96

عقل و شرع میں بطور ماخذ تقدیم- ڈاکٹر زاہد مغل

برادر عمارخان ناصر صاحب نے عقیدے کی کتاب کے ایک اقتباس کی بنیاد پر حسن و قبح کے مسئلے پر اپنی مخصوص فکر کے حق میں یہ نکتہ اخذ کیا ہے کہ انسان شرع کے حسن و قبح کو عقل و فطرت کی بنیاد پر پہچانتا ہے۔ گویا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عقل و فطرت کا کنٹنٹContent شرع سے ماقبل طور پر معلوم ہونا لازم ہے، بصورت دیگر شرع کے حسن و قبح متعین کرنے کا کوئی ماخذ نہیں (دراصل یہ انکی ایک سوچی سمجھی و دیرینہ رائے ہے جس پر ان سے کئی بار گفتگو ہوچکی ہے اور اس بار وہ اس کے حق میں ایک اقتباس لائے ہیں)۔ انکی اس پوسٹ پر درج ذیل تبصرہ کیا گیا۔

یہ بات بھی آپ کے مقدمے کو ثابت کرنے کے لیے کفایت نہیں کرتی کیونکہ یہاں بھی نتیجے کو “سامنے رکھ کر اور فکس کرکے” پھر اس کے ماخذ کی صحت پر حکم لگایا جارہا ہے۔ یہ بالکل اسی قسم کی بات ہے جیسے قرآن نے عقل والا اسی کو کہا ہے جو مظاہر کائنات کے مطالعے سے اس “نتیجے” پر پہنچے کہ اس کا کوئی خالق ہے۔ یعنی عقل کسی ایسے آزاد و بالذات پراسس کو نہیں کہا گیا جو خود اپنے پیمانے پر ڈیفائن ہوسکے یا ہوچکی ہو بلکہ اس پراسس کے ویلڈ اور ان ویلڈ ہونے کو جانچنے کا نتیجہ پہلے فکس کردیا گیا ہے۔ تو اگر کوئی سٹیفن ھاکنگ یا رچرڈ ڈاکنز کی طرح کائنات پر عقل سے غور کرتے کرتے اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ یہ کائنات خود ہی بن گئی تو اسے ازروئے قرآن عقل نہیں “جہالت” کہا جائے گا، چاہے وہ خود کو کتنا ہی عاقل کہتا رہے۔ تو جو بیان یہاں پیش کیا گیا ہے اس کی نوعیت بھی ایسی ہی ہے کہ یہاں فطرت سے متعلق صرف اسی دعوے کو درست سمجھا جائے گا جو وہ نتائج پیدا کرے جو شرع کے مطابق ہوں، اگر کسی کو شرع کے خلاف کوئی چیز اپنی فطرت کی آواز لگنے لگے تو وہ بھلے لاکھ کہتا پھرے کہ یہ میرے لئے فطری ہے تب بھی وہ غیر فطری ہی ہوگا۔ الغرض قاضی شرع ہی ہے کیونکہ مطالعے کی سمت معلوم و صحت مند ماخذ سے نتیجے کی صحت متعین کرنے کی طرف نہیں ہے بلکہ معلوم و صحت مند نتیجے سے ماخذ کی صحت کی طرف ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں