303

فہرست و مختصر تعارف کتبِ رجال و جرح و تعدیل- فیصل ریاض شاہد

کتب تعارف و حالاتِ صحابہ اکرام
١۔ معرفۃ من نزل من الصحابہ سائرالبلدان- از امام علی بن عبداللہ المدینی
2۔ کتاب المعرفۃ – از امام مروزی
3۔ کتاب الصحابہ – از امام محمد بن حبان ابو حاتم بستی
4۔ اسد الغابہ فی معرفہ الصحابہ- از ابن اثیر۔ اس میں 7554 صحابہ اکرام کے تراجم ہیں۔ اس کتاب میں مصنف سے تسامح بھی ہوا ہے۔
5۔ تجرید اسماء الصحابہ – از امام ذہبی
6۔ الاستیعاب – از امام ابو یوسف بن عبداللہ بن محمد بن عبدالبر نمری قرطبی مالکی۔ اس کتاب میں 3500 صحابہ اکرام کا تذکرہ ہے۔
7۔ الاصابہ فی تمیز الصحابہ – از امام ابن حجر عسقلانی۔ اس میں 9477 صحابہ اور 1545 صحابیات کا ذکر ہے۔
8۔ الریاض المستطابۃ فی جملہ من روی فی الصحیحین من الصحابۃ – از شیخ یحیی بن ابو عام یمنی۔ اس میں ان صحابہ اکرام کا تذکرہ ہے جن سے صحیحین میں روایت ہے۔
9۔ در السحابۃ من دخل مصر من الصحابۃ – از امام سیوطی
10۔ البدر المنیر فی صحابہ البشیر النذیر – از شیخ محمد قائم بن صالح سندی حنفی قادری۔

کتب تاریخ رجال
1. تاریخ الرواۃ- امام یحیی بن معین
2. معرفۃ الرجال – از امام یحیی بن معین
3. التاریخ والعلل – از امام یحیی بن معین
4. التاریخ – از امام احمد بن محمد حنبل
5. تاریخ کبیر مؤلفہ امام محمد بن اسماعیل البخاری۔
6. الھدایۃ والارشاد فی معرفۃ اھل الثقۃ والسداد – از امام ابو نصر احمد بن محمد بن حسین کلابازی
7. تاریخ نیشاپور – از امام محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری
8. تاریخ بغداد – از امام ابوبکر احمد بن علی بن ثابت بن احمد بغدادی شافعی
9. تاریخ دمشق – از حافظ ابو القاسم علی بن حسین ابن عساکر دمشقی
10. تہذیب تاریخ ابن عساکر – از شیخ عبدالقادر بدران
11. کتاب الکمال فی اسماء الرجال مؤلفہ عبدالغنی بن عبدالواحد مقدسی۔
12. کتاب الکمال فی اسماء ورجال – از ابوالقاسم عبدالکریم بن محمد رافعی قزوینی
13. تہذیب الکمال فی اسماء الرجال مؤلفہ یوسف بن الزکی المزی۔ یہ کتاب عبدالغنی مقدسی کی کتاب الکمال فی اسماءالرجال کی تہذیب ہے۔
14. التذکرۃ برجال العشرۃ – از محمد بن علی بن حمزہ دمشقی۔ اس میں مصنف نے اپنے شیخ علامہ مزی کی کتاب تہذیب الکمال میں چار کتابوں ، موطا، مسند شافعی، مسند احمد بن حنبل، مسند ابی حنیفہ لحسین بن محمد بن خسرو، کے رجال کا اضافہ کیا ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی کے سامنے یہ کتاب موجود تھی۔
15. اکمال تہذیب الکمال فی اسماء ورجال – از حافظ علاء الدین مغلطائی۔ یہ حافظ مزی کی تہذیب الکمال پر 13 جلدوں کا استدراک ہے۔
16. تذھیب تہذیب الکمال – از امام ذہبی۔ یہ علامہ مزی کی تہذیب الکمال کا اختصار ہے۔
17. الکاشف عن رجال الکتب السنۃ – از امام ذہبی۔ یہ تذھیب تہذیب الکمال کا بھی اختصار ہے جس میں صرف ان رواۃ کا تذکرہ کیا گیا ہے جن کی روایات کی تخریج صحاح ستہ میں کی گئی ہے۔
18. میزان الا عتدال مؤلفہ محمد بن احمد الذ ہبی۔
19. تاریخ الاسلام و طبقات المشاہیر و الاعلام – از امام ذہبی۔ اس کی 35 جلدیں ہیں جن میں امام صاحب نے کتاب کو سنین کے اعتبار سے مرتب کیا ہے ، اس کی ابتداء پہلی صدی سے ہوتی ہے اور انتہاء سات سو ہجری پر ہوتی ہے۔ ہر طبقہ کیلئے دس سال رکھے ہیں البتہ ہر طبقہ کے اسماء کو حروف تہجی کے لحاظ سے اور حوادث کو سنین کے اعتبار سے مرتب کیا ہے۔
20. سیر اعلام النبلا – ازامام ذہبی۔ یہ چار مذکورہ بالا کتاب کا چار جلدوں میں اختصارہے۔
21. کتاب الجرح والتعدیل مؤلفہ امام عبدالرحمن بن محمد بن ادریس ابو محمد بن ابی حاتم الرازی۔
22. الکامل فی ضعفاء الرجال مؤلفہ عبداللہ بن عدی الجرجانی۔
23. تہذیب التہذیب ۔از علامہ ابن حجر عسقلانی۔ اس میں علامہ ابن حجر عسقلانی نے علامہ مزی کی تہذیب الکمال کی تلخیص کی ہے اور بہت سے فوائد کا اضافہ کیا ہے۔
24. تقریب التہذیب –از عسقلانی۔ یہ مذکورہ بالا کتاب کا اختصار ہے۔ اس کے حاشیہ پر شیخ محمد طاہر پٹنی کی “المغنی فی اسماء ورجال الحدیث” بھی ہے۔ مشہور کتاب ہے۔

کتب طبقات رجال
1۔ الطبقات الکبری- از محمد بن سعد کاتب الواقدی
2۔ طبقات الرواۃ- از حافظ ابو عمرو خلیفہ بن خیاط شیبانی عصفری
3۔ طبقات التابعین- از امام مسلم بن الحجاج قشیری (امام مسلم)
4۔ کتاب التابعین – از حافظ محمد بن حبان بستی
5۔ طبقات المحدثین والرواۃ – از حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہ بن احمد اصبہانی
6۔ طبقات الحفاظ/ تذکرۃ الحفاظ – از امام ذہبی
7۔ ذیل تذکرۃ الحفاظ – از ابو المحاسن حسینی دمشقی
8۔ لحظ الالحاظ بذیل طبقات الحفاظ – از حافظ تقی الدین بن فہد
9۔ طبقات الحفاظ – از امام سیوطی۔ یہ تذکرۃ الحفاظ کی تلخیص ہے۔
10۔ ذیل طبقات الحفاظ – از امام سیوطی۔ یہ تذکرۃ الحفاظ کا ذیل ہے۔

کتب جرح و تعدیل
1۔ الجرح و التعدیل- از امام احمد بن حنبلؒ
2۔ کتاب الضعفاء- ازمحمد بن عبداللہ بن عبدالرحیم برقی زہری
3۔ الجرح و التعدیل والضعفاء- از امام جوزجانی
4۔ الضعفاء – از امام بخاری
5۔ تاریخ الضعفاء والمتروکین – از امام نسائی
6۔ الجرح والتعدیل – از امام ابوحاتم رازی
7۔ الثقات – از ابو حاتم بن حبان بستی
8۔ الکامل فی معرفۃ ضعفاء المحدثین وعلل الحدیث – از امام جرجانی
9۔ المدخل – از امام حاکم نیشاپوری
10۔ کتاب الضعفاء المتروکین او اسماء الضعفاء الواضعین – از علامہ ابن جوزی
11۔ میزان الاعتدال – از امام ذہبی۔ اس کتاب میں 10907تراجم ہیں۔
12۔ رسالہ فی رواۃ الثقات المتکلم فیھم بما لایوجب ردھم – از امام ذہبی۔
13۔ نثل الھمیان فی معیار المیزان – از برہان الدین ابراہیم بن محمد حلبی سبط ابن العجمی۔ یہ میزان الاعتدال پر استدراک ہے۔
14۔ الاغتباط بمعرفۃ فی من رمی بالاختلاط – از برہان الدین ابراہیم بن محمد حلبی سبط ابن العجمی۔
15۔ التبیین لاسماء المدلسین – از برہان الدین ابراہیم بن محمد حلبی سبط ابن العجمی
16۔ الکشف الحثیث علی من رمی بوضع الحدیث – از برہان الدین ابراہیم بن محمد حلبی سبط ابن العجمی۔
17۔ لسان المیزان – از امام ابن حجر عسقلانی۔ اس میں امام عسقلانی نے حافظ ذہبی کی میزان کے بہت سے ان رواۃ کو حذف کر دیا ہے جن سے آئمہ ستہ نے روایت کی تخریج کی ہے اور تہذیب الکمال میں جن رواۃ کا ذکر ہے، ان کو بھی حذف کر دیا ہے۔ اور بقیہ میزان الاعتدال کو کتاب میں شامل کر لیا ہے اور کافی اضافے بھی کئے ہیں۔ اس میں 14343تراجم ہیں۔
18۔ طبقات المدلسین – از امام ابن حجر عسقلانی
19۔ الثقات ممن لم یقع فی الکتب السنۃ – از زین الدین قاسم بن قطلوبغا

کتب موضوعات
1۔ تذکرۃ الموضوعات- از ابوالفضل محمد بن طاہر مقدسی۔ اس میں حدیث موضوع کے علاوہ مصنف نے اس راوی کا ذکر کیا ہے جس کو آئمہ فن نے مجروح قرار دیا ہے۔
2۔ الموضوعات فی الاحادیث المرفوعات- از ابو عبداللہ حسین بھی ابراہیم ہمدانی جوزقی
3۔ الموضوعات الکبری- از امام ابن جوزی۔ اس میں مصنف نے مختلف کتب سے احادیث کو جمع کیا ہے اور ان کا موضوع ہونا بیان کیا ہے۔ بالخصوص الکامل لابن عدی، الضعفاء لابن حبان و العقیلی والازدی اور تفسیر ابن مرودیہ، طبرانی کی تینوں معاجم، خطیب بغدادی اور ابو نعیم وغیرہ کی تصنیفات سے جمع کیا ہے مگر مصنف نے بہت سی حدیثوں کے وضع کے فیصلے کے حوالے سے تشدد سے کام لیا ہے۔علامہ ذہبی کی رائے یہ ہے کہ محدث ابن جوزی نے بہت سی قوی و حسن روایات کو بھی کتاب میں الموضوعات میں داخل کر لیا ہے۔ ابن حجر عسقلانی نے فرمایا ہے کہ ابن جوزی کا نقد روایات میں تشدد اور حاکم سے تساہل نے ان دونوں کی کتابوں کے نفع کو مشکل بنا دیا ہے اس لئے ان دونوں کی کتب کی ہر حدیث میں تساہل کا امکان ہے پس ناقل کو ان دونوں سے نقل میں احتیاط کی ضرورت ہے، مجرد ان دونوں کی تقلید مناسب نہیں۔ علامہ سیوطی نے اپنی کتاب القول الحسن فی الذب عن السنن میں ان سب کا جواب دیا ہے، جامع ترمذی اور دیگر صحاح وغیرہ پر علامہ ابن جوزی کے اعتراضات و وجوہات معلوم کرنے کیلئے التعقبات علی الموضوعات کا مطالعہ ضروری ہے۔
4۔ المغنی عن الحفظ والکتاب بقولھم لم یصح شئی فی ھذا الباب– از حافظ موصلی حنفی
5۔ تحزیر الخواص من اکاذیب القصاص – از حافظ جلال الدین سیوطی۔
6۔ اللائی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعۃ – از سیوطی۔ یہ ابن جوزی کی الموضوعات کا اختصار و استدراک ہے۔
7۔ ذیل اللائی المصنوعۃ– از امام سیوطی
8۔ النکت البدیعات – از امام سیوطی
9۔ التعقبات علی الموضوعات۔ از امام سیوطی
10۔ تبریۃ الشریعۃ المرفوعۃ عن الخبار الشنیعۃ الموضوعۃ – از ابو الحسن علی بن محمد ابن عراق کنانی۔ یہ سیوطی کی اللائی پر اضافہ و استدراک ہے۔
11۔ تذکرۃ الموضوعات– از جمال الدین محمد بن طاہر پٹنی
12۔ قانون الاخبار الموضوعۃ والرجال الضعفاء – از جمال الدین محمد بن طاہر پٹنی
13۔ الفوائد المجموعۃ فی احادیث الموضوعۃ۔ از قاضی شوکانی
14۔ تحذیر المسلمین فی الاحادیث الموضوعۃ علی سید المرسلین– از عبداللہ محمد بشیر ظافر مالکی
15۔ الموضوعات الکبیر– از ملا علی قاری
16۔ رسالۃ– از امام صنعانی
17۔ اللولو المرصوع فیما لا اصل لہ او باصلہ موضوع– از شیخ محمد بن ابی المحاسن الحسنی
18۔ الاحادیث المرفوعۃ فی الخبار الموضوعۃ– از مولانا عبدالحیی لکھنوی
19۔ المقاصد الحسنۃ– از امام سخاوی

فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں