجھنا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ وہ واقعتاً اچھی بھی ہے جب تک وحی سے اس کی تصدیق نہ ہو ۔ پھر یہ بھی دیکھیے کہ وہ اس بات کی دلیل کے لیے نفس انسانی کو کیے گئے الہام سے استدلال نہیں کرتے بلکہ اس آیت سے کرتے ہیں کہ : ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعا ۔ اور آخری بات یہ ہے کہ کوئی چیز “مفید ہے یا نقصان دہ “، لذیذ ہے بدذائقہ ، یہ الگ مسئلہ ہے اور یہ کہ اخلاقی اعتبار سے وہ اچھی ہے یا بری ایک بالکل ہی الگ نوعیت کا مسئلہ ہے ۔ آخر مولانا اصلاحی رحمہ اللہ نے ہی تو اس طرف توجہ دلائی ہے نا کہ بقرہ کی آیت میں شراب اور جوےکے فوائد اور نقصانات کا تقابل نہیں کیا گیا بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ ان کا “گناہ” ان کے “فائدے” سے بڑا ہے (واثمھما اکبر من نفعھما ) ۔ اس لیے شراب کے طبی فوائد و نقصانات کی بیلنس شیٹ یا اس سے حاصل شدہ ٹیکس اور ریونیو کے گوشوارے یہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہوسکتے کہ اخلاقی لحاظ سے یہ اچھی چیز ہے یا بری ۔

امام رازی کے موقف کی مزید تفصیل الگ سے لکھوں گا ، ان شاء اللہ ۔

چھٹا حصہ:

جن اصحاب کو یہ جاننے میں دلچسپی ہو کہ “انسانی فطرت” کیوں کسی چیز کو “خیر ” اور کسی دوسری چیز کو ” شر” مانتی ہے ، وہ H. L. A. Hart کے ان اقتباسات کو بغور پڑھیں جنھیں میں Law of Nature (2) کے عنوان سے پوسٹ کیا ہے ۔ اور جب بات “لذت” کے معیار تک آہی گئی ہے تو کچھ دیر میں Jeremy Bentham کے بھی کچھ اقتباسات پیش کروں گا جنھوں نے utility کو ہی سب سے بڑی اخلاقی قدر کے طور پر پیش کیا۔ اسے پڑھنے کے بعد بہت سے مفروضات ، جنھیں غامدی صاحب کا مکتبِ فکر “مسلمات” کے طور پر پیش کرتا ہے ، از سر نو غور کے متقاضی ہوجاتے ہیں۔کچھ اقتباسات امام غزالی کی “المستصفی” سے بھی پیش کروں گا ، ان شاء اللہ ۔

ویسے اس مقام پر ذرا ٹھہر کر غور کریں کہ کیا وجہ ہے کہ قرآن ، جو وحی الٰہی ہے ، اس کی تفسیر اور تاویل میں تو غامدی صاحب کا مکتب فکر امت مسلمہ کے صدیوں کے فہم کو ناقابل اعتبار ٹھہرا کر نئی راہیں نکالنے کو عین جائز بلکہ اپنا حق سمجھتا ہے لیکن “قانون فطرت” نام کی چیز اگر کہیں پائی بھی جاتی ہے تو غیر مکتوب ہے لیکن اس کے باوجود یہ مکتبِ فکر کم از کم اس کے “مبادیات “کو “مسلمات” مانتا ہے ؟

“قانونِ فطرت” اور ” وحی الٰہی” کے تعلق کے بارے میں غامدی صاحب کے تصور کے اصل مقتضیات کو سمجھنے کے لیے اس سوال پر غور ضروری ہے۔

اب آئیے جناب منظور الحسن صاحب کے بیان کردہ دوسرے نکتے کی طرف جسے ان کے الفاظ میں ہی یہاں پیش کیاجاتا ہے :

“اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خیر و شر کی مبادیات کا کامل شعور اللہ تعالیٰ نے انسان کو براہ راست ودیعت کررکھا تھا مگر ان کے لوازم و اطلاقات اور جزئیات و تفصیلات میں انسان کو مزید رہنمائی کی ضرورت تھی ۔ “

اس جملے کے ایک ایک جزو پر غور کریں ۔

“اس میں کوئی شبہ نہیں ” ۔ یہ وہ definiteness اور قطعیت ہے جو غامدی صاحب کے سکول آف تھاٹ کی خصوصیت ہے ۔ کسی دوسرے امکان کے لیے گنجایش ہی نہیں ۔

“خیر و شر کی مبادیات کا کامل شعور ” ۔ اس جزو پر کچھ سوالات پہلے ہی اٹھائے جاچکے ہیں ۔ دوبارہ غور کرلیں :

جب ان مبادیات کا کامل شعور انسان کو دیا گیا ہے تو کیا اس کا یہ مطلب ہوا کہ کم ازکم ان مبادیات کی حد تک انسان کو وحی الٰہی کی ضرورت نہیں رہی؟ اور یہ خیر و شر کی مبادیات ہیں کیا ؟

غامدی صاحب اس کی وضاحت میں سورۃ النحل کی آیت کا حوالہ دیتے ہیں جس میں عدل ، احسان اور ایتاء ذی القربی کا حکم دیا گیا ہے اور فحشاء ، منکر اور بغی سے روکا گیا ہے ۔ اب باقی چیزیں تو ایک طرف صرف “عدل” پر ہی یونانی فلاسفہ سے لے کر آج تک کی ڈھائی ہزار سالہ کاوش دیکھ لیں اور بتائیں کہ اس سب سے بنیادی اخلاقی قدر کو انسانی ” فطرت “نے کس خوبی سے سمجھا ہے کیونکہ اسے تو اس کا “کامل شعور “دیا گیا ہے !

اب منظور صاحب کے جملے کے اگلے جزو پر غور کریں :

“ان کے لوازم و اطلاقات اور جزئیات و تفصیلات میں انسان کو مزید رہنمائی کی ضرورت تھی ۔”

گویا جاوید صاحب کے مکتب ِ فکر کے نزدیک دین کی مبادیات کا بنیادی ماخذ تو “فطرت” ہے لیکن “جزئیات و تفصیلات” کے لیے “مزید رہنمائی “کی ضرورت کو وحی کے ذریعے پورا کیا گیا ۔ اس تصور نے وحی کو محض ایک “مزید رہنمائی” (supplemental guidance) بناکر رکھ دیا ہے ۔ یہی وہ point of departure ہے جو اس مکتبِ فکر کو امتِ مسلمہ کے عمومی موقف سے الگ کردیتا ہے اور اسے “اعتزال ِ جدید” کا علم بردار بنادیتا ہے ۔

آگے منظور صاحب نے جو کچھ کہا ہے وہ اس سے متناقض ہے ۔ ان تناقضات پر اگلی پوسٹ میں گفتگو کروں گا، ان شاء اللہ ۔

ساتواں حصہ:

منظور صاحب آگے فرماتے ہیں :

“انبیاے کرام نے دین ِ فطرت کی تائید و تصویب کی ہے اور انسانوں کو اس کے حقائق کی طرف متوجہ کیا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے ان اختلافات کو بھی رفع کیا ہے جو فطرت کے تقاضوں کے فہم میں پیدا ہوئے تھے یا ہوسکتے تھے ۔ چناں چہ انبیا کی رہنمائی کی موجودگی میں فطرت مستقل ماخذ دین کی حیثیت نہیں رکھتی ۔ فطرت کی تعیین انبیا کی تائید و تصویب سے ہی ہوتی ہے اور اس کی تعیین کے لیے وحی کی رہنمائی سے آزاد کوئی الگ اور مستقل معیار موجود نہیں ہے۔ “

اب ایک تو یہاں ان کے موقف میں تناقض ہے ۔ ایک جانب کہتے ہیں کہ دین کے مبادیات کا کامل شعور فطرت کو دیا گیا ہے اور صرف تفصیلات و جزئیات کے لیے وحی نے “مزید رہنمائی” فراہم کی اور دوسری طرف فرماتے ہیں کہ “انبیا کی رہنمائی کی موجودگی میں فطرت مستقل ماخذ دین کی حیثیت نہیں رکھتی “اور یہ کہ “فطرت کی تعیین انبیا کی تائید و تصویب سے ہی ہوتی ہے”۔ اگر فطرت کی “تعیین” بھی وحی نے ہی کرنی ہے اور “وحی سے آزادکوئی الگ اور مستقل معیار ” اس کے لیے ہے ہی نہیں تو پھر عقل و فطرت کا یہ گورکھ دھندا پیش کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ اگر مثال کے طور پر عدل وہی ہے جسے وحی نے عدل کہا، تو پھر “عقل و فطرت” کی بنیاد پر یہ سوال اٹھانا ہی غلط ہے کہ کیا یہ عدل ہے کہ میراث میں بیٹے کو بیٹی سے دوگنا حصہ ملے ؟ بلکہ پھر یہی ماننا پڑے گا کہ یہ عین ِ عدل ہے ، خواہ کسی عقل میں آئے یا نہیں ۔

Back to square one!

منظور صاحب آگے مزید فرماتے ہیں کہ غامدی صاحب فطرت کو “قرآن کی دعوت سمجھنے میں معاون ایک ذریعہ ” تو سمجھتے ہیں “لیکن کہیں بھی اسے مستقل بالذات ماخذِ دین کے طور پر پیش نہیں کیا ۔ ”

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہاں انھوں نے جاوید صاحب کے موقف کی صحیح ترجمانی نہیں کی ۔ اللہ ان کی لغزشوں سے درگزر کرے۔ خود منظور صاحب نے لکھا ہے کہ “خیر و شر کے مبادیات کا کامل شعور” فطرت کو براہ راست ودیعت کیا گیا ۔ اس کے بعد یہ کہنے کا کیا مطلب ہوسکتا ہے کہ انھوں نے اسے مستقل بالذات ماخذِ دین کے طور پر پیش نہیں کیا ؟

یہاں ایک دفعہ پھر مولانا اصلاحی اور جناب غامدی کے الفاظ پیش کرنے کی جسارت کروں گا ۔ مولانا اصلاحی ”بدیہیاتِ فطرت“ کو “شریعت الٰہی کے اجزا” قرار دیتے ہوئے ان کی خلاف ورزی کو عام شرعی احکام کی خلاف ورزی سے زیادہ سنگین معاملہ قرار دیتے ہیں ۔ درج ذیل اقتباس کے ایک ایک جزو پر غور کریں :

”فاتوھن من حیث امرکم اللہ (تو ان کے پاس آؤ، جہاں سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے) سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ تمام بدیہیات فطرت اللہ کے اوامر میں شامل ہیں اور اس پہلو سے وہ شریعت الٰہی کے اجزا ہیں، اگرچہ لفظوں میں خدا کی طرف سے ان کا حکم دیا گیا ہو یا نہ دیا گیا ہو۔ مثلاً یہ کہ اگرچہ اس بات کا کہیں حکم نہیں دیا گیا ہے کہ لقمہ منہ میں ہی ڈالنا چاہیے، ناک یا آنکھ میں نہیں ڈالنا چاہیے، تاہم یہ خدا کا حکم ہے اس لیے کہ فاطر نے ہماری فطرت یہی بنائی ہے۔ اگر کوئی شخص اس کی خلاف ورزی کرے تو درحقیقت وہ خدا کے ایک واضح بلکہ واضح تر حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے، اور اس پر وہ خدا کے ہاں سزا کا مستحق ہوگا۔ ہم نے اس کو واضح کے بجائے واضح تر اس لیے قرار دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے معاملات کو صرف اس وجہ سے ہماری فطرت پر چھوڑ دیا ہے کہ فطرت ان کی وضاحت کی وجہ سے ان میں کسی رہنمائی کی محتاج نہیں تھی۔“

اسی طرح جناب جاوید احمد غامدی کہتے ہیں:

”شریعت صرف ان امور سے بحث کرتی ہے جن میں عقل انسانی نے ٹھوکر کھائی ہے یا اس کے ٹھوکر کھانے کا امکان ہے۔ مثلاً معیشت سے متعلق سات آٹھ احکام ہیں، اسی طرح چند احکام سیاست سے متعلق ہیں، کچھ احکام معاشرت کے حوالے سے بیان کیے گئے ہیں، پانچ سات چیزیں آداب و شعائر کے بارے میں متعین کر دی گئی ہیں، حدود و تعزیرات میں صرف پانچ جرائم ہیں جن کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ ان کے علاوہ باقی معاملات کو عقل انسانی پر چھوڑ دیا گیا ہے۔“

یہ بھی پہلے ہی واضح کرچکا ہوں کہ یہ مولانا اصلاحی یا جناب غامدی کا تخلیق کردہ نظریہ نہیں ہے بلکہ ” حسن و قبح کے عقلی ہونے ” کا دعوی کرنے والے معتزلہ بھی یہی کہتے تھے اور “قانون ِ فطرت”پر ایمان رکھنے والے مسیحی فلاسفہ بھی یہی قرار دیتے رہے ہیں ۔ جان آسٹن کا یہ اقتباس پہلے بھی دیا گیا تھا:

“Of the Divine laws, or the laws of God, some are revealed or proclaimed, and others are unrevealed. Such of the laws of God as are unrevealed are not unfrequently denoted by following names and phrases: ‘the law of nature’; ‘natural law’; ‘the law manifested to man by the light of nature or reason’… Paley and other divines have proved it beyond a doubt, that it was not the purpose of Revelation to disclose the whole of these duties. Some we could not know, without the help of Revelation; and these the revealed law has stated distinctly and precisely. The rest we may know, if we will, by the light of nature and reason; and these the revealed law supposes or assumes. It passes them over in silence, or with a brief and incidental notice.”

اس لیے لگی لپٹی رکھے بغیر صاف الفاظ میں یہ قرار دینا چاہیے کہ معتزلہ اور قانون فطرت پر ایمان رکھنے والوں کی طرح غامدی سکول آف تھاٹ بھی حسن و قبح کو اشیا اور افعال کی ذاتی خصوصیت مانتا ہے اور قرار دیتا ہے کہ حسن و قبح کو عقل کے ذریعے یقینی طور پر معلوم کیا جاسکتا ہے ؛ البتہ کہیں کہیں اس عقل کو “مزید رہنمائی ” کی ضرورت تھی وہ وحی نے فراہم کردی ، اور بس!

نواں حصہ:

جناب منظور الحسن صاحب کا بیان کردہ اگلا نکتہ بہت دلچسپ ہے ۔ چوں کہ اچھائی ، برائی ، خیر ، شر ، مفید، غیر مفید پر کثیر اختلافات صدیوں سے موجود ہیں اور ان کا انکار بدیہیات کا انکار ہے ، اس لیے انھیں اس سوال سے تعرض کرنا پڑا کہ ان اختلافات کی موجودگی میں فطرت کو معیار کے طور پر کیسے مانا جاسکتا ہے ؟ ان کا جواب یہ ہے کہ اگر فطرت کی تعیین میں کسی جگہ اختلاف ہو تو “ذریت ِ ابراہیم کا رجحان” فیصلہ کن ہوگا ۔

اب ایک سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ “ذریتِ ابراہیم” سے مراد کیا ان کی نسل ہے یا روحانی ذریت؟ پہلی صورت میں یہ نسل پرستی بن جاتی ہے جسے شاید عقل و فطرت کے علم بردار قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوں اور وحی الٰہی کو معیار ماننے والے تو بالکل ہی مسترد کردیں گے ۔ تو اگر روحانی ذریت ہے تو ایک اور سوال پیدا ہوجاتا ہے ۔ کیا جو بھی خود کو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی راہ پر گام زن کہے وہ ان کی “روحانی ذریت” میں شامل ہوجائے گا ؟ قرآن نے تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا اپنا بیان کردہ یہ معیار ذکر کیا ہے : فمن تبعنی فانہ منی ۔ اور پھر قرآن نے خود اس کی “تصویب” کرکے قرار دیا : ان اولی الناس بابراھیم للذین اتبعوہ و ھذا النبی و الذین آمنوا ۔ جب رسول اللہ ﷺ اور ان پر ایمان لانے والے ہی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے متبعین ٹھہرے تو معلوم ہوا کہ خیر و شر کے لیے معیار رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی وحی ہی قرار پائی ۔ خود منظور الحسن صاحب بھی یہی مانتے ہیں کہ فطرت کی تعیین میں “اصل معیار” کی حیثیت اس آخری وحی کی تصویب ہی کو حاصل ہے ۔یہ تو پھر وہی بات ہوئی :

Back to square one!

پھر فطرت کو خیر و شر کے مبادیات کا کامل شعور براہ راست ودیعت کیے جانے کے مفروضے کی ضرورت کیا ہے ؟

اگر اس مفروضے کا مطلب صرف اتنا ہوتا کہ وحی جب کسی کام کا حکم دیتی ہے تو عقل اسے اچھا مان لیتی ہے اور جب وحی کسی کام سے روکتی ہے تو عقل اسے برا مان لیتی ہے ، جب تک عقل “نفس کی خواہشات” کے تابع نہ ہو ، تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی ۔ لیکن غامدی صاحب کا مکتبِ فکر صرف اتنا ہی نہیں مانتا بلکہ فطرت کو اصل قرار دے کر وحی کو اس کی تائید اور توضیحِ مزید کا ذریعہ مانتی ہے ۔ چناں چہ کئی اوامر و نواہی جو احادیث میں وارد ہوئے ہیں انھیں “شرعی حکم” ماننے کے بجاے جاوید صاحب “بیانِ فطرت” قرار دیتے ہیں اور یوں اپنے استاذ امام سے بھی ایک قدم آگے بڑھ جاتے ہیں کیوں کہ مولانا اصلاحی تو “بدیہیات ِ فطرت” کو “شریعت کے اجزا” قرار دیتے ہیں ۔

پھر ذرا اگلے سوال کی طرف جائیے ۔ “ذریت ِ ابراہیم” سے بظاہر جناب غامدی صاحب صرف مسلمانوں کو ہی مراد نہیں لیتے بلکہ اس میں یہود و نصاری کو بھی شامل سمجھتے ہیں کیوں کہ وہ قرار دیتے ہیں کہ “گزشتہ کئی صدیوں سے پیغمبر انھی میں آئے ہیں ۔ “اب پہلے تو واوین میں مذکور غامدی صاحب کے اصل الفاظ ذرا دوبارہ پڑھیے اور بتائیے کہ “گزشتہ کئی صدیوں” میں کون سے پیغمبر آئے ہیں ؟ بنی اسرائیل میں آخری پیغمبر کو آئے ہوئے دو ہزار سال ہوچکے ہیں اور آپ اسے بس “گزشتہ کئی صدیوں” کا مسئلہ سمجھتے ہیں ؟ (یہ اس over-simplification اور understatement کی ایک مثال ہے جو غامدی صاحب کے پورے discourse کی امتیازی خصوصیت ہے ۔ ) پھر اگر دو ہزار سال قبل کے دور کو آپ کسی لغت سے بہرحال “گزشتہ کئی صدیوں” کا مصداق قرار ہی دیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا کیوں کہ وہ اصل سوال نہیں ہے ۔ اصل سوال اس کے بعد کا ہے ۔

یہود کے متعلق قرآن نے گواہی دی ہے ، اور یہی مولانا اصلاحی اور جناب غامدی کا موقف بھی ہے ، کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسی مزید کچھ چیزیں حرام کردی تھیں تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی شریعت میں حرام نہیں تھیں ؛ اور مزید یہ کہ ان کے احبار نے ان حرمتوں پر اپنی جانب سے مزید حرمتوں کا بھی اضافہ کرلیا ۔ اب سوال یہ ہے کہ جن چیزوں کو ابراہیم علیہ السلام کی شریعت میں حرام نہیں قرار دیا تھا لیکن سیدنا موسی علیہ السلام کی شریعت میں حرام کردیا گیا اور بعد میں یہود کے احبار نے مزید حرام چیزوں کا اس میں اضافہ کیا ، تو کیا “ذریت ِ ابراہیم” کی یہ شاخ ان حرام چیزوں کو برا نہیں کہے گی اور جو انھیں حلال اور طیب کہیں کیا یہود انھیں غلط نہیں قرار دیں گے جب تک وہ یہود ہوں !

منظور صاحب نے شاہ ولی اللہ کی عبارت نقل کرتے ہوئے چربی کا حوالہ دیا تھا کہ فطرت اسے طیب مانتی ہے اور خون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ فطرت اسے خبیث مانتی ہے ۔ لیکن کیا کریں کہ خود قرآن کی گواہی کے مطابق گائے اور بکری کی چربی چند مستثیات کے ساتھ یہود پر حرام کردی گئی تھی۔بعد میں یہود کے احبار نے وہ مستثنیات بھی ختم کردیں اور چربی ان کے ہاں یکسر حرام قرار پائی ؛ فطرت کی گواہی خواہ کچھ بھی ہو!

پھر جب سیدنا مسیح علیہ السلام آئے اور یہود کے حرام کردہ بعض کام حلال کردیے ( ولاحل لکم بعض الذی حرم علیکم) تو یہود کے نزدیک یہی ان کا سب سے بڑا جرم ٹھہرا ۔ دوسری طرف مسیح علیہ السلام کے نام لیواؤں نے جب “شریعت کی حرمتوں” سے جان چھڑانے کا سلسلہ شروع کیا تو تان یہاں آکر ٹوٹی کہ پوری شریعت کو ہی “لعنت” قرار دیا ! اور یاد رکھیے کہ پولس جس نے یہ سلسلہ شروع کیا اس کا ابتدائی مقصد دین کو “آسان بنانا “اور “غیر قوموں” کے لیے قابلِ قبول بنانا تھا ۔ بہرحال ہوا یہ کہ یہود نے تحریم میں اضافے کیے اور مسیحیوں نے تحلیل میں ۔ ( توبہ کی آیت و لا یحرمون ما حرم اللہ و رسولہ میں نظم اور تاریخی پس منظر کی گواہی کے مطابق اشارہ مسیحیوں کی طرف ہی تھا ۔ ) اس لیے جیسے یہود کے “رجحان” کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی ، ایسے ہی مسیحیوں کا “رجحان” بھی ناقابل ِ اعتبار ٹھہرا ۔ اصل معیار آخری وحی ہی ہوا !

یہی منظور صاحب کا بیان کردہ اگلا نکتہ ہے کہ چوں کہ رسول اللہ ﷺ پر سلسلۂ انبیا کا اختتام ہوا ، اس لیے فطرت کی تعیین میں “اصل معیار” کی حیثیت اس آخری وحی کی تصویب ہی کو حاصل ہے ۔میں پھر کہوں گا :

Back to square one!

دسواں حصہ:

منظور الحسن صاحب کا آخری نکتہ یہ تھا کہ چونکہ آخری وحی کی تصویب کو ہی اصل اور حتمی معیار کی حیثیت حاصل ہے ، اس وجہ سے غامدی صاحب کو “مبادی تدبر فطرت “لکھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوئی ۔

پچھلی پوسٹس میں واضح کیا گیا کہ جاوید صاحب دین کے لیے فطرت کو مستقل بالذات بلکہ اولین ماخذ سمجھتے ہیں اور وحی کی رہنمائی کو صرف “مزید رہنمائی” قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے جیسے انھیں مبادی تدبر قرآن ، مبادی تدبر سنت اور مبادی تدبر حدیث لکھنے پڑے ، ایسے ہی ان کے لیے واجب تھا کہ وہ مبادی تدبر فطرت بھی لکھتے ۔

اور یہ “وجوب” تو خود غامدی صاحب نے تسلیم کیا ہوا ہے ! تبھی تو انھیں خود بعض مبادی تدبر فطرت کی تصریح کرنی پڑی ۔ مثال کے طور پر یہ کہ فطرت میں “خیر وشر کی مبادیات کا کامل شعور ” برا ہ راست ودیعت کیا گیا ہے ؛ یا یہ کہ اس براہ راست ودیعت کیے جانے کا سبب عہد الست ہے ؛ یا یہ کہ وحی کی رہنمائی کی حیثیت محض ایک “مزید رہنمائی “کی ہے ؛ یا یہ کہ جہاں فطرت کی تعیین میں اختلاف ہوگا وہاں “ذریت ِ ابراہیم کے رجحانات “کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا ۔

ان “صریح مبادی تدبر فطرت “کے علاوہ کچھ مزید مبادی تدبر فطرت ان کے اس discourse سے مستنبط کیے جاسکتے ہیں جو انھوں نے “شریعت”پر پیش کیا ہے ، بالخصوص ان مقامات پر جہاں وہ کسی حکم کو “حکم ِ شریعت کے بجاے محض بیان ِ فطرت” قرار دیتے ہیں ۔

ہمارا گلہ صرف اتنا ہے کہ ان کے مجموعی discourse کی طرح مبادی تدبر فطرت کے متعلق discourse میں بھی تین بنیادی خامیاں ہیں : قطعیت ، مبالغہ اور مسائل کی پیچیدگیاں نظرانداز کرکے انھیں انتہائی سادہ اور آسان بناکر پیش کرنا ۔

گیارہواں حصہ:

فطرت کی اس بحث کا قانونی مسائل کے استنباط کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ خود غامدی صاحب اور پھر ان کے متبعین باحسان یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جو کچھ غامدی صاحب نے فطرت اور شریعت کے تعلق کے بارے میں فرمایا ہے وہ فقہاے کرام اور اہلِ علم کے عمومی موقف سے صرف تعبیر میں مختلف ہے اور یہ گویا “محض نزاعِ لفظی” ہے ۔

ایسا نہیں ہے !

اس اختلاف نے غامدی صاحب کے مکتبِ فکر کو بالکل ایک الگ اور ممیز تشخص عطا کیا ہے ۔ چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں :

1۔ فقہاے کرام کے نزدیک شریعت نے پوری زندگی کا احاطہ کیا ہوا ہے ؛ کہیں اس نے نصوص کی مختلف دلالات کے ذریعے اور کہیں اصول و قواعد عطا کرکے ؛ اور اسی لیے زندگی کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہے ، نہ کبھی ہوگا ، جس کے لیے “شرعی حکم”نہ ہو ۔ اس کے برعکس غامدی صاحب کے نزدیک دین کی رہنمائی کا غالب حصہ فطرت کے ذریعے دیا گیا ہے اور شریعت نے تو صرف گنتی کے چند احکام دیے ہیں ۔ بار بار وہ یہی تو کہتے ہیں کہ “شریعت کو فقہ کے انبار” سے نجات دلانے کی ضرورت ہے ، حال آں کہ جسے وہ “شریعت” کہتے ہیں وہ دراصل ان کی “فقہِ شریعت” ہی ہوتی ہے ۔

2۔ پھر یہ کہ فقہاے کرام “شرعی حکم” کے لیے “خطاب الشارع” ضروری سمجھتے ہیں ، جبکہ غامدی صاحب کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے احکام کا غالب حصہ وحی کے بغیر ہی “براہ ِراست ” نفس ِانسانی کو ودیعت کیا گیا ہے ۔

3۔ جہاں بظاہر نصوص میں حکم نہ ہو ، تو غامدی صاحب کا موقف ہوتا ہے کہ “یہاں شریعت خاموش ہے ” اور یہ کہ “یہ معاملہ عقل ِ انسانی پر چھوڑا گیا ہے ” ؛ اس کے برعکس فقہاے کرام ہر معاملے کے حکم کو کسی نص سے ہی ( دلالات یا قیاس و استحسان اور استدلال و استنباط کے مختلف طریقوں کے ذریعے) مرتبط کرتے ہیں ۔ “اباحتِ اصلیہ” کے مسئلے کو ہی لیجیے ۔ فی الوقت مجھے اس presumption کی صحت یا عدم صحت پر گفتگو نہیں کرنی ، لیکن صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ جو فقہاے کرام اس اصل کو استعمال بھی کرتے ہیں تو وہ دو باتوں کا لحاظ کرتے ہیں جن کا لحاظ غامدی صاحب نہیں کرتے اور اس وجہ سے غامدی صاحب کی پوزیشن بالکل ہی مختلف ہوجاتی ہے ۔ وہ دوباتیں یہ ہیں کہ یہ فقہاے کرام پہلے نصوص سے استنباط کے تمام طرق exhaust کرلیتے ہیں اور اس کے بعد “آخری دلیل” کے طور پر اباحتِ اصلیہ کی طرف آتے ہیں ؛ دوسرے یہ کہ یہ فقہاے کرام اباحت ِ اصلیہ کو فطرت کے کامل شعور کی بنیاد پر نہیں بلکہ مختلف نصوص کی بنیاد پر مانتے ہیں ، جیسے ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعاً ۔ نتیجتاً غامدی صاحب کا پہلا مفروضہ “اباحت” کا ہوتا ہے اور اسی لیے وہ ہمیشہ بار ثبوت دوسروں پر ڈالتے ہیں ؛ جبکہ یہ فقہاے کرام پہلے سارا بار خود اٹھاتے ہیں اور اس کے باوجود انھیں حرمت کی دلیل نہ ملے تو وہ اباحت کے قائل ہوجاتے ہیں ۔ یہ ہے ان فقہاے کرام کے نزدیک اباحت ِ اصلیہ کا مفہوم اور یہ approach اور paradigm کا بالکل ہی بنیادی اختلاف ہے ۔

یہ صرف چند مثالیں ہوئیں ۔ تفصیلات اور بھی پیش کی جاسکتی ہیں ۔

مجھے یہاں اس بحث میں نہیں جانا کہ اس معاملے میں فقہاے کرام کا موقف “صحیح ” ہے یا غامدی صاحب کا۔ اس لیے جو لوگ غامدی صاحب کا دفاع کرنا چاہتے ہیں وہ ان کے موقف کی صحت کے لیے دلائل نہ دیں ۔ میرا مقصود صرف یہ دکھانا ہے کہ غامدی صاحب کا موقف امت مسلمہ کے عمومی موقف سے “مختلف” ہے ۔ اس لیے از راہِ کرام امام رازی یا شاہ ولی اللہ یا دیگر ائمہ کے اقتباسات دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں کہ وہ بھی تو یہی کہتے تھے ۔

ہاں ، البتہ “معتزلہ” کے ائمہ کے حوالے آپ بے شک دے سکتے ہیں کہ یہی ان کا موقف تھا !

بارہواں حصہ:

بحث اب اس موڑ تک آگئی ہے جہاں “اجتہاد” اور “راے کی آزادی” پر بحث ضروری ہوگئی ہے ۔ پہلے وہ چند اقتباسات دوبارہ پیش کرنا چاہتا ہوں جن کا اس مسئلے سے براہ راست تعلق ہے ۔ تکرار کے لیے معذرت ۔

ایسا مسئلہ جس میں بظاہرقانون خاموش ہو، اصول قانون کی اصطلاح میں Hard Case کہلاتا ہے۔ مگر ایسے مسئلے میں قانونی حکم کہاں سے اخذ ہوگا، جبکہ بظاہر قانون خاموش ہے؟ Naturalists کا کہنا ہے کہ اس صورت میں فطری عدل کے اصولوں کے مطابق کسی کام کو جائز یا ناجائز ٹھہرایا جائے گا۔ Positivists کا کہنا ہے کہ اس صورت میں جج اپنی”تربیت یافتہ قانونی صلاحیت“ (Trained Legal Skill)اور ”عدل کے متعلق تمیزکی حس“ (Discretionary Sense of Justice) استعمال کرے گا۔ گویا اس صورت میں ان دونوں مکاتب فکر کا آپس میں طریق کار پر اتفاق ہو جاتا ہےلیکن حقیقت میں بھر بھی اختلاف رہتا ہے کیوں کہ Naturalists کے مطابق حکم پہلے سے موجود ہوتا ہے جسے جج دریافت کرلیتا ہے جبکہ positivists کے نزدیک جج اس موقع پر قانون ساز بن جاتا ہے ۔ یہ بہت اہم فرق ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ۔

بہت سے ماہرین قانون جج کی discretion کو ماننے سے انکار کرتے ہیں کیوں کہ اس صورت میں جج قانون کا شارح باقی نہیں رہتا بلکہ وہ خود قانون ساز اور شارع کی حیثیت اختیار کرلیتا ہے۔ مایہ ناز ماہر قانون اور فلسفہ قانون کے ایک بڑے ”امام“ Ronald Dworkin نے مضبوط دلائل سے ثابت کیا ہے کہ عام مقدمات تو ایک طرف ، Hard Cases میں بھی جج discretion کے بجائے”قانون کے قواعد عامہ“ (General Principles of Law) کا استعمال کرتا ہے۔

بعینہ یہی مسئلہ مسلمان اہل علم کے درمیان زیر بحث آیا۔

جناب جاوید احمد غامدی اس سلسلے میں لکھتے ہیں:”اس ]اجتہاد[ کا مطلب یہ ہے کہ قر آن و سنت جن معاملات میں خاموش ہیں ان کے بارے میں عقل و فطرت کی روشنی میں رائے قائم کی جائے۔ یہی اجتہاد کا صحیح مفہوم ہے۔“

تاہم مسئلے کی یہ تعبیر امت مسلمہ کے اہل علم کی غالب اکثریت کے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ پروفیسر عمران احسن خان نیازی فقہاء اور اصولیین کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:

“Once revelation has come, such laws may only be discovered in the light of revelation, because revelation does not pass them over in silence; it indicates them through general principles.”

جاوید صاحب کا اجتہاد کے متعلق فقہاے کرام کے موقف سے دو بنیادی امور میں مختلف ہے :

1۔ یہ کہ جاوید صاحب کے برعکس فقہاے کرام یہ مانتے ہی نہیں کہ “عقل و فطرت کی روشنی میں راے قائم کرنا “اجتہاد ہے ؛ بلکہ ان کے نزدیک “شرعی حکم ” کو اس کے مآخذ سے مستنبط کرنے کے لیے پوری کوشش صرف کرنے کا نام اجتہاد ہے ؛ اور یہ معلوم حقائق ہیں کہ فقہاے کرام شرعی حکم کے لیے “خطاب الشارع” ضروری سمجھتے ہیں اور یہ کہ ان کے نزدیک اس شرعی حکم کے مآخذ کیا ہیں ؟

2۔ یہ کہ جاوید صاحب نے نص کے فہم اور اس کی تعبیر کو “اجتہاد” کے مفہوم سے خارج کیا ہے جبکہ فقہاے کرام کے نزدیک یہ اجتہاد کا اولین اور بنیادی mode ہے ۔ کسی بھی اصول فقہ کی کتاب میں “بیان “کے مباحث دیکھے جاسکتے ہیں ۔

اس لیے یہ معاملہ محض لفظی نزاع کا نہیں بلکہ بنیادی تصور کے اختلاف کا ہے ۔

اور باقی رہی ثمرہ کی بات تو صرف اس ایک امر پر غور کریں کہ جاوید صاحب نے “گنتی کے چند احکام” کے علاوہ “باقی سب کچھ” قانون سازوں اور ججز کی discretion پر چھوڑ دیا ہے جبکہ فقہاے کرام اسی discretion کو اصول و قواعد کے حدود میں رکھنا چاہتے ہیں ۔ کسی بھی اصول ِ قانون یا فلسفۂ قانون کی کتاب میں discretion پر بحث ملاحظہ کریں اور دیکھیں کہ بڑے بڑےفلاسفۂ قانون نے اس discretion کو محدود کرنے کے لیے کتنے جتن کیے ہیں اور آپ پھر اس دیو کو آزاد چھوڑ دینا چاہتے ہیں !

اس پہلو سے غامدی صاحب کے فکر میں ایک سخت تناقض بھی پیدا ہوجاتا ہے لیکن اس پر بحث کسی اور وقت کریں گے ۔

اگلی پوسٹ اس موضوع پر آخری ہوگی ، ان شاء اللہ ۔

تیرہواں حصہ:

اب اس ساری بحث کو سمیٹتے ہوئے وہ بنیادی سوالات میں سامنے رکھنا چاہتا ہوں جن کے جواب سے غامدی صاحب کے تصور فطرت کی صحیح تفہیم ممکن ہوتی ہے اور اس کے بعد یہ فیصلہ آسان ہوجاتا ہے کہ کیا جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں وہ محض پرانی بات کو نئے انداز میں کہنےکی عادت ہے یا واقعتاً وہ ایک الگ اور مستقل موقف رکھتے ہیں ۔

سوالات نئے نہیں پرانے ہیں اور اصول فقہ اور علم کلام کی تمام کتابوں میں ملتے ہیں ۔ جاوید صاحب کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے انھیں پیش کرنے کےلیے vocabulary مختلف استعمال کی ہے جس کی وجہ سے عام لوگ تو ایک طرف اچھے خاصے اہل ِ علم کو بھی بظاہر ان کے موقف میں کچھ خاص مسئلہ دکھائی نہیں دیتا ۔

“خیر و شر کی مبادیات کا کامل شعور فطرت کو براہ راست ودیعت کیا گیا ہے !”

یہ الفاظ و تعبیرات چھوڑ کر صاف الفاظ میں درج ذیل چار سوالات کے جوابات دیجیے کہ “آپ کے نزدیک “:

1۔ کیا کسی شے یا کسی فعل کا اچھا یا برا ہونا اس شے یا فعل کی ذاتی خصوصیت ہے ؟

2۔ اگر ہاں ، تو کیا اس ذاتی خصوصیت کو انسانی عقل یقینی طور پر پہچان سکتی ہے ؟

3۔ اگر دوسرے سوال کا جواب بھی ہاں میں ہے تو کیا عقل کا یہ فیصلہ خدا کا حکم قرار پاتا ہے ؟ اور

4۔ اگر تیسرے سوال کا جواب بھی ہاں میں ہے تو پھر وحی کی ضرورت کیا ہے ؟

(چوتھے سوال کو قیصر شہزاد بھائی کے سامنے یوں پیش کیا جاسکتا ہے کہ فلاسفہ کو انبیا کی کیا ضرورت ؟ )

ان مسائل میں آپ کا جو بھی موقف ہے مجھے اس کی صحت یا عدم صحت سے غرض نہیں ہے بلکہ میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کا موقف ہے کیا ؟ اس لیے اپنے موقف کی صحت کے دلائل نہ ہی دیں تو بہتر ہے ۔

غامدی صاحب ہی کا ایک پرانا شعر یاد آگیا !

آتی تو آسماں سے ہے ، کیا جانیے مگر

ابلیس کی صدا کہ نواے سروش ہے !

اوپر مذکورہ سوالات کے جوابات دیتے وقت یہ شعر بھی مد نظر رکھیں اور مان لیں کہ اس کا اطلاق صرف صوفیہ کو ہونے والے القا پر ہی نہیں ہوتا بلکہ “عقل و فطرت کی رہنمائی “پر بھی ہوتا ہے ۔

(ختم شد)

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں