466

فقہ حنفیہ کی بنیادی کتب

بنیادی طور پر فقہ حنفیہ کے مصادر وماخذات کے تین حصے کئے گئے ہیں جنہیں
ظاہر روایت
نوادر
فتاویٰ اور واقعات
کہا جاتا ہے۔
ظاہر روایت سے مراد امام محمدؒ کی مندرجہ ذیل کتب ہیں:

1۔ المبسوط (کتاب الاصل فی الفروع): نسخہ ترکی کے شہر استنبول میں موجود ہے، دوسرا نسخہ جامع ازہر میں بھی موجود ہے لیکن ناقص ہے۔ استنبول والے نسخہ کی چھ جلدیں ہیں جن میں سے چار جلدیں دائرہ معارف العثمانیہ حیدرآباد سے شائع ہو چکی ہیں جو کتاب المعاقل پر ختم ہوتی ہیں۔

2۔ الجامع الصغیر: مولانا عبدالحیی فرنگی محلی نے ” النافع الکبیر فی شرح الجامع الصغیر” کے نام سے اس کتاب کی شرح لکھی ہےاور مقدمہ میں لکھا ہے کہ اس کتاب میں 1532 مسائل آئے ہیں۔

3۔ الجامع الکبیر: اسکی بہت سی شروحات لکھی گئی ہیں لیکن “شرح الحصیری الکبیر” سب سے اہم سمجھی جاتی ہے۔

4۔ الزیادات: جو مسائل جامع الکبیر میں رہ گئے تھے انہیں امام محمد ؒ نے اس کتاب میں جمع کر دیا ہے۔

5۔ کتاب السیر الصغیر: انگریزی ترجمہ کے ساتھ انٹر نیشنل اسلام آباد یونیورسٹی نے ایک مختصر جلد میں چھاپی ہے۔

6۔ کتاب السیر الکبیر: امام سرخسی ؒ کی شرح کے ساتھ 5 جلدوں میں شائع ہو چکی ہے۔
مندرجہ بالا چھ کتب جو امام محمدؒ کی تالیفات ہیں، فقہ حنفیہ میں ظاہر روایت کہلاتی ہیں یعنی کیونکہ یہ شہرت و تواتر کے ساتھ منقول ہیں۔ انہیں “اصول” بھی کہا جاتا ہے۔

7۔ الکافی فروع الحنفیہ: ظاہر روایت کی چھ کتب میں سے مکرر مسائل کو حذف کر کے امام محمد بن احمد مروزی حاکم شہیدؒ نے ان کتب کی تلخیص لکھی جو الکافی فروع الحنفیہ کے نام سے موسوم ہے۔ امام سرخسی کی المبسوط اسی کتاب کی شرح ہے۔
نوادر سے مراد امام محمد ؒ کی دیگر کتب ، امام قاضی ابو یوسفؒ کی کتاب الامالی ،امام حسن بن زیاد کی کتاب المجرد اور چند دیگر کتب ہیں۔

8۔ مختصر الطحاوی: از امام ابو جعفر طحاوی، اسے فقہ حنفیہ کا سب سے پہلا متن سمجھا جاتا ہے۔

9۔ المنتقی فی فروع الحنفیہ: از امام مروزی حاکم شہید۔

10۔ مختصر کرخی: از امام عبداللہ بن حسین الکرخی۔

11۔ مختصر قدوری: از امام احمد بن محمد قدوری۔ فقہ حنفیہ میں متفق علیہ متن کی حیثیت رکھتی ہے۔

12۔ المبسوط: از امام سرخسی، یہ کتاب امام مروزی کی الکافی کی شرح ہے۔

13۔ تحفۃ الفقہا: از امام محمد بن احمد سمر قندی۔

14۔ بدائع الصنائع: از ملک العلماء علاوالدین ابوبکر بن مسعود الکاسانی۔ انتہائی اہم کتاب۔

15۔ فتاویٰ قاضی خان: علامہ فخر الدین اوزجندی کی معروف اور متداول تالیف ہے۔

16۔ بدایۃ المبتدی: امام ابو الحسن علی مرغینانیؒ صاحب ہدایہ کی تالیف ہے۔

17۔ الھدایہ: امام مرغینانی ؒ کی مشہور ترین کتاب ہے جو بدایۃ المبتدی کی شرح ہے۔ اس کی مماثل کتاب فقہ حنفی میں موجود نہیں۔

18۔ وقایۃ الروایہ: از برہان الشریعہ محمود بن احمدؒ، فقہ حنفیہ کے متون اربعہ میں سے ایک ہے۔

19۔ مجمع البحرین: از علامہ مظفر الدین احمدؒ، متون فقہ حنفیہ کی چوتھی کتاب ہے۔

20۔ کنز الدقائق:از امام عبداللہ بن احمد نسفیؒ، دینی مدارس کی مقبول ترین کتاب۔

21۔ الجامع الوجیز: علامہ محمد بن بزار کردریؒ کی تالیف ہے جو فتاوی بزاریہ کے نام سے فتاویٰ عالمگیری کے ساتھ چھپی ہوئی مل جاتی ہے۔

22۔ فتح القدیر: از علامہ کمال الدین ابن ہمامؒ و قاضی زادہ شمس الدین احمد۔ ہدایہ کی سب سے مفصل شرح ہے۔

23۔ فتاویٰ ہندیہ: فتاویٰ عالمگیری کے نام سے مشہور ترین کتاب ہے جو مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیرؒ کے حکم پر لکھی گئی۔

24۔ تنویر الابصار: از علامہ محمد بن عبداللہ غزنیؒ مشہور بہ علامہ تمر تاشی۔

25۔ الدر المختار: امام حصکفیؒ کے قلم سے تنویر الابصار کی شرح ہے۔ مشہور کتاب ہے۔

26۔ رد المختار: علامہ محمد امین ابن عابدین شامیؒ کی نہایت عظیم الشان تالیف ہے، درمختار کی شرح ہے۔

27۔ فتاویٰ رضویہ: امام الہند امام احمد رضاخان فاضل بریلویؒ کے فتاویٰ کا مجموعہ ہے جو تیس جلدوں میں چھپی ہے اور سوفٹ وئیر کی شکل میں انٹر نیٹ پر بھی موجودہے۔

از محمد فیصل ریاض شاہدؔ

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں