67

غامدی صاحب کے دینی انحرافات کا مسئلہ – محمد دین جوہر

محترم عمار خان ناصر صاحب نے میرے مضمون کے جواب میں اپنے موقف کی وضاحت فرمائی ہے اور اصرار فرمایا ہے کہ ہم نے مولانا زاہد الراشدی صاحب کا موقف غلط سمجھا ہے۔ فرماتے ہیں کہ ہم نے مولانا زاہد الراشدی صاحب کی عبارت سے استشہاد کرتے ہوئے ”سخن فہمی کا خُون“ کر دیا ہے، اور ہماری تعبیر ”ایک طے شدہ نتیجہ نکالنے کے عزم“ کی مثال ہے۔ میں اس بندہ نوازی پر آنجناب کا ممنون ہوں۔

عمار خان ناصر صاحب نے یہی کہا ہے، اپنے دعوے کے حق میں کوئی دلیل پیش نہیں کی۔ اس وضاحت کو بہ تکرار پڑھنے کے بعد میں یہی سمجھ پایا ہوں کہ انہوں نے محض غلطی بتانے کی بجائے بدنیتی کا الزام لگایا ہے، اور الزام لگاتے ہوئے بھی دیانت داری سے کام نہیں لیا۔ یہ کیا ضرور تھا کہ وہ اپنے علمی طریقۂ کار کو الزام بازی میں بھی روا رکھتے! خوش قسمتی سے یہ ایک ایسا موقع ہے جس میں آنجناب اپنے متن کی تشریح بھی خود ہی فرما رہے ہیں، اور اس طرح انہوں نے اپنے علمی طریقۂ کار کے اطلاقات کی شاندار مثال بھی قائم فرما دی ہے۔ دینی اور علمی متون کی تشریحات میں بھی وہ بعینہٖ یہی طریقۂ کار استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ہماری سخن فہمی پر تبصرہ ضروری تھا تاکہ ان کے اپنے طریقۂ کار کی طرف توجہ مبذول نہ ہو۔

میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ آیا بدنیتی اس کے علاوہ کوئی اور چیز ہوتی ہے؟ یعنی جب صورت حال الم نشرح ہو گئی اور علمی بددیانتی کا الزام قائم نہ رہ سکا، تو اب آنجناب نیت تک جا پہنچے ہیں۔ میں ایک عام آدمی ہوں اور آنجناب مذہبی عالم اور ایک علمی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں، اور کچھ لوگوں کے خیال میں مجتہد بھی ہیں۔ میں یہ ضرور پوچھنا چاہوں گا کہ کیا علما کی گفتگو کی اب یہی سطح باقی رہ گئی ہے؟ بالخصوص وہ علماء جو فرماتے ہیں کہ اس مسئلے کا فیصلہ، کہ کیا غامدی صاحب منکرِ حدیث ہیں، ”تائبینِ المورد“ نہیں بلکہ ہم جیسے (یعنی عمار صاحب جیسے) حضرات کریں گے، جن کے بارے میں انہیں اعتراف ہے کہ غامدی صاحب کے بارے میں اس تنازع میں ”جانب دار“ ہیں۔ یہ اصولِ موضوعہ بھی سخن فہمی کی اچھی مثال ہے، جس میں المورد سے ”تائب ہونے والوں“ کو تو بات سمجھ میں نہیں آ سکتی لیکن ”دیوبند سے ارتداد اختیار کرنے والوں“ کو بدستور سمجھ میں آ رہی ہے! ہرمانیوٹکس کے فن کے اس اصول کی دریافت پر بھی عمار خان ناصر صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں۔

ہمارے درمیان محلِ نزاع مولانا زاہد الراشدی صاحب کے متن کی تعبیر تھی۔ اور اب ہم دونوں کا استدلال قارئین کے سامنے ہے۔ میں نے متن کے مفصل تجزیے کے بعد نتیجہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا ہے کہ مولانا زاہد الراشدی صاحب کے نزدیک جاوید غامدی صاحب نے دین سے انحرافات کیے ہیں، جو اجماعی عقائد کو بھی محیط ہیں۔ نیز، وہ عملاً سنت کی حجیت کے منکر ہیں بلکہ اس سے بھی آگے کی غلطی کر رہے ہیں، جو انتہائی گمراہ کن ہے۔ اور جس کی وجہ سے انہیں امت کے اجماعی عقائد، جیسے نزولِ مسیح بن مریم علیہما السلام جیسے عقائد کا بھی انکار کرنا پڑ رہا ہے۔ عمار خان ناصر صاحب نے جواباً ہمارے اوپر الزامات کو قارئین میں مشتہر کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے انہیں اخفا کا ”مجرم“ قرار دیا ہے۔ میں نے تو یہ عرض کیا تھا کہ وہ اپنے والدِ گرامی کے موقف کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس پر وہ کیا فرماتے ہیں؟

جناب عمار خان ناصر صاحب سے میری دیرینہ نیازمندی ہے، اور موقع بموقع ان کی خدمت میں حاضر ہونا میں اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں۔ لیکن میرے سابقہ مضمون پر ان کا قطعی بلاوجہ بھڑک اٹھنا اور خواجہ سراؤں کی بھیڑ میں مجھے القابات سے نوازنا میرے لیے ابھی تک اسرار میں سے ہے۔ مثلاً اگر غامدی صاحب اور ان کی تعبیرِ دین پر انہیں کوئی گفتگو کرنا مقصود تھی تو یہ میرا موضوع نہیں ہے۔ اس کے لیے موزوں ترین آدمی بقول ان کے ”برادرم نادر عقیل انصاری“ ہیں ”جن کی حیثیت اس باب میں قافلہ سالار کی ہے“۔ آنجناب کے خیال میں یہ پورا ”قافلہ“ ہی ”اعتدال سے ہٹا ہوا“، انتہا پسندانہ رویوں“ کا حامل، اور ”اصول مناظرہ“ سے بے خبر لوگوں پر مشتمل ہے۔ ہماری مزید تعلیم کی صلاح دیتے ہوئے وہ ہماری ”سخن فہمی“ پر بھی سخت نالاں معلوم ہوتے ہیں، کیونکہ ہمارے کلام سے ”سخن فہمی کا خون“ ہو جاتا ہے۔

اوپر میں نے جناب عمار خان ناصر صاحب کی ”سخن فہمی“ کی دو مثالیں عرض کی ہیں۔ ایک وہ جس میں وہ خود ہی ماتن ہیں، خود ہی سخن فہم ہیں، اور خود ہی مفسر۔ ان کا دوسرا شاہکار اس وقت سامنے آتا ہے جب آنجناب اپنے والدِ گرامی کی تحریر کی طرف التفات فرماتے ہیں۔ اس میں انہوں نے اپنے والد محترم کے موقف ہی کو مسخ کرنے کی افسوسناک اور ناکام کوشش کی ہے۔ لیکن پھر بھی ”سخن فہمی کے خون“ کا طعنہ ہمارے لیے ہے۔

”سخن فہمی“ بنیادی نظری مسائل میں سے ہے۔ اس کا نشانہ فقط مولانا محترم زاہد الراشدی صاحب کی عبارت نہیں بنی، بلکہ یہ ایک عمومی وبا کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ بالخصوص متجددین اور منکرینِ حدیث نے جس طرح مقدس متون کو اپنی ”سخن فہمی“ کا نشانہ بنایا ہے، عبرت ناک ہے۔ عمار خان ناصر صاحب چونکہ بہ ادّعائے خود، ”سخن فہم“ ہیں، اور ”غالب“ کے طرفدار بھی ہیں، اس لیے ان سے درخواست ہے کہ وہ ہمارے ساتھ اس موضوع پر جامع گفتگو فرما لیں۔ تاکہ تعبیرِ سخن کا مسئلہ ایک مرتبہ کسی کنارے لگ جائے۔

اس تحریری تبادلے میں سخن فہمی کو ہر ہر پہلو سے زیر بحث لایا جائے۔ یعنی عبارت کیسے تولد ہوتی ہے اور اپنے معانی و تعبیر کی بنیاد کیونکر رکھتی ہے؟ امکانِ تعبیر و حدودِ تعبیر پر آپ کا نظریاتی موقف کیا ہے؟ کیا عبارت سے تعبیر تک کا سفر معانی کے فہم کے لیے ناگزیر ہے؟ تعبیر کی وسعت کے بارے میں کیا رائے ہے، وہ لفظ کے ہم رکاب ہے یا زبان کی ُکلیت میں گم ہے؟ تعبیر کے امکانات حدود شناس ہیں یا زبان کی آفاق میں گم ہیں؟ تعبیر کے زمانی و تزامنی پہلو کس طرح معانی کی تعیین میں مدد دیتے ہیں؟ تعبیر اور معنی کا کیا تعلق ہے؟ مقروء، قرأت، اور فہم کی تثلیث وحدت کیسے بنتی ہے، یا نہیں بنتی؟ اور اس پر چوتھے بُعد- یعنی قاری – کی حاکمیت لاشریک ہے یا کچھ اور شرکاء بھی ہیں؟ سیاق کا کیا مطلب ہے – عبارت کا سیاق، واقعاتی سیاق، یا پوری زبان کا سیاق؟ اور اس میں بعض متجددین نے جس فرضی ”نظم“ کا ذکر کیا ہے، اور جسے مقدس متون پر بہ زور ٹھونسنے کی سعی کی ہے، وہ لفظ و معنی سے کیونکر بے تعلق، اور آئیڈیالوجی کا کیونکر اسیر ہے؟ صورت، اور پیکر و ساخت میں کیا فرق ہے اور معانی کی تشکیل و تعبیر میں اِن کا کیا کردار ہے؟ مختصر یہ کہ معنی خود کیا شے ہے اور متن سے اس کے تعلق کی لامتناہی جہتوں میں سے کون سی کس قدر اہم ہے؟ اس میں قدیم روایت بھی زیر بحث ہوگی، خواہ وہ ہند و یونان کی ہو یا عرب و فارس کی۔ اور جدید علوم بھی زیر بحث آئیں گے، جو مارٹن لوتھر سے لے کر، ڈلتھے، ہائیڈیگر، گاڈامر، ریکر، وغیرہ کو بھی پوری طرح خاطر میں لائیں گے۔ ہم اپنےقارئین کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ گفتگو تھکا دینے والی تو ہو سکتی ہے، لیکن اس کے مفید ہونے میں کوئی کلام نہیں۔

ہمیں امید ہے کہ اس موضوع پر گفتگو میں شرکت کی اس عاجزانہ درخواست کو نظر انداز کر کے عمار ناصر خان صاحب ہمارا، اور اپنے متبعین کا دل نہیں توڑیں گے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں