489

فلسفہ کیا ہے؟

ہم جس کائنات میں رہتے ہیں، یہ ایک مادی کائنات ہے۔ ہم اپنی کائنات کو آنکھوں سے دیکھتے اور محسوس کر سکتے ہیں کیونکہ ہمارے حواس خمسہ اسے دیکھ سکنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ کائنات، دنیا، سمندر، پہاڑ، پودے، انسان، حیوان غرض ہماری کائنات میں موجود ہر شے ایک مادی وجود ہے۔ لیکن ان سب کے برعکس ہم ایک ایسی دنیا کےبھی قائل ہیں جسے نہ تو حواس خمسہ سے محسوس کیا جاسکتا ہے اور نہ عقل محض سے اس تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ہم ایسے متعدد موجودات کے قائل ہیں جنہیں ہم حیطہ ادراک میں تو نہیں لا سکتے لیکن ان کے موجود ہونے پر پورا ایمان رکھتے ہیں، مثلا خدا، جنت، جہنم، فرشتے، جنات وغیرہ۔ گویا ہمارے نزدیک دو دنیائیں یا عالم متوازی طور پر موجود ہیں جن میں سے ایک ہمارا عالم مادی Physical Universe ہے اور دوسرا ایک تصوراتی، غیر مرئی، ناقابل محسوس، ماورائے عقل و ادراک عالم ، غیر مادی اور مابعدالطبیعی عالم Metaphysical Universe ہے۔ اس ماورائے عقل و ادراک عالم اور اس کے مشمولات اور اس سے متعلق دیگر بے شمار سوالات اور مسائل کا مطالعہ کرنا فلسفے کی شاخ “مابعد الطبیعات Metaphysics” کا کام ہے۔ سادہ لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ فزیکل ورلڈ کا مطالعہ فزکس اور میٹافزیکل ورلڈ کا مطالعہ میٹافزکس کہلاتا ہے۔
“کتاب موجود ہے”، یہ ایک سادہ جملہ ہے، جس میں “کتاب”، “موجود” اور “ہے” کے تین الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔اس جملے میں ” کتاب” ایک معروف شے ہے، ہم سب اس سے واقف ہیں۔”ہے” زمانہ حال کی نشاندہی کر رہا ہے۔ درمیان میں لفظ “موجود” آیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجود ہونے سے کیا مراد ہے؟ کوئی شے کب “موجود” ہوتی ہے؟ وجود کیا ہوتا ہے؟ وہ کون سی صفت ہے کہ جو اگر کسی شے میں پائی جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ شے موجود ہے؟ آیا وجود بذات خود کوئی صفت ہے یا نہیں؟ یہ اور ان جیسے بہت سے سوالات جو “وجود” اور “موجود ہونے” یا صرف “ہونےBeing” سے بحث کرتے ہیں، وجودیاتی سوالات کہلاتے ہیں۔ ان سوالات سے بحث کرنے والے علم کا نام ہے “وجودیاتOntology” ہے، جو فلسفے کی ایک شاخ ہے۔
میز پر کتاب کو دیکھنے سے ہم جان جاتے ہیں کہ کتاب میز پر رکھی ہے کیونکہ ہم کتاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ اسی طرح بصارت کے علاوہ سماعت، لمس، ذائقے اور خوشبوسے ہم اشیاء کے مختلف مدرکات (ادراکات –ادراک کی جمع- Sansations) حاصل کرتے ہیں اور ان کے بارے میں جان پاتے ہیں۔ ہمارے یہ پانچ حواسSensesحواس خمسہ کہلاتے ہیں۔ چونکہ ہم حواس خمسہ کی مدد سے اشیاء کے بارے میں جان پاتے ہیں اس لئے بجا طور پر حواس خمسہ ایک عدد “ذریعہ علمWay to Knowledge” ہیں۔ بعض باتوں کا علم ہمیں حواس کی بجائے عقل محضPure Reasonسے ہوتا ہے۔ مثلا دو جمع دو چار۔ ہم دو یا جمع یا چار کو حواس خمسہ سے ادراک نہیں کرتے لیکن اس کے باوجود ہمیں علم ہے یا دو جمع دو چار ہوتا ہے۔ ہمیں یہ علم عقل محض سے حاصل ہوتا ہے۔ تو بلاشبہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ حواس خمسہ اور عقل محض دو مستقل ذرائع علم ہیں۔ ان دو ذرائع علم پر تمام انسانوں کا تاریخی اجماع ہے لیکن ایک تیسرا ذریعہ علم بھی ہے، جسے وحی کہا جاتا ہے۔ چونکہ اس ذریعہ علم کا تعلق صرف انبیائے کرام کے ساتھ ہے اس لئے عام انسانوں میں اس کے وجود کی بابت اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض لوگ، خصوصا اہل مذہب تو وحی کو ذریعہ علم مانتے ہیں لیکن لادین حضرات اور عقلیت پرست فلاسفہ اس کا انکار کرتے ہیں۔ غرض علم کیا ہے؟ علم کے حصول کے ذرائع کتنے اور کون کون سے ہیں؟ علم کا مصدر اور مآخذ کیا ہے؟ علم کا گمان اور حقیقت کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ یقینی اور ظنی علم میں حتمیتCertainity کس درجہ پائی جاتی ہے؟ یہ اور علم سے متعلق ایسے دیگر سوالات سے فلسفے کی ایک شاخ “علمیاتEpistemology” بحث کرتی ہے۔
مدد کرنا اچھی بات ہے، ظلم کرنا بری بات ہے۔ لیکن اگر ظالم کے ظلم میں اس کی معاونت کی جائے تو کیا اس صورت میں بھی مدد ایک “اچھائی” ہی کہلائے گی؟ ظلم کرنا اور مارنا بری بات ہے، لیکن اگر ظالم کو ظلم سے روکنے کیلئے اس کے منہ پر دو تھپڑ رسید کر دئے جائیں تو کیا تب بھی تھپڑ مارنا بری بات یا “برائی” ہو گئی؟ المختصر اچھائی اپنی اصل میں in itselfکیا ہے؟ برائی کیا ہوتی ہے؟ کیا کوئی آفاقی سچائی Universal Truthوجود رکھتی ہے؟ یا تمام سچائیاں موضوعی Relative/Subjectiveہیں؟ معروضیت Objectivityکی شرائط کیا ہیں؟ کوئی سچائی یا برائی معروضی کب بنتی ہے؟ یہ اور دیگر اخلاقی اقدار کی حقیقت کا مطالعہ فلسفے کی شاخ “اخلاقیاتEthics” میں کیا جاتا ہے۔
حسن، خوبصورتی، نظم، ڈیزائن، بدصورتی اور بے ترتیبی وغیرہ کیا ہیں؟ کیا حسن واقعی کوئی آفاقی حقیقت ہے یا صرف دیکھنے والی کی نظر میں ہوتا ہے؟ اسی طرح نظم و ضبط اور ڈئزائن کیا ہیں؟ کیا کائنات میں نظم و ضبط واقعی موجود ہے یا صرف یہ تمام تر حسن کائنات ہمارے دماغ کی کارفرمائی اور آنکھوں کا دھوکہ ہے؟ ان جیسے سوالات کا مطالعہ کرنا “جمالیاتAesthetics” کا کام ہے۔
تمام انسانی فانی ہیں اور فیصل ایک انسان ہے، پس فیصل فانی ہے۔ کائنات میں ڈیزائن موجود ہے، ڈیزائن کیلئے کسی ڈیزائنر کا وجود ضروری ہے، پس خدا موجود ہے۔ اگر الف ، ب سے بڑا ہے اور ب، ت سے بڑا ہے، تو الف ت سے بڑا ہے۔ کوئی شے ایک وقت میں یا تو موجود ہوتی ہے یا موجود نہیں ہوتی، یہ وجود اور غیر موجودگی بہ یک وقت نہیں پائے جا سکتے۔ الف الف ہوتا ہے، ب ب ہوتا ہے، الف ب نہیں ہو سکتا۔ یہ اور اس جیسے عقلی استدلالاتInferencesکا مطالعہ فلسفے کی شاخ “منطق Logic” میں کیا جاتا ہے۔ فلسفے کی اس شاخ کا کام یہ فیصلہ کرنا ہے کہ فکر درست کب ہوتی ہے؟ غلط فکر اور غلط استدلال کی کیا خامیاں ہیں ، وغیرہ۔
مذکورہ شاخوں کے علاوہ بھی فلسفے کی متعدد شاخیں مثلا زمان و مکاں، اقدارAxilogy، کونیاتCosmology،وغیرہ ہیں جو مختلف سوالات سے بحث کرتی ہیں۔ اس مختصر تعارف سے انسان کے ذہن میں فلسفے کا ایک Imageبن جاتا ہے، فلسفے کے بارے میں ذہن میں ایک سادہ سا تصور قائم ہو جاتا ہے اور انسان سمجھ جاتا ہے کہ فلسفے میں کس نوعیت کے مسائل کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ فلاسفہ نے فلسفے کی مختلف تعریفیں کی ہیں حتیٰ کہ کوئی سے دو فلسفی بھی فلسفے کی تعریف پر متفق نہیں اس لئے ہم ان تعریفوں سے صرف نظر کریں گے۔ البتہ افلاطون اور ارسطو کی تعریفات ہم ضرور بیان کرنا چاہیں گے، افلاطون کے مطابق اشیاء کی فطری ماہیت کے لازمی اور ابدی علم کا نام فلسفہ ہے۔ اس کا شاگرد ارسطو کہتا ہے کہ فلسفہ وہ علم ہے کہ جس کا کام یہ دریافت کرنا ہے کہ وجود کی اصل ماہیت یا وجود بالذات(فی نفسہBeing in itself )، اپنی فطرت میں کیا ہے نیز یہ کہ وجود کے اعراض Propertiesیا خواص، اسی کی اپنی فطری قدر کے لحاظ سے کیا ہیں؟
فلسفے کی تکنیکی اور علمی تعاریف میں جائے بغیر ہمارے لئے محض اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ اوپر بیان کردہ سوالات اور انہی کی نوعیت کے دیگر سوالات اور ان کے جوابات کے ضمن میں قدیم و جدید فلاسفہ مشرق و مغرب کی آراء و تصورات کا مطالعہ فلسفہ ہے۔ لغوی طور پر فلسفے سے “اشتیاق علم” اور ” علم سے محبت” مراد ہے۔ ہم اپنے تئیں یہ سمجھتے ہیں کہ فلسفہ ناقابل حل مسائل کا حل اخذ کرنے کی کوشش ہے، یہ ناقابل حل مسائل سے بحث کرتا ہے۔ اگر بالفرض محال فلسفہ کسی مسئلے کو حل کرنے میں کامیاب ہو جائے تو پھر وہ مسئلہ فلسفے کے دائرہ کارDomainسے خارج ہو جاتا ہے۔ کوئی مسئلہ صرف تب تک فلسفیانہ مسئلہ کہلاتا ہے جب تک وہ ناقابل حل ہو۔

تاریخ الحاد مغرب
فیصل ریاض شاہد

اپنی رائے کا اظہار کریں

4 تبصرے “فلسفہ کیا ہے؟

  1. بہت سے مفکرین کی فلسفہ کی تعریف میں تحریریں پڑھی ہیں جو عام فہم نہیں ہوتیں مگر یہ تحریر پڑھنے کے بعد اک عام انسان کو بھی سمجھ آ جاے گی کے فلسفہ کیا ہے۔

  2. انتہائی شکریےاور نیک تمناؤں کے ساتھ عرض ھے کہ مضمون بہت پسند آیا۔مشکل مضمون کو اتنے آسان الفاظ میں بیان کیا ہے۔عمر بھر کی کنفیوژن زایل ہوگئی۔
    Wish you all the best

اپنا تبصرہ بھیجیں