213

عورت کو حقوق دینے کا دعوی – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ہمارے ہاں حقوقِ انسانی پر بحث کرنے والے بالعموم سطح پر ہی تیرتے رہتے ہیں اور مسائل کی گہرائی میں جانے سے گریز کرتے ہیں۔ ایک عام دعوی یہ کیا جاتا ہے کہ مغرب نے جو حقوق آج عورت کو دیے ہیں، وہ تو ہم نے صدیوں پہلے دیے ہوئے تھے۔ آئیے، ذرا عورتوں کے حقوق کی ایک بنیادی دستاویز کی ایک شق کا جائزہ لے کر دیکھتے ہیں کہ یہ دعوی کس حد تک صحیح ہے؟

“عورتوں کے خلاف امتیازی سلوک کی ہر شکل کے خاتمے کا معاہدہ” (Convention on Elimination of All Forms of Discrimination against Women)1979ء میں اقوامِ متحدہ کی کوششوں سے سامنے آیا۔ پاکستان نے بھی اس معاہدے کی توثیق کی ہے۔ اس معاہدے کی دفعہ 16 میں ازدواجی تعلق کے وجود میں آنے اور پھر اس تعلق کے ختم کرنے کے بارے میں امتیازی سلوک کی نشان دہی کرکے اس کے خاتمے کی ذمہ داری ریاستوں پر عائد کی گئی ہے۔ سردست ہم اس دفعہ کی ذیلی دفعہ 1کی چند شقیں آپ کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔ اس دفعہ میں قرار دیا گیا ہے:
“معاہدے کی فریق ریاستیں شادی اور خاندان کے تعلقات کے امور میں امتیازی سلوک کے خاتمے کےلیے تمام مناسب اقدامات اٹھانے، اور مردوں اور عورتوں کے درمیان مساوات کے اصول پر بالخصوص درج ذیل امور یقینی بنانے کی پابند ہیں :
(اے) شادی کرنے کے بارے میں یکساں حق؛
(بی) زوج کے آزادانہ انتخاب کا اور شادی کےلیے پوری اور آزادانہ مرضی کا یکساں حق؛
(سی) شادی کے دوران میں اور اس کے خاتمے پر یکساں حقوق اور ذمہ داریاں؛
(د) ان کی ازدواجی حیثیت سے قطعِ نظربچوں کے ساتھ متعلقہ امور میں یکساں حقوق اور ذمہ داریاں؛
(جی) میاں بیوی کے طور پر یکساں ذاتی حقوق ۔۔۔ “

اب یہ بتائیے کہ کیا اسلام نے یہ “یکساں حقوق” واقعی عورت کو دیے ہیں؟ کیا مرد کی طرح عورت چار شادیاں کرسکتی ہے؟ کیا مسلمان عورت کسی کتابی سے شادی کرسکتی ہے جیسے مسلمان مرد کسی کتابیہ سے کرسکتا ہے؟ کیا عورت مرد کو طلاق دے سکتی ہے جیسے مرد اسے دیتا ہے؟

آخری سوال:
ان سوالوں کے جواب میں اسلامی قانون اور حقوقِ انسانی کے درمیان ہم آہنگی یقینی بنانے کےلیے اسلامی قانون کی تعبیرِ نو کرنی پڑے گی یا حقوقِ انسانی میں “یکساں حقوق” اور “امتیازی سلوک” کے تصورات میں تبدیلیاں کرنی پڑیں گی؟ آپ کون سا راستہ چننا پسند کریں گے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں