101

فیمنزم کا ایک پہلو – محمد دین جوہر

فیمینزم مرد اور عورت کے رشتے کو طاقت کے تناظر میں دیکھنے اور طاقت کی شرائط پر تشکیل دینے کی جدوجہد ہے۔ یہ طاقت سیاسی اور سرمائے کی ہے۔ فیمینزم کا بنیادی ترین موقف ہے:
Everything is political, hence the individual is political.
اس تناطر میں عورت اپنے جینڈر کی وجہ سے فطرتاً less empowered ہے۔ لہذا عورت کی ایمپاورمنٹ، فیمینزم کا اصل ماٹو اور طاقت اور سرمائے کے سسٹم سے بنیادی مطالبہ ہے۔ اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ کیا عورت less empowered ہے، اور اگر ہے تو کیوں ہے؟تو اس کے جواب میں پورے کلچر، مذہب اور روایتی تصورات پر ذمہ داری عائد کی جاتی ہے۔ اور سسٹم سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ نیچر کے پیدا کردہ عدم توازن کو درست کرے۔

ہر انسانی رشتہ قائم جمالیاتی (پسند ناپسند) اساس پر ہوتا ہے اور نبھتا اخلاقی بنیادوں پر ہے۔ مذہبی معنوں میں ہر دو انسانوں کے مابین تیسرا خدا ہے۔ لیکن فیمینسٹ تناظر میں یہ تیسرا، سسٹم ہے۔ یعنی مرد اور عورت کا رشتہ ”پولیٹیکل“ ہے، یعنی طاقت کی اساس رکھتا ہے، یعنی قانونی ہے، لہذا سسٹم قانون سازی کے ذریعے اس کو ریگولیٹ کرنے کی ذمہ داری پوری کرے۔ یہ اصلاً انسانی رشتے، ہر انسانی رشتے، کے خاتمے کا اعلان ہے۔ اسی باعث مغرب میں باپ بیٹی، بہن بھائی اور ماں بیٹے کا رشتہ سیاسی تقویم حاصل کر کے جمالیاتی اور اخلاقی، یعنی ہر انسانی معنی میں ختم ہو چکا ہے۔

اس میں اہم پہلو یہ ہے کہ حیات اور نیچر نے مرد اور عورت کو یکساں ایمپاور نہیں کیا۔ فیمینزم نیچر کی درستی کا مطالبہ ہے۔ ”ایک فرد، ایک ووٹ“ کے اصول پر قائم مغربی سیاسی نظام، اور ”ایک نوکری، ایک پیٹ“ کے اصول پر قائم مغربی سرمایہ دارانہ نظام نے اس مطالبے کو بخوشی پورا کیا ہے تاکہ فرد، فرد معاشرے سے مزاحمت کے تمام انسانی وسائل کو حتمی طور پر ختم کر دیا جائے۔

فیمینسٹوں کا حالیہ مظاہرہ کوئی نئی چیز نہیں ہے، یہ صدیوں پرانا ہے۔ فرق مغرب کی ہارڈ پاور اور سوفٹ پاور کا ہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے بحری جہاز کبھی ایسے ہی دھوم دھڑکے سے ہماری بندرگاہوں پر لنگر انداز ہوا کرتے تھے، جیسے ہمارے گھر آنگن نے یہ مظاہرہ دیکھا ہے۔ جب تک ہم پوری طرح نہیں ”سمجھیں“ گے، ان کی بندوقیں، نطریے اور کلچر مفتوح منزلوں کی طرف محو سفر رہیں گے، اور عالمگیر سسٹم میں ہمارے تمام تر تہذیبی وسائل نچڑتے رہیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

فیمنزم کا ایک پہلو – محمد دین جوہر” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں