37

علوم اور ان کی درجہ بندی-محمد دین جوہر

محترم عمار خان ناصر صاحب نے علوم کی درجہ بندی پر ایک مختصر اور جامع، لیکن کئی لحاظ سے معنی خیز پوسٹ (۱۹؍ فروری) کی ہے۔ آنجناب کی یہ بات درست ہے کہ یہ موضوع ”حد درجہ ابہام اور چند در چند الجھنوں کی زد میں ہے“۔ مجھے ان کی اس بات سے بھی اتفاق ہے کہ اس ضروری کام میں بہت تاخیر ہو چکی ہے۔ لیکن ان کا بنیادی موقف کئی لحاظ سے محل نظر ہے:
۱۔ انہوں نے درجہ بندی کا کام نہ ہونے کی وجہ ”سماجی علوم سے عدم اعتنا“ بتایا ہے۔ انہوں نے اس کی تفصیل بیان نہیں کی کہ سماجی علوم سے بے توجہی کیسے اس کی وجہ بن سکتی ہے؟ اور کونسا سماجی ڈسپلن خود ان کی یا کسی بھی درجہ بندی کی بنیاد فراہم کرتا ہے؟ علوم کی درجہ بندی ایک meta-disciplinary کام ہے، کیونکہ ہر علمی ڈسپلن خود درجہ بندی کا محتویٰ ہے۔ 
گزارش ہے کہ ہر تہذیب کے ورلڈ ویو میں کار فرما بنیادی ”تصورِ حقیقت“ اس کے علوم کے درجہ بندی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اگر اس میں کوئی شبہ ہے تو مغرب میں علوم کی درجہ بندی کے پورے نظام کو دیکھ لینا خوش فہمی کو دور کرنے کے لیے کافی ہے۔ ہر تہذیب، علوم کی داخلی درجہ بندی میں غیر تہذیب علوم کو شودروں والی جگہ الاٹ الاٹ کرتی ہے۔ یہ امر ڈیوی کے نظامِ درجہ بندی سے واضح ہے۔ اگر مثال سے بات واضح ہو سکے تو عرض یہ ہے کہ مثلاً ڈیوی کی درجہ کسی ایک یا زیادہ سماجی علوم میں رہتے ہوئے وجود میں نہیں آئی بلکہ مغرب کے اصولِ تہذیب کے تابع ہے۔ اس درجہ بندی سے سماجی علوم کی ایک نئی شاخ ضرور پیدا ہو گئی ہے جسے لائبریری سائنس کہا جاتا ہے۔

۲۔ محترم عمار خان ناصر صاحب کی درجہ بندی نہ صرف مکمل طور پر غیرعلمی اور نجی ہے بلکہ ہمارے علوم کی شکست میں مغربی علمی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آنجناب یہ نام نہاد درجہ بندی ”تقابلی مذاہب“ (Comparative Religion) کے fake سماجی ڈسپلن میں رہتے ہوئے آگے لا رہے ہیں۔ ”تقابلی مذاہب“ اور Interfaith Dialogue کسی علمی اصول کی بجاآوری نہیں ہے، بلکہ مغرب کی سیاسی ترجیحات کو علمی لباس میں سامنے لانے کی کامیاب کوشش ہے۔

۳۔ آنجناب کی مقرر کردہ درجہ بندی کی تہہ میں کارفرما یہ دعویٰ افسوس ناک ہے کہ اسلامی علوم کا خاتمہ ہو چکا ہے اور اس خاتمے کی وجہ سے نئی درجہ بندی ضروری ہو گئی ہے۔ خاتمے اور شکست میں فرق ہوتا ہے۔ علوم کی درجہ بندی کے لیے اس سلبی اصول پر انحصار کرنا اور مسلم معاشرے میں اس کے اطلاقات کو آگے بڑھانا صاف ظاہر ہے کوئی غیرجانبدار اور معروضی علمی سرگرمی نہیں ہو سکتی۔

۴۔ آنجناب کی درجہ بندی کا دوسرا اور زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس میں دین، اور اس کے بنیادی مواقف غیر اہم ہیں اور صرف جدیدیت کے ساتھ اس کے تلازمات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اہل علم واقف ہیں کہ تلازمات اور نسبتیں بنیادی موقف کی ضمنیات میں شمار ہوتے ہیں۔ دینی مواقف کی درجہ بندی جدیدیت سے تلازمات کی بنیاد پر آگے بڑھانا جائز علمی رویہ نہیں ہے۔ محترم عمار خان ناصر صاحب ”تقابلی مذاہب“ کے ایجنڈے کو عقبی دروازے سے اسلام اور اس کے بنیادی مواقف پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں نہایت غیر علمی پہلو یہ ہے کہ جدیدیت کے ساتھ تلازمات عمار خان ناصر صاحب کے فرض کردہ ہیں کیونکہ کوئی مذہبی موقف یا مکتب فکر اپنی اصل شناخت ان تلازمات سے نہیں کرتا۔ ایسی صورت میں یہ تلازمات درجہ بندی کا بنیادی اصول کیسے بن سکتے ہیں؟ مثلاً اگر محترم غامدی صاحب کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرائی جائے کہ ان کی پوری تعبیر دین جدیدیت کے ساتھ تلازمات کو پیش نظر رکھ کر کی گئی ہے، تو کیا وہ یہ بات تسلیم کر لیں گے؟ اس کا درست علمی طریقۂ کار یہ ہے کہ اول ہر مکتب فکر کا بنیادی دینی موقف متفق علیہ علمی شرائط پر سامنے لایا جائے اور پھر اس موقف کی جدیدیت کے ساتھ نسبتیں بھی علم میں معلوم ہوں۔ ہمارے ہاں کوئی بھی بنیادی مذہبی موقف جدیدیت کے ساتھ تلازمات کی بنیاد پر پیش نہیں کیا جاتا، بلکہ دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ اصل دین یہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عصر حاضر میں دین کا ہر بنیادی تعبیر/ بنیادی موقف جدیدیت کے ساتھ لازمی تلازمات رکھتا ہے لیکن ہمارے ہاں تحقیق کی ابتر صورت حال کی وجہ سے وہ نسبتیں اکثر un-articulated ہوتی ہیں اور ایک sketchy علمی بیان کی صورت میں موجود ہوتی ہیں۔ 

حصہ دوم

۵۔ مذہبی موقف کے تعین میں بنیادی ترین اصول نئے موقف کا روایت سے فاصلہ ہے۔ اس بات کا امکان موجود رہتا ہے کہ کوئی نیا دینی موقف کلاسیکی دینی روایت اور اس کے منہج کو مطلوبہ علمی معیارات پر نہ سمجھنے سے پیدا ہوا ہو اور اس بات کا امکان بھی ہے کہ وہ جدیدیت ہی کی ترجیحات پر تشکیل دیا گیا ہو۔ محترم عمار خان ناصر صاحب کی درجہ بندی کو قبول کر لینا اصلاً یہ معنی رکھتا ہے کہ دینی مواقف کی درجے بندی کا واحد معیار جدیدیت ہے، اور دینی موقف نہ صرف غیر اہم ہے بلکہ اس کی تفہیم اور تعین کرنے والی طویل دینی روایت سرے سے موجود ہی نہیں رہی ہے۔ عمار خان ناصر صاحب کا موقف علمی بنیادوں پر قابل قبول نہیں اور جدید علمی اصولوں پر قابل رد ہے۔

۶۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ درجہ بندی کا اصول بنیادی موقف پر بنیادی اختلاف ہے جیسا کہ ہمارے ہاں کلام کے مباحث میں سامنے آیا۔ کلام کی کتابیں اسی درجہ بندی سے بھری پڑی ہیں۔ عصر حاضر میں جدید درجہ بندی کو بھی اسی تسلسل میں دیکھنے کی ضرورت ہے، یعنی عقیدے پر موقف بنیادی موقف ہے اور وہی علوم کی درجہ بندی کی بنیاد بھی ہے۔ کلامی درجہ بندی کی اساس ایمانیات/بنیادی تصور حقیقت کے مباحث سے فراہم ہوتی ہے۔ مغرب میں علوم کی جدید درجہ بندی بھی اسی اصول پر سامنے لائی گئی ہے، کیونکہ نوعاً علم، ایمانیات کی قبیل سے ہے۔ اگر بنیادی موقف کے جدیدیت سے تلازمات درجہ بندی کی اساس بن سکتے ہیں، تو صرف جدیدیت ہی سے کیوں؟ اس طرح تو ان گنت غیرمتعلق ”علمی اصول“ متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔ درجہ بندی کی اساس عقیدے کا روایت سے حاصل ہونے والا موقف ہے۔ اس میں بنیادی سوال یہ ہے کہ گزشتہ دو سو سال میں ظاہر ہونے والے مذہبی مکاتب فکر کلاسیکی عقیدے کے بیان کے بارے میں کیا موقف رکھتے ہیں؟ اور ان کے عقیدے کے بیانِ مکرر (re-statement) میں کلاسیکی عقیدے کے حوالے سے کس حد تک فرق واقع ہوا ہے؟ درجہ بندی میں جدیدیت کو عقیدے کے بیان میں تبدیلی کے اسباب کے طور پر یقیناً زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔

۷۔ زیر بحث پوسٹ سے قبل ۱۷؍ فروی کی ایک پوسٹ میں محترم عمار خان ناصر صاحب فرماتے ہیں: ’’یہ جبر اور کرب کے ان بے شمار مظاہر میں سے ہے جو جدیدیت نے روایتی معاشروں پر مسلط کیے ہیں۔ اس کی زد میں پورا معاشرہ اور معاشرے کے سبھی طبقات ہیں، اور اپنی اپنی جگہ ہمدردی کے مستحق ہیں۔ لیکن فکری مباحث کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بے رحمی کے بغیر کسی نتیجے تک نہیں پہنچاتے۔ سو روایت پسند احباب سے پوری ہمدردی کے باوجود میری دیانت دارانہ رائے میں یہ فکری تنقیح ہماری ناگزیر اور فوری ضرورت ہے اور ان شاء اللہ مختلف مراحل میں اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی۔“

میں ”بے رحمی کے بغیر“ میں جو veiled threat ہے اس کو بخوبی سمجھتا ہوں، لیکن شکر ہے کہ اس میں دو ”ہمدردیاں“ بھی ظاہر ہوئی ہیں۔ ایک میں، جب وہ اہلِ استعمار اور اہل جدیدیت کے ساتھ کھڑے ہو کر پورے مسلم معاشرے اور اس کے مختلف طبقات پر ایک اچٹتی نگاہ التفات ڈالتے ہیں، تو انہیں بس ہمدردی کی بخشیش کا مستحق ہی قرار دیتے ہیں، اور ”بےشمار مظاہر“ پر کلام کرنا مناسب نہیں جانتے! ان کی بندہ نوازی ہے کہ انہوں نے خود ہی یہ بتا دیا کہ وہ کس کے ساتھ ہیں۔ احباب سے گزارش ہے کہ اسے ”ہم ایک ہے“ کے نعرے میں ضمن میں شمار نہ کیا جائے۔ ناچیز کا جرم شاید یہی کہ وہ آنجناب کے خود تسلیم کردہ ”بےشمار مظاہر“ کو نہیں بھولتا، اور اہل جبر کی ہمدردی پر قناعت نہیں کرتا۔ دوسری ”ہمدردی“ احباب کے ضمن میں خاص اس فقیر کے لیے ہے۔ اس پر بھی میں بیش از بیش ان کا ممنون ہوں۔ امید ہے ”ہم“ آنجناب کی ”ہمدردی“ سے کبھی محروم نہ رہیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں